Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 920

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "التَّثَاؤُبُ فِي الصَّلَاةِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نماز میں جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہوتا ہے ، لہٰذا تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو اسے حسب طاقت وقدرت روکنا چاہیے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 920

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 921

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْعُطَاسُ مِنَ اللَّهِ، وَالتَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ: هَاهْ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ فِي جَوْفِهِ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چھینک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جمائی شیطان کی طرف سے ہے، لہٰذا جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ ھاہ نہ کہے کیونکہ ( اس سے ) شیطان اس کے پیٹ میں ہنستا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 921

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 922

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعُطَاسَ، وَيَكْرَهُ التَّثَاؤُبَ، فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُلْ: آهْ آهْ؛ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَضْحَكُ [103 - أ] مِنْهُ، أَوْ قَالَ: يَلْعَبُ بِهِ".

" حضرت ابو ہریرہ ؓ ببان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی کو نا پسند کرتا ہے، جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو وہ آہ آہ کی آواز نہ نکالے ، کیانکہ اس سے شیطان ہنستا ہے یا فرمایا :وہ اس کے ساتھ کھیلتا ہے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاقَ- ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← أَبُو بَكْرٍ، وَثَنَا الصَّنْعَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 922

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 923

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَنَا أَيُّوبُ؛ ح وَحَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا أَوْ قَالَ: فَحَتَّهَا بِيَدِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ أَحَدٌ قِبَلَ وَجْهِهِ فِي صَلَاتِهِ".

" حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مسجد کے قبلے میں بلغم دیکھی تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اسے رگڑ کر صاف کر دیا یا فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کھرچ دیا ، پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔ اور فرمایا : بے شک اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی شخص کی نماز میں اس کے سامنے ہوتے ہیں ۔ لہٰذا کوئی شخص اپنی نماز میں اپنے چہرے کی جانب ہرگز ہرگز بلغم نہ پھینکے۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← وَحَدَّثَنِي مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 923

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 924

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، أَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيَّ- أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ: أَنَّ شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ صَلَّى إِلَى جَنْبِ حُذَيْفَةَ، فَبَزَقَ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ: "إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ أَقْبَلَ اللَّهُ بِوَجْهِهِ، فَلَا يَنْصَرِفُ عَنْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ عَنْهُ، أَوْ يُحْدِثَ حَدَثًا".

" حضرت ابو وائل ؓ بیان کرتے ہیں کہ شیث بن ربعی نے حضرت حزیفہ ؓ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو اپنے سامنے تھوک دیا ، حضرت حذیفہ ؓ نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع کیا اور فرمایا: " جب آدمی نماز شروع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ انور کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں پھر نمازی سے توجہ نہیں ہٹاتے حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بے توجہ ہو جائے یا اس کا وضو ٹوٹ جائے۔"

أَبِي وَائِلٍ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو الْعَوَّامِ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 924

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 925

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكِتَّانِيُّ، أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ -وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ- عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَفَلَ تُجَاهَ الْقِبْلَةِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَتَفْلَتُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ".

" حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے قبلہ رخ تھوکا وہ قیامت کے دن اس حا ل میں آئے گا کہ اس اس کا تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہو گا۔"

حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ -وَهُوَ الشَّيْبَانِيُّ- ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكِتَّانِيُّ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 925

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 926

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا سَعِيدٌ -يَعْنِي ابْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ- عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَاسْتَبْرَأَهَا بِعُودٍ مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، يَعْرِفُونَ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَيُّكُمْ صَاحِبُ هَذِهِ النُّخَامَةِ؟ " فَسَكَتُوا. فَقَالَ: "يُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ رَجُلٌ فَيَتَنَخَّعُ فِي وَجْهِهِ؟ " فَقَالُوا: لَا. قَالَ: "فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ، فَلَا تُوَجِّهُوا شَيْئًا مِنَ الْأَذَى بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِ أَحَدِكُمْ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ".

" حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھی تو آپ نے اپنی چھڑی کے ساتھ اسے صاف کر دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے ، وہ آپکے چہرہ مبارک میں سخت غصہ دیکھ رہے تھے ، تو آپ نے پوچھا ؟ بلغم کس کی ہے؟ وہ سب خٓموش رہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم میں کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہو تو ایک شخص اس کے سامنے سے آکر اس کے چہرے پر تھوک دے؟ صحابہ نے جواب دیا : نہیں ، ( ایسا کوئی بھی پسند نہیں کرے گا )۔ آپ نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری نمازوں میں تمہارے سامنے ہوتا ہے ، لہٰذ اتم کوئی بھی گندگی اپنے سامنے مت پھینکا کرو لیکن ( بوقت ضرورت ) اپنی بائیں جانب یا اپنے قدم کے نیچے ڈال لیا کرو ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيَّ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 926

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 927

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ بَعْضَ الْأَخْبَارِ الَّتِي فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ قَبْلُ.

" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں اس سے پہلے کچھ احادیث لکھوا چکا ہوں جن میں یہ الفاظ موجود ہیں ۔"

أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ بَعْضَ الْأَخْبَارِ الَّتِي فِي هَذِهِ اللَّفْظَةِ قَبْلُ.

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 927

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 928

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، فَقَالَ: "شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ، اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيَّةٍ". قَالَ الْمَخْزُومِيُّ: عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَقَالَ أَيْضًا: بِأَنْبِجَانِيَّةٍ.

" حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نقش و نگار والی ایک چادر میں نماز پڑھی تو فرمایا: " مجھے اس کے بیل بوٹوں نے مشغول کر دیا تھا ۔ لہٰذ ا یہ چادر حضرت ابو جہم کو دے آو اور مجھے انبجان کی بنی ہوئی ( سادہ ) چادر لا دو۔" جناب مخزومی کی زہری سے جو روایت ہے اس میں بھی "انبجانیہ " کے الفاظ ہیں ۔

أَيْضًا: بِأَنْبِجَانِيَّةٍ. ← الزُّهْرِيِّ، ← المخزومي ← «شَغَلَتْنِي أَعْلَامُ هَذِهِ. اذْهَبُوا بِهَا إِلَى أَبِي جَهْمٍ، وَأْتُونِي بِأَنْبِجَانِيِّهِ» ← صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ فِي خَمِيصَةٍ لَهَا أَعْلَامٌ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 928

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 930

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيُّ، نَا أَبُو تَوْبَةَ -يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ- ثَنَا مُعَاوِيَةُ -وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ- عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ حَدَّثَهُ، حَدَّثَنِي الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: "إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَ يَحْيَى بْنَ زَكَرِيَّا بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ يَعْمَلُ بِهِنَّ، وَيَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، قَالَ: فَكَانَ يُبْطِئُ بِهِنَّ. فَقَالَ لَهُ عِيسَى: إِنَّكَ أُمِرْتَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ تَعْمَلُ بِهِنَّ وَتَأْمُرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِمَّا أَنْ تَأْمُرَهُمْ بِهِنَّ وَإِمَّا أَنْ أَقُومَ، فَآمُرَهُمْ [103 - ب] بِهِنَّ؟ قَالَ يَحْيَى: إِنَّكَ إِنْ تَسْبِقْنِي بِهِنَّ أَخَاف أَنْ أُعَذَّبَ، أَوْ يُخْسَفَ بِي. فَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ، حَتَّى جَلَسَ النَّاسُ عَلَى الشُّرُفَاتِ، فَوَعَظَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَعْمَلُ بِهِنَّ، وَآمُرُكُمْ أَنْ تَعْمَلُوا بِهِنَّ. أُولَاهُنَّ (2): أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، فَإِنَّ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ: هَذِهِ دَارِي وَعَمَلِي، فَاعْمَلْ لِي وَأَدِّ إِلَيَّ عَمَلَكَ، فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيُؤَدِّي عَمَلَهُ إِلَى [غَيْرِ] سَيِّدِهِ (1)، فَأَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَهُ عَبْدٌ كَذَلِكَ يُؤَدِّي عَمَلَهُ لِغَيْرِ سَيِّدِهِ. وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ، فَلَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ، فَإِذَا نَصَبْتُمْ وُجُوهَكُمْ فَلَا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْصِبُ وَجْهَهُ لِوَجْهِ عَبْدِهِ حِينَ يُصَلِّي لَهُ، فَلَا يَصْرِفُ عَنْهُ وَجْهَهُ حَتَّى يَكُونَ الْعَبْدُ هُوَ يَنْصَرِفُ ... "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

" حضرت حارث اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کو بیان کیا کہ: " اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ بن زکریا کو پانچ باتوں پر عمل کرنے اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل کرانے کا حکم دیا تو انہوں نے ان پر عمل کرانے میں تاخیر کی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : بے شک آپ کو پانچ باتوں پر عمل کرنے اور بنی اسرائیل کو ان پر عمل پیرا کرانے کا حکم دیا گیا ہے ، لہٰذا یا تو آپ انہیں ان کاموں کا حکم دیں یا پھر میں کھڑے ہو کر انہیں ان باتوں کا حکم دیتا ہوں ۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام نے فرمایا : اگر تم نے ان کلمات کو مجھ سے پہلے لوگوں تک پہنچایا تو مجھے ڈر ہے کہ میں عذاب میں مبتلا کر دیا جاوں گا یا مجھے زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، لہٰذا انہوں نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا ، حتی کہ مسجد بھر گئی، یہاں تک کہ لوگ بلند ٹیلوں پر بیٹھ گئے، تو انہوں نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی ، پھر فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے پانچ باتوں کا حکم دیا ہے کہ میں ان پر عمل کروں اور تمہیں بھی عمل پیرا ہونے کا حکم دوں ۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناو۔ کیونکہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک غلام اپنے بہترین مال سونے چاندی کے عوض خریدا پھر اسے کہا: یہ میرا گھر اور کاروبار ہے، لہٰذا اب میرے لیے کام کرو اور اپنی کمائی مجھے ادا کرو ۔ لہٰذا اس نے کام شروع کر دیا لیکن اپنی کمائی اپنے آقا کا علاوہ کسی اور کو ادا کرنا شروع کر دی ۔ تو تم میں سے کوئی شخص ہے جسے یہ بات پسند ہو کہ اس کا بھی ایک ایسا ہی غلام ہو ( مگر) وہ اپنی کمائی اپنے آقا کے علاوہ کسی اور شخص کو دے دے۔ ( یاد رکھو) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا کیا ہے اور رزق عطا کیا ہے، تو تم اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک مت بناو، اور فرمایا: بے شک اللہ عزوجل تمہیں نماز پڑھنے کا حکم دیتا ہے ۔ ( لہٰذا جب تم ( نماز کی لیے ) اپنا چہرہ سیدھا کر لو تو ادھر ادھر مت جھانکو کیونکہ اللہ بھی اپنا چہرہ اقدس اپنے بندے کی لیے متوجہ کرتے ہیں جب وہ اس کی لیے نماز پڑھتا ہے ۔ پھر وہ اپنا چہرہ مبارک اس وقت تک نہیں ہٹاتا جب تک بندہ اپنا چہرہ نہ ہٹا لے۔" اور پھر مکمل حدیث بیان کی۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، أَنَّ أَبَا سَلَّامٍ ← مُعَاوِيَةُ -وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ- ← أَبُو تَوْبَةَ -يَعْنِي الرَّبِيعَ بْنَ نَافِعٍ- ← أَبُو مُحَمَّدٍ فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 930

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 931

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- عَنْ شَيْبَانَ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: "هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ". وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ: عَنِ الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ.

" حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں نمازی کے ادھر ادھر جھانکنے کے بارے میں سوال کیا تو اآپ نے فرمایا : وہ تو اچکنا ہے جسے شیطان بندہ کی نماز سے اچک لیتا ہے ۔ جناب عبد اللہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : نماز میں التفات کے بارے میں ( میں نے سوال کیا )۔ " ۳۶۷۔ پیشاب روک کر نماز شروع کرنا منع ہے ، نماز شروع کرنے سے پہلے پیشاب و پاخانے سے فارغ ہو نے کا حکم ہے

الِالْتِفَاتِ فِي الصَّلَاةِ، ← "هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُهُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ الْعَبْدِ". وَفِي حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ: ← الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ، ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِيهِ ← أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ جَمِيعًا ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 931

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 932

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ؛ وَثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ؛ ح وَثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، كُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ؛ ح وَثَنَا الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ؛ ح وَثَنَا أَبُو هَاشِمٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ-، نَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَجَاءَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ: لَيُصَلِّي أَحَدُكُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَحَضَرَ الْغَائِطُ، فَابْدَؤُوا بِالْغَائِطِ". هَذَا حَدِيثُ أَبِي كُرَيْبٍ، وَمَعْنَى مَتْنِ أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ.

" عروہ سے روایت ہے، وہ حضرت عبد اللہ بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کو امامت کراتے تھے ، ( ایک دن ) وہ آئے تو اقامت ہو چکی تھی ، تو انہوں نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھا دے کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا ہے کہ : " جب نماز کا وقت ہو جائے اور قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آ جائے تو پہلے پیشاب پاخانے سے فارغ ہو لیا کرو ۔" یہ ابو کریب کی حدیث ہے، جبکہ تمام راویوں کی احادیث کے متن کا معنی ایک ہی ہے۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← لَيُصَلِّي أَحَدُكُمْ فَإِنِّي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ: أَنَّهُ كَانَ يَؤُمُّ قَوْمَهُ، فَجَاءَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أبو هاشم ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الدَّوْرَقِيُّ، ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ کُلُّهُمْ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَعُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ؛ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden · Hadith 932

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals