Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 857

ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ يُكَلِّمُ الرَّجُلُ صَاحِبَهُ فِي الصَّلَاةِ بِالْحَاجَةِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ: (وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ) [البقرة: 238] فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ.

جناب اسماعیل بن ابی خالد نے بندار کی سابقہ حدیث کی طرح روایت کی ہے مگر انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں : " نبی ﷺ کے عہد میں کوئی شخص اپنے ساتھی سے نماز میں ضروری بات کر لیتا تھا ۔ حتی کہ یہ آیت نازل ہو گئی (وَقُوْمُوْا للہٖ قَانِتِیْنَ)(البقرۃ:238)" اور اللہ کی لیے باادب کھڑے رہا کرو ۔" تو ہمیں خامو شی اختیار کرنے کا حکم دے دیا گیا۔"

إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ، غَيْرَ أَنَّهُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Hadith 857

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 858

ثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: فَرَدَّ عَلَيْنَا، فَقَالَ: "إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا". قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: كَيْفَ تُسَلِّمُ أَنْتَ؟ قَالَ: أَرُدُّ فِي نَفْسِي.

" حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو نماز میں سلام کیا کرتے تھے۔" گزشتہ حدیث کے مثل بیان کیا ۔ اور فرمایا: آپ نے ہمارے سلام کا جواب دیا( بعد میں حکم تبدیل ہو گیا ) اور فرمایا: " بے شک نماز میں مشغولیت ہوتی ہے۔" ( اس لیے سلام کا جواب نماز کی حالت میں کلام کے ساتھ نہ دیا کرو)۔ میں نے ابراھیم سے کہا ؛ آپ کیسے سلام کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا میں اپنے دل میں جواب دے دیتا ہوں ۔"

أَرُدُّ فِي نَفْسِي. ← "إِنَّ فِي الصَّلَاةِ لَشُغْلًا". قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: كَيْفَ تُسَلِّمُ أَنْتَ؟ ← فَرَدَّ عَلَيْنَا، ← كُنَّا نُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ وَهُوَ يُصَلِّي بِمِثْلِهِ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو مُوسَى،

Hadith 858

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 859

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، أَنَا أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، ثَنَا الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ [98 - ب] ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ (1)، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ؛ ح وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ (2)، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا كُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ فَجَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَإِنَّ رِجَالًا مِنَّا يَتَطَيَّرُونَ. قَالَ: "ذَلِكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلَا يَصُدَّنَّهُمْ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكَهَنَةَ. قَالَ: "فَلَا تَأْتُوهُمْ" (1). قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رِجَالٌ مِنَّا يَخُطُّونَ. قَالَ: "كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قَالَ: وَبَيَّنَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكُ اللَّهُ. فَحَدَّقَنِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ. قَالَ: فَضَرَبَ الْقَوْمُ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ [يُصَمِّتُونَنِي] لَكِنِّي سَكَتُّ. فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَبِأَبِي هُوَ وَأُمِّي مَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ أَحْسَنَ تَعْلِيمًا مِنْهُ، وَاللَّهِ مَا ضَرَبَنِي، وَلَا كَهَرَنِي، وَلَا شَتَمَنِي، وَلَكِنْ قَالَ: "إِنَّ صَلَاتَنَا هَذِهِ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ، وَالتَّسْبِيحُ، وَتِلَاوَةُ الْقُرْآنِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مَيْسَرَةَ. قَالَ بُنْدَارٌ: بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا قَالَ الْبَاقُونَ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُصَمِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ فِي "التَّصْنِيفِ" حَدِيثَ الْبَاقِينَ فِي عَقِبِ حَدِيثِ بُنْدَارٍ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ أُخَرِّجْ أَلْفَاظَهُمْ".

حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نئے نئے جاہلیت سے نکلے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ اسلام کی نعمت لے آئے ، بے شک ہم میں کچھ لوگ بد شگونی لیتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں تو یہ ان کو ( ان کے کاموں سے ) ہرگز نہ روکے۔ انہوں نے عرض کی : اللہ کے رسول ﷺ! کچھ لوگ کاہنوں کے پاس چلے جاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا ؛ تم ان کے پاس مت جاو۔ وہ کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں لگاتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : انبیائے کرام میں سے ایک نبی لکیریں لگاتے تھے جس کی لکیریں ان کی لکیروں کے موافق ہو جائیں تو وہ درست ہے ( اس میں کوئی حرج نہیں ) حضرت معاویہ فرماتے ہیں : اس اثنا میں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے چھینک ماری ، تو میں نے اسے کہا : یر حمک اللہ ( اللہ تجھ پر رحم فرمائے) ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا ۔ تو میں نے کہا : ہائے میری ماں مجھے روئے( یعنی میں مر جاوں ) تم مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟ تو لوگوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے شروع کر دیے، تو جب میں نے دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں نے آپ سے اور آپ کے بعد آپ سے بہتر تعلیم دینے والا معلم نہیں دیکھا ۔ اللہ کی قسم ! آپ نے نہ مجھے مارا ، نہ جھڑکا ، نہ برا بھلا کہا، آپ نے فرمایا: " بے شک ہماری اس نماز میں لوگوں کی بات چیت درست نہیں ہے ۔ بلکہ یہ تو تکبیر ، تسبیح اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کانام ہے۔" یہ میسرہ کہ حدیث کے الفاظ ہیں ۔ جناب بندار کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : " اس دوران میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ۔" اسی طرح دیگر راویوں نے بیان کیا ہے اور بندار کہتے ہیں : " پھر جب میں نے انہں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خا موش ہو گیا ۔" امام ابو بکر فرماتے ہیں : " میں نے " التصنیف الکبیر " میں باقی راویوں کی حدیث بھی بندار کی روایت کے مثل بیان کر دی ہے مگر میں نے ان کے الفاظ بیان نہیں کیے۔

قُلْتُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← وَثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثَنَاهُ بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ الْحَلَبِيَّ- ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى ← الْاَوْزَاعِیُّ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- ← يَحْيَى؛ وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجِ، ← إِسْمَاعِيلُ ← وَثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَبَى عُثْمَانَ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ب] ← الْحَجَّاجُ -وَهُوَ الصَّوَّافُ- ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ، ← أَبُو عُثْمَانَ الصَّابُونِيُّ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ بِدِمِشْقَ،

Hadith 859

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 860

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- نَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ -وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهَا الظُّهْرُ- رَكْعَتَيْنِ، فَأَتَى خَشَبَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ عَلَيْهَا يَدَيْهِ، إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالُوا: قَصُرَتِ الصَّلَاةُ. وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ. وَرَجُلٌ -قَصِيرُ الْيَدَيْنِ أَوْ طَوِيلُهُمَا- يُقَالُ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: "لَمْ تَقْصُرْ، وَلَمْ أَنَسَ". فَقَالَ: بَلْ نَسِيتَ. فَقَالَ: "صَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟ " قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ. وَذَكَرَ بُنْدَارٌ الْحَدِيثَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں شام کی دو نمازوں یعنی ظہر اور عصر میں سے ایک نماز دو رکعت پڑھائی ، میرا غالب گمان ہے کہ وہ ظہر کی نماز تھی ۔ پھر آپ مسجد کے قبلے میں موجود لکڑی کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر ٹکا کر اس پر رکھ دیے۔ اور جلد بعض لوگ مسجد سے نکل گئے۔ اور یہ کہتے گئے کہ نماز کم ہو گئی ہے۔ جبکہ لوگوں میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے وہ دونوں آپ سے بات کرتے ہوئے ڈرے ۔ ایک شخص جس کے ہاتھ چھوتے یا بڑے ہونے کی وجہ سے اسے ذوالیدین ( دو ہاتھوں والا ) کہا جاتا تھا ، اس نے کہا: ( اے اللہ کے رسول ) کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ نہ نماز کم ہوئی ہے نہ میں بھولا ہوں۔ تو اس نے عرض کی : بلکہ آپ بھول گئے ہیں ۔ تو آپ نے دریافت کیا : کیا ذوالیدین سچ کہ رہا ہے؟ انہون نے جواب دیا ؛ جہ ہاں، آپ نے( بقیہ) دو رکعت ادا کیں پھر سلام پھیرا اور تکبیر کہی اور اپنے سجدے کی مثل یا اس سے طویل سجدہ کیا پھر سجدے سے سر اٹھایا۔ ( پھر دوسرا سجدہ کیا) بندار نے مکمل حدیث بیان کی ہے ۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : میں نے یہ مکمل باب " کتاب السہو فی الصلاۃ" میں بیان کر دیا ہے۔

وَأَكْبَرُ ظَنِّي ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ إِحْدَى صَلَاتَيِ الْعَشِيِّ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 860

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 861

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُقَدَّمِ الْعِجْلِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي؛ ح وَثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي فَنَادَاهُ، فَالْتَفَتَ أُبَيٌّ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ [99 - أ] يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "وَعَلَيْكَ السَّلَامُ. مَا مَنَعَكَ -أَيْ أُبَيُّ- إِذْ دَعْوَتُكَ أَنْ لَا تُجِيبَنِي؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ. قَالَ: "أَوَلَيْسَ تَجِدُ فِي كِتَابَ اللَّهِ (اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ) [الأنفال: 24]؟ " قَالَ: بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي. قَالَ أُبَيٌّ: لَا أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. هَذَا حَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابی بن کعب کے پاس سے گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے انہیں بلایا۔ وہ آپ کی طرف متوجہ ہوئے ( اور نماز جاری رکھی) پھر ( نماز مکمل کرنے کے بعد ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول: السَّلَامُ عَلَیْکَ ، آپ نے فرمایا : " وَعَلَیْکَ السَّلَامُ" اے ابی طالب ! جب میں نے تمہیں بلایا تھا تو کس چیز نے تمہیں حاضر ہونے سے روکا ؟ انہوں نے عرض کی ؛ اے اللہ کے رسولﷺ ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ آ نے فرمایا : کیا تم نے اللہ کی کتاب میں یہ حکم نہیں پایا (اِسْتَجِیْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَا کُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)(الانفال:24)" ( ای ایمان والوں ) تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کہنا مانو جب وہ تمہیں اس امر کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتا ہے ۔" انہوں نے عرض کیا : کیوں نہیں ( یہ حکم ضرور موجود ہے) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، حضرت ابی کہتے ہیں : ان شا ء اللہ آئندہ ایسی کوتاہی نہیں ہو گی۔" یہ ابن وہب کی حدیث ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← وَثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يُصَلِّي؛ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← أَحْمَدُ بْنُ الْمُقَدَّمِ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 861

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 862

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ، فَقَالَ: "مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَنِي؟ " قُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي. قَالَ: "أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ) [الأنفال: 24]. ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أُعَلِّمُكَ أَفْضَلَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ". فَلَمَّا ذَهَبَ يَخْرُجُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ. قَالَ: " (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (2))، هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".

حضڑت ابو سعید بن معلیٰ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں مسجد میں ( نماز پڑھ رہا) تھا۔ آپ نے مجھے بلا یا مگر میں حاضر نہ ہوا ( اور نماز جاری رکھی پھر جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا )تو آ پ نے فرمایا: تم میرے پاس کیوں نہیں آئے تھے؟ میں نے عرض کی : میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ آپ نے فرما یا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا (یَاأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ إِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ)"اے ایمان والو! تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کہنے کو بجا لاو جبکہ وہ تمکو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں۔" پھر فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے پہلے قرآن مجید کی افضل ترین سورۃ نہ سکھاوں ؟ چنانچہ جب آپ مسجد سے نکلنے لگے تو میں آپ کو یاد کرایا۔ آپ نے فرمایا:(الْحَمْدُ لِلہِ رَبٌ الْعَالَمِیْنَ)یعنی سورۃ فاتحہ ، یہ بار بار پڑھی جانے والی سات آیات ( سبع مثانی )ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔"

مَا مَنَعَكَ؟ ← فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي فَلَمْ آتِهِ، ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 862

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 863

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: فَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ فِي كِتَابِ شُعْبَةَ؛ [وَ] ثَنَا يَحْيَى وَمُحَمَّدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خُبَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: أَعْظَمُ سُورَةٍ.

حضرت ابو سعید بن معلٰی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ نے مجھے بلایا۔ مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت بیان کی ، مگر اس میں افضل ترین سورۃ کی بجائے عظیم ترین سورۃ کے الفاظ ہیں ۔

أَعْظَمُ سُورَةٍ. ← مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي، بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ ← أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى وَمُحَمَّدٌ، ← فَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ فِي كِتَابِ شُعْبَةَ؛ [وَ] ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 863

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 864

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ؛ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ وَقُمْنَا مَعَهُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الصَّلَاةِ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا. فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ: "لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا" -يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ-.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز قائم کی تو ہم بھی آپ کے ساتھ کھرے ہو گئے ، تو ایک بدوی شخص نے نماز میں اس طرح دعا مانگی: " اے اللہ ! مجھ پر اور محمد ﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو بدوی سے کہا : تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے۔"

أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 864

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ الکَلَامِ المُبَاحِ فِی الصَّلاَۃِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّکرِ، وَمَساَلَۃِ الرَّبِّ عَذَّوَجَلَّ وَمَا یُضَاھِی ھٰذَا وَیُقَارِبُہُ · حديث 865

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثَنَا الْقَاسِمُ -يَعْنِي ابْنَ الْحَكَمِ الْعُرَنِيَّ-، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَخَطَرَتْ مِنْهُ كَلِمَةٌ، قَالَ: فَسَمِعَهَا الْمُنَافِقُونَ، فَقَالَ: فَأَكْثَرُوا، فَقَالُوا: إِنَّ لَهُ قَلْبَيْنِ، أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِهِ وَكَلَامِهِ فِي الصَّلَاةِ، إِنَّ لَهُ قَلْبًا مَعَكُمْ، وَقَلْبًا مَعَ أَصْحَابِهِ. فَنَزَلَتْ: (يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ) قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ: (مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَيْنِ فِي جَوْفِهِ) [الأحزاب: 1 - 4]. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ الْمُبَاحَةِ فِي الصَّلَاةِ

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے منی میں نما ز پڑھائی ( تو آ پ بھول گئے) آپ کی زبان سے ایک کلمہ نکل گیا۔ تو منافقوں نے اسے سن لیا اور خوب باتیں بنائیں ۔ وہ کہنے لگے: آپ کے دو دل ہیں ، کیا تم نے نماز میں ان کی بات اور کلام کو نہیں سنا ۔ ان کا ایک دل تمہارے ساتھ ہوتا ہے اور ایک دل اپنے صحابہ کا ساتھ ہے تو یہ آیات نازل ہائیں (یَا أَیُّھَا النَّبِیُّ اتَّقِ اللہَ وَلاَ تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَالْمُنَا فِقِیْنَ اِلٰی قَوْلِہِ:مَا جَعَلَ اللہُ لِرَجُلٍ مِنْ قَلْبَیْنِ فِی جَوْفِہٖ)(الاحزاب:1-4)" اے نبی! اللہ سے ڈرتے رہیے اور کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے، اور اس کا اتباع کیجیے جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر وحی کی جاتی ہے ، بے شک جو تم کرتے ہو اللہ اس سے خﷺب با خبر ہے۔ اور آپ اللہ پر توکل کیجیے اور اللہ بطور کارساز کافی ہے۔ اللہ نے کسی شخص کے سینے میں دو دل نہیں رکھے۔"

فَأَكْثَرُوا، ← فَسَمِعَهَا الْمُنَافِقُونَ، ← صَلَّى النَّبِيُّ بِمِنًى فَخَطَرَتْ مِنْهُ كَلِمَةٌ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← سُفْيَانَ، ← الْقَاسِمُ -يَعْنِي ابْنَ الْحَكَمِ الْعُرَنِيَّ-، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 865

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals