صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 574
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ سُهَيْلٍ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَعَلَيْكَ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَاكَ، فَسَكَتُّ. ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَقَالَ: "عَلَيْكَ". فَهَمَمْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَعَلِمْتُ كَرَاهِيَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِذَلِكَ. ثُمَّ دَخَلَ الثَّالِثُ، فَقَالَ: السَّأَمُ عَلَيْكَ. فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قُلْتُ: وَعَلَيْكَ السَّأَمُ، وَغَضَبُ اللَّهِ وَلَعْنَتُهُ، إِخْوَانَ الْقِرَدَةِ وَالْخَنَازِيرِ. أَتُحَيُّونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا لَمْ يُحَيِّهِ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ، وَلَا التَّفَحُّشَ. قَالُوا قَوْلًا فَرَدَدْنَا عَلَيْهِمْ. إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ حُسَّدٌ وَهُمْ (1) لَا يَحْسُدُونَا عَلَى شَيْءٍ كَمَا يَحْسُدُونَا عَلَى السَّلَامِ وَعَلَى آمِينَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَدْ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".
"حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک یہودی رسول اللہﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا : "السام علیک یا محمد "اے محمد تم پر موت ( نازل) ہو ۔ نبی ؑ نے فرمایا : اور تم پر بھی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں : میں نے بت کرنے کا ارادہ کیا مگر نبی اکرمﷺ کی ناپسند یدگی معلوم ہونے پر خاموش رہی۔ پھر ایک اور یہودی آپ کے پاس آیا تو اس نے بھی کہا: آپ پر موت طاری ہو۔ آپ نے جواباً فرمایا: تم پر ہی ہو۔ میں نے گفتگو کرنے کا ارادہ کیا لیکن میں جان گئی کہ آپ اسے برا سمجھتے ہیں( لہٰذا میں خاموش رہی) پھر تیسرا ( یہودی ) داخل ہوا تو اس نے کہا : آپ پر موت ( نازل ) ہو ۔ اس بار مجھ سے رہا نہ جاسکا یہاں تک کہ میں نے کہا: تجھ ہی پر موت نازل ہو، تجھ پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت نازل ہو، اے بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم رسول اللہ ﷺ کو ایسے الفاظ کے ساتھ سلام کرتے ہوئے جبن الفا ظ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کیا۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیی فحش گوئی اور بے حیائی کو پسند نہیں فرماتے ، انہوں نے جیسے ہمیں سلام کیا ، ویسے ہی ہم نے انہیں جواب دے دیا تھا۔ بلاشبہ یہودی بہت زیادہ حسد کرنے والی قوم ہے اور وہ ہم پر کسی چیز میں اتنا حسن نہیں کرتے جتنا وہ ہمارے سلام اور آمین کہنے پر حسن کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے اس قصے کے متعلق ابن ابی ملیکہ کی حضرت عائشہ ؓ سے روایت "کتاب الکبیر"میں بیان کردی ہے ۔"
عَائِشَةُ: فَهَمَمْتُ ← السَّامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ. ← دَخَلَ يَهُودِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 574
