صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الاَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی الصَّلٰۃِ · حديث 902
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَا: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: كَانَتْ لِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ تَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ، إِنِّي كُنْتُ أَجِيئُهُ، فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ حَتَّى يَتَنَحْنَحَ فَأَنْصَرِفُ إِلَى أَهْلِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدِ اخْتَلَفُوا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، فَلَسْتُ أَحْفَظُ أَحَدًا قَالَ: عَنْ أَبِيهِ، غَيْرَ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُدْرِكٍ هَذَا.
" حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ہاں ایسی قدر و منزلت حاصل تھی جو لوگوں میں سے کسی اور کو حاصل نہ تھی ۔ بے شک میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوتا اور آپکو سلام کرتا حتی کہ آپ( نماز کی حا لت میں ہونے کی وجہ سے ) کھانس کر مجھے جواب دیتے تو میں اپنے گھر والوں کے پاس چلا جاتا ۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ رلیہ فرماتے ہیں : " اس حدیث میں راویوں نے عبد بن نجی سے اختلاف بیان کیا ہے۔ لہٰذا مجھے یاد نہیں کہ شر حبیل بن مدرک کے سوا کسی راوی نے عبد بن نجی کے باپ کا واسطہ بیان کیا ہو ۔ ( یعنی بقیہ راوی عبد اللہ بن نجی کو براہ راست حضرت علی ؓ کا شاگرد بیان کرتے ہیں )
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ الْحَضْرَمِيِّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ مُدْرِكٍ الْجُعْفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 902
