صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الاَفعَالِ المُبَاحَۃِ فِی الصَّلٰۃِ · حديث 890
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي -يَعْنِي- عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ- عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ ابْنُ شِمَاسَةَ-؛ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ هَوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا، فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ: "مَا مِنْ شَيْءٍ وُعِدْتُمُوهُ إِلَّا قَدْ عُرِضَ عَلَيَّ فِي مَقَامِي هَذَا.
" حضرت وقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ایک دن ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے بڑا لمبا قیام کیا ۔ پھر میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے کوئی چیز پکڑنے کی لیے اپنا دست مبارک بڑھایا ۔ پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو فرمایا : " ہر وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ مجھے اس موقع پر دکھائی گئی ہے ۔ حتی کہ مجھے جہنم بھی دکھائی گئی اور اس میں ایک چنگاری میری طرف آئی یہاں تک کہ وہ میری اس جگہ تک آگئی تو میں ڈر گیا کہ کہیں یہ تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔"
عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ شِمَاسَةَ ،أَنَّهُ ← يَزِيدَ وَهُو ابْنُ أَبِي حَبِيبٍ، ← يَعْنِي عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 890
