صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوعِ فِی السَّفَرِ · حديث 1263
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، فَإِذَا أَرَادَ الْمَكْتُوبَةَ أَوِ الْوِتْرَ أَنَاخَ فَصَلَّى بِالْأَرْضِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَوَهَّمَ بَعْضُ النَّاسِ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ دَالٌّ عَلَى خِلَافِ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْخَبَرَ أَنَّ الْوِتْرَ غَيْرُ جَائِزٍ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَهَذَا غَلَطٌ وَإِغْفَالٌ مِنْ قَائِلِهِ. وَلَيْسَ هَذَا الْخَبَرُ عِنْدَنَا وَلَا عِنْدَ مَنْ يُمَيِّزُ بَيْنَ الْأَخْبَارِ يُضَادُّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، بَلِ الْخَبَرَانِ جَمِيعًا مُتَّفِقَانِ مُسْتَعْمَلَانِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَخْبَرَ بِمَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ، وَيَجِبُ عَلَى مَنْ عَلِمَ الْخَبَرَيْنِ جَمِيعًا إِجَازَةَ كِلَا الْخَبَرَيْنِ. قَدْ رَأَى ابْنُ عُمَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَأَدَّى مَا رَأَى، وَرَأَى جَابِرٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ فَأَوْتَرَ بِالْأَرْضِ فَأَدَّى مَا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَائِزٌ أَنْ [137 - ب] يُوتِرَ الْمَرْءُ عَلَى رَاحِلَتِهِ كَمَا فَعَلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَائِزٌ أَنْ يُنِيخَ رَاحِلَتَهُ فَيَنْزِلُ فَيُوتِرُ عَلَى الْأَرْضِ، إِذِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَ الْفِعْلَيْنِ جَمِيعًا وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ أَحَدِهِمَا بَعْدَ فِعْلِهِ، وَهَذَا مِنِ اخْتِلَافِ الْمُبَاحِ. وَلَوْ لَمْ يُوتِرِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَرْضِ وَقَدْ أَوْتَرَ عَلَى الرَّاحِلَةِ كَانَ غَيْرَ جَائِزٍ لِلْمُسَافِرِ الرَّاكِبِ أَنْ يَنْزِلَ فَيُوتِرَ عَلَى الْأَرْضِ، وَلَكِنْ لَمَّا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفِعْلَيْنِ جَمِيعًا كَانَ الْمُوتِرُ بِالْخِيَارِ فِي السَّفَرِ إِنْ أَحَبَّ أَوْتَرَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَإِنْ شَاءَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ، وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْ سُنَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْجُورًا إِذَا أَمْكَنَ اسْتِعْمَالُهُ، وَإِنَّمَا يُتْرَكُ بَعْضُ خَبَرِهِ بِبَعْضٍ إِذَا لَمْ يُمْكِنِ اسْتِعْمَالُهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ أَحَدُهُمَا يَدْفَعُ الْآخَرَ فِي جَمِيعِ جِهَاتِهِ، فَيَجِبُ حِينَئِذٍ طَلَبُ النَّاسِخِ مِنَ الْخَبَرَيْنِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْهُمَا، وَيُسْتَعْمَلُ النَّاسِخُ دُونَ الْمَنْسُوخِ. وَلَوْ جَازَ لِأَحَدٍ أَنْ يَدْفَعَ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ، بِخَبَرِ جَابِرٍ، كَانَ أَجْوَزَ لِآخَرَ أَنْ يَدْفَعَ خَبَرَ جَابِرٍ بِخَبَرِ ابْنِ عُمَرَ، لِأَنَّ أَخْبَارَ ابْنِ عُمَرَ فِي وِتْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّاحِلَةِ أَكْثَرُ أَسَانِيدَ وَأَثْبَتُ وَأَصَحُّ مِنْ خَبَرِ جَابِرٍ، وَلَكِنْ غَيْرُ جَائِزٍ لِعَالِمٍ أَنْ يَدْفَعَ أَحَدَ هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ بِالْآخَرِ بَلْ يُسْتَعْمَلَانِ جَمِيعًا عَلَى مَا بَيَّنَّا، وَقَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِي كِتَابِ "الْكَبِيرِ".
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں (نفل) نماز پڑھتے رہتے ، آپ کی سواری کا رخ جدھر بھی ہوتا ، پھر جب آپ فرض نماز یا وتر پڑھنے کا ارداہ کرتے تو اپنی سواری کو بٹھا دیتے اور زمین پر نماز ادا کرتے۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : بعض لوگوں کو وہم ہوا ہے کہ یہ حدیث ،حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کے خلاف دلیل ہے۔ اس نے اس حدیث سے دلیل لی ہے ۔ یہ روایت ہمارے روایات کے باہمی فرق کو سمجھنے والے علمائے کرام کے نزدیک حجرت ابن عمر کی روایت کے متضاد اورمخالف نہیں ہے۔ بلکہ دونوں روایات متفق اور قابل عمل ہیں ۔ دونوں صحابہ کرام نے وہی خبر دی ہے انہوں نے نبی کر یم ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے، لہذا جو شخص یہ دونوں روایات جان لے اسے دونوں روایات پر عمل جائز قرار دینا چایئے حضرت ابن عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کو سواری پر وتر پڑھتے دیکھا ہے اور اسی طرح یہ مسئلہ بیان کر دیا ہے ۔ اور حضرت جابر ؓ نے نبی کریم ﷺ کو سواری بٹھا کر زمین پر وتر پڑھتے دیکھا تو باسی طرح بیان کر دیا ہے۔ لہذا نمازی کے لیے جائز ہے کہ وہ سواری کے اوپر وتر ادا کرے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے کیا ہے اور یہ بھی جائز ہے کہ وہ اپنی سواری بٹھا کر زمین پر اتر کر وتر پڑھ لیں ،کیونکہ نبی کریم ﷺ نے دونوں طریقوں سے وتر ادا کیے ہیں ۔ اور دونوں میں سے کسی ایک طریقے سے اپنے فعل مبارکہ کے بعد منع نہیں فرمایا ۔ اور یہ جائز اختلاف کی قسم ہے ۔ اگر نبی کریم ﷺ نے زمین پر وتر نماز نہ پڑھی ہوتی صرف سواری پر وتر ادا کیے ہوتے تو سوار مسافر کے لیے یہ جائز نہ ہوتا کہ وہ سواری سے اتر کر زمین پر وتر پڑھتا ، لیکن جب نبی کریم ﷺ نے دونوں طرح ہی وتر ادا کیے ہیں ۔ تو سفر میں وتر پڑھنے والے کو اختیار ہے ، اگر چاہے تو اپنی سواری پر پڑھ لے اور اگر چاہے تو سواری سے اتر کر زمین پر پڑھ لے ۔ نبی کریم ﷺ کی کوئی سنت بھی چھوڑی نہیں جا سکتی جبکہ اس پر عمل کرنا ممکن ہو اور آپ کی حدیث کو دوسری کے مقابلے میں اس وقت چھوڑا جائے گا جب دونوں پر بیک وقت عمل کرنا ممکن نہ ہو اور ایک حدیث دوسری کو ہر طریقے سے رد کرتی ہو (ان میں جع ممکن ہی نہ ہو)جب عمل ممکن نہ ہو تو اس وقت دونوں حدیثوں میں سے ناسخ اور منسوخ کو تلاش کیا جائے گا اور پھر منسوخ کی بجائے ناسخ پر عمل کیا جائے گا اور اگرؤ کسی شخص کے لیے حضرت جابر کی حدیث کے ساتھ حضرت ابن عمر کی حدیث کو رد کرنا جائز ہے تو کسی دوسرے شخص کے لیے حضرت جاب کی حدیث کو حضرت ابن عمر کی حدیث کے ساتھ رد کرنا بلا ولیٰ جائز ہو گا۔ کیونکہ نبی اکرم ﷺ کے سواری پر وتر پڑھنے کے بارے میں مروی حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث حضرت جابر کی حدیث کی نسبت بہت ساری اسانید سے مروی ہے جو زیادہ مضبوط اور صحیح ہیں، لیکن کسی عالم کے لیے ان دو حدیثوں میں سے کسی ایک کو دوسری کی وجہ سے رد کرنا جائز نہیں ہے ۔ بلکہ ہمارے بیان کردہ طریقے کے مطابق دونوں پر عمل کرنا چایے ۔ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث کی اسانید کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ
Hadith 1263
