Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 955

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ضُرَيْسٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفَرًا فَأَقَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَنَحْنُ نُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا، فَإِذَا أَقَمْنَا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ صَلَّيْنَا أَرْبَعًا. قَالَ ابْنُ ضُرَيْسٍ: عَنْ عَاصِمٍ.

" حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سفر کیا تو آپ انیس دن تک اقامت پزیر رہے اور نماز دو رکعتیں پڑھتے رہے ۔" حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں : لہٰذا ہم بھی انیس دن تک سفر میں دو رکعتیں ( نماز قصر ) پڑھتے ہیں ، اور اگر ہم اس سے زایدہ دن مقیم ہوں تو پھر چار رکعتیں ( مکمل نماز ) پڑھتے ہیں ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ضُرَيْسٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 955

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 956

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- عَنْ يَحْيَى؛ ح وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ؛ ح وَثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَا: ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ؛ ح وَثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، نَا يَحْيَى قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

" جناب یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے نماز نماز قصر کرنے کے بارے میں سوال کیا تو انہون نے فرماای : ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک سفر کیا ( اس دوران ) ہم دو رکعت پڑھتے رہے حتی کہ ہم واپس ( مدینہ منورہ ۹ آ گئے۔ میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں قیام کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، آپ مکہ مکرمہ میں دس دن ٹھہرے تھے۔ یہ دورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں جناب احمد بن عبدہ کی روایت میں ہے : " آپ ہمیں دو دو رکعت پڑھاتے رہے ۔" جناب احمد اور عمر بن علی نے حضرت انس سے روایت کیا تو کہا : " ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے ۔" دونوں نے یہ نہیں کہا : " میں نے حضرت انس سے سوال کیا ۔ " امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " مجھے نبی کریم ﷺ کی احادیث میں کوئی ایسی حدیث یاد نہیں کہ جس میں یہ ذکر ہو کہ آپ نے اپنے کسی سفر میں معین مدت تک اقامت کا مختہ ارادہ کیا ہو، سوائے اس ایک سفر کے جس میں آپ حجۃ الوداع کی لیے مکہ مکرمہ آئے تھے ۔ آپ مکہ مکرمہ حج کا پختہ ارادہ لے کر تشریف لائے، چنانچہ آپ مکہ مکرمہ ۴ ذوالحجہ کی صبح کو پہنچے تھے۔"

قَصْرِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: ← يَحْيَى ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← وَثَنَاهُ الصَّنْعَانِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَبِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ← وَثَنَاهُ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← يَحْيَى ← عَبْدُ الْوَارِثِ -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 956

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 957

كذلك ثنا بندار نا محمد بن بكر أخبرنا ابن جريج عن عطاء قال قال جابر بن عبد الله : قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم صبح رابعة مضت من ذي الحجة قال أبو بكر : فقدمها صلى الله عليه وسلم صبح رابعة مضت من ذي الحجة فأقام بمكة أربعة أيام خلا الوقت الذي كان سائرا فيه من البدء الرابع إلى أن قدمها وبعض يوم الخامس مزمعا على هذه الإقامة عند قدومه مكة فأقام باقي الرابع والخامس والسادس والسابع والثامن إلى مضي بعض النهار وهو يوم التروية ثم خرج من مكة يوم التروية فصلى الظهر بمنى

" حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ۴ زوالحجہ کی صبح کے وقت مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ " امام ابو بکر فرماتے ہیں : آپ ۴ ذوالحجہ کی صبح کو مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو آپ نے مکہ مکرمہ میں چار دن قیام کیا ، سوائے اس وقت کہ جو آپ نے ۴ ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچنے کی لیے چلتے ہوئے گزارا اور پانچ تاریخ کا کچھ حصہ جب آپ نے مکہ مکرمہ پہنچ کر اقامت کا پختہ ارادہ کیا ۔ چنانچہ آپ نے چار تاریخ کا بقیہ دن ، پانچ ، چھ، سات اور یو م الترویہ ، آٹھ تاریخ کا کچھ حصہ قیام کیا ۔ پھر آپ یو م الترویہ ( آٹھ تاریخ ) تو مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے اور ظہر کی نماز منیٰ میں پڑھی۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← بُنْدَارٌ ← كَذَلِكَ

Hadith 957

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 958

كذلك ثنا أبو موسى نا إسحاق الأزرق ثنا سفيان الثوري عن عبد العزيز بن رفيع : قال سألت أنس بن مالك قلت : أخبرني بشيء عقلته عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أين صلى الظهر في يوم التروية ؟ قال : بمنى قال أبو بكر : قلت فأقام صلى الله عليه وسلم بقية أيام التروية بمنى وليلة عرفة ثم غداة عرفة فسار إلى الموقف بعرفات يجمع بين الظهر والعصر به ثم سار إلى الموقف فوقف حتى غابت الشمس ثم دفع حتى رجع إلى المزدلفة فجمع بين المغرب والعشاء بالمزدلفة وبات فيها حتى أصبح ثم صلى الصبح بالمزدلفة وسار ورجع إلى منى فأقام بقية يوم النحر ويومين من أيام التشريق رمى الجمار الثلاث ورجع إلى مكة فصلى الظهر والعصر في أيام التشريق ثم المغرب والعشاء ثم رقد رقدة بالمخصب فهذه تمام عشرة أيام جميع ما أقام بمكة ومنى والمرتين بعرفات فجعل أنس بن مالك كل هذه إقامة بمكة وليس منى ولا عرفات من مكة بل هما خارجان من مكة وعرفات خارج الحرم أيضا فكيف يكون ما هو خارج من الحرم من مكة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ذكر مكة وتحريمها : إن الله حرم مكة يوم خلق السماوات والأرض فهي حرام بحرام الله إلى يوم القيامة لا ينفر صيدها ولا يعضد شجرها ولا يختلى خلالها فلو كانت عرفات من مكة لم يحل أن يصاد بعرفات صيد ولا يعضد بها شجر ولا يختلا بها خلاء وفي إجماع أهل الصلاة على أن عرفات خارجة من الحرم ومنى باين من بناء مكة وعمرانها قد يجوز أن يكون اسم مكة يقع على جميع الحرم فمنى داخل في الحرم وأحسب خبر عائشة دالا على أن ما كان من وراء البناء المتصل بعضه ببعض ليس من مكة وكذلك خبر ابن عمر

" جناب عبد العزیز بن ربیع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے سوال کیا : مجھے ایسی چیز بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سمجھی ہو ، آپ نے یو م الترویہ کو ظہر کی نماز کہان پڑھی تھی ؟ انہوں نے فرمایا : " منیٰ میں ۔ امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں کہتا ہون کہ آپ ﷺ یوم الترویہ کا باقی دن اور عرفہ کی رات منیی ہی میں قیام پزیر رہے ، پھر عرفہ کی صبح آپ عرفات کے موقف ( ٹھہرنے کی جگہ ) کی طرف چل پڑے اور ( وہاں جا کر ) ظہر اور عصر کی نمازیں اکٹھی پڑھیں پھر آپ موقف کی طرف گئے اور سورج غروب ہونے تک موقف میں کھڑے ( دعائیں مانگتے اور ذکر کرتے ) رہے۔ پھر آپ وہان سے روانہ ہو کر مزدلفہ پہنچے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کر کے ادا کیں اور رات مزدلفہ ہی میں آرام کیا یہاں تک کہ صبح ہو گئی، پھر صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھی اور پھر وہاں سے کوچ کیا اور واپس منیی پہنچ گئے ، لہٰذا وہاں یو م النحر ( قربانی کے دن ) کا باقی حصہ قیام ایام تشریق کے مکمل دو دن اور ایام تشریق کے تیسرے دن کا بعض حصہ منیٰ میں قیام کیا ، پھر جب ایام تشریق میں سورج ڈھل گیا تو آپ جمرات کو کنکریان مارتے ، اور مکہ مکرمہ واپس تشریف لے آئے، چنانچہ ایام تشریق کے آخری دن ظہر اور عصر کی نمازیں مکہ مکرمہ میں ادا کیں ، پھر مغرب اور عشاء کی نمازیں وہیں ادا کیں پھر وادی محصب میں کچھ دیر آرام فرمایا ۔ " اس طرح یہ کل دس دن ہوئے جو آپ نے مکہ مکرمہ، منیٰ میں دو بار اور عرفات میں قیام کیا ۔ جبکہ انس بن مالک ؓ نے ان سب دنوں کو مکہ مکرمہ میں اقامت قرار دے دیا ۔ حالانکہ منیٰ اور عرفات مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہیں بلکہ وہ دونوں مکہ مکرمہ سے باہر اور الگ ہیں اور عرفات تو حدود حرم سے بھی باہر ہے تو جو علاقہ حدودحرم سے باہر ہو وہ مکہ مکرمہ میں کیسے شمار ہو سکتا ہے ۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ اور اس کی حرمت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا تھا ۔ " بے شک اللہ تعالیٰ نے اسمانوں اور زمین کی پیدائش کے دن ہی سے مکہ مکرمہ کو حرم قرار دے دیا تھا ۔ لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دیے جانے کی وجہ سے قیامت تک کے دن تک حرام ہے، اس کے شکار کو نہ ڈرایا جائے، اس کے درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کی گھاس اور جڑی بوٹیاں نہ کاٹی جائیں ۔ چنانچہ اگر عرفات مکہ مکرمہ میں شامل ہوتا تو عرفات میں شکاری کی لیے شکار کرنا حلال نہ ہوتا اور اس کے درخت نہ کاتے جاتے اور اس کی گھاس نہ کاٹی جا سکتی ۔ اور اہل اسلام کا اجماع ہے کہ عرفات ھدود حرم سے باہر ہے ۔ اس میں اس بات کی دلیل اور وضاحت ہے کہ عرفات مکہ مکرمہ میں شامل نہیں ہے اگرچہ مکہ مکرمہ کا اطلاق تمام حدود حرم پر ہوتا ہے مگر عرفات اس میں داخل نہیں کیانکہ وہ حدود حرم سے باہر ہے اور منیٰ مکہ مکرمہ کی آبادی اور عمارات سے الگ تھلگ ہے، یہ ممکن ہے کہ مکہ مکرمہ کا اطلاق سارے حرم پر ہوتا ہو اس لیے منیٰ بھی حرم میں داخل ہے۔ میرا خیال ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ جو علاقہ مکہ مکرمہ کی متصل عمارات کے پیچھے ہے وہ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ، اسی طرح حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے ۔"

بِمِنًى، ← رسول الله أين صلى الظهر في يوم التروية ← بِشَيْءٍ عَقِلْتَهُ ← سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قُلْتُ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو مُوسَى، ← كَذَلِكَ

Hadith 958

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 959

أما خبر عائشة فإن أبا موسى و عبد الجبار قالا ثنا سفيان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة : أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا دخل مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها هذا لفظ حديث أبي موسى

" حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے تو اس کے بالائی حصے سے داخل ہوتے اور جب ( باہر نکلتے ) تو زیریں حصے سے نکلتے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← أما خبر عائشة فإن أبا موسى و عبد الجبار

Hadith 959

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 960

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن هشام ابن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح من كداء من أعلى مكة قال هشام فكان أبي يدخل منهما كليهما وكان أبي أكثر ما يدخل من كدا

" حضرت عائشہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ والے سال مکہ مکرمہ کے بالائی حصے کدا کی طرف سے داخل ہوئے ۔" حضرت ہشام بیان کرتے ہیں کہ میرےوالد محترم حضرت عروہ ؓ دونوں حصوں ( بالائی اور زیریں ) سے داخل ہو جاتے تھے، اور میرے والد بزرگوار اکثر و بیشتر کدا کی جانب سے داخل ہوتے تھے۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هشام ابن عروة ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 960

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 961

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو كريب ثنا أبو أسامة عن هشام ابن عروة عن أبيه عن عائشة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عام الفتح من كداء من أعلى مكة قال هشام فكان أبي يدخل منهما كليهما وكان أبي أكثر ما يدخل من كدا

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بطحاء کے پاس واقع ثنیہ علیا سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور ثنیہ سفلیی سے باہر نکلے۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " حضرت ابن عمر ؓ کا یہ فرمانا کہ نبی کریم ﷺ ثنیہ علیا سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ثنیہ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہے ۔ حالنکہ ثنیہ اور اس کے بعد والا عالقہ مکہ مکرمہ میں داخل ہے۔ اور کدا اور اس کے بعد والا علاقہ بھی ان علامات تک حرم میں داخل ہے جو علامات حرم اور حل کے حدود ظاہر کرنے کی لیے لگائی گئی ہیں ۔ یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں مکہ سے داخل ہوئے؟ چنانچہ اگر ثنیہ اور کدا مکہ کاحصہ ہوتے تو ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ نبی علییہ السلام مکہ میں ثنیہ اور کدا سے داخل ہوئے ۔ یہ ممکن ہے کہ دلیل دی جائے کہ سارا حرم مکہ مکرمہ میں داخل ہے کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : " بے شک مکہ کو اللہ تعالیی نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے دن ہی حرام قرار دے دیا تھا ۔ " لہٰذا سارے حرم پر اسم مکہ کا لفظ بولا جا سکتا ہے ۔ البتہ لوگوں کے ہاں معروف یہ ہے کہ مکہ مکرمہ وہ آبادی ہے جس کی عمارات ایک دوسرے سے متصل ہیں ۔ کہنے والا کہہ سکتا ہے : فلاں شخص مکہ سے منیٰ گیا اور منیٰ سے مکہ مکرمہ واپس آیا اور جب تم حج کے متعلق نبی اکرم ﷺ کی احادیث پر غوروفکر گے تو تمہیں اس معنیٰ میں بہت ساری احادیث مل جائیں گی۔ لیکن عرفات اور حرم کے بعد والے علاقے تو بغیر کسی شک و شبہ کے مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہیں ۔ اور اس بات کی دلیل کہ نبی اکرم ﷺ ایام تشریق کے تیسرے روا منیٰ سے روانہ ہو گئے تھے ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هشام ابن عروة ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 961

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 962

أن يونس ابن عبد الأعلى ثنا قال أخبرنا ابن وهب أخبرني عمرو ابن الحارث أن قتادة ابن دعامة أخبره عن أنس أنه حدثه : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الظهر والعصر والمغرب والعشاء ورقد رقدة بالمحصب ثم ركب إلى البيت فطاف به قال أبو بكر ثم خرج صلى الله عليه وسلم من ليلته تلك متوجها نحو المدينة

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشا ء کی نمازیں ( مکہ مکرمہ ) پڑھیں ، پھر وادی محصب میں کچھ دیر سائے، پھر آپ سوار ہو کر بیت اللہ آئے اور اس کا طواف کیا ۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں : " پھر نبی اکرم ﷺ اسی رات مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔"

أَنَسِ، أَنَّهُ ← عمرو ابن الحارث أن قتادة ابن دعامة ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أن يونس ابن عبد الأعلى

Hadith 962

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 963

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال كذلك ثنا بندار ثنا أبو بكر يعني الحنفي نا أفلح قال سمعت القاسم ابن محمد عن عائشة : فذكرت بعض صفة حجة النبي صلى الله عليه وسلم وقالت فأذن بالرحيل في أصحابه فارتحل الناس فمر بالبيت قبل صلاة الصبح فطاف به ثم خرج فركب ثم انصرف متوجها إلى المدينة قال أبو بكر ولم نسمع أحدا من العلماء من أهل الفقه يجعل ما وراء البناء المتصل بعضه ببعض في المدن من المدن وإن كان ما وراء البناء من حد تلك المدينة ومن أراضيها المنسوبة إلى تلك المدينة لا نعلمهم اختلفوا أن من خرج من مدينة يريد سفرا فخرج من البنيان المتصل بعضه ببعض أن له قصر الصلاة وإن كانت الأرضون التي وراء البناء من حد تلك المدينة وكذلك لا أعلمهم اختلفوا أنه إذا رجع يريد بلدة فدخل بعض أراضي بلدة ولم يدخل البناء وكان خارجا من حد البناء المتصل بعضه ببعض أن له قصر الصلاة ما لم يدخل موضع البناء المتصل بعضه ببعض ولا أعلمهم اختلفوا أن من خرج من مكة من أهلها أو من قد أقام بها قاصدا سفرا يقصر فيه الصلاة ففارق منازل مكة وجعل جميع بنائها وراء ظهره وإن كان بعد في الحرم أن له قصر الصلاة فالنبي صلى الله عليه وسلم لما قدم مكة في حجته فخرج يوم التروية قد فارق جميع بناء مكة وسار إلى منى وليس منى من المدينة التي هي مدينة مكة فغير جائز من جهة الفقه إذا خرج المرء من مدينة لو أراد سفرا بخروجه منها جاز له قصر الصلاة أن يقال إذا خرج من بنائها هو في البلدة إذ لو كان في البلدة لم يجز له قصر الصلاة حتى يخرج منها فالصحيح على معنى الفقه أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يقم بمكة في حجة الوداع إلا ثلاثة أيام ولياليهن كوامل يوم الخامس والسادس والسابع وبعض يوم الرابع دون ليله وليلة الثامنة وبعض يوم الثامن فلم يكن هناك إزماع على مقام أربعة أيام بلياليها في بلدة واحدة فليس هذا الخبر إذا تدبرته بخلاف قول الحجازيين فيمن أزمع مقام أربع أنه يتم الصلاة لأن مخالفيهم يقولون أن من أزمع مقام عشرة أيام في مدينة وأربعة أيام خارجا من تلك المدينة في بعض أراضيها التي هي خارجة من المدينة على قدر ما بين مكة ومنى في مرتين لا في مرة واحدة ويوما وليلة في موضع ثالث ما بين منا إلى عرفات كان له قصر الصلاة ولم يكن هذا عندهم إزماعا على مقام خمس عشر على ما زعموا أن من أزمع مقام خمس عشرة وجب عليه إتمام الصلاة

حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ کے حج کی کچھ کیفیت بیان کی اور فرمایا: " آپ نے اپنے صحابہ کرام کو روانگی کا حکم دیا تو لوگ روانہ ہونا شروع ہو گئے، آپ ( روانگی کے وقت ) صبح کی نماز کے وقت بیت اللہ کے پاس سے گزرے تو اس کا طواف کیا ، پھر آپ ( بیت اللہ ) سے باہر تشریف لائے، پھر آپ سوار ہو کر مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گئے۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " ہم نے کسی فقیہ عالم دین کے بارے میں نہیں سنا کہ اس نے کسی شہر کی باہم متصل آبادی اور عمارات کے بعد والے علا قے کو اسی شہر کا حصہ قرار دیا ہو، اگرچہ آبادی کے بعد والا علاقہ اسی شہر کی حدود سے اور اس شہر کی طرف منسوب زمینوں میں سے ہو ۔ ہمارے علم میں نہیں کہ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف ہو کہ جو شخص سفر کے ارادے سے شہر سے نکل جائے ، اور وہ باہم متصل آبادی اور عمارات سے باہر چلا جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اگرچہ آبادی کے بعد والی زمینیں اسی شہر کی حدود میں ہوں ۔ اسی طرح ہمارے علم میں علمائے کرام کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب وہ شخص واپس کسی شہر میں آنا چاہے اور وہ اس شہر کی بعض زمینوں میں داخل ہو جائے اور آبادی میں داخل نہ ہوا ہو اور وہ ابھی باہم متصل آ بادی کی حدود سے باہر ہو تو وہ قصر کر سکتا ہے جب تک کہ آپس میں ملی ہوئی آبادی میں داخل نہ ہو جائے اور مجھے اس بارے میں بھی علمائے کرام کااختلاف معلوم نہیں ہے کہ جو شخص مکہ مکرمہ سے سفر کی نیت سے نکل گیا، وہ مکہ کا رہائشی ہو یا جو وہاں عارضی مقیم تھا وہ مکہ ( کی حدود میں ) نماز قصر کر سکتا ہے ۔ جب اس نے مکہ مکرمہ کی منازل کو چھوڑ دیا ، اور ساری آبادی اپنے پیچھے چھوڑ دی ، اگر چہ وہ حدود حرم میں دور نکل جائے تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ جب اپنے حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ یوم الترویہ کو مکہ مکرمہ سے نکل گئے۔ آپ نے مکہ مکرمہ کی تمام آبادی کو چھو ڑ دیا اور منی ٰ روانہ ہو گئے ، جبکہ منی ٰ مکہ مکرمہ شہر میں داخل نہیں ہے۔ لہٰذا فقہی نقطہ نظر یہ درست نہیں ہے کہ جو شخص سفر کی نیت سے و ارادے سے شہر سے نکل گیا اور اس کی لیے نماز قصر کرنا جائز ہے، اسے کہا جائے : " جب وہ شہر کی آبادی سے نکل گیا کہ وہ ابھی شہر ہی میں ہے ۔ " کیونکہ اگر وہ ابھی تک شہر ہی میں ہے تو اس کی لیے نماز قصر کرنا درست نہیں ہے حتی کہ وہ شہر سے نکل جائے۔ لہٰذا فقہی رو سے یہی بات صحیح ہے کہ نبی اکرم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ مکرمہ میں صرف تین دن رات مکمل قیام پذیر رہے، پانچ ، چھ اور سات تاریخ کو ۔ چار تاریخ کا کچھ حصہ سوائے اس کی رات کے اور آٹھویں تاریخ کی رات اور اس کے دن کا کچھ حصہ، لہٰذ اوہاں کسی ایک شہر میں چار دن وات کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں تھا ۔ اس لیے یہ روایت ، جب تم غوروفکر کرو، تو اہل حجاز کے اس قول کے مخا لف نہیں ہے کہ جو شخص کسی ایک مقام پر چار دن رہنے کا پختہ ارادہ کر لے وہ نماز مکمل پڑھے۔ کیونکہ ان کے مخالفین کہتے ہیں : " جس شخص نے کسی شہر میں دس دن کے قیام کا پختہ ارادہ کر لیا ، اور چار دن اسی شہر سے باہر اس شہر کی ایسی زمینوں میں رہنے کا ارادہ کیا جو شہر سے مکہ مکرمہ اور منیٰ جیسی دوہری مسافت کے برابر ہو ، اکہری نہ ہو ۔ اور ایک رات اور ایک دن کسی تیسری جگہ پر گزارے جو منیٰ سے عرفات جتنی مسافت پر ہو تو وہ نماز قصر کر سکتا ہے اور یہ ان کے نزریک ایک مقام پر پندرہ دن کے قیام کا پختہ ارادہ نہیں ہے کیونکہ ان کے نزدیک جس شخص نے بندرہ دن ٹھہرنے کا پختہ ارادہ کر لیا اس پر مکمل نماز ادا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔"

أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 963

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 964

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ عَوْدًا وَبَدْءًا لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ سَمِعْتُهُ، مِنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ.

" امام ابو سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام زہری کو دہرائی اور درس حدیث کی ابتداء کرتے وقت یہ فرماتے ہوئے سنا : " اگر سو بار بھی قسم اٹھانا چاہوں تو اٹھا سکتا ہو کہ میں نے یہ حدیث حضرت سالم سے سنی ہے اور اپنے والد گرامی حضرت عبد اللہ ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز جمع کر لیتے۔"

أَبِيهِ ← مِنْ سَالِمٍ، ← الزُّهْرِيَّ عَوْدًا وَبَدْءًا لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 964

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 965

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ کو سفر کرنے میں جلدی ہوتی تو آپ مغرب اور عشا ء کی نمازیں جمع کر لیتے ۔" جناب یحییٰ نے " نبی کریم ﷺ " کی جائے " رسول اللہ ﷺ " کے الفاظ روایت کیے ہیں ۔"

يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← رَأَيْتُ النَّبيَّ إِذَا جَدَّ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ بَيْنَ المَغْرِبِ وَالعِشَاء.(2/90) ← ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 965

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الفَرِیضَۃِ فِی السَّفَرِ · حديث 966

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، ثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا، وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ. فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ. قَالَ: قُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.

" حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ تبوک کے سفر میں نمازیں جمع کر کے ادا کیں ، لہٰذا آپ نے نماز ظہر اور عصر ، نماز مغرب اور عشاء کو جمع کر کے پڑھایا ۔ ( جناب ابو الطفیل ) کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے ایسے کیوں کیا ؟ تو حضرت معاذ ؓ نے جواب دیا : " آپ اپنی امت کو تنگی اور مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔"

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← أَبُو الطُّفَيْلِ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← قُرَّۃَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 966

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals