صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 835
وقد روى شعبة عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن صهيب عن ابن عباس قال : جئت أنا وغلام من بني هاشم على حمار أو حمارين فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فلم ينصرف وجاءت جاريتان من بني عبد المطلب فأخذتا بركبتي رسول الله صلى الله عليه وسلم ففرع - أو فرق - بينهما ولم ينصرف قال أبو بكر : وليس في هذا الخبر أن الحمار مر بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما قال : فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذه اللفظة تدل أن ابن عباس مر بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم بعد نزوله عن الحمار لأنه قال : فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي
حضرت ابن عباس بیان کرتے ہین کہ مین اور بنو ہاشم کا ایک لڑکا گدھے یا دو گدھوں پر سوار ہو کر آئے تو میں رسو ل اللہ ﷺ کے آگے سے گزر گیا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے( تو ہمارے گزرنے سے ) آپ نے نماز نہ توڑی، اور بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ ئیں تو انہون کے رسول ﷺ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا لیکن نماز نہ توڑی۔" امان ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " اس بات میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گدھا گزرا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گزر گیا۔ اور یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ گدھے سے اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے تھے کیونکہ انہون نے فرمایا ہے: میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزر گیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔"
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← صُھَیْبٍ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← وقد روى شعبة
Hadith 835
