صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 547
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ أَبُو بَكْرٍ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ [ابْنِ] جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: فِي كُلِّ صَلَاةٍ يُقْرَأُ (1). فَمَا أَسْمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْمَعْنَاكُمْ، وَمَا أَخْفَى عَنَّا أَخْفَيْنَاهُ عَنْكُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْإِمَامَةِ جَمِيعَ مَا يَنْبَغِي لِلْمُصَلِّي أَنْ يُعْلِنَ بِالْقِرَاءَةِ فِيهَا مِنَ الصَّلَوَاتِ، وَمَا عَلَيْهِ أَنْ يُخَافِتَ بِهَا عَلَى مَا كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْلِنُ وَيُخَافِتُ.
"حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہر نماز میں قراءت کی جائے گی ۔ رسول اللہﷺ نے ہمیں جو قراءت سنائی ، وہ ہم تمہیں سنا دیتے ہیں ۔ اور ( جن نمازوں میں) ہم سے پوشیدہ قراءت کی ، ہم نے بھی وہ قراءت تم سے پوشیدہ رکھی ہے ۔امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی بلند آواز سے اور آہستہ آواز سے قراءت کرنے کی بنیاد پر نمازی کے لیے کن نمازوں میں بآواز بلند قراءت کرنی چاہئے اور کن میں آہستہ آواز سے قراءت کرنی چاہئے اور کن میں آہستہ سے قراءت کرنی چاہیے ، میں یہ تمام بحث کتاب الامامتہ میں بیان کردی ہے ۔"
أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَطَاءٍ، ← جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ أَبُو بَكْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 547
