صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 857
ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ: (وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ) [البقرة: 238] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.
جناب اسماعیل بن ابی خالد نے بندار کی سابقہ حدیث کی طرح روایت کی ہے مگر انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : " نبی ﷺ کے عہد میں کوئی شخص اپنے ساتھی سے نماز میں ضروری بات کر لیتا تھا ۔ حتی کہ یہ آیت نازل ہو گئی (وَقُوْمُوْا للہٖ قَانِتِیْنَ)(البقرۃ:238)" اور اللہ کی لیے باادب کھڑے رہا کرو ۔" تو ہمیں خامو شی اختیار کرنے کا حکم دے دیا گیا۔"
إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ
Hadith 857
