صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 622
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"، فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا"، دَعَا عَلَى نَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: (لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ [79 - ب] شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ) [آل عمران: 128].
"حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺ کو فجر کی نماز میں سنا کہ آپ نے آخری رکعت میں جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھایا تو ربنا ولک الحمد پڑھا، پھر یہ دعا مانگی : اے اللہ! فلاں فلاں شخص پر لعنت فرما، آپ نے کچھ منافقین کو بددعا دی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:(لَیْسَ لَکَ مِنَ الْأَمْرِ شَیْ ءٌ أَوْ یَتُوْبَ عَلَیْھِمْ أَوْ یُعَذِّیَھُمْ فَإِنَّھُمْ ظَالِمُوْنَ)(۱۲۸:۳)"اے نبی) آپ کا اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کر لے ، چاہے تو انہیں عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں ۔"
ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 622
