Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 586

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -وَهُوَ الثَّقَفِيُّ- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا، سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ"، -وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا، وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا- "وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ وَالشَّبَبَةَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يُصَلُّوا كَمَا رَأَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. [وَ] قَدْ أَعْلَمَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ (1) فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِرَفْعِ الْيَدَيْنِ، إِذَا أَرَادَ الْمُصَلِّي الرُّكُوعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ. وَكُلُّ لَفْظَةٍ رُوِيَتْ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَهُوَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أُعْلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تُوقِعُ اسْمَ الْفَاعِلِ عَلَى مَنْ أَرَادَ الْفِعْلَ قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَهُ، كَقَوْلِ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ) [المائدة: 6] الْآيَةَ، فَإِنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ الْمَرْءُ إِلَى الصَّلَاةِ لَا بَعْدَ الْقِيَامِ إِلَيْهَا، فَمَعْنَى قَوْلِهِ: (إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ) أَيْ: إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَيْهَا، فَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، أَيْ: يديه إِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ. كَخَبَرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ عُمَرَ اللَّذَيْنِ ذَكَرَاهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ. خَرَّجْنَا هَذِهِ الْأَخْبَارَ بِتَمَامِهَا فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ"، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ: (فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ) [النور: 61]، إِنَّمَا أَمَرَ بِالسَّلَامِ إِذَا أَرَادَ الدُّخُولَ لَا بَعْدَ دُخُولِ الْبَيْتِ، هَذِهِ لَفْظَةٌ إِذَا جُمِّعَتْ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ طَالَ الْكِتَابُ بِتَقَصِّيهَا.

"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ ہم تقریباً ایک ہی عمر کے نوجوان تھے ، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا اور آپ نہایت رحمدل اور مہربان تھے ، پھر جب آپ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتے ہیں اور ان کی ملاقات کے مشتاق ہیں تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ ہم اپنے پیچھے کن کن عزیزوں کو چھوڑ کر آئے ہیں تو ہم نے آپ کو ( ان کے متعلق) بتایا ۔ لہٰذا ٓ پ نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ ، ان کے ساتھ رہو ، انہیں دین کی باتیں سکھاؤ اور ( ان پر عمل کرنے کا) انہیں حکم دو۔ ( حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں: حضرت مالک نے ) کئی چیزیں ذکر کیں جو مجھے یاد ہیں اور کئی یاد نہیں رہیں ۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا): " اور تم نما زپڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔" جب نما ز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہے اور تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کروائے ۔"یہ بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں: امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: بلا شبہ نبی اکرمﷺنے حضرت مالک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ نماز اسی طرح پڑھیں جیسا انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اور حضرت مالک بن حویرث ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں تکبیر کہتے ، اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ لہٰذا اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرمﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھانے ( رفع الیدین کرنے) کا حکم دیا ہے ۔ جب نمازی رکوع کو جائے اور جب رکوع سے اپنا سراٹھائے ۔ اس مسئلے کے متعلق مروی وہ تمام الفاظ کہ نبی اکرمﷺ رکوع کرتے وقت رفع الیدین کرتے تھے تو وہ اسی قبیل سے ہیں جو میں نے بیان کی ہے کہ عرب لوگ کبھی کبھار اسم فاعل کا اطلاق کسی کام کا ارادہ کرنے والے شخص پر بھی کرتے ہیں ، اس کے وہ کام کرنے سے پہلے ہی ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(یٰا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ)"اے ایمان والو! جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھو لو۔" تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ آدمی جب نماز کےلیے کھڑے ہونے کا اراد ہ کرے تو اعضائے وضو دھو لے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز میں کھڑے ہونے کے بعد اعضائے وضو دھو لے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو "کا معنی یہ ہے کہ جب تم نماز کےلیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو۔ " اسی طرح حدیث کے یہ الفاظ جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے"تو اس کا معنی یہ ہے کہ جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو رفہ الیدین کرتے "جیسا کہ حضرت علی بن طالب اور ابن عمرؓ کی احادیث میں مذکورہ ہوا ہے کہ جب آپ رکوع کا ارادہ کرتے ( تو رفع الیدین کرتے تھے ) ہم نے یہ تمام روایات کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں ۔ اسی طرح اس فرمان میں (فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلَی اَنُفُسِکُمْ)(سورہ نور:۶۱)"اور جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کہو۔"گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ گھروں میں داخل ہونے کے بعد۔ اس مسئلے کے متعلق کتاب وسنت سے مثالیں جمع کی جائیں تو کتاب بہت طویل ہوجائے گی۔"

مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَهُوَ الثَّقَفِيُّ، ← بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 586

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 587

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ

"حضرت ابو حمید ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے ( پھر حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا) اور کہا: پھر آپ اللہ اکبر کہتے ، اور رکوع کرتے پھر میانہ روی رکوع کرتے تو اپنے سر کو نہ جھکاتے اور نہ اٹھاتے ( بلکہ بالکل برابر رکتھے ) اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے ۔ پھر آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور بالکل کھڑے ہو جاتے حتی کہ ہڈی اپنی جگہ پر سیدھی ہوجاتی ۔ پھر سجدے کے لیے زمین کی طرف جھکتے پھر فرماتے اللہ اکبر، پھرا ٓپ اپنے دونوں بازو اپنی بغلوں سے الگ کرتے اور اپنے دونوں پاؤں کی انگلیون کو موڑ لیتے۔ پھر اپنے دائیں پاؤں کو موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے۔ پھر اعتدال کے ساتھ بیٹھ جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر سیدھی ہوجاتی ، پھر آپ سجدے کےلیے جھکتے پھر فرماتے : اللہ اکبر۔ پھر اپنے دونوں کہنیاں اپنی بغلوں سے علیحدہ کرتے اور اپنے پاؤں کی انگلیان کھول کر رکھتے ۔ پھر اپنے پاؤں کو موڑ کر بیٹھ جاتے اور اعتدال کے ساتھ بیٹھ جاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ جاتی ۔ پھر اٹھتے پھر آپ دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ۔ حتی کہ جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے یہاں تک کہ ان کو اپن کندھوں کے برابر کرتے جیسا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت کیا تھا۔ پھر آپ نے اسی طرح کیا حتی کہ جب وہ رکعت آگئی جس میں نماز مکمل ہوجاتی ہے ۔ تو آپ نے اپنے بائیں پاؤں کو پیچھے کیا اور تو رکوع کرتے ہوئے اپنے پہلو پر بیٹھ گئے، پھر ( تشہد کے بعد) سلام پھیرا ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے یں : محمد بن عطاء وہ محمد بن عمرو بن عطاء ہیں۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 587

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 588

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار و محمد بن يحيى و أحمد بن سعيد الدارمي قالوا حدثنا أبو عاصم حدثنا عبد الحميد بن جعفر حدثني محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حميد الساعدي في عشرة من أصحاب رسول الله أحدهم أبو قتادة قال : إني لأعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا الحديث بطوله وقالوا في آخر الحديث : صدقت هكذا كان يصلي النبي

"جناب محمد بن عمرو بن عطاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوحمید الساعدی ؓ کو دس صحابہ کرام کی موجودگی میں فرماتے ہوئے سنا، ان میں ایک حضرت ابو قتادہ ؓ بھی ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کو نماز کو جاننے والا ہوں پھر( امام صاحب کے) اساتذہ نے پوری حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں یہ الفا ظ روایت کیے:( دس صحابہ کرام نے کہا) آپ نے سچ فرمایا، نبی کریمﷺ اسی طر ح نماز پڑھا کرتے تھے۔"

في آخر الحديث صدقت هكذا كان يصلي النبي ← إني لأعلمكم بصلاة رسول الله فذكروا الحديث بطوله ← أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ، فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ أَحَدُهُمْ أَبُو قَتَادَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بندار و محمد بن يحيى و أحمد بن سعيد الدارمي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 588

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 589

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ: اجْتَمَعَ نَاسٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِيهِمْ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ، فَذَكَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: دَعُونِي أُحَدِّثُكُمْ وَأَنَا أَعْلَمُكُمْ بِهَذَا. قَالُوا: فَحَدِّثْ. قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ دَخَلَ الصَّلَاةَ وَكَبَّرَ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ رَكَعَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ كَالْقَابِضِ عَلَيْهِمَا، فَلَمْ يَصُبَّ رَأْسَهُ وَلَمْ يُقْنِعْهُ وَنَحَّى يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاسْتَوَى قَائِمًا حَتَّى عَادَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ ذَكَرَ بُنْدَارٌ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقَالَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ: هَكَذَا كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَقُولُ: مَنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ -يَعْنِي إِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ- فَصَلَاتُهُ نَاقِصَةٌ.

جناب عباس بن سہل الساعدی بیان کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ افراد جمع ہوئے ، ان میں حضرت سہل بن سعد الساعدی ، ابوحمید الساعدی اور ابو اسید الساعدی بھی تھے ۔ تو انہوں نے رسول اللہﷺ کی نماز کا تذکروہ کیا، تو حضرت ابو حمید ؓ نے فرمایا: مجھے اجازت دو میں تمہیں ( رسول اللہﷺ کی نماز ) بیان کرتا ہوں اور میں تم سے اسے زیادہ جانتا ہوں ۔ انہوں نے کہا:(اگر ایسی بات ہے تو ) بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ کو بہترین وضو کرتے ہوئے دیکھا پھر آپ نماز میں داخل ہوئے اور تکبیر کہی تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کندھوں کے برابر بلند کیے ، پھر آپ نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر ایسے رکھے جیسے آپ ان کو پکڑے ہوئے ہوں ۔ ( رکوع میں) اپنے سر کو نہ اٹھایا اور نہ بہت جھکایا ( بلکہ درمیانی حالت میں کمر کے برابر رکھا) اور اپنے بازؤں کو اپن پہلوؤں سے دور رکھا ، پھر ( رکوع سے) اپنا سر اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ گئی۔ پھر جناب بندار نے باقی حدیث بیان کی اور حدیث کے آخر میں یہ الفاظ بیان کیے کہ تمام صحابہ کرام ؓ نے فرمایا: رسول اللہﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے جناب محمد بن یحییٰ کو سنا وہ فرما رہے تھے : جس شخص نے یہ حدیث سننے کے بعد رکوع کو جاتے ہوئے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے ۔

الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 589

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 590

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ"، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَعْلَمُ غَيْرَ هَذَا. قَالَ: فَقَالَ: "إِذَا قُمْتَ (1) إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا، ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا، ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ جَالِسًا، وَافْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا". قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ: عَنْ سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَخْبَارُ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِمَّنْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، غَيْرُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِنَّمَا قَالُوا: عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھی ، (پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ) آپ کو سلام کیا ، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: واپس جا کر نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی۔"حتی کہ اس نے تین بار اسی طرح نماز پڑھی ( اور آپ نے اسے واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا ) بالآخر اس شخص نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے ! میں اس کے علاوہ ( نماز کا طریقہ ) نہیں جانتا ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں : آپ نے ( اسے نماز کا طریقہ سکھاتے ہوئے ) فرمایا: جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو اللہ اکبر کہو، پھر قرآن مجید سے تمہیں جو یاد ہو۔ اس کی تلاوت کرو، پھر رکوع کرو تو پورے اطمینان کے ساتھ رکوع کرو ، پھر رکوع سے سر اٹھاؤ تو بالکل سیدھے کھڑے ہوجائے ، پھر سجدہ کرو تو مکمل اطمینان کے ساتھ سجدہ کرو، پھر ( سجدے سے سر اٹھاؤ تو ) بالکل سیدھے بیٹھ جاؤ ، اپنی پوری نماز میں اسی طرح ( مکمل اطمینان اور سکون اختیار) کرو۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ، میں نے یحییٰ بن خلاد کی رفاعہ بن رافع سے روایات کو کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: اس حدیث کے روایت کرنے والے راویوں میں س یحییٰ بن سعید کے سوا کسی راوی نے اسے عبید اللہ بن عمر عن سعید عن ابیہ سے بیان نہیں کیا بلکہ وہ سے اسے حضرت سعید کے واسطے سے حضرت ابو ہریرہؓ سے بیان کرتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ- ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← بُنْدَارٌ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 590

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 591

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نَا الْأَعْمَشُ؛ وَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، أَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ؛ ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ مَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ".

"حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جو شخص رکوع وسجود میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا اس کی نماز کفایت نہیں کرتی ۔"

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← الْاَعْمَشِ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← الْأَعْمَشُ؛ وَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 591

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 592

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تُجْزِئُ صَلَاةٌ لِأَحَدٍ -أَوْ لِرَجُلٍ- لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ، وَلَا فِي السُّجُودِ". أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: مِثْلَهُ. وَقَالَ: "فِي الرُّكُوعِ، وَالسُّجُودِ".

"حضرت ابو مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کسی شخص کی یا کسی آدمی کی نماز کافی نہیں ہوتی جو رکوع او ر سجود میں اپنی کمر برابر سیدھی نہیں کرتا ۔" امام صاحب اپنے استاد جناب بشر بن خالد عسکری کی سند سے مذکورہ بالا کی طر ح روایت بیان کرتے ہیں ۔ انہوں نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں ۔ "رکوع اور سجود میں( اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔)"

أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي مَعْمَرٍ ← عُمَارَةَ، ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 592

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 593

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ -وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ- قَالَ: صَلَّيْنَا خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَحَ بِمُؤَخَّرِ عَيْنَيْهِ إِلَى رَجُلٍ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، فَلَمَّا قَضَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: "يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ إِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ". هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ.

"جناب عبدالرحمان بن علی بن شیبان اپنے والد محترم حضرت علی بن شیبان ؓ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ ، اور وہ ( نبی کریمﷺ کی خدمیت میں حاضر ہونے والے ) وفد کے ایک رکن تھے ۔ وہ فرماتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز ادا کی تو آپ نے کن انکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا جو رکوع و سجدو میں اپنی کمر سیدھا نہیں کر رہا تھا ، پھر جب اللہ کے نبی ﷺ نے نماز مکمل فرما لی تو ارشاد فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت ! بے شک اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو رکوع اور سجدے میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا ۔" یہ احمد بن المقدم کی حدیث ہے ۔

أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَانَ -وَكَانَ أَحَدَ الْوَفْدِ- ← عبد الرحمن بن على بن شيبان ← جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، ← مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 593

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 594

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، -يُعْرَفُ بِابْنِ الْخَازِنِ-، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ فَرَّجَ أَصَابِعَهُ.

" جناب علقمہ بن وائل اپنے والد حضرت وائل ؓ سے بیان کرتے ہیں ، کہ نبی اکرمﷺ جب رکوع کرتے تو اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھتے تھے۔"

أَبِيهِ ← عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الْحَسَنِ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، -يُعْرَفُ بِابْنِ الْخَازِنِ-، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 594

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 595

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ

"حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہﷺ نے نماز سکھائی تو اللہ اکبر کہا۔ اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھے، پھر رکوع کیا، حضرت سعدؓ کو یہ خبر ملی تو انہوں نے فرمایا: میرے بھائی نے سچ کہا ہے ، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں اس کا حکم دے دیا گیا یعنی ( دونوں ہاتھوں کے ساتھ ) گھٹنوں کو پکڑ نے کا۔"

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 595

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 596

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سلم بن جنادة نا وكيع عن ابن أبي خالد - وهو إسماعيل - ح وحدثنا يوسف بن موسى نا وكيع و أبو أسامة قالا حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن الزبير بن عدي عن مصعب بن سعد قال : كنت إذا ركعت وضعت يدي بين ركبتي فرآني أبي سعد فنهاني وقال : إنا كنا نفعله ثم نهينا ثم أمرنا أن نرفعهما إلى الركب

" جنا ب مصعب بن سعد بیان کرتے ہیں کہ میں جب رکوع کرتا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں کے درمیان رکھ لیتا ۔ میرے والد محترم حضرت سعد ؓ نے مجھے ( ایسے کرتے ہوئے ) دیکھا تو مجھے منع کیا اور فرمایا: بے شک ہم اسی طرح کیا کرتے تھے پھر ہمیں منع کر دیا گیا ، پھر ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم انہیں اپنے گھٹنوں کی طرف اٹھایا کریں ( یعنی گھٹنوں پر رکھا کریں)"

كنا نفعله ثم نهينا ثم أمرنا أن نرفعهما إلى الركب ← كنت إذا ركعت وضعت يدي بين ركبتي فرآني أبي سعد فنهاني وقال ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← الزبير بن عدي ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← وكيع و أبو أسامة ← وحدثنا يوسف بن موسى ← ابن أبي خالد وهو إسماعيل ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 596

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 597

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا مؤمل بن هشام اليشكري نا إسماعيل - يعني ابن علية - عن محمد بن إسحاق حدثني علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الأنصاري عن أبيه عن عمه رفاعة بن رافع : أن رجلا دخل المسجد فصلى فذكر الحديث بطوله وقال : فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ثم إذ أنت ركعت فأثبت يديك على ركبتيك حتى يطمئن كل عظم منك

"حضرت رفاعہ بن رافع ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا تو اس نے نماز پڑھی ، پھر مکمل حدیث بیان کی۔ کہتے ہیں : تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : پھر جب تم رکوع کرو تو اپنے ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما کر رکھو حتی کہ تیری ہر ہڈی ( رکوع میں ) مطمئن ہو جائے۔"

الحديث بطوله ← عمه رفاعة بن رافع أن رجلا دخل المسجد فصلى ← أَبِيهِ ← علي بن يحيى بن خلاد بن رافع الأنصاري ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ- ← مؤمل بن هشام اليشكري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 597

chevron_left Previous
12345…19
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals