Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 811

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، قَالَا، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُهُ عَنْ جَدِّهِ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا. وَقَالَ مَرَّةً: تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ عَصًا فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ". وَقَالَ الْجَوَّازُ: فَلْيَضَعْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ سَوَاءً.

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اور ایک مرتبہ فرمایا: اپنے چہرے کے سامنے کچھ رکھ لے، پس اگر کوئی چیز نہ ملے تو چھڑی گاڑ لے، اور اگر چھڑی بھی میسر نہ ہو تو ایک لکیر کھینچ لے، پھر اسے اپنے آگے سے گزرنے والی کوئی چیز نقصان نہ دے گی۔ محمد بن منصور الجواز نے یہ الفاظ بیان کیے: " تو اسے اپنے چہرے کے سامنے کوئی چیز رکھ لینی چاہیئے۔" باقی روایت سابقہ روایت ہی کی طرح ہے۔

أَبُو الْقَاسِمِ "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلْيَضَعْ بَيْنَ يَدَيْهِ شَيْئًا. ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← جَدِّهِ، ← أَبِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، يُحَدِّثُهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 811

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 812

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا بِمِثْلِ حَدِيثِ الْجَوَّازِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالصَّحِيحُ مَا قَالَ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، وَهَكَذَا قَالَ مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ (1)، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا: عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، وَالثَّوْرِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ.

حضرت ابو ہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : لیکن صحیح روایت وہ ہے جو بشر بن مفصل نے بیان کی ہے، معمر اور ثوری نے بھی اسی طرح عمر وبن حریث سے روایت کی ہےلیکن ان دونوں نے عمرو بن حریث کے دادا کی بجائےان کے والد سے روایت بیان کی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← جَدِّهِ، ← أَبِي عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، أَنَّهُ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← وَحَدَّثَنَا بِمِثْلِ حَدِيثِ الْجَوَّازِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 812

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 813

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ (1)، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: أَرْسَلَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ، أَسْأَلُهُ عَنِ الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، مَاذَا عَلَيْهِ؟ [قَالَ]: لَوْ كَانَ أَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ، خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ.

جناب بسر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ زید بن خالد نے مجھے حضرت ابو جہیم ؓ کی خدمت میں یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ نمازی کے آگے گزرنے سے گزرنے والے شخص کو کیا گناہ ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر وہ چالیس ( سال یا دن) تک کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے۔"

لَوْ كَانَ أَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ، خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ. ← الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيِ الْمُصَلِّي، مَاذَا عَلَيْهِ؟ ← أَرْسَلَنِي زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ إِلَى أَبِي جُهَيْمٍ، أَسْأَلُهُ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 813

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 814

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ [94 - ب]، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا فِي الْمَشْيِ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ، كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ". هَذَا حَدِيثُ ابْنِ مَنِيعٍ.

" امام صاحب اپنے دو اساتذہ کرام جناب احمد بن منیع اور محمد بن رافع کی سند سے حضرت ابو ہریرہ ؓ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم میں سے کسی شخص کو اپنے بھائی کے آگے سے چوڑائی کے رخ میں گزرنے پر گناہ معلوم ہو جائے، جبکہ وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہو، تو اسے ایک قدم بھی اٹھانے سے سو سال تک اسی جگہ کھڑے رہنا زیادہ بہتر لگے۔" یہ ابن منیع کی روایت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّهِ ب]، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 814

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 815

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ أَتَى حَاشِيَةَ الْمَطَافِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّوَّافِينَ أَحَدٌ.

" حضرت مطلب بن ابی وداعہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ اپنے طواف سے فارغ ہوئے تو آپ مطاف کے کنارے پر تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی جبکہ آپ کے اور طواف کرنے والوں کے درمیان کوئی نہ تھا۔"

الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ ← أَبِيهِ ← كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 815

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 816

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ-، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعَنَّ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".

" حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ کسی کو اپنے سامنے سے ہرگز نہ گزرنے دے، پھر اگر وہ (رکنے سے) انکار کر دے( اور زبردستی آگے سے کزرنے کی کوشش کرے) تو اس کے ساتھ لڑنا چاہئے کیونکہ وہ شیطان ہے۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ-، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 816

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 817

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ، فَذَهَبَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَمَنَعَهُ، فَذَهَبَ لِيَعُودَ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً فِي صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ (1) مِنْ بَنِي أُمَيَّةَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِمَرْوَانَ، فَلَقِيَهُ مَرْوَانُ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ ضَرَبْتَ ابْنَ أَخِيكَ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ، فَذَهَبَ أَحَدٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَمْنَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ". فَإِنَّمَا ضَرَبْتُ الشَّيْطَانَ.

" حضرت عبدلرحمٰن بن ابی سعید اپنے والد گرامی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ایکم ستون کو سترہ بنا کر نماز پڑھ رہے تھے کہ بنو امیہ کے ایک شخص نے آگے سے گزرنے کی کوشش کی تو انہوںنے اسے منع کیا، اس نے دوبارہ گزرنے کی کوشش کی تو انہوں نے اس کے سینے پر تھپڑ مارا، اور وہ بنی امیہ کا ایک فرد تھا، اس نے یہ واقعہ مروان(گورنر) کو بتا دیا۔ مروان حضرت ابو سعید ؓ سے ملے تو کہا: آپ نے اپنے بھتیجے کو کس وجہ سے مارا ہے؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا: بے شک رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہے: جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو سترہ بنا کر نماز پڑھ رہا ہو تو کوئی شخص اس کے آگے سے گزرنے کی کوشش کرے تو اسے اس شخص کو روکنا چاہئے، پھر اگر وہ رکنے سے انکار کردے تو اسے اس کے ساتھ لڑائی کرنی چاہئے کیونکہ وہ شیطان ہے۔" بے شک میں نے (ایک) شیطان ہی کو مارا ہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هَمَّامٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 817

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 818

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي (1)، عَنْ يُونُسَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الَّذِي بَعْدَهُ فِي الْبَابِ الثَّانِي، غَيْرَ أَنَّهُ زَادَ فِيهِ: وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُهُ فَأَبَى أَنْ يَنْتَهِيَ. قَالَ: وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَشَكَا إِلَيْهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ شَيْءٌ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَمْنَعْهُ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".

" جناب ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ حضرت ابو سعید خدریؓ جمعہ والے دن نماز پڑھ رہے تھے۔"پھر سلیمان بن مغیرہ کی حدیث جیسی حدیث بیان کی جو دوسرے باب میں آگے آرہی ہے۔ مگر اس میں یہ اضافہ ہے: " بے شک میں نے اسے روکنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے رکنے سے انکار کر دیا تھا۔"وہ کہتے ہیں : ان دنوں مروان مدینہ منورہ کا گورنر تھا، لہذا اس نے گورنر سے شکایت کر دی۔ پھر مروان نے ( ملاقات ہونے پر) اس بات کا تذکرہ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے کیا تو حضرت ابو سعید ؓ نے فرمایاؒ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ۔" جب تم میں سے کسی شخص کے آگے سے کوئی چیز گزرے جبکہ وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اسے اس چیز کو دو بار منع کرنا چاہئے، پھر اگر وہ رکنے سے انکار کردے ( اور زبردستی گزرنے کی کوشش کرے) تو اسے اس کے ساتھ لڑائی کرنئ چاہئے ، بلاشبہ وہ شیطان ہے۔"

الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الَّذِي بَعْدَهُ فِي الْبَابِ الثَّانِي، غَيْرَ ← بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 818

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 819

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، إِذْ جَاءَهُ شَابٌّ مِنْ بَنِي أَبِي مُعَيْطٍ، فَأَرَادَ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَدَفَعَهُ فِي نَحْرِهِ، فَنَظَرَ فَلَمْ يَجِدْ مَسَاغًا إِلَّا بَيْنَ يَدَيْ أَبِي سَعِيدٍ فَعَادَ، فَدَفَعَهُ فِي نَحْرِهِ أَشَدَّ مِنَ الدَّفْعَةِ الْأُولَى. قَالَ: فَمَثُلَ قَائِمًا، ثُمَّ نَالَ [95 - أ] مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، ثُمَّ خَرَجَ فَدَخَلَ عَلَى مَرْوَانَ، فَشَكَا إِلَيْهِ مَا لَقِيَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ. قَالَ: وَدَخَلَ أَبُو سَعِيدٍ عَلَى مَرْوَانَ. فَقَالَ: مَا لَكَ وَلِابْنِ أَخِيكِ جَاءَ يَشْتَكِيكَ؟ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْ فِي نَحْرِهِ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ".

"حضرت ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ اس دوران حضرت ابو سعید خدری ؓ جمعہ کے روز کسی چیز کو لوگوں سے سترہ بنا کر نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک بنوابی معیط کا ایک نو جوان آپ کے پاس آیا اور اس نے آپ کے سامنے سے گزرنے کی کو شش کی تو آپ نے اسے سینے میں دھکا دیا۔ اس نے (ادھر ادھرراستہ) دیکھا لیکن اسے حضرت ابو سعید ؓ کے سامنے کو علاوہ کوئی راستہ نہ ملاچنانچہ اس نے دو بارہ گزرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے پہلی مرتبہ سے زیادہ زور سے اسے دھکا دیا۔ راوی نے کہا: پھر وہ شخص سیدھا کھڑا ہو گیا۔ اس نے حضرت ابو سعید خدری ؓ کو برا بھلا کہااور ( مسجد سے ) نکل گیا اور اس نے مروان کے پاس جا کر حضرت ابو سعید ؓ سے پہنچنے والی تکلیف کی شکایت کردی۔ راوی کہتے ہیں حضرت ابو سعید ؓ بھی مروان کے پاس تشریف لائے تو اس نے کہا: آپ کے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان کیا واقعہ ہواہے کہ وہ آپ کی شکایت کر رہا ہے؟ حضرت ابو سعید ؓ فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : " جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو اور کوئی شخص اس کے سامنے سے گزرنے کی کوشش کرے اسے چاہئے کہ وہ اس کے سینے میں دھکا دے، پھر اگر وہ رکنے سے انکار کر دےتو اس کے ساتھ لڑائی کرے، بلا شبہ وہ شیطان ہے۔"

بَيْنَمَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُصَلِّي إِلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هاشم بن القاسم ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 819

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 820

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُصَلُّوا إِلَّا إِلَى سُتْرَةٍ، وَلَا تَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْكَ، فَإِنْ أَبَى فَلْتُقَاتِلْهُ؛ فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ".

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : تم ضرور سترہ رکھ کر نماز پڑھا کرو، اور اپنے آگے سے کسی کو مت گزرنے دو، پھر اگر وہ( رکنے اور منع ہونے سے)انکار کردے تو تم اس کے ساتھ لڑائی کرو ، بے شک اس کے ساتھ ایک ساتھی ( شیطان) ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← صَدَقَةُ بْنُ يَسَارٍ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 820

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 821

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، ثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ الْغَافِقِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ؛ يُرِيدُ يَتَطَوَّعُ بِالصَّلَاةِ.

" جناب ایاس بن عامر بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت علی ؓ بن ابی طالب کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نفل نماز پڑھا کرتے تھےجبکہ حضرت عائشہ ؓ آپ کے اور قبلہ کے درمیان لیٹی ہوتیں۔" امام ابو بکر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں " یسبح من الیل" سے ان کی مراد نفل نماز ہے۔

أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ؛ يُرِيدُ يَتَطَوَّعُ بِالصَّلَاةِ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُسَبِّحُ مِنَ اللَّيْلِ وَعَائِشَةُ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ. ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ← مُوسَی بْنُ اَیُّوْبَ الْغَافِقِیُّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 821

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جَمَّاعُ أَبوَابِ سُترَۃِ المُصَلِّی · حديث 822

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَأَنَا مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ كَاعْتِرَاضِ الْجِنَازَةِ. زَادَ الْمَخْزُومِيُّ مَرَّةً: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَخَّرَنِي بِرِجْلِهِ.

حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ رات کی نماز ( یعنی نماز تہجد) اس حال میں ادا فرماتے کہ میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی۔" جناب مخزومی کی روایت میں یہ اضافہ ہے: " پھر جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے قدم سے پیچھے کر دیتے۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 822

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals