Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 574

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ سُهَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَعَلَيْكَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَاكَ، فَسَكَتُّ. ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: "عَلَيْكَ". فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ. ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّأَمُ، وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ. أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ. قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ. إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ وَهُمْ (1) لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ وَعَلَى آمِينَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : "السام علیک یا محمد "اے محمد تم پر موت ( نازل) ہو ۔ نبی ؑ نے فرمایا : اور تم پر بھی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : میں نے بت کرنے کا ارادہ کیا مگر نبی اکرمﷺ کی ناپسند یدگی معلوم ہونے پر خاموش رہی۔ پھر ایک اور یہودی آپ کے پاس آیا تو اس نے بھی کہا: آپ پر موت طاری ہو۔ آپ نے جواباً فرمایا: تم پر ہی ہو۔ میں نے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا لیکن میں جان گئی کہ آپ اسے برا سمجھتے ہیں( لہٰذا میں خاموش رہی) پھر تیسرا ( یہودی ) داخل ہوا تو اس نے کہا : آپ پر موت ( نازل ) ہو ۔ اس بار مجھ سے رہا نہ جاسکا یہاں تک کہ میں نے کہا: تجھ ہی پر موت نازل ہو، تجھ پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہو، اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم رسول اللہ ﷺ کو ایسے الفاظ کے ساتھ سلام کرتے ہوئے جبن الفا ظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیی فحش گوئی اور بے حیائی کو پسند نہیں فرماتے ، انہوں نے جیسے ہمیں سلام کیا ، ویسے ہی ہم نے انہیں جواب دے دیا تھا۔ بلاشبہ یہودی بہت زیادہ حسد کرنے والی قوم ہے اور وہ ہم پر کسی چیز میں اتنا حسن نہیں کرتے جتنا وہ ہمارے سلام اور آمین کہنے پر حسن کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے اس قصے کے متعلق ابن ابی ملیکہ کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت "کتاب الکبیر"میں بیان کردی ہے ۔"

عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ ← السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. ← دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 574

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 575

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- نَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قَالَ الْإِمَامُ (غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ)، فَقُولُوا: آمِينَ، فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: آمِينَ. وَالْإِمَامُ يَقُولُ آمِينَ. فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ". هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ.

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب امام(غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمِ وَلَا الضَّالِّیْنَ)پڑھے تو ، تم آمین کہو، بلاشبہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے ، تو جس شخص کی آمین فرشتوں کی آمین کے موافق ہوگئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"یہ صنعانی کی حدیث ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← يَزِيدُ -وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 575

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 576

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، نَا رَوْحُ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَيْضًا الزَّعْفَرَانِيُّ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ: أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا وَضَعَ، اللَّهُ أَكْبَرُ كُلَّمَا رَفَعَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ: عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: "اللَّهُ أَكْبَرُ" كُلَّمَا رَفَعَ وَوَضَعَ، وَزَادَ ثُمَّ يَقُولُ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" عَنْ يَمِينِهِ، "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ" عَنْ يَسَارِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: اخْتَلَفَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى فِي هَذَا الْإِسْنَادِ، فَقَالَ [بَعْضُهُمْ]: إِنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ، خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"جناب واسع بن حیان سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں سوا ل کیا تو انہوں نے کہا: جب بھی آپ اٹھتے اور جھکتے "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے۔" اور یہ اضافہ بیان کیا ہے : پھر آپ اپنی دائیں جانب "السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ"کہتے اور اپنی بائیں جانب بھی " السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ "فرماتے ۔"امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : جناب عمرو بن یحییٰ کے شاگردوں نے اس سند میں اختلاف کیا ہے ، وہ فرماتے ہیں : کہ انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم سے سوال کیا میں نے اس کو کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے ۔

عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْحَسَنُ أَيْضًا الزَّعْفَرَانِيُّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 576

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 577

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا عِنْدَ الْمَقَامِ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: "إِنِّي رَأَيْتُ رَجُلًا يُصَلِّي، يُكَبِّرُ فِي كُلِّ رَفْعٍ وَوَضْعٍ، فَقَالَ: أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أُمَّ لَكَ (1)؟

"حضرت عکرمہ بیان کرتےہیں کہ میں نے ایک شخص کو مقام ابراہیم کے پاس ( نماز میں) ہر اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہتے ہوئے دیکھا تو میں حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میں نے ایک شخص کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ ہر اٹھتے اور جکھتے وقت"اللہ اکبر" کہتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا: تیری ماں مر جائے کیا یہ رسول اللہﷺ کی نماز نہیں ہے ؟"

عِكْرِمَةَ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 577

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 578

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن رافع نا عبد الرزاق انا ابن جريج أخبرني ابن شهاب عن أبي بكر بن عبد الرحمن أنه سمع أبا هريرة يقول : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة يكبر حين يقوم ثم يكبر حين يركع ثم يقول سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة يقول وهو قائم : ربنا ولك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا ثم يكبر حين يرفع رأسه ثم يكبر حين يسجد ثم يكبر حين يرفع رأسه ثم يفعل مثل ذلك في الصلاة كلها حتى يقضيها ويكبر حين يقوم من المثنى بعد الجلوس ثم يقول أبو هريرة : إني لأشبهكم صلاة برسول الله صلى الله عليه وسلم

"حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہو کر اللہ اکبر کہتے : پھر جب رکوع کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، پھر جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کرتے تو "سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہْ"(جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی تعریف وتوصیف بیان کی ہے اللہ نے اس کی آواز سن لی ہے ۔) کہتے اور پھر کھڑے کھڑے فرماتے :رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُپھر جب سجدے کےلیے جھکتے تو"اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ، پھر جب سجدے سے پنا سر اٹھاتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، پھر جب (دوسرا ) سجدہ کرتے تو"اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔ پھر جب اپنا سر اٹھاتے تو"اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ۔ پھر آپ نماز مکمل کرنے تک پوری نماز میں اسی طرح کرتے ۔ اور جب آپ دو رکعت کے بعد تشہد سے اٹھتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ۔ پھر حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ رسول اللہﷺ کی نماز کے مشابہ نماز ادا کرنے والا ہوں۔"

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 578

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 579

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن رافع نا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال : كان أبو هريرة يصلي بنا فيكبر حين يقوم وحين يركع وإذا أراد أن يسجد وبعد ما يرفع من الركوع وإذا أراد أن يسجد بعد ما يرفع من السجود وإذا جلس وإذا أراد أن يقوم في الركعتين كبر ويكبر مثل ذلك في الركعتين الأخريين فإذا سلم قال : والذي نفسي بيده إني لأقربكم شبها برسول الله صلى الله عليه وسلم - يعني صلاته - ما زالت هذه صلاته حتى فارق الدنيا

"جناب ابو سلمہ بن عبالرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ ؓ ہمیں نماز پڑھا یا کرتے تھے، وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، اور جب رکوع کو جاتے ، اور جب رکوع سے سر اٹھا نے کے بعد سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ۔ اور جب پہلا سجدہ کرنے کے بعد سر اٹھاتے تو (دوسرا ) سجدہ کے لیے اللہ اکبر کہتے اور جب( دوسرے سجدے کے بع) بیٹھتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ، وہ اسی طرح دوسری دو رکعتوں میں بھی تکبیر کہتے ، پھر جب سلام پھیرا تو فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! بے شک میں تم سب سے زیاد ہ رسول اللہﷺ کی نماز کے قریب نماز ادا کرنے والا ہوں ۔ اس دنیا سے رخصت ہونے تک آپ کی نماز اسی طرح تھی۔"

أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 579

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 580

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن معمر نا أبو عامر انا فليح بن سليمان عن سعيد بن الحارث قال : اشتكى أبو هريرة أو غاب فصلى بنا أبو سعيد الخدري فجهر بالتكبير حين افتتح وحين ركع وحين قال : سمع الله لمن حمده وحين رفع رأسه من السجود وحين سجد وحين رفع وحين قام من الركعتين حتى قضى صلاته على ذلك فقيل له : إن الناس قد اختلفوا في صلاتك فخرج فقام على المنبر فقال : أيها الناس إني والله ما أبالي اختلفت صلاتكم أو لم تختلف هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قال أبو بكر : قوله وحين قال : سمع الله لمن حمده إنما أراد حين قال : سمع الله لمن حمده فأراد الإهواء للسجود كبر لا أنه إذا رفع رأسه من الركوع كبر وكذلك أراد في خبر عمران بن حصين حين ذكر صلاته خلف علي بن أبي طالب فقال : وإذا نهض من الركوع كبر إنما نهض من الركوع فأراد الإهواء إلى السجود كبر

"جناب سعید بن الحارث بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ ؓ بیمار ہوگئے ، یا کسی سفر پر چلے گئے تو ہمیں حضرت ابوسعید خدریؓ سے نماز پڑھائی ، انہوں نے جب نماز شروع کی تو بلند آواز سے "اللہُ أَکْبَرُ" کہا۔ اور جب آپ رکوع کو گئے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا، اور جب سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہا تو تکبیر کہی( یعنی سجدے کو جاتے وقت) سجدوں کو جاتے اور سجدے سے سر اٹھاتے وقت بھی اللہ اکبر کہا، اور جب ( دوسرے سجدے کے بعد سر ) اٹھایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا ، اور جب دو رکعت کے بعد ( تشہد بیٹھنے کے بعد) کھڑے ہوئے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہا، حتی کہ انہوں نے وہ نماز اسی طرح مکمل کی۔ ان سے عرض کی گئی: لوگ آپ کی نماز کے متعلق اختلاف کر رہے ہیں۔ وہ باہر تشریف لائے اور منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: اے لوگو! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کی قطعاً پروا نہیں ہے کہ تمہاری نماز ( میری نماز سے) مختلف ہے یا مختلف نہیں ہے ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : ان کا یہ کہنا کہ جب آپ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے تو ان کی مراد یہ ہے کہ جب وہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے اور سجدے کےلیے جھکنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو"اللہُ أَکْبَرُ"کہتے تھے ( بلکہ اس وقت تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُہی کہتے تھے )۔ اسی طرح حضرت عمران بن حصین کی روایت میں جب انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب کے پیچھے اپنی نماز کا تذکرہ کیا تو فرمایا:"جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا : ان کی مراد یہ ہے کہ جب انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور سجدے کے لیے جھکنے کا ارادہ فرمایا تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہا۔"

سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 580

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 581

والدليل على صحة ما تأولت أن هارون بن إسحاق الهمداني حدثنا قال حدثنا عبدة عن سعيد عن خالد - يعني الحذاء - عن غيلان بن جرير عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال : صليت خلف علي فكان يكبر إذا سجد وإذا رفع رأسه فلما انصرف قال لي عمران بن حصين : صلى بنا هذا مثل صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال أبو بكر : وفي هذا الخبر ما دل على أن اللفظة التي ذكرها حماد بن زيد عن غيلان بن جرير في هذا الخبر : وإذا نهض من الركوع كبر إنما أراد وإذا نهض من الركوع فأراد السجود كبر على ما ذكر الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ثم يقول سمع الله لمن حمده حين يرفع صلبه من الركعة ثم يقول وهو قائم ربنا لك الحمد ثم يكبر حين يهوي ساجدا وكذلك خبر أبي عامر عن فليح عن سعيد بن الحارث عن أبي سعيد الخدري ذكر التكبير حين قال سمع الله لمن حمده أي أنه يكبر عند رفع الرأس من الركوع ذكر تكبير أخرى عند الإهواء إلى السجود فلما ذكر التكبيرة عند رفع الرأس من السجود بعد التكبيرة حين قال : سمع الله لمن حمده بان وثبت أنه إنما أراد التكبير حين قال : سمع الله لمن حمده إذا أراد الإهواء إلى السجود وكذلك في خبر أبي سلمة من أبي هريرة قال : وحين يركع وإذا أراد أن يسجد بعدما يرفع من الركوع ففي هذا ما بان أنه كان يكبر إذا رفع رأسه من الركوع وأراد السجود لا أنه كان يكبر عند رفع الرأس من الركوع ولو أبحنا للمصلي أن يكبر في كل خفض ورفع كان عليه أن يكبر إذا رفع رأسه من الركوع ثم يكبر عند الإهواء إلى السجود لكان عدد التكبير في أربع ركعات ستة وعشرين تكبيرة لا اثنتين وعشرين تكبيرة وفي خبر عكرمة عن بن عباس ما بان وثبت أن عدد التكبير في أربع ركعات اثنتين وعشرين تكبيره لا أكثر منها

"میں نے جو وضاحت کی ہے اس کے صیح ہونے کی دلیل یہ روایت ہے جسے استاد محترم جناب ہارون بن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ جناب مطرف بن عبداللہ بن شخیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علیؓ کے پیچھے نماز پڑھی تو وہ جب سجدہ کرتے اور جب اپنا سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے تھے ۔ پھر جب وہ نما ز سے فارغ ہو ئے تو حضرت عمران بن حصین نے مجھے فرمایا: " انہوں نے ہمیں رسول اللہﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ بیان کرتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ وہ الفاظ جو حماد بن زید نے غیلان بن جریر سے اس حدیث میں بیان کیے ہیں کہ : "جب آپ رکوع سے اٹھتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے "اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آپ رکوع سے اٹھتے اور سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ" کہتے ، جیسا کہ اما م زہری ؒ نے ابوبکر عبدالرحمٰن بن الحارث بن ہشام سے روایت کیا ہے پھر آپ جب رکوع سے اپنی کمر سیدھی کرتے تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکہتے پھر آپ کھڑے کھڑے رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُپڑھتے ، پھر جب سجدے کےلیے جھکتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے ۔"اسی طرح جناب ابو عامر کی روایت میں ہے جسے وہ فلیح سے اور وہ سعید بن الحارث سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری ؓ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے اس روایت میں سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے تھے۔ اور سجدے کےلیے جھکتے وقت ایک مرتبہ پھر تکبیر کہنے کا تذکرہ کیا ہے ۔ پھر جب انہوں نے سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر کیا جو کہسَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُکی تکبیر کے بعد ہے تو اس سے ثابت ہوگیا کہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے وقت تکبیر کہنے سے ان کی مراد سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر کہنا ہے ۔ اسی طرح جناب ابو سلمہ کی حضرت ابوہریرہؓ سے روایت میں ہے ، فرمایا: اور جب رکوع کرتے ، اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد جب سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو "اللہُ أَکْبَرُ"کہتے۔"اس روایت نے بھی یہ بیان کر دیا ہے کہ آپ رکوع سے سر اٹھانے کے بعد سر اٹھاتے وقت اللہ اکبر کہتے تھے۔ اور اگر ہم نمازی کےلیے ہر جھکنے اور اور اٹھتے وقت تکبیر کہنا جائز قرار دے دیں تو نما زکےلیے ضروری ہوگا کہ وہ رکوع سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہے اور پھر سجدے کو جاتے ہوئے بھی تکبیر کہے ۔ اس طرح چار رکعات میں کل چھبیس تکبیریں ہوں گی نہ کی بائیس تکبیریں حالانکہ عکرمہ کی حضرت ابن عباس سے رویات میں یہ بات بالک واضح اور ثابت ہے کہ چار رکعات میں کل بائیس تکبیریں ہیں ، اس سے زائد نہیں ہیں۔"

Hadith 581

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 582

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال حدثنا بخبر عكرمة نصر بن علي الجهضمي قال حدثنا عبد الأعلى حدثنا سعيد ح وحدثنا أبو موسى نا ابن أبي عدي عن سعيد وحدثنا علي بن خشرم أخبرنا عيسى يعني بن يونس كلاهما عن سعيد عن قتادة عن عكرمة قال : قلت لابن عباس صليت الظهر بالبطحاء خلف شيخ أحمق فكبر اثنتين وعشرين تكبيرة إذا سجد وإذا ركع وإذا رفع رأسه فقال ابن عباس : تلك سنة أبي القاسم صلى الله عليه وسلم هذا لفظ حديث أبي موسى وقال ابن خشرم : تلك سنة أبي القاسم - أو صلاة أبي القاسم صلى الله عليه وسلم شك سعيد وقال نصر : تلك صلاة أبي القاسم ولم يشك أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار حدثنا معاذ بن هشام حدثني أبي عن قتادة بهذا الإسناد نحوه

"جناب عکمرہ ؒ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباسؓ سے کہا: میں نے ظہر کی نماز ( وادی) بطحاء میں ایک کم عقل بوڑھے کے پیچھے پڑھی ہے تو اس نے بائیس تکبیریں کہی ہیں۔ جب اس نے سجدہ کیا، اور جب رکوع کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا ( تو اس نے تکبیر کہی) تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: یہ تو ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے ۔ "ابن خشرم نے اپنی روایت میں اس طرح بیان کیا: "یہ تو ابوالقاسم ﷺ کی سنت ہے یا ابوالقاسم ﷺ کی نماز ہے۔" جناب سعید نے شک کے ساتھ یہ الفاظ بیان کیے ہیں ۔ جبکہ جناب نصر نے بغیر شک کے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ : "یہ تو ابو القاسم ﷺ کی نماز ہے ۔"

Hadith 582

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 583

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْأَزْهَرِ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ مِنَ الرُّكُوعِ. وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ. هَذَا لَفْظُ ابْنِ رَافِعٍ. سَمِعْتُ الْمَخْزُومِيَّ يَقُولُ: أَيُّ إِسْنَادٍ أَصَحُّ مِنْ هَذَا؟ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى، يَحْكِي عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: هَذَا [الْإِسْنَادُ مِثْلُ] (1) هَذِهِ الْأُسْطُوَانَةِ.

"حضرت سالمؒ اپنے والد محترم حضرت عبداللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہﷺ کو نماز شروع کرتے وقت اور جب آپ رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اپنے دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اور آپ دو سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔" یہ ابن رافع کی روایت کے الفا ظ ہیں ۔ میں نے مخزومی کو فرماتے ہوئے سنا: اس سند سے زیادہ صحیح اور کونسی سند ہوسکتی ہے ۔ امام سفیان ثوری ؒ فرماتے ہیں: یہ سند اس ستون کی طرح (مضبوط وپائیدار) ہے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْأَزْهَرِ وَغَيْرِهِمْ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَحْمَدِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبِيهِ ← سَالِمًا يُخْبِرُ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 583

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 584

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيِّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنَ الرُّكُوعِ، وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ صَلَاتِهِ [75 - ب] وَهُوَ قَاعِدٌ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ رَفَعَ يَدَيْهِ كَذَلِكَ، وَكَبَّرَ.

"حضرت علی بن ابی طالب ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ جب فرض نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں کندھوں کے برابر اٹھاتے ۔ آپ اپنی قراءت مکمل ہونے کے بعد اور رکوع کا ارادہ کرتے وقت بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے اور جب آپ رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی اسی طرح رفع الیدین کرتے اور آپ اپنی نماز میں بیٹھنے کی حالت میں رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔ اور جب دو رکعت ( کے تشہد) کے بعد کھڑے تو اسی طرح رفع الیدین کرتے اور اللہ اکبر کہتے ۔"

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ الْهَاشِمِيُّ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 584

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 585

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، أَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ خَالِدٍ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ- عَنْ أَبِي قِلَابَةَ: أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي هَكَذَا.

"حضرت ابو قلابہ ؒ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت مالک بن حویرث ؓ کو دیکھا جب نماز پڑھتے تو اللہ اکبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ بلند فرماتے ، اور جب رکوع کرنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے ، اور انہوں نے بیان فرمایا: بے شک رسو ل اللہﷺ بھی اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔"

خَالِدٍ -وَهُوَ الْحَذَّاءُ- ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 585

chevron_left Previous
1234…19
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals