Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 835

وقد روى شعبة عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن صهيب عن ابن عباس قال : جئت أنا وغلام من بني هاشم على حمار أو حمارين فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فلم ينصرف وجاءت جاريتان من بني عبد المطلب فأخذتا بركبتي رسول الله صلى الله عليه وسلم ففرع - أو فرق - بينهما ولم ينصرف قال أبو بكر : وليس في هذا الخبر أن الحمار مر بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما قال : فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهذه اللفظة تدل أن ابن عباس مر بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم بعد نزوله عن الحمار لأنه قال : فمررت بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يصلي

حضرت ابن عباس بیان کرتے ہین کہ مین اور بنو ہاشم کا ایک لڑکا گدھے یا دو گدھوں پر سوار ہو کر آئے تو میں رسو ل اللہ ﷺ کے آگے سے گزر گیا جب کہ آپ نماز پڑھ رہے تھے( تو ہمارے گزرنے سے ) آپ نے نماز نہ توڑی، اور بنو عبدالمطلب کی دو بچیاں آ ئیں تو انہون کے رسول ﷺ کے گھٹنوں کو پکڑ لیا، آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا لیکن نماز نہ توڑی۔" امان ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : " اس بات میں اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گدھا گزرا تھا۔ بلکہ انہوں نے تو صرف یہ کہا ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے آگے سے گزر گیا۔ اور یہ لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ گدھے سے اترنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزرے تھے کیونکہ انہون نے فرمایا ہے: میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے گزر گیا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← صُھَیْبٍ ← يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، ← الْحَكَمِ ← وقد روى شعبة

Hadith 835

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 836

إلا أن عبيد الله بن موسى رواه عن شعبة قال : فمررنا بين يديه ثم نزلنا فدخلنا معه في الصلاة أنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه محمد بن عثمان العجلي ثنا عبيد الله والحكم لعبيد الله بن موسى على محمد بن جعفر محالا لا سيما في حديث شعبة ولو خالف محمد بن جعفر عدد مثل عبيد الله في حديث شعبة لكان الحكم لمحمد ابن جعفر عليهم وقد روى هذا الخبر منصور بن المعتمر عن الحكم عن يحيى بن الجزار عن أبي الصهباء - وهو صهيب - قال : كنا عند ابن عباس فذكرنا ما يقطع الصلاة فقالوا : الحمار والمرأة فقال ابن عباس : لقد جئت أنا وغلام من بني عبد المطلب مرتدفين على حمار ورسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس في أرض خلاء فتركنا الحمار بين أيديهم ثم جئنا حتى دخلنا بين أيديهم فما بالى ذلك ولقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فجاءت جاريتان من بني عبد المطلب اقتتلتا فأخذهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزع إحداهما من الأخرى فما بالى ذلك

جناب عبد اللہ بن موسیٰ کی امام اماما شعبہ سے روایت میں یہ الفاظ ہیں : تو ہم آپ کے آگے سے گزر گئے پھر ہم گدھے سے اترے تو ہم آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے۔" عبید اللہ بن موسیٰ کو محمد بن جعفر پر ترجیح دینا نا ممکن ہے۔ خصوصا امام شعبہ کی حدیث میں ، اگرچہ محمد بن جعفر امام شعبہ کی حدیث میں عبیداللہ بن موسیٰ جیسے متعددد راویوں کی بھی مخالفت کرے تو بھی محمد بن جعفر کو ان پر ترجیح ہو گی۔ یہی روایت منصور بن معتمر نے اپنی سند سے صہیب سے بیان کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں : ہم حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر تھےتو ہم ان چیزوں کا تذکرہ کیا جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔حاضرین نے کہا : گدھے اور عورت ( کے نمازی کے آگےسے گزرنے) سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا: میں اور بنو عبدالمطلب کا ایک لڑکاگدھے پر اکٹھے سوار ہو کر آئے جبکہ رسول اللہ ﷺ لوگون کو ایک کھلی جگہ پر نماز پڑھا رہے تھے، تو ہم نے گدھے کو ان کے آگے چھوڑ دیا، پھر ہم ان کے سامنے سے نماز میں داخل ہو گئے۔ تو آپ نے اس کی پرواہ نہ کی۔اور ( ایک دفعہ) رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا رہے تھے تو بنو عبدالمطلب کی دو بچیان لڑتے ہوئی آئیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان دونون کو پکڑا اور ایک بچی کو دوسری سے کھینچ کر چھڑا دیا۔ اور اس کی کوئی پرواہ نہ کی۔"

إِلَّا

Hadith 836

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 837

أنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه يوسف بن موسى ثنا جرير عن منصور : قال أبو بكر : وهذا الخبر ظاهره كخبر عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس أن الحمار إنما مر بين يدي أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لا بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم وليس فيه أن النبي صلى الله عليه وسلم علم بذلك فإن كان في الخبر أن النبي صلى الله عليه وسلم علم بمرور الحمار بين يدي بعض من كان خلفه فجائز أن تكون سترة النبي صلى الله عليه وسلم كانت سترة لمن خلفه إذ النبي صلى الله عليه وسلم قد كان يستتر بالحربة إذا صلى بالمصلى ولو كانت سترته لا تكون سترة لمن خلفه لاحتاج كل مأموم أن يستتر بحربة كاستتار النبي صلى الله عليه وسلم بها فحمل العنزة للنبي صلى الله عليه وسلم يستتر بها دون أن يأمر المأمومين بالاستتار خلفه كالدال على أن سترة الإمام تكون سترة لمن خلفه

امام ابو بکر فرماتے ہیں : اس حدیث کا ظاہر بھی عبید اللہ بن عبد اللہ کی حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث کی طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ کے سامنے سے گدھا گزرا ہے نہ کہ نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے۔ اور اس حدیث میں یہ بھی ذکر نہیں ہوا کہ نبی کریم ﷺ کو اس بات کا علم تھا۔ لیکن حدیث میں اس بات کا ذکر ہوتا کہ نبی کریم ﷺ کو علم ہو گیا تھا کہ گدھا آپ کے کچھ مقتدیوں کے آگے سے گزرا ہےتو بھی آپ کا سترہ آپ کے مقتدیوں کے لیے کافی تھا ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ جب عید گاہ میں نماز پڑھاتے تو آپ برچھی کو سترہ بناتے تھے۔ اور اگر آپ کا سترہ مقتدیوں کے لیے سترہ نہ بنتا تو پھر ہر نمازی کو نبی کریم ﷺ کی طرح برچھی کے ساتھ سترہ بنانا پڑتا۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ کے سترے کی لیے بر چھی کا اٹھا یا جانا اور آپ کا مقتدیوں کو ( علیحدہ) سترہ بنانے کا حکم نہ دینا اس بات کی دلیل ہے کہ امام کا سترہ ہی مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے۔

أبو بكر وهذا الخبر ظاهره كخبر عبيد الله بن عبد الله ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 837

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 838

وقد روى ابن جريج قال أخبرني عبد الكريم أن مجاهدا أخبره عن ابن عباس قال : جئت أنا والفضل على أتان فمررنا بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة وهو يصلي المكتوبة ليس شيء يستره يحول بيننا وبينه

"امام ابن خزیمہ ابن جریح کی سند سے حضرت ابن عباس سے بیان کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : میں اور فضل گدھی پر سوار ہو کر آئے، تو ہم رسول اللہ ﷺ کے آگے سے عرفات میں گزرے جبکہ آپ فرض نماز پڑھا رہے تھے، کوئی بھی چیز بطور سترہ آپ کے اور ہمارے درمیان حائل نہیں تھی۔ "

جِئْت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عبد الكريم ان مجاهدا ← وقد روى ابن جريج

Hadith 838

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 839

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر ثناه عبد الله بن إسحاق الجوهري نا أبو عاصم عن ابن جريج : قال أبو بكر : وغير جائز أن يحتج بعبد الكريم عن مجاهد على الزهري عن عبيد الله بن عبد الله وهذه اللفظة قد رويت عن ابن عباس خلاف هذا المعنى

" امام ابو بکر فرماتے ہیں : عبدالکریم کی مجاہد سے روایت کو امام زہری کی عبداللہ کی روایت پر حجت و دلیل بنانا جائز اور درست نہیں ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ روایت اس معنی کے برعکس بھی بیان کی گئی ہے۔ "

ابن عباس خلاف هذا المعنى ← عبيد الله بن عبد الله وهذه اللفظة قد رويت ← مجاهد على الزهري ← أبو بكر وغير جائز أن يحتج بعبد الكريم ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكر ثناه عبد الله بن إسحاق الجوهري ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 839

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 840

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن رافع ثنا إبراهيم بن الحكم بن أبان حدثني أبي ح وثنا محمد بن يحيى حدثني إبراهيم بن الحكم نا أبي ح وثنا سعد بن عبد الله بن عبد الحكم ثنا حفص بن عمر المقرئ ثنا الحكم بن أبان عن عكرمة عن ابن عباس قال : ركزت العنزة بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفات فصلى إليها والحمار من وراء العنزة قال أبو بكر : فهذا الخبر مضاد خبر عبد الكريم عن مجاهد لأن في هذا الخبر أن الحمار إنما كان وراء العنزة وقد ركز النبي صلى الله عليه وسلم العنزة بين يديه بعرفة فصلى إليها وفي خبر عبد الكريم عن مجاهد قال ك وهو يصلي المكتوبة ليس شيء يستره يحول بيننا وبينه وخبر عبد الكريم وخبر الحكم بن أبان قريب من جهة النقل لأن عبد الكريم قد تكلم أهل المعرفة بالحديث في الاحتجاج بخبره وكذلك خبر الحكم بن أبان غير أن خبر الحكم بن أبان تؤيده أخبار عن النبي صلى الله عليه وسلم صحاح من جهة النقل وخبر عبد الكريم عن مجاهد يدفعه أخبار صحاح من جهة النقل عن النبي صلى الله عليه وسلم وهذا الفعل الذي ذكره عبد الكريم عن مجاهد عن ابن عباس قد ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قد زجر عن مثل هذا الفعل في خبر سهل بن أبي حثمة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة وليدن منها لا يقطع الشيطان عليه صلاته

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ عرفات میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے برچھی گاڑی گئی، تو آپ نے اسے سترہ بنا کر نماز ادا کی جبکہ گدھا اس کے پیچھے تھا۔ " امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ روایت عبدالکریم کی مجاہد سے بیان کردہ روایت کے مخالف ہے۔ کیونکہ اس روایت میں ہے کہ گدھا برچھی کے پیچھے تھا جبکہ نبی کریم ﷺ نے برچھی اپنے سامنے عرفات میں گاڑی تھی اور اسے سترہ بنا کر نماز پڑھی تھی۔ عبدالکریم کی مجاہد سے روایت میں ہے کہ " آُ پ فرض نماز پڑھا رہے تھے جبکہ آپکے اور ہمارے درمیان حائل ہونے والا سترہ نہیں تھا۔ عبدالکریم اور حکم بن ابان کی روایات نقل کے اعتبار سے قریب قریب ہیں ۔ کیونکہ محدثین نے عبدلاکریم کی روایت کو دلیل و حجت بنانے میں جرح کی ہے ۔ اور حکم بن ابان کی روایت کا حال بھی ایسے ہی ہے۔ البتہ حکم بن ابان کی روایت کی تائید نقل کے اعتبار سے نبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث سے ہوتی ہے۔ جبکہ نبی کریم ﷺ سے مروی صحیح احادیث عبدالکریم کی مجاہد سے روایت کو رد کرتی ہیں۔ اور یہ فعل جسے عبد الکریم نے مجاہد کے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے تو اس کے متعلق نبی کریم ﷺ سے ممانعت ثابت ہو چکی ہے۔ حجرت سہل بن ابی حثمہ نبی کریم ﷺ سےروایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: " جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے سترہ بنا کر نماز پڑھنے چاہیے، اور اسے سترہ کے قریب کھڑا ہونا چاہیےتو شیطان اس کی نمازکو کاٹ نہیں سکے گا۔ "

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْمُقْرِئُ، ← سَعْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ← أَبِي ← إبراهيم بن الحكم ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 840

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 841

وفي خبر عون بن أبي جحيفة عن أبيه : أن النبي صلى الله عليه وسلم ركز عنزة فجعل يصلي إليها يمر من ورائها الكلب والمرأة والحمار أنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه الدورقي نا ابن مهدي ح وثنا أبو موسى ثنا عبد الرحمن نا سفيان عن عون بن أبي جحيفة وفي خبر الربيع بن سبرة الجهني عن النبي صلى الله عليه وسلم : إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة وليدن منها قال أبو بكر : فهذه الأخبار كلها صحاح قد أمر النبي صلى الله عليه وسلم المصلي أن تستتر في صلاته وزعم عبد الكريم ن النبي صلى الله عليه وسلم ركز عنزة فجعل يصلي إليها يمر من ورائها الكلب والمرأة والحمار أنا أبو طاهر نا أبو بكر ناه الدورقي نا ابن مهدي ح وثنا أبو موسى ثنا عبد الرحمن نا سفيان عن عون بن أبي جحيفة عن مجاهد عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى إلى غير سترة وهو في فضاء لأن عرفات لم يكن بها بناء على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يستتر به النبي صلى الله عليه وسلم وقد زجر صلى الله عليه وسلم أن يصلي المصلي إلا إلى سترة وفي خبر صدقة بن يسار سمعت ابن عمر يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا تصلوا إلا إلى ستراة وقد زجر أن يصلي لمصلي إلا إلى سترة فكيف يفعل ما يزجر عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي خبر موسى بن طلحة عن أبيه كالدال على أن الحمار إذا مر بين يدي المصلي ولا سترة بين يديه ضره مرور الحمار بين يديه

" جناب عون بن ابی جحیفہ کی اپنے والد سے روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے برچھی گاڑ کر نماز پڑھنی شروع کی جبکہ اس کے پیچھے سے کتا، عورت اور گدھا گزررہا تھا۔ " اور جناب ربیع بن سبرہ جہنی کی نبی کریم ﷺ سے روایت میں ہے : " اپنی نماز میں سترہ بنایا کرو ۔خواہ ایک تیر ہی کے ساتھ ہو کر۔ " اور ابو سعید خدری ؓ کی نبی اکرم ﷺ کی روایت میں ہے : " جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنی چاہیے اور اسے سترہ کے قریب ہو کر کھڑے ہونا چاہیے۔ " امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یہ تمام روایات صحیح ہیں ، کہ نبی کریم ﷺ نے نمازی کو اپنی نماز میں سترہ بنانے کا حکم دیا ہے ۔ جبکہ عبدالکریم نے مجاہد کے واسطے سے حضرت ابن عباسؓ سے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کھلے میدان میں بغیر سترے کے نمازادا کی۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں عرفات میں کوئی ایسی عمارت نہیں تھی جسے آپ سترہ بناتے ، حالانکہ آپ نے نمازی کو بغیر سترہ کے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ " اور صدقہ بن یسار کی روایت میں ہے ، وہ کہتے ہیں : " میں نے حضرت ابن عمر کو فرماتے ہوئے سنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " تم سترہ بنائے بغیر نماز مت پڑھو۔ " اور موسیٰ بن طلحہ کی اپنے والد محترم سے روایت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جب گدھا نمازی کےا ٓگے سے گزرے اور اس کے سامنے سترہ نہ ہو تو گدھے کا اس کے آگے سے گزرنا اسے نقصان دے گا۔ "

أَبِيهِ ← وفي خبر عون بن أبي جحيفة

Hadith 841

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 842

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا إسحاق بن إبراهيم بن حبيب بن الشهيد نا عمر بن عبيد الطنافسي عن سماك بن حرب عن موسى بن طلحة عن أبيه قال : كنا نصلي والدواب تمر بين أيدينا فسألنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال : مثل آخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم فلا يضره ما مر بين يديه

" جناب موسیٰ بن طلحہ اپنے والد گرامی سے بیان کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : " ہم اس حال میں نماز پڑھا کرتے تھے کہ چوپائے ہمارے سامنے سے گزرتے رہتے تھے، تو ہم نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، تو آُ ﷺ نے فرمایا: " تم میں سے کسی شخص کے سامنے کجاوے کی لکڑی کے برابر کوئی چیز ہو تو آگے سے گزرنے والی چیز اسے نقصان نہیں دے گی۔ "

كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا، فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 842

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 843

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو موسى نا عبد الرحمن ثنا إسرائيل عن سماك عن موسى بن طلحة عن أبيه : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ليجعل أحدكم بين يديه مثل مؤخرة الرحل ثم لا يضره ما مر بين يديه قال أبو بكر : ففي قوله صلى الله عليه وسلم : مثل مؤخرة الرحل يكون بين يدي أحدكم ثم لا يضره ما مر بين يديه دلالة واضحة إذا لم يكن بين يديه مثل مؤخرة الرحل ضره مرور الدواب بين يديه والدواب التي تضر مرورها بين يديه هي الدواب التي أعلم النبي صلى الله عليه وسلم أنها تقطع الصلاة وهو الحمار والكلب الأسود على ما أعلم المصطفى صلى الله عليه وسلم لا غيرهما من الدواب التي لا تقطع الصلاة

جناب موسیٰ بن طلحہ کے والد محترم نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ آُ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی چیز بطور سترہ رکھ لے، پھر اسے اپنے سامنے سے گزرنے والی چیزیں ضرر نہیں دیں گی ۔ " امام ابو بکر رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : "اآپ کے اس فرمان : " کجاوے کی پچحلی لکڑی کے برابر کوئی چیز جب تم میں سے کسی شخص کے سامنے ہو گی تو اسے اپنے آگے سے گزرنے والی چیز نقصان نہیں دے گی۔" میں واضح دلیل ہے کہ جب اس کے سامنے کجاوے کی لکڑی کے برابر سترہ نہیں ہو گا تو اسے اپنے سامنے سے گزرنے والے چوپائے نقصان دیں گے۔ اور وہ چوپائے جب کا اس کے سامنے سے گزرنا نقصان دہ ہے ، وہ وہی چاپائے ہیں جن کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ نماز توڑ دیتے ہیں ، اور وہ گدھا اور سیاہ کتا ہیں ، جیسا کہ مصطفیٰ ﷺ نے فرمایاہے ، ان کے علاوہ دیگر چوپائے مراد نہیں ہیں جو نماز نہیں کاٹتے۔

أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 843

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 844

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودَةٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ. فَقَالَ: "أَخِّرِيهِ عَنِّي". فَأَخَذَتْهُ فَجَعَلَتْهُ وَسَائِدَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْكَلَامِ الْمُبَاحِ فِي الصَّلَاةِ وَالدُّعَاءِ وَالذِّكْرِ، وَمَسْأَلَةِ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا يُضَاهِي هَذَا وَيُقَارِبُهُ

حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں : " ان کے پاس تصاویر والا کپڑا تھا جو دریچے پر پھیلا ہوا تھا، نبی کریم اسے سترہ بنا کر نماز پڑھا کرتے تھے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کپڑہ مجھ سے دور کر دو ، لہٰذا میں نے اس کے تکیے بنا لیے۔"

الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 844

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals