Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 742

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ:

''جناب عبدہ بن ابی لبابہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہؓ کے کاتب وراد سے سنا ، وہ فرماتے ہیں : حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسا مسئلہ بیان کریں جو آپ رسول اللہ ﷺ نے سے سنا ہو، تو انہوں نے جواباًٍ فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب نماز مکمل کر لیتے(تو یہ دعا پڑھتے)۔۔۔۔عبدالملک کی روایت میں ہے،وہ کہتے ہیں کہ مین نے وراد کو بیان کرتے ہوئے سنا،جبکہ اسباط اور سفیان وارد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شْیْءٍ قَدِیْرْ اللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَاأَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَامَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ۔ ''اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تمام تعریفیں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔اے اللہ جو چیز تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور تیرے نزدیک کسی مالدار کو اس کا مال کچھ نفع نہیں دے گا۔''عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:''حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے مجھے یہ کلمات املا ء کروائے تو میں نے حضرت معاویہ ؓ کولکھ کر ارسال کئے کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔''جناب ابو ہاشم کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں:حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھےکوئی ایسی چیز لکھ کر ارسال کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو حضرت مغیرہ ؓ نے انہیں جواب میں لکھا: بے شک میں نے آپ کو نماز سے فارغ ہونے پر یہ دعا پڑھتے ہوئے سناہے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شْیْءٍ قَدِیْر''اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ساری بادشاہت اور سب تعریفیں اسی کےلئے ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔آپ یہ کلمات تین بار پڑھتے تھے۔''کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ قیل وقال(بے مقصد گفتگو)بکثرت سوال کرنے ، مال ودولت کو ضائع کعنے،بخل و کنجوسی اور حرص، ماؤں کی نافرمانی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے۔''

سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 742

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 743

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْأَعْرَجِ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ- عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، فَسَلَّمَ، قَالَ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ". قَالَ أَبُو صَالِحٍ: "لَا إِلَهَ لِي إِلَّا أَنْتَ".

''حضرت علی ابی طالب ؓ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو سلام پھیرتے، پھر یہ دعا پڑھتے: اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِی مَا قَدَّمْتُ وَمَاأَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَاأَعْلَنْتُ وَمَاأَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ ، أَنْتَ الْمُقَدِّ مُ وَالمْؤَخِّرُلَاإِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ '' اے اللہ میرے اگلے پچھلے،پوشیدہ اور علانیہ گناہ اورجومیں نے اپنی جان پر ظلم و زیادتی کی ہے اور وہ گناہ جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے،سب معاف فرمادے،تو ہی آگے بڑھانے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی سچا الہٰ نہیں۔''ابو صالح کی روایت میں ہے:''تیرے سوا میرا کوئی الہٰ نہیں ہے۔''

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← الْأَعْرَجِ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ- ← عمه الماجشون بن أبي سلمة ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ وَأَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ جَمِيعًا ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 743

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 744

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ الْبَصْرِيُّ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ (1)، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نَغْدُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَقُولُ إِذَا صَلَّيْتُ؟ قَالَ: "قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي. فَقَدَ جَمَعَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ".

''حضرت ابو مالک اشجعی اپنے والد بزرگوار سے روایت کرتے ہیں کہ ہم صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو مرد اور عورتیں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھتیں ۔ الے اللہ کے رسو لﷺ! جب میں نماز پڑ ھ لوں تو کون سی دعا پڑھوں۔آپ ﷺ نے فرمایا : یہ پڑھا کرو''اللہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاھْدِنِی وَعَافِنِیْ وَارْزُقُنِیْ''اے اللہ مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما اور مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے عافیت سے نواز دے اور مجھے رزق عطا فرمادے۔''

كُنَّا نَغْدُو إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَتَجِيءُ الْمَرْأَةُ، فَيَقُولُ: ← أَبِيهِ ← أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ آدَمَ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 744

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 745

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ كَعْبًا حَلَفَ لَهُ بِالَّذِي فَلَقَ (2) الْبَحْرَ لِمُوسَى، إِنَّا نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ أَنَّ دَاوُدَ نَبِيَّ اللَّهِ كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي جَعَلْتَهُ لِي عِصْمَةً، وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي جَعَلْتَ فِيهَا مَعَاشِي، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ نِقْمَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ". قَالَ: وَحَدَّثَنِي كَعْبٌ، أَنَّ صُهَيْبًا صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُهُنَّ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنْ صَلَاتِهِ.

''حضرت عطا بن ابی مروان اپنے والد بزرگوار سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعب نے ان کےلئے اس ذات کی قسم کھائی جس نے حضرت موسیٰؑ کےلئے سمندر کو پھاڑ (کر راستہ بنا) دیاتھا۔ کہ بے شک ہم تورات میں یہ پاتے ہیں کہ اللہ کے نبی داود ؑ جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے:''اللَّہُمَّ أَصْلِحْ لیِْدِیِنی الَّذِیْ جَعَلْتَہُ لِیْ عِصْمَۃًوَأَصْلِحْ لِیْ دُنْیَایَ الَّتَیْ جَعَلْت فَیْھَامُعَاشِیْ ، اللَّھُمَّ أَعُوْذُبِرَضَالکَ مَنْ سَخَطِکَ وَأَعُوْذُبِعَفْوِکَ مِنْ نِقْمَتِکَ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْکَ، اللَّھُمَّ لَا ماَنَعَ لِمَاأَعْطَیْتَ وَلَا مُعطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذاالْجَدِّمِنْکَ الْجَدُّ''اے اللہ ! میرےلئے میرے دین کی اصلاح فرما دے جسے تو نے میرے لیے (آخرت میں عذاب سے )بچا ؤ کا سبب بنایا ہے، اور میرے لیے میری دنیا کی اصلاح فرمادے جس میں تو نے میرے لیے معیشت کے اسباب مہیا کیے ہیں۔ اے اللہ ! میں تیرے غصے سے تیری رضا اور خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، اور تیرے عذاب اور ناراضگی سے تیری بخشش و درگزر کی پناہ میں آتا ہوں ، اور میں تجھ سے تیری ہی پناہ طلب کرتا ہوں ، اے اللہ !جو نعمت تو عطا کردے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جسے تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور تجھ سے کسی مال و دولت والے کو اس کا مال دار ہونا نفع نہیں دےگا۔''کہتے ہیں اور مجھے حضرت کعب نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺکے صحابی حضرت صہیب بے انہیں بیان کیا کہ محمد ﷺ اپنی نماز سے فارغ ہو کر یہ دعا پڑھتے تھے۔''

أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَرْوَانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 745

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 746

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ [89 - ب] وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَا: كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ بِهِنَّ دُبُرَ الصَّلَاةِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنْيَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".

''حضرت معصب بن سعد اور عمر و بن میمون ازدی دونوں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد ؓ اپنی اولاد کو یہ کلمات دعا اسی طرح سیکھاتے تھے جس طرح استاد اپنے شاگرد وں کو سیکھاتا ہے،وہ فرماتے تھے:رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالی کی پناہ طلب کرتےتھے۔''اللَّھُمَّ إنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ أَنْ أُرَدَّإِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ ، وَأَغُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدَّنْیَا وَأَعُوذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ۔'' الے اللہ ! میں بخل و کنجوسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں بزدلی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور میں بے کار عمر کی طرف لوٹا ئے جانے سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں ، میں دنیا کے فتنے میں مبتلا ہونے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتاہوں۔''

كَانَ سَعْدٌ يُعَلِّمُ بَنِيهِ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ كَمَا يُعَلِّمُ الْمُكْتِبُ الْغِلْمَانَ، ← مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ب] وَعَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَزْدِيِّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَيْبَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 746

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 747

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ".

''حضرت مسلم بن ابی بکرہ اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے:''اللَّھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الکُفْرِ وَالْفَقْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔''الے اللہ ! میں کفر ، فقروفاقےاور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔''

أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ← عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 747

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 748

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ذَهَبَ أَهْلُ الْأَمْوَالِ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ؛ يَقُولُونَ كَمَا نَقُولُ، وَيُنْفِقُونَ وَلَا نُنْفِقُ. قَالَ: "أَوَلَا أُخْبِرُكَ بِعَمَلٍ إِذَا أَنْتَ عَمِلْتَهُ أَدْرَكْتَ مَنْ قَبْلَكَ وَفُتَّ مَنْ بَعْدَكَ إِلَّا مَنْ قَالَ مِثْلَ قَوْلِكَ؟ تَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ، تُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ، وَتُكَبِّرُ، مِثْلَ ذَلِكَ، وَإِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ".

''حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کی: الے اللہ کے رسول ﷺ! اہل ثروت اور مال دار لوگ (بہت زیادہ) اجروثواب لےگئے ہیں۔ وہ ہماری طرح (قرآن مجید اوردیگر اذکار واوراد)پڑھنے ہیں اور (اللہ کی راہ میں)خرچ بھی کرتے ہیں اور ہم (فقراء)خرچ نہیں کرتے، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو اپنے سے پہلے لوگوں (کے اجروثواب) کو پالوگے اور اپنے سے بعد والے لوگوں سے آگے نکل جاؤگے، سوائے اس شخصکے جس نے تمہاری طرح وہ وظیفہ پڑھا:تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمداللہ، اور اتنی ہی بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو، اور جب (سونے کےلئے ) اپنے بستر پر جاؤ(تو اسی طرح پڑھ لیا کرو۔)

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 748

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 749

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ مِنَ الْأَمْوَالِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَلَهُمْ فُضُولٌ يَحُجُّونَ بِهَا، وَيَعْتَمِرُونَ (1)، وَيُجَاهِدُونَ، وَيَتَصَدَّقُونَ، فَقَالَ: "أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَمْرٍ إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ أَدْرَكْتُمْ مَنْ سَبَقَكُمْ، وَلَمْ يُدْرِكْكُمْ أَحَدٌ مِنْ بَعْدِكُمْ، وَكُنْتُمْ خَيْرَ مَنْ أَتَمَّ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ إِلَّا أَحَدٌ عَمِلَ بِمِثْلِ أَعْمَالِكُمْ: تُسَبِّحُونَ، وَتَحْمَدُونَ، وَتُكَبِّرُونَ، خَلْفَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ" قَالَ: فَاخْتَلَفْنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ بَعْضُنَا: نُسَبِّحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَنُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ حَتَّى تُتِمَّ مِنْهُنَّ كُلِّهِنَّ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ".

''حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ فقراء صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے عرض کی: (اے اللہ کے رسول ﷺ)مالدار لوگ اپنے مال کی بدولت بلند درجات اور ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتیں حاصل کر گئے ہیں ، وہ ہماری طرح نماز بھی پڑھتے ہیں ، ہماری طرح روزے بھی رکھتے ہیں ، اور ان کے پاس زائد مال ودولت بھی ہے، وہ اس سے حج کرتے ، عمرہ ادا کرتے ہیں، جہاد کرتے ہیں اور صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں ۔توآپ ﷺ نے فرمایا :کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اگر تم اس پر عمل پیرا ہاجاؤتو تم اپنے سے آگے بڑھ جانے والوں کو پالوگےاور تمہارے بعد آنے والے تمہیں نہیں پا سکیں گے۔(تم ان سے اجروثواب میں بلند ہی رہو گے) ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللہِ،تینتیس بارالْحَمْدُ لِلہِ اور تینتیس بار اللہُ اَکْبَرُلہٰذا میں آپ کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا : تم سُبْحَانَ اللہِ، الْحَمْدُ لِلہِ، اللہُ اَکْبَرُپڑھتے رہو حتی کہ تم ان سب کو تینتیس تینتیس بار مکمل پڑ ھ لو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 749

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 750

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو بِشْرٍ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ سَبَّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، ثُمَّ قَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ لَهُ خَطَايَاهُ، وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ".

''حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جس شخص نے نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس بار اللہ اکبراور تینتیس مرتبہ الحمد اللہ پڑھا تو یہ ننانوے بار ہو گیا ، پھر سو کی گنتی پوری کرنے کےلئے لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شْیْءٍ قَدِیْر(اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ساری بادشاہی اورتمام تعریفیں اسی کےلئے ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے)پڑھا تو اسکے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں اگرچہ وہ سمندر کی چھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ ''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← اَبِیْ عُبَیْدٍ، ← سُهَيْلٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ-، ← أَبُو بِشْرِ: ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 750

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 751

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِيَدِي فَقَالَ لِي: "يَا مُعَاذُ! وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ". فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ. قَالَ: "يَا مُعَاذُ! إِنِّي أُوصِيكَ لَا تَدَعَنَّ أَنْ تَقُولَ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ: اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ". وَأَوْصَى بِذَلِكَ مُعَاذٌ الصُّنَابِحِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ الصُّنَابِحِيُّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، وَأَوْصَى بِهِ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ.

''حضرت معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑکر فرمایا : اے معاذ! اللہ کی قسم ! بے شک مجھے تم سے محبت ہے۔تو میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان۔ اللہ کی قسم ! بلا شبہ مجھے بھی آب ﷺ سے محبت ہے۔ آپ نے فرمایا: اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم ہر نماز کے بعد یہ دعا مانگنا ہر گز نہ چھوڑنا: اللَّہُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکرِکَ وَحُسْنِ عَبَادَتِکَ''الے اللہ ! اپنے ذکر ، اپنے شکر اور اپنی بہترین عباد کرنے کےلئے میری مدد فرما۔''حضرت معاذ ؓ نے (اپنے شاگرد) صنابحی کو اس کی وصیت کی، اور جناب صنابحی نے (اپنے شاگرد) ابو عبدالرحمان حبلی کو اس کی وصیت کی اورابو عبدالرحمان نے عقبہ بن مسلم کو اس کی وصیت کی۔''

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← الصُّنَابِحِیّ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ← عُقْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، ← حَيْوَةُ، ← الْمُقْرِئُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْعَطَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 751

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 752

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نُسَبِّحَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَنُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي نَوْمِهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ. وَاجْعَلُوا فِيهِ التَّهْلِيلَ. فَلَمَّا أَصْبَحَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَافْعَلُوا". هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ. وَقَالَ أَبُو قُدَامَةَ: فَأُتِيَ رَجُلٌ فِي مَنَامِهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرَهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ؟، فَقَالَ: نَعَمْ. وَذَكَرَ بَقِيَّةَ الْحَدِيثِ.

''حضرت زید بن ثابتؓ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار سبحان اللہ ، تینتیس بار الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھنے کا حکم دیا گیا، پھر ایک انصاری شخص کو خواب آیا تو اسے کہا گیا : تمہیں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ تم ہرنماز کے بعد اتنی تنی بار تسبیح پڑھو؟ اس نے کہا: ہاں(خواب میں آنے والے شخص نے) کہا : تم اسے پچیس پچیس بار پڑھا کرو اوراس میں تہلیل (لا الہ الا اللہ)کو شامل کر لو ،پھر جب صبح ہوئی تو وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو تمام بات بتادی ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اسی طرح کر لو۔''

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← الثَّقَفِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 752

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 753

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ -وَهُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ- عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ -وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَحَوَّلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَهَا وَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ، وَكَرِهَ أَنْ يُقَالَ: خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بَرَّةَ- قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي مُصَلَّايَّ فَرَجَعَ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ وَأَنَا فِيهِ، فَقَالَ: "لَمْ تَزَالِي فِي مُصَلَّاكِ مُنْذُ خَرَجْتُ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "قَدْ قُلْتُ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَّ بِمَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ". هَذَا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ حَكِيمٍ. وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ وَجُوَيْرِيَةُ جَالِسَةٌ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَلَمْ يَذْكُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنَ الْكَلَامِ.

''حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جویریہ بنت الحارث ؓ نے بیان کیا کہ ،ان کا نام برہ تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ نام رکھا اور آپ یہ بات ناپسند کرتے تھے کہ کہاجائے۔آپ برہ (نیکی) کے ہاں سے نکلے ہیں۔ وہ فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لےگئےجبکہ میں اپنی نماز گاہ میں (بیٹھی ذکر کر رہی )تھی۔ پھر آپ دن چڑھے واپس تشریف لائے جبکہ میں ابھی تک جائے نماز ہی میں بیٹھی (ذکر کر رہی) تھی ۔ آپ نے پوچھا : جب سے میں گیا ہوں تم (ا س جگہ) تھی۔ اپنی نماز گاہ میں مسلسل بیٹھی ہوئی ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہا ں ۔آپ نے فرمایا : میں نے(تیرے پاس سے جانے کے بعد) صرف چار کلمات تین مرتبہ پڑھے ہیں۔ اگر ان کا وزن تیرے سارے ذکر کے ساتھ کیا جائے تو وہ بھاری ہوں گے۔ (و ہ کلمات یہ ہیں)''سُبْحَانَ اللَّہِ وَبِحَمْدِہِ عَدَدَ خَلْقِہِ وَرِضَا نَفْسِہِ وَزِنَۃَ عَرْشِہِ وَمِدَادَکَلِمَاتِہِ ''میں اللہ تعالی کی پاکی اور حمدوثناء اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر بیان کرتاہوں۔ اور اس کے نفسکی رضا اور خوشنودی کےبرابر، اور اس کے عرش کے وزن کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہ کے برابر۔''یہ یحییٰ بن حکیم کی روایت ہے۔ عبدالجبار کی روایت میں ہے: حضرت ابن عباس ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے تو حضرت جویریہؓ مسجد میں بیٹھی ہوئی تھیں، پھر باقی حدیث بیان ذکر کی ۔ اور اس سے پہلے والا کلام ذکر نہیں کیا۔

-وَكَانَ اسْمُهَا بَرَّةَ، فَحَوَّلَ النَّبِيُّ اسْمَهَا وَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ، وَكَرِهَ ← جُوَيْرِيَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَهُوَ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 753

chevron_left Previous
1…16171819
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals