صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 742
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ:
''جناب عبدہ بن ابی لبابہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مغیرہؓ کے کاتب وراد سے سنا ، وہ فرماتے ہیں : حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسا مسئلہ بیان کریں جو آپ رسول اللہ ﷺ نے سے سنا ہو، تو انہوں نے جواباًٍ فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب نماز مکمل کر لیتے(تو یہ دعا پڑھتے)۔۔۔۔عبدالملک کی روایت میں ہے،وہ کہتے ہیں کہ مین نے وراد کو بیان کرتے ہوئے سنا،جبکہ اسباط اور سفیان وارد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شْیْءٍ قَدِیْرْ اللّٰھُمَّ لَا مَانِعَ لِمَاأَعْطَیْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَامَنَعْتَ وَلَا یَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مَنْکَ الْجَدُّ۔ ''اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔اسکا کوئی شریک نہیں، ساری بادشاہی اور تمام تعریفیں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔اے اللہ جو چیز تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو روک دے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا اور تیرے نزدیک کسی مالدار کو اس کا مال کچھ نفع نہیں دے گا۔''عبدالرحمٰن کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:''حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے مجھے یہ کلمات املا ء کروائے تو میں نے حضرت معاویہ ؓ کولکھ کر ارسال کئے کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ پڑھا کرتے تھے۔''جناب ابو ہاشم کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں:حضرت معاویہؓ نے حضرت مغیرہ ؓ کو خط لکھا کہ مجھےکوئی ایسی چیز لکھ کر ارسال کریں جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو، تو حضرت مغیرہ ؓ نے انہیں جواب میں لکھا: بے شک میں نے آپ کو نماز سے فارغ ہونے پر یہ دعا پڑھتے ہوئے سناہے: لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَعَلیٰ کُلِّ شْیْءٍ قَدِیْر''اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں ساری بادشاہت اور سب تعریفیں اسی کےلئے ہیں اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔آپ یہ کلمات تین بار پڑھتے تھے۔''کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ قیل وقال(بے مقصد گفتگو)بکثرت سوال کرنے ، مال ودولت کو ضائع کعنے،بخل و کنجوسی اور حرص، ماؤں کی نافرمانی اور بچیوں کو زندہ درگور کرنے سے منع فرماتے تھے۔''
سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 742
