Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1263

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَإِذَا أَرَادَ الْمَكْتُوبَةَ أَوِ الْوِتْرَ أَنَاخَ فَصَلَّى بِالْأَرْضِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَوَهَّمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ دَالٌّ عَلَى خِلَافِ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرَ أَنَّ الْوِتْرَ غَيْرُ جَائِزٍ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَهَذَا غَلَطٌ وَإِغْفَالٌ مِنْ قَائِلِهِ. وَلَيْسَ هَذَا الْخَبَرُ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَ مَنْ يُمَيِّزُ بَيْنَ الْأَخْبَارِ يُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، بَلِ الْخَبَرَانِ جَمِيعًا مُتَّفِقَانِ مُسْتَعْمَلَانِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَخْبَرَ بِمَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَيَجِبُ عَلَى مَنْ عَلِمَ الْخَبَرَيْنِ جَمِيعًا إِجَازَةَ كِلَا الْخَبَرَيْنِ. قَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَدَّى مَا رَأَى، وَرَأَى جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَأَوْتَرَ بِالْأَرْضِ فَأَدَّى مَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَائِزٌ أَنْ [137 - ب] يُوتِرَ الْمَرْءُ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَمَا فَعَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَائِزٌ أَنْ يُنِيخَ رَاحِلَتَهُ فَيَنْزِلُ فَيُوتِرُ عَلَى الْأَرْضِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ الْفِعْلَيْنِ جَمِيعًا وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَ فِعْلِهِ، وَهَذَا مِنِ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ. وَلَوْ لَمْ يُوتِرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَرْضِ وَقَدْ أَوْتَرَ عَلَى الرَّاحِلَةِ كَانَ غَيْرَ جَائِزٍ لِلْمُسَافِرِ الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ فَيُوتِرَ عَلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ لَمَّا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِعْلَيْنِ جَمِيعًا كَانَ الْمُوتِرُ بِالْخِيَارِ فِي السَّفَرِ إِنْ أَحَبَّ أَوْتَرَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنْ شَاءَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْ سُنَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْجُورًا إِذَا أَمْكَنَ اسْتِعْمَالُهُ، وَإِنَّمَا يُتْرَكُ بَعْضُ خَبَرِهِ بِبَعْضٍ إِذَا لَمْ يُمْكِنِ اسْتِعْمَالُهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَحَدُهُمَا يَدْفَعُ الْآخَرَ فِي جَمِيعِ جِهَاتِهِ، فَيَجِبُ حِينَئِذٍ طَلَبُ النَّاسِخِ مِنَ الْخَبَرَيْنِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْهُمَا، وَيُسْتَعْمَلُ النَّاسِخُ دُونَ الْمَنْسُوخِ. وَلَوْ جَازَ لِأَحَدٍ أَنْ يَدْفَعَ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، بِخَبَرِ جَابِرٍ، كَانَ أَجْوَزَ لِآخَرَ أَنْ يَدْفَعَ خَبَرَ جَابِرٍ بِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، لِأَنَّ أَخْبَارَ ابْنِ عُمَرَ فِي وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَكْثَرُ أَسَانِيدَ وَأَثْبَتُ وَأَصَحُّ مِنْ خَبَرِ جَابِرٍ، وَلَكِنْ غَيْرُ جَائِزٍ لِعَالِمٍ أَنْ يَدْفَعَ أَحَدَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ بِالْآخَرِ بَلْ يُسْتَعْمَلَانِ جَمِيعًا عَلَى مَا بَيَّنَّا، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِي كِتَابِ "الْكَبِيرِ".

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں (نفل) نماز پڑھتے رہتے ، آپ کی سواری کا رخ جدھر بھی ہوتا ، پھر جب آپ فرض نماز یا وتر پڑھنے کا ارداہ کرتے تو اپنی سواری کو بٹھا دیتے اور زمین پر نماز ادا کرتے۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے کہ یہ حدیث ،حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کے خلاف دلیل ہے۔ اس نے اس حدیث سے دلیل لی ہے ۔ یہ روایت ہمارے روایات کے باہمی فرق کو سمجھنے والے علمائے کرام کے نزدیک حجرت ابن عمر کی روایت کے متضاد اورمخالف نہیں ہے۔ بلکہ دونوں روایات متفق اور قابل عمل ہیں ۔ دونوں صحابہ کرام نے وہی خبر دی ہے انہوں نے نبی کر یم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، لہذا جو شخص یہ دونوں روایات جان لے اسے دونوں روایات پر عمل جائز قرار دینا چایئے حضرت ابن عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کو سواری پر وتر پڑھتے دیکھا ہے اور اسی طرح یہ مسئلہ بیان کر دیا ہے ۔ اور حضرت جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ کو سواری بٹھا کر زمین پر وتر پڑھتے دیکھا تو باسی طرح بیان کر دیا ہے۔ لہذا نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ سواری کے اوپر وتر ادا کرے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنی سواری بٹھا کر زمین پر اتر کر وتر پڑھ لیں ،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دونوں طریقوں سے وتر ادا کیے ہیں ۔ اور دونوں میں سے کسی ایک طریقے سے اپنے فعل مبارکہ کے بعد منع نہیں فرمایا ۔ اور یہ جائز اختلاف کی قسم ہے ۔ اگر نبی کریم ﷺ نے زمین پر وتر نماز نہ پڑھی ہوتی صرف سواری پر وتر ادا کیے ہوتے تو سوار مسافر کے لیے یہ جائز نہ ہوتا کہ وہ سواری سے اتر کر زمین پر وتر پڑھتا ، لیکن جب نبی کریم ﷺ نے دونوں طرح ہی وتر ادا کیے ہیں ۔ تو سفر میں وتر پڑھنے والے کو اختیار ہے ، اگر چاہے تو اپنی سواری پر پڑھ لے اور اگر چاہے تو سواری سے اتر کر زمین پر پڑھ لے ۔ نبی کریم ﷺ کی کوئی سنت بھی چھوڑی نہیں جا سکتی جبکہ اس پر عمل کرنا ممکن ہو اور آپ کی حدیث کو دوسری کے مقابلے میں اس وقت چھوڑا جائے گا جب دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ممکن نہ ہو اور ایک حدیث دوسری کو ہر طریقے سے رد کرتی ہو (ان میں جع ممکن ہی نہ ہو)جب عمل ممکن نہ ہو تو اس وقت دونوں حدیثوں میں سے ناسخ اور منسوخ کو تلاش کیا جائے گا اور پھر منسوخ کی بجائے ناسخ پر عمل کیا جائے گا اور اگرؤ کسی شخص کے لیے حضرت جابر کی حدیث کے ساتھ حضرت ابن عمر کی حدیث کو رد کرنا جائز ہے تو کسی دوسرے شخص کے لیے حضرت جاب کی حدیث کو حضرت ابن عمر کی حدیث کے ساتھ رد کرنا بلا ولیٰ جائز ہو گا۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے سواری پر وتر پڑھنے کے بارے میں مروی حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث حضرت جابر کی حدیث کی نسبت بہت ساری اسانید سے مروی ہے جو زیادہ مضبوط اور صحیح ہیں، لیکن کسی عالم کے لیے ان دو حدیثوں میں سے کسی ایک کو دوسری کی وجہ سے رد کرنا جائز نہیں ہے ۔ بلکہ ہمارے بیان کردہ طریقے کے مطابق دونوں پر عمل کرنا چایے ۔ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کی اسانید کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 1263

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1264

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ: يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، وَقَالَا: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ کی سواری آپ کو لے کر جس طرف بھی منہ کر لیتی۔ جناب عبداللہ بن سعید کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : آپ اپنی سواری پر نماز پڑھتے رہے ، خواہ آپ کی سواری آپ کو لے کر جدھر بھی منہ کر لیتی ۔ جناب ابو کریب اور عبدا للہ بن سعید کہتے ہیں : اور حضرت ابن عمر ؓ بھی اسی طرح نماز ادا کرتے تھے۔

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ. ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ: يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← أَبُو كُرَيْبٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Hadith 1264

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1265

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ به.

حضرت عامر ؓ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی سواری پر نماز پڑھتے دیکھا ہے، اس کا منہ جدھر بھی ہوتا۔

رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ به. ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← بُنْدَارٌ

Hadith 1265

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1266

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى تَبُوكَ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی سواری پر تبوک کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔

رَأَيْتُ النَّبِيَّ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا إِلَى تَبُوكَ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ وَالْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ،

Hadith 1266

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1267

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ- عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ مُتَوَجِّهًا مِنْ مَكَّةَ، فَنَزَلَتْ: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} [البقرة: 115].

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی سواری پر مکہ مکرمہ سے (مدینہ منورہ کی طرف) منہ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی :(أَیْنَمَا تُوَ لُّوْا فَثَمَّ وَجْھُ اللہِ)(البقرۃ:115)" تم جس طرف بھی منہ کرو گے وہیں اللہ کا چہرہ ہے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدُ الْمَلِكِ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ- ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ

Hadith 1267

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1268

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ -أَوْ عَلَى حِمَارَةٍ- وَهُوَ مُتَوَجِّهٌ نَحْوَ خَيْبَرَ -يَعْنِي التَّطَوُّعَ-. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ الطَّاحِيُّ الْبَصْرِيُّ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک گدھے یا گدھی پر نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جبکہ آپ کا چہرہ مبارک خیبر کی طرف تھا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ محمد بن دینار ، الطا حی البصری ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ دِينَارٍ؛ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Hadith 1268

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1269

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ [138 - أ] حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّمَا أنزلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ} [البقرة: 115] أَنْ تُصَلِّيَ أَيْنَمَا تَوَجَّهَتْ بِكَ رَاحِلَتُكَ فِي السَّفَرِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَجَعَ مِنْ مَكَّةَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ تَطَوُّعًا، يُومِئُ بِرَأْسِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نازل ہوئی : (فَأَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْھُ اللہِ)(البقرۃ:115)پس تم جدھر بھی منہ کرو گے وہیں اللہ کا چہرہ ہے ۔ کہ تم سفر میں نماز پڑھ لو ، تمہاری سواری تمہیں لے کر جس طرف چاہے منہ کر لے ۔(لہذا) جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مد ینہ منورہ کی طرف واپس ہوئے تو آپ اپنی سواری پر اپنے سر کے ساتھ اشارہ کرتے ہوئے نفل نماز پڑھ رہے تھے۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← ابْنُ فُضَيْلٍ أ] ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Hadith 1269

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1270

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، وَلَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ، مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَيُومِئُ إِيمَاءً. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُنْهَى عَنْ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِيهِنَّ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا جب کہ آپ اپنی سواری پر ہر سمت میں نوافل پڑھ رہے تھے ، لیکن آپ رکوع کی نسبت دونوں سجدوں کے لیے زیادہ جھکتے ، اور آپ اشارہ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔

صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِيهِنَّ ← لَكِنَّهُ يَخْفِضُ السَّجْدَتَيْنِ، مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَيُومِئُ إِيمَاءً. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَوْقَاتِ الَّتِي يُنْهَى ← رَأَيْتُ النَّبِيَّ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ يُصَلِّي النَّوَافِلَ فِي كُلِّ وَجْهٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ

Hadith 1270

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals