صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ صَلاَۃِ التَّطَوُّعِ قَاعِدًا · حديث 1248
حدثنا سلم بن جنادة ثنا وكيع عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين عن عبد الله بن شقيق العقيلي عن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قائما وقاعدا فإذا افتتح الصلاة قائما ركع قائما وإذا افتتح الصلاة قاعدا ركع قادعا قال أبو بكر : فهذا الخبر يبين هذه الأخبار كلها فعلى هذا الخبر إذا افتتح الصلاة قائما ثم قعد وقرأ انبغى له أن يقوم فيقرأ بعض قراءته ثم يركع وهو قائم فإذا افتتح صلاته قاعدا قرأ جميع قراءته ثم يركع وهو قائم فإذا افتتح صلاته قاعدا قرأ جميع قراءته وهو قاعد ثم ركع وهو قاعد إتباعا لفعل النبي صلى الله عليه وسلم
جناب ابن سیرین ، عبداللہ بن شفیق کے واسطے سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ (نفل نماز) کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پڑھا کرتے تھے۔ تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز کی ابتدا کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے ، نماز کی ابتدا بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے ، امام ابو بکر فرماتے ہیں : یہ روایت گذشتہ تمام روایات کو کھول کر بیان کرتی ہے، چنانچہ اس روایت کے مطابق جب نماز ی ، نماز کی ابتدا کھڑے ہو کر کرے ، پھر بیٹھ جائے اور قرات کرے تو اس کے لیے مناسب لائق بات یہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر کچھ قرات کرے اور پھر کھڑے کھڑے رکوع کر لے ۔ اور جب وہ اپنی نماز کی ابتدا بیٹھ کر کرے اور ساری قرات بیٹھ کر کرے تو پھر اسے رکوع بھی بیٹھ کر نا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ کے فعل کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے۔
عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِیْقٍ الْعُقَیْلِیِّ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ
Hadith 1248
