Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1205

ثَنَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا".

حضرت ابن عمرؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھروں میں پڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناو۔

"اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ

Hadith 1205

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1206

ثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ صَلَاتَهُ فِي الْمَسْجِدِ، فَلْيَجْعَلْ لِبَيْتِهِ نَصِيبًا مِنْ صَلَاتِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ فِي بَيْتِهِ مِنْ صَلَاتِهِ خَيْرًا". رَوَى هَذَا الْخَبَرَ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرُهُمْ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، لَمْ يَذْكُرُوا أَبَا سَعِيدٍ. [131 - أ]. ثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَا: ثَنَا الْأَعْمَشُ.

حضرت ابو سعید خدری ؓنبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں اپنی نماز پڑھ لے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی نماز سے اپنے گھر کا حصہ بھی رکھے ۔ پس بے شک اللہ تعالی اس کی نماز کے باعث اس کے گھر میں خیر و برکت کر دیتے ہیں ۔ یہ روایت ابو خالد احمر،ابو معاویہ اور عبدہ بن سیلمان وغیرہ نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ حضرت جابر ؓ سے بیان کی ہے اور انہوں نے حضرت ابو سعید ؓ ذکر نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 1206

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1207

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ فَرُّوخَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَكْرِمُوا بُيُوتَكُمْ بِبَعْضِ صَلَاتِكُمْ".

حضرت انس بن مالک ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا :اپنی کچھ نماز کے ساتھ اپنے گھروں کو عزت و شرف دو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنُ فَرُّوخَ، ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ،

Hadith 1207

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1208

ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، قَالَا: ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ: ثَنَا أَبُو حَيَّانَ؛ ح وَثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- أنَا أَبُو حَيَّانَ، نَا أَبُو زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: "يَا بِلَالُ! حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ". فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا تَامًّا قَطُّ فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطَّهُورِ لِرَبِّي مَا كَتَبَ لِي أَنْ أُصَلِّيَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو نماز فجر کے وقت فرمایا: اے بلال ! مجھے اپنا وہ عمل بتائو جو تمہارے نزدیک اسلام لانے کے بعد سب سے زیادہ نفع کی امید والا ہے ۔ بے شک میں نے آج رات جنت میں تیرے جوتوں کی آہٹ اپنے آگے سنی ہے ۔ تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے نزدیک میں نے اسلام لانے کے بعد اس سے زیادہ نفع اور اجر و ثواب کی امید والا کوئی عمل نہیں کیا کہ میں نے رات یا دن کی جس گھڑی میں بھی مکمل وضو کیا تو میں نے اس وضو کے ساتھ اپنے رب کی رضا کے لیے نفل نماز پڑھی جتنی اس نے میرے مقدر میں لکھی تھی۔

اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ". فَقَالَ: مَا عَمِلْتُ ← بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ مَنْفَعَةً فِي الْإِسْلَامِ، فَإِنِّي قَدْ ← نَبِيُّ اللَّهِ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ: "يَا بِلَالُ! ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو زُرْعَةَ ← أَبُو حَيَّانَ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ← وَثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← أَبُو حَيَّانَ، ← أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ،

Hadith 1208

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1209

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: "يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي". فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا أَذْنَبْتُ (1) قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "بِهَذَا".

حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو حضرت بلال ؓ کو بلا کر فرمایا : اے بلال ! کس عمل کی وجہ سے تم جنت میں مجھ سے سبقت لے گئے ہو؟ بے شک میں گزشتہ رات جنت میں داخل ہوا تو میں نے تمہارے چلنے کی آواز اپنے آگے آگے سنی ۔ تو حضرت بلال ؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جب بھی کوئی گناہ کیا تو میں نے دو رکعات ادا کیں ، اور جب بھی میرا وضو ٹوٹ جاتا تو میں اسی وقت وضق کر لیتا ہوں پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عمل کی وجہ سے (تم سبقت لے گئے ہو)۔

بِلَالٍ ← خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي". ← "يَا بِلَالُ! بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ؟ إِنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ ← أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمًا فَدَعَا بِلَالًا، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Hadith 1209

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1210

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ؛ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى". ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

حضرت ابن عمرؓنبی اکرم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : رات اور دن (نفل) نماز دو دو رکعات ہیں۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ ← يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1210

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1210

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ؛ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى". ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.

نبی اکرم ﷺ کے ایک فرمان میں اس طرح مذکور ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات ادا کرنی چاہیئں ۔ اور آپ سے مروی روایات میں یہ بھی ہے۔جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعات پڑھ لینی چاہیے ۔ اور حضرت کعب بن مالک ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سفر سے واپس صرف دن میں چاشت کے وقت آتے تھے ، تو آپ پہلے مسجد میں تشریف لاتے اور اس میں دو رکعات ادا کرتے ۔ حضرت جابرؓ جب آپ کے پاس آپ کے اونٹ سپر د کرنے آئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا تھا: کیا تم نے(تحیتہ المسجد)نماز پڑھی ہے ؟تو انہوں نے جواب دیا نہیں ۔ آپ نے فرمایا : کھڑے ہو جائو اور دو رکعات ادا کرو ۔ حضرت ابن عباس ؓکی روایت میں ہے : جو شخص دو رکعات ادا کرے اور ان میں اپنے نفس سے گفتگو نہ کرے اور اس کا ایک غلام یا گھوڑا ہو ۔نبی کریم ﷺ کا دن کے وقت دو رکعات نماز استسقا ادا کرنا بھی اس کی دلیل ہے ۔آپ یہ رکعات رات کو ادا نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ سے ظہر سے پہلے دو رکعات ، اور اس کے بعد بھی دو رکعات ،اور مغرب کے بعد دو رکعات اور عشا کے بعد بھی دو رکعات یاد رکھی ہیں ۔ اور مجھے حضرت حفصہ ؓنے بتایا کہ آپ صبح کی نماز سے پہلے بھی دو رکعات ادا کرتے تھے ۔حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت میں ہے : نبی اکرم ﷺ نماز فجر اور عصر کے علاوہ ہر فرض نماز کے بعد دو رکعات پڑھتے تھے ۔ حضرت بلال ؓ کی روایت میں ہے : میں نے جب بھی کوئی گناہ کیا ہے میں نے دو رکعات ادا کیں ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی حدیث میں ہے جو بندہ کوئی گناہ کر لے پھر وضو کر کے دو رکعات نماز پڑھے ، پھر اللہ تعالی سے اپنے گناہ کی معافی مانگے تو اللہ تعالی ا س کو معاف فرما دیتے ہیں ۔ حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کسی منزل پر پڑائو ڈالتے تو آپ دو رکعات پڑھ کر اس کو چھوڑتے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے تھے پھر میرے گھر واپس تشریف لا کر دو رکعات ادا فرماتے۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ عالیہ تشریف لا رہے تھے ، حتی کہ جب آپ بنی معاویہ کی مسجد کے پاس سے گزرنے لگے تو آپ اس میں داخل ہو گئے اور دو رکعات ادا کیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ حضرت محمود بن ربیع کی حضرت عتبان بن مالک کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے گھر چاشت کی دو رکعات ادا کیں۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی حدیث میں ہے:میرے خلیل نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی ، اور اس میں ہے کہ چاشت کے دو رکعات (پڑھا کرو) اور جناب عبداللہ بن شفیق کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت میں ہے کہ وہ فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو کبھی چاشت کی نماز پڑھتے نہیں دیکھا ، الا کہ آپ سفر سے تشریف لاتے تو دو رکعات پڑھتے۔ حضرت ابو ذر ؓ کی روایت میں ہے کہ بنی آدم کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے ۔ اور آگے فرمایا : اور چاشت کی دو رکعات اس کے لیے کافی ہیں ۔ حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت میں ہے: جس شخص نے چاشت کی دو رکعات کا اہتمام اور اس پر باقاعدگی کی اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں ۔جناب انس بن سیرین کی حضرت انس بن مالک سے روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک انصاری کے گھر والوں کے پاس تشریف لے گئے، تو انہوں نے عرض کی ؛ اے اللہ کے رسول ! اگر آپ دعا فر ما دیں (تو ہمارے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گی) چنانچہ آپ نے گھر کے ایک کونے کی صفائی کا حکم دیا ،(تو صاف کر دیا گیا)اور پانی چھڑک کر ایک چٹائی بچھا دی گئ ، تو آپ نے وہاں کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کیں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : ان تمام روایات میں اس بات کی دلیل ہے کہ دن کے نفلی نماز دو دو رکعات ہیں ،چار چار نہیں ، جیسا کہ اس شخص کا دعوی ٰ ہے جس نے ان روایات کو حاصل کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی ایسے عالم انہیں سن لیتا ہو جو ان کو سمجھتا ہو۔رہی حضرت عائشہ ؓ کی حدیث جو ہم نے ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کیں ،تو اس حدیث میں ذکر نہیں ہے کہ آپ نے انہیں ایک ہی سلام کے ساتھ ادا فرمایا تھا ۔ جبکہ حضرت ابن عمر ؓ نے بیان کیا ہے کہ آپ نے ظہر سے پہلے دو رکعات ادا کی ہیں ۔ اور ان کی نفلی نماز چار چار رکعات ہی ہوتی تو کسی شخص کے لیے یہ جائز نہ ہوتا کہ وہ ظہر کے بعد دو رکعات ادا کرے،بلکہ اس کے لیے واجب ہوتا کہ وہ ان کے ساتھ دو اور رکعات ملائے تاکہ چار رکعات مکمل ہو جائیں ۔ اور اس کے لیے یہ بھی واجب و ضروری ہوتا کہ وہ نماز فجر سے پہلے بھی چار رکعات ادا کرتا کیونکہ وہ بھی دن کی نماز ہے ، رات کی نہیں ۔ اور ہن نے نبی اکرم ﷺ سے منقول اور ثابت شدہ کوئی روایت نہیں سنی کہ آپ نے دن کی نفلی نماز چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کی ہوں ۔ اگر کسی ایسے شخص کو جس نے غور و فکر نہیں کیا ، یہ خیال آئے کہ حضرت عبداللہ بن شفیق کی حضرت عائشہ ؓ سے حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کی ہیں، کیونکہ اس روایت میں چار کا تذکرہ ہے ( تو اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی سلام سے پڑھی ہوں گی) تو اس شخص کو جواب دیا جائے گا کہ جناب سعید مقبری نے حضرت ابو سلمہ کے واسطے کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے نبی کریم ﷺ کی نماز تہجد کے بارے میں بیان کیا ہے : آپ فرماتی ہیں :رسول اللہ ﷺ چار رکعات پڑھتے تھے ، تم ان کے حسن اور طوالت کے بارے میں مت پوچھو ۔ پھر آپ چار رکعات پڑھتے ۔چنانچہ نماز تہجد کے بارے میں یہ الفاظ حضرت عبداللہ بن شفیق کے حضرت عائشہ ؓ سے ذکر کردہ نماز ظہر سے پہلے چار رکعات کے بارے میں الفاظ جیسے ہی ہیں ۔ تو کیا یہ جائز ہے کہ کوئی تاویل کرنے والا یہ تاویل کرے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت چار چار رکعات ادا کرتے تھے، اور چار ہر رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ حالانکہ ہمارے مخالفین اس بات میں ہمارے ساتھ متفق ہے کہ وتروں کے علاوہ رات کی نماز دو دو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔لہذا ابو سلمہ کی حضرت عائشہ سے روایت کا جو معنی ان کے نزدیک ہے وہی معافی ہمارے نزدیک عبداللہ بن شفیق کی روایت کے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے چار رکعات دو دفعہ سلام پھیر کر ادا کی تھیں ، ایک سلام کے ساتھ نہیں ۔ جناب عاصم بن ضمرہ کی حضرت علی بن ابی طالب ؓ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب سورج اس (مشرقی) جانب اتنا بلند ہوتا جتنا عصر کے وقت (مغربی جانب میں)ہوتا ہے تو آپ دورکعات ادا کرتے ، اور جب سورج اس (مغربی) جانب اتنا بلند ہوتا جتنا ظہر کے وقت اس (مشرقی) جانب ہوتا ہے تو آپ چار رکعات ادا کرتے ، اور آپ ظہر سے پہلے چار رکعات اور اس کے بعد دو رکعات ادا فرماتے ۔ اور آپ عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتے اور آپ دو رکعات کے بعد اللہ کے مقرب فرشتوں اور تابعدار مسلمانوں پر سلام بھیج کر الگ کرتے۔

النَّبِیِّ بمثلہ۔ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيٍّ الْأَزْدِيِّ، ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← «صَلَاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← عَلِيًّا الْأَزْدِيَّ، أَنَّهُ ← يَعْلَى -وَهُوَ ابْنُ عَطَاءٍ- أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1210

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1211

ثنا بندار ثنا محمد ثنا شعبة عن أبي إسحاق قال سمعت عاصم بن ضمرة قال : سألت عليا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر هذا الحديث قال أبو بكر : ففي هذا لخبر خبر علي بن أبي طالب قد صلى من النهار ركعتين مرتين فأما ذكر الأربع قبل الظهر والأربع قبل العصر فهذه من الألفاظ المجملة التي دلت عليه الأخبار المفسرة فدل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الليل والنهار مثنى مثنى وأن كل ما صلى النبي صلى الله عليه وسلم في النهار من التطوع فإنما صلاهن مثنى مثنى على ما خبر أنها صلاة النهار والليل جميعا ولو ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى من النهار أربعا بتسليمة بالنهار وبين أن يسلم في كل ركعتين وقوله في خبر علي : ويفصل بين كل ركعتين بالتسليم على الملائكة المقربين ومن تبعهم من المؤمنين فهذه اللفظة تحتمل معنيين أحدهما أنه كان يفصل بن كل ركعتين بتشهد إذ في التشهد التسليم على الملائكة ومن تبعهم من المسلمين وهذا معنى يبعد والثاني أنه كان يفصل بين كل ركعتين بالتسليم الذي هو فصل بين هاتين الركعتين وبين ما بعدهما من الصلاة وهذا هو المفهوم من المخاطبة لأن العلماء لا يطلقون اسم الفصل بالتشهد من غير سلام يفصل بين الركعتين وبين ما بعدهما ومحال من جهة الفقه أن يقال : يصلي الظهر أربعا يفصل بينهما بسلام أو العصر أربعا يفصل بينهما بسلام أو المغرب ثلاثا يفصل بينهما بسلام أو العشاء أربعا يفصل بينهما بسلام وإنما يجب أن يصلي المرء الظهر والعصر والعشاء كل واحد منهن أربعة موصولة لا مفصولة وكذلك المغرب يجب أن يصلى ثلاثا موصولة لا مفصولة ويجب أن يفرق بين الوصل وبين الفصل والعلماء من جهة الفقه لا يعلمون الفصل بالتشهد من غير تسليم يكون خارجا من الصلاة ثم يبدأ فيما بعدها ولو كان التشهد يكون فصلا بين الركعتين وبينما بعد لجاز لمصل إذا تشهد في كل صلاة يجوز أن يتطوع بعدها أن يقوم فبل أن يسلم فيبدأ في التطوع على العمد وكذلك كان يجوز له أن يتطوع من الليل بعشر ركعات وأكثر بتسليمة واحدة يتشهد في كل ركعتين ولو كان التشهد فصلا بين ما مضى وبين ما بعده من الصلاة وهذا خلاف مذهب مخالفينا من العراقيين

جناب عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے رسول اللہﷺ کی (نفل) نماز کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث بیان کی ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس روایت میں حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے خبر دی کہ آپ نے دن کے وقت دو مرتبہ دودو رکعات ادا فرمائی ہیں۔جبکہ ظہر سے پہلے چار رکعات اور عصر سے پہلے چار رکعات کا ذکر مجمل الفاظ میں ہے جن کی تفسیر اور وضاحت مفسر روایات سے ہوتی ہے ۔چنانچہ حضرت ابن عمرؓ کی حدیث جو وہ نبیہ اکرم سے بیان کرتے ہیں کہ دن اور رات کی نماز دودو رکعات کر کے ادا کی جائے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرم ﷺ دن کے وقت جو نفل نماز بھی ادا کی وہ آپ نے دو رکعات ہی ادا کیں ہیں ۔جیسا کہ انہوں نے بتایا کہ رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعات ہیں ۔اگر نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت ہو جائے کہ آپ نے دن کے وقت چار رکعات نفل نماز ایک سلام کے ساتھ ادا کی ہے تو پھر ہمارے نزدیک جائز اور مباح اختلاف کی قسم سے ہو گا۔ لہذا آدمی کو اختیار ہو گا کہ وہ دن کے وقت چار رکعات نفل ایک ہی کے ساتھ ادا کر لے یا ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیے۔حضرت علی کی حدیث کے یہ الفاظ ، آپ ہر دو رکعات میں اللہ کے مقرب فرشتوں اور ان کے پیرو کار مومنوں پر سلام بھیج کر فاصلہ کرتے۔تو اس کے دو معانی ہیں : پہلا معانی یہ ہے کہ آپ دو رکعت کے بعد تشہد بیٹھ کر فاسلہ کرتے تھے، کیو نکہ تشہد میں بھی فرشتوں اور ان کے تا بعدار مسلمانوں پر سلام بھیجا جاتا ہے ، تو یہ معنی مراد لینا بعید ہے اور دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر کر فاصلہ کرتے تھے اور یہ سلام پہلی دو رکعات کے اور ان کے بعد والی نماز میں فاسلہ اور جدائی ہوتی ۔ اور یہ معنی مفہوم مخا طب ہے(یعنی روایت سے سمجھا جانے والا مہفوم و معنی)کیونکہ علمائے کرام صرف تشہد کے ساتھ ، سلام پھیرے بغیر فاصلہ کرنے کو فاصلہ اور جدائی کا نام نہیں دیتے کہ جس کے ساتھ پہلی دو رکعات اور ان کی بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ کیا جائے اور فقہی نقطہ نظر سے یہ بھی کہنا محال اور ناممکن ہے کہ آپ ظہر کی چار رکعات ادا کرتے اور ان کے درمیان سلام پھیر کر فا صلہ کرتے یا آپ مغرب کی تین رکعات میں سلام پھیر کر فاصلہ کرتے یا آپ عشا کی چار رکعات میں سلام کے ساتھ فاسلہ اور جدائی کرتے۔ بلا شبہ نمازی کے لیے نماز ظہر ، عصر اور عشا کی چار رکعات ملا کر پڑھنا واجب ہے ۔ اسی طرح مغرب کی نماز بھی ان میں جدائی اور فاصلہ کیے بغیر (تمام رکعات ) ملا کر پڑھنا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ فصل اوروصل (ملا کر پڑھنا ) میں فرق کیا جائے ۔ علمائے کرام فقہی اعتبار سے بغیر سلام پھیرے صرف تشہد کے ساتھ فصل (فاصلہ کرنے ) کو نہیں جانتے کہ اس فاصلے کے ساتھ نمازی نماز سے نکل جائے پھر اس کے بعد والی نماز شروع کر دے ، اگر صرف تشہد پہلی دو رکعت اور بعد والی نماز کے درمیان فاصلہ ہوتا پھر نمازی کے لیے جائز ہونا چاہیے کہ جب وہ کسی بھی نماز میں تشہد بیٹھ لے تو اس کے بعد نفل نماز پڑھ لے ۔ یہ کہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے ہی کھڑا ہو جائے اور عملا نفل نماز شروع کر دے ۔ اسی طرح اس کے لیے یہ بھی جائز ہو گا وہ رات کے وقت دس رکعات یا اس سے زائد نفل نماز ایک سلام سے ادا کر لے ۔ اور ہر دو ر رکعت کے بعد تشہد بیٹھ جائے ، اگر تشہد کو گذشتہ اور آئندہ نماز کے درمیان فاصلہ تسلیم کیا جائے ۔ جبکہ یہ بات ہمارے مخالفین عراقی علما کے مذہب کے بھی خلاف ہے۔

هَذَا الْحَدِيثَ ← صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سألت عليا ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ

Hadith 1211

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1212

وقد روى شعبة بن الحجاج عن عبد ربه بن سعيد عن أنس بن أبي أنس عن عبد الله بن نافع بن العمياء عن عبد الله بن الحارث بن نوفل عن الطلب بن أبي وداعة : أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : الصلاة مثنى مثنى و تشهد في كل ركعتين و تبائس و تمسكن و تقنع يديك وتقول : اللهم اللهم فمن لم يفعل فهو خداج حدثناه علي بن خشرم أخبرنا عيسى عن شعبة عن عبد ربه بن سعيد

حضرت مطب بن ابی وداعہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : نماز دو دو رکعات ہے۔ہر دو رکعت کے بعد تشہد (اللہ تعالی کے سامنے) اپنی فقیری ،مسکنت کا اظہار کرنا ہے اور تو عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھا کر اور کہہ: اے میرے اللہ : اے میرے اللہ (یعنی دعا مانگ)! جس نے یہ کام نہ کیے تو ہ ناقص ہے ۔

الطلب بن أبي وداعة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، ← عبد الله بن نافع بن العمياء ← أنس بن أبي أنس ← عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ← وقد روى شعبة بن الحجاج

Hadith 1212

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1213

وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث عن عبد ربه عن عمران بن أبي أنيس عن عبد اللهبن نافع بن العمياء عن ربيعة بن الحارث عن الفضل بن عباس : عن النبي صلى الله عليه وسلم حدثناه يونس بن عبد الأعلى ثنا يحيى - يعني ابن عبد الله بن بكير - ثنا الليث فإن ثبت هذا الخبر فهذه اللفظة : الصلاة مثنى مثنى مثل خبر ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم وفي هذا لخبر زيادة شرح ذكر رفع اليدين ليقول : اللهم اللهم وفي خبر الليث قال : ترفعهما إلى ربك تستقبل بهما وجهك وتقول : يا رب يا رب ورفع اليدين في التشهد قبل التسليم ليس من ستة الصلاة وهذا دال على أنه إنما أمره برفع اليدين والدعاء والمسألة بعد التسليم من المثنى فأما الخبر الذي احتج به بعض الناس من الأربع قبل الظهر أن النبي صلى الله عليه وسلم صلاهن بتسليمة فإنه روى بإسناد لا يحتج بمثله من له معرفة برواية الأخبار

جناب لیث بن سعد نے اس حدیث کی سند میں امام شعبہ کی ،مخالفت کی ہے ۔ چنانچہ لیث نے روایت عبدربہ کی سند سے حضرت فضل بن عبا سؓ سے مرفوعا بیان کی ہے ، جبکہ امام بن شعبہ نے عبدربہ کی سند سے حدیث مطلب بن ابی وداعہ سے بیان کی ہے لٰہذا اگر یہ حدیث ثابت ہو جائے تو اس یہ الفاظ نماز دو دو رکعات ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کی مرفوع حدیث کے الفاظ کی مثل ہیں ۔ کہ رات اور دن کی نماز دو دو رکعات ہے اور اس حد یث میں مزید شرح اور وضاحت آگئ ہے اور اس میں دعا کرتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے ۔ اور لیث کی روایت میں ہے ۔ تو ان دونوں ہاتھوں کو اپنے رب کی طرف بلند کر ان کا رخ اپنے چہرے کی طرف کر کے یہ کہہ: اے میرے رب، اے میرے رب،، نیز تشہد میں سلام پھیرنے سے پہلے ہاتھ اٹھانا یہ نماز کی سنت نہیں ہے۔اور اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے نمازی کو ہاتھ اٹھانے ،دعا کرنے اور رب تعالی سے مانگنے کا حکم دو رکعت سے سلام پھیرنے کے بعد کے لیے دیا ہے ۔رہی وہ حدیث کہ جس سے بعض لوگوں نے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہر سے پہلے چار رکعات ایک ہی سلام کے ساتھ ادا فرمائی ہیں تو وہ ایسی (ضعیف و کمزور) سند سے مروی ہے کہ روایت حدیث کی معرفت رکھنے والا کوئی عالم اس جیسی روایت سے دلیل نہیں لیتا ۔

يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ: ← ربيعة بن الحارث ← عبد الله بن نافع بن العمياء ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أُنَيْسٍ ← عَبْدِ رَبِّهِ ← وخالف الليث بن سعد شعبة في إسناد هذا الخبرفرواه الليث

Hadith 1213

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1214

حدثناه علي بن حجر نا محمد بن يزيد الواسطي ح و ثنا سلم بن جنادة نا وكيع عن عبيدة بن معتب الضبي عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة عن القرثع عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم وحدثنا بندار نا أبو داود ثنا شعبة حدثني عبيدة و كان من قديم حديثه عن إبراهيم عن سهم بن منجاب عن قزعة عن القرثع عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : أربع قبل الظهر لا يسلم فيهن تفتح لهن أبواب السماء هذا لفظ حديث شعبة فأما محمد بن يزيد فإنه طول الحديث فذكر فيه كلاما كثيرا فحدثنا بندار نا محمد نا شعبة عن عبيدة بن معتب عن ابن منجاب عن رجل عن قرثع الضبي عن أبي أيوب : عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه و عبيدة بن معتب رحمه الله ليس ممن يجوز الاحتجاج بخبره عند من له معرفة برواية الأخبار وسمعت أبا موسى يقول : ما سمعت يحيى بن سعيد ولا عبد الرحمن بن مهدي حدثا عن سفيان عن عبيدة بن معتب بشيء قط وسمعت أبا قلابة يحكي عن هلال بن يحيى قال : سمعت يوسف بن خالد السمتي يقول : قلت لعبيدة بن معتب : هذا الذي ترويه عن إبراهيم سمعته كله ؟ قال : منه ما سمعته و منه ما أقيس عليه قال : قلت : فحدثني بما سمعت فإني أعلم بالقياس منك وروى شبيها بهذا الخبر الأعمش عن المسيب بن رافع عن علي بن الصلت عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا أنه ليس فيه : لا يسلم بينهن

حضرت ابو ایوبؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : طہر سے پہلے چار رکعات ، نمازی ان میں سلام نہ پھیرے تو ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ۔ یہ جناب شعبہ کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جبکہ جناب محمد بن یزید نے بڑی طویل حدیث بیان کی ہے اور اس میں بہت ساری باتیں ذکر کی ہیں (آگے امام صاحب نے اپنی سند بیان کی ہے) اور عبیدہ بن معتب ؒ کا شمار ان راویوں میں نہیں ہوتا جن کی روایت سے علمائے روایت استد لال کرتے ہیں ۔ اور میں نے جناب ابو موسیٰ کو فرماتے ہوئے سنا : میں نے کبھی امام یحییٰ بن سعید اور امام عبد الرحمان بن مہدی ؒ کو سفیان کے واسطے سے عبیدہ بن معتب سے کوئی روایت بیان کرتے نہیں سنا ۔ اور میں نے جناب ابو قلابہ کو ہلال بن یحییٰ سے بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے یوسف بن خالد سمتی کو فرماتے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے جناب عبیدہ بن معتب سے پوچھا : جو روایات آپ ابراہیم سے بیان کرتے ہیں ، کیا آپ نے وہ تمام روایات ان سے سنی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان میں سے کچھ میں نے ان سے سنی ہیں ، اور کچھ ایسی ہیں کہ میں ان پر قیاس کر لیتا ہوں ۔ جناب یوسف کہتے ہیں : میں نے کہا : آپ مجھے صرف وہ احادیث بیان کریں جو آپ نے سنی ہیں ، کیونکہ میں قیاس کے بارے میں آپ سے زیادہ جانتا ہوں اس روایت کے مشابہ روایت جناب اعمش نے مسیب بن رافع کی سند سے حضرت ابو ایوب ؓ سے نبی اکرم ﷺ سے بیان کی ہے مگر اس میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں: ان کے درمیان سلام نہ پھیرے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عبيدة و كان من قديم حديثه ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبِي أَيُّوبَ، ← الْقَرْثَعِ ← قَزَعَةَ ← سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← و، ← محمد بن يزيد الواسطي ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Hadith 1214

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ التَّطَوُّ ع غَیرَ مَا تَقَدَّمَ ذِکرُنَا لَھَا · حديث 1215

حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَلَسْتُ أَعْرِفُ عَلِيَّ بْنَ الصَّلْتِ هَذَا، وَلَا أَدْرِي مِنْ أَيِّ بِلَادِ اللَّهِ هُوَ، وَلَا أَفْهَمُ أَلَقِيَ أَبَا أَيُّوبَ أَمْ لَا؟ وَلَا يَحْتَجُّ بِمِثْلِ هَذِهِ الْأَسَانِيدِ (2) -عِلْمِي- إِلَّا مُعَانِدٌ أَوْ جَاهِلٌ.

امام صاحب نے امام اعمش کی مکمل سند بیان کی ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :(اس سند کے راوی) علی بن صلت کو میں نہیں جانتا اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ وہ اللہ تعالی کے کس ملک کا باشندہ ہے ۔ اور میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ کیا وہ حضرت ابو ایوب ؓ سے ملا ہے یا نہیں ؟ میرے علم کے مطابق اس قسم کی (ضعیف و کمزور) اسانید سے صرف کوئی مخالف (ضدی ، ہٹ دھرم) یا جاہل شخص ہی استدلال کر سکتا ہے۔

أَبِي أَيُّوبَ، ← رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ ← الْمُسَیِّبِ بْنِ رَافِعٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو مُوسَى، ← الْاَعْمَشِ ← شَرِيکٍ ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 1215

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals