Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 908

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ؛ ح وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ؛ ح وَثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الِاخْتِصَارِ فِي الصَّلَاةِ.

" حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی کوکھ ( پہلووں ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھے ۔ " جبکہ جناب اسماعیل کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : " بے شک رسول اللہ ﷺ نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔"

نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ مُخْتَصِرًا. وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ فِي حَدِيثِهِ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى، جَمِيعًا ← وَثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرِ بْنِ مَنْصُورٍ السُّلَيْمِيُّ، ← جَرِيرٌ ← وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 908

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 909

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، نَا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الِاخْتِصَارُ فِي الصَّلَاةِ رَاحَةُ أَهْلِ النَّارِ".

" حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " نماز میں کوکھ ( پہلو) پر ہاتھ رکھنا جہنمیوں کے آرام و راحت کا طریقہ ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 909

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 910

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ -وَقَالَ عِيسَى: عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ- أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَضْفُورٍ (1) مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ، فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مِثَالُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ". قَالَ يُونُسُ: "وَهُوَ مَعْقُوصٌ". فَقَامَ وَرَاءَهُ فَحَلَّ عَنْهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ. كَذَا قَالَا جَمِيعًا، وَأَقَرَّ الْآخَرُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالصَّحِيحُ قَرَّ.

حضرت ابن عباسؓ کےا ٓزاد کردہ غلام کریب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عباس نے عبد اللہ بن حارث کو اس حال میں نماز پڑھتے دیکھا کہ ان کے سر ( کے بالوں ) جوڑا گردن کے پیچھے بنا ہوا تھا ۔ تو وہ کھڑے ہوئے اور ان کے ایک جوڑے کو کھو ل دیا اور ایک رہنے دیا اور عبد اللہ بن حارث نماز میں ہی مشغول رہے ( یعنی آگے سے کوئی حرکت نہیں کی ) پھر جب نماز مکمل کر لی تو وہ حضرت ابن عباس کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے: آپ نے میرے سے ( کے با لوں ) کو کیوں کھولا ؟ تو انہوں نے فرمایا : بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : " بلاشبہ اس کی مثال اس شخص کی ہے جو دست بستہ حالت میں نماز پڑھتا ہے ۔ " جناب یونس کی روایت میں ہے : " اور ان کا سر گوندھا ہوا تھا ۔ تو حضرت ابن عباس ؓ نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر چوٹی کھول دی اور اس کی دوسری چوٹی باقی رہنے دی۔ تمام راویون نے اسی طرح " اَقَرَّ " کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ امام ابو بکر کہتے ہیں : صحیح لفظ "قَرَّ " ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عِيسَى؛ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 910

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 911

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ -مِنْ أَصْلِهِ- ثَنَا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَنٌ يُصَلِّي قَدْ غَرَزَ ضِفْرَيْهِ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهُمَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا. فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ، وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ"، يَقُولُ: مَقْعَدُ الشَّيْطَانِ -يَعْنِي مَغْرَزَ ضِفْرَيْهِ (1) -.

نماز میں بالوں کی چوٹیوں کو گردن میں باندھنے کی ممانعت کا بیان ، کیونکہ وہ شیطان کے بیٹھنے کی جگہ ہے

أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ مِنْ أَصْلِهِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 911

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 912

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ.

امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں تشبیک کے متعلق یہ احادیث لکھوا چکا ہوں ۔"

أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ.

Hadith 912

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 913

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ؛ ح وَثَنَا الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا فِي كُلِّهَا: عَنْ عَنْ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا يَمْسَحِ الْحَصَى". زَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: مَنْ أَبُو الْأَحْوَصِ؟ قَالَ: رَأَيْتَ الشَّيْخَ الَّذِي صِفَتُهُ كَذَا وَكَذَا.

" حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہیٰ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا وہ کنکریوں کو نہ چھوئے۔ جناب عبدالجبار نے یہ اضافہ بیان کیا ہے: کہ سعد بن ابراھیم نے ان سے پوچھا: ابو الاحوص کون ہیں ؟ تو انہوں نے جواب دیا: تم نے وہ بزرگ دیکھے ہیں جن کی یہ یہ صفات ہیں۔"

أَبَا ذَرٍّ ← أَبَا الْأَحْوَصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 913

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 914

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ فَلَا تُحَرِّكُوا الْحَصَى".

حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو رحمت ربانی اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے ، اس لیے تم کنکریوں کو یہ ہلایا کرو۔ ( اپنی توجہ نماز کے علاوہ دیگر کاموں کی طرف نہ کیا کرو )۔ "

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي الْأَحْوَصِ اللَّيْثِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 914

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 915

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ فِيمَا قَبْلُ خَبَرَ مُعَيْقِيبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً".

" امام ابو بکر کہتے ہیں : میں اس سے پہلے حضرت معیقیب ؓ کی نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کر چکا ہوں کہ آپ نے فرمایا: اگر تم نے ضرور ( ہی کنکریوں کودرست کرنا ہو ) تو ایک بار کر لو۔"

النَّبِيِّ "إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَةً". ← أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ فِيمَا قَبْلُ خَبَرَ مُعَيْقِيبٍ

Hadith 915

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 916

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقُ الْفِرْيَابِيِّ بِالرَّمْلَةِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " [وَاحِدَةٌ] أَوْ دَعْ".

" حضرت ابو ذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتی کہ میں نے آپ سے نماز میں کنکریوں کے چھونے ( انہیں درست کرنے ) کے بارے میں بھی پوچھا تو آپ نے فرمایا : ایک بار درست کر لو یا رہنے دو ( جیسے ہوں ویسے ہی رہنے دو)۔ "

مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: [وَاحِدَةٌ] أَوْ دَعْ". ← كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى سَأَلْتُهُ ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ وَرَّاقُ الْفِرْيَابِيِّ بِالرَّمْلَةِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 916

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 917

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ حَدِيثَ جَابِرٍ قَبْلُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ( اس بارے میں ) میں اس سے پہلے حضرت جعفر ؓ کی نبی کریم ﷺ سے حدیث لکھوا چکا ہوں ۔"

النَّبِيِّ ← أَبُو بَكْرٍ: قَدْ أَمْلَيْتُ حَدِيثَ جَابِرٍ قَبْلُ

Hadith 917

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 918

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ- عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ.

" حضرت ابو ہریرہ ؓ سے رواقیت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل سے اور اس بات سے آدمی کو منع کیا ہے کہ وہ اپنے چہرے کو ڈھانپ لے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 918

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الأَفعَالِ المَکرُوھَۃِ فِی الصَّلاَۃِ الَّتِی قَد نُھِیَ عَنھَا المُصَلَّی · حديث 919

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (1)، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسُدَّ بِيَدِهِ فَاهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ".

" حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی شخص کو جمائی آئے تو اسے اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنا منہ بند کر لینا چاہیے کیونکہ ( منہ کھلا ہو تو ) شیطان داخل ہو جاتا ہے۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سُهَيْلٍ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 919

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals