صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 811
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، قَالَا، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ جَدِّهِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا. وَقَالَ مَرَّةً: تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ". وَقَالَ الْجَوَّازُ: فَلْيَضَعْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ سَوَاءً.
حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اور ایک مرتبہ فرمایا: اپنے چہرے کے سامنے کچھ رکھ لے، پس اگر کوئی چیز نہ ملے تو چھڑی گاڑ لے، اور اگر چھڑی بھی میسر نہ ہو تو ایک لکیر کھینچ لے، پھر اسے اپنے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔ محمد بن منصور الجواز نے یہ الفاظ بیان کیے: " تو اسے اپنے چہرے کے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیئے۔" باقی روایت سابقہ روایت ہی کی طرح ہے۔
أَبُو الْقَاسِمِ "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا. ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 811
