صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 586
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ -وَهُوَ الثَّقَفِيُّ- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا، فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلِينَا وَاشْتَقْنَا، سَأَلَنَا عَمَّا تَرَكْنَا بَعْدَنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: "ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، وَعَلِّمُوهُمْ، وَمُرُوهُمْ"، -وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا، وَأَشْيَاءَ لَا أَحْفَظُهَا- "وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ بُنْدَارٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ وَالشَّبَبَةَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ أَنْ يُصَلُّوا كَمَا رَأَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي. [وَ] قَدْ أَعْلَمَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ (1) فِي الصَّلَاةِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِرَفْعِ الْيَدَيْنِ، إِذَا أَرَادَ الْمُصَلِّي الرُّكُوعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ. وَكُلُّ لَفْظَةٍ رُوِيَتْ فِي هَذَا الْبَابِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ فَهُوَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أُعْلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ تُوقِعُ اسْمَ الْفَاعِلِ عَلَى مَنْ أَرَادَ الْفِعْلَ قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَهُ، كَقَوْلِ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ) [المائدة: 6] الْآيَةَ، فَإِنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِغَسْلِ أَعْضَاءِ الْوُضُوءِ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ الْمَرْءُ إِلَى الصَّلَاةِ لَا بَعْدَ الْقِيَامِ إِلَيْهَا، فَمَعْنَى قَوْلِهِ: (إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ) أَيْ: إِذَا أَرَدْتُمُ الْقِيَامَ إِلَيْهَا، فَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ، أَيْ: يديه إِذَا أَرَادَ الرُّكُوعَ. كَخَبَرِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَابْنِ عُمَرَ اللَّذَيْنِ ذَكَرَاهُمَا، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ. خَرَّجْنَا هَذِهِ الْأَخْبَارَ بِتَمَامِهَا فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ"، وَكَذَلِكَ قَوْلُهُ: (فَإِذَا دَخَلْتُمْ بُيُوتًا فَسَلِّمُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ) [النور: 61]، إِنَّمَا أَمَرَ بِالسَّلَامِ إِذَا أَرَادَ الدُّخُولَ لَا بَعْدَ دُخُولِ الْبَيْتِ، هَذِهِ لَفْظَةٌ إِذَا جُمِّعَتْ مِنَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ طَالَ الْكِتَابُ بِتَقَصِّيهَا.
"حضرت مالک بن حویرث ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے جبکہ ہم تقریباً ایک ہی عمر کے نوجوان تھے ، ہم نے آپ کے پاس بیس راتیں قیام کیا اور آپ نہایت رحمدل اور مہربان تھے ، پھر جب آپ نے سمجھا کہ ہم اپنے گھر والوں کے پاس جانا چاہتے ہیں اور ان کی ملاقات کے مشتاق ہیں تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ ہم اپنے پیچھے کن کن عزیزوں کو چھوڑ کر آئے ہیں تو ہم نے آپ کو ( ان کے متعلق) بتایا ۔ لہٰذا ٓ پ نے فرمایا: اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ ، ان کے ساتھ رہو ، انہیں دین کی باتیں سکھاؤ اور ( ان پر عمل کرنے کا) انہیں حکم دو۔ ( حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں: حضرت مالک نے ) کئی چیزیں ذکر کیں جو مجھے یاد ہیں اور کئی یاد نہیں رہیں ۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا): " اور تم نما زپڑھو جیسے تم نے مجھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔" جب نما ز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان کہے اور تم میں سے بڑا شخص تمہاری امامت کروائے ۔"یہ بندار کی حدیث کے الفاظ ہیں: امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں: بلا شبہ نبی اکرمﷺنے حضرت مالک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ نماز اسی طرح پڑھیں جیسا انہوں نے نبی اکرمﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا ۔ اور حضرت مالک بن حویرث ؓ نے بیان فرمایا ہے کہ نبی کریمﷺ جب نماز میں تکبیر کہتے ، اور جب رکوع کو جاتے اور جب رکوع سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے ۔ لہٰذا اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ نبی اکرمﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھانے ( رفع الیدین کرنے) کا حکم دیا ہے ۔ جب نمازی رکوع کو جائے اور جب رکوع سے اپنا سراٹھائے ۔ اس مسئلے کے متعلق مروی وہ تمام الفاظ کہ نبی اکرمﷺ رکوع کرتے وقت رفع الیدین کرتے تھے تو وہ اسی قبیل سے ہیں جو میں نے بیان کی ہے کہ عرب لوگ کبھی کبھار اسم فاعل کا اطلاق کسی کام کا ارادہ کرنے والے شخص پر بھی کرتے ہیں ، اس کے وہ کام کرنے سے پہلے ہی ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:(یٰا أَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِذَا قُمْتُمْ إِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ)"اے ایمان والو! جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے دھو لو۔" تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ آدمی جب نماز کےلیے کھڑے ہونے کا اراد ہ کرے تو اعضائے وضو دھو لے یہ مطلب نہیں ہے کہ نماز میں کھڑے ہونے کے بعد اعضائے وضو دھو لے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان جب تم نماز کےلیے کھڑے ہو "کا معنی یہ ہے کہ جب تم نماز کےلیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو۔ " اسی طرح حدیث کے یہ الفاظ جب رکوع کرتے تو رفع الیدین کرتے"تو اس کا معنی یہ ہے کہ جب رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تو رفہ الیدین کرتے "جیسا کہ حضرت علی بن طالب اور ابن عمرؓ کی احادیث میں مذکورہ ہوا ہے کہ جب آپ رکوع کا ارادہ کرتے ( تو رفع الیدین کرتے تھے ) ہم نے یہ تمام روایات کتاب الکبیر میں بیان کی ہیں ۔ اسی طرح اس فرمان میں (فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلَی اَنُفُسِکُمْ)(سورہ نور:۶۱)"اور جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے لوگوں کو سلام کہو۔"گھروں میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ گھروں میں داخل ہونے کے بعد۔ اس مسئلے کے متعلق کتاب وسنت سے مثالیں جمع کی جائیں تو کتاب بہت طویل ہوجائے گی۔"
مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، وَهُوَ الثَّقَفِيُّ، ← بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 586
