Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 670

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، نَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: سَمِعْتُ عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ [83 - أ] بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) [الأعلى: 1] قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ". أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: "لَنَا".

"حضرت عقبہ بن عامرؓ فرماتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی(سَبِّح اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلٰی)"بلند شان والے اپنے رب کے نام کی تسبیح بیان کریں"تو نبی کریمﷺ نے ہمیں فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں پڑھا کرو۔"امام صاحب کے استاد محمد بن عیسیٰ کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند ہی مروی ہے لیکن ان کی روایت میں "لنا" ہمیں فرمایا کے الفا ظ نہیں ہیں۔

عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: "لَنَا". ← عَمِّہٖ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو طَاهِرٍ، ← لَنَا النَّبِيُّ "اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ". ← لَمَّا نَزَلَتْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى) [الأعلى: ← عُقْبَةَ أ] بْنَ عَامِرٍ ← عَمِّي إِيَاسَ بْنَ عَامِرٍ ← مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ زَیْدٍ: ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 670

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 671

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْفِرَاشِ، فَجَعَلْتُ أَطْلُبُهُ بِيَدِي، فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَاطِنِ قَدَمَيْهِ وَهُمَا مُنْتَصِبَتَانِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". هَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ: عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ. وَقَالَ: "لَا أُحْصِي مَدْحَكَ وَلَا ثَنَاءً عَلَيْكَ".

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہﷺ کو بستر سے گم پایا تو میں نے اپنے ہاتھ سے آ پ کو تلاش کرنا شروع کر دیا۔ میرا ہاتھ آپ کے تلوؤں پر پڑا جبکہ آ پ کے دونوں قدم کھڑے تھے، میں نے آپ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا:((اللھُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُبِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَأَعُوْذُ بِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ ، أَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَا أُحْصِیْ ثَنَاءَ عَلَیْکَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ))"اے اللہ میں تیرے غصے اور ناراضگی سے تیری خوشنودی کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تیرے عذاب سے تیری بخشش ومغفرت کی پناہ میں آتا ہوں ، میں تجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں ، میں تیری ثناء کا حق ادا کرنے سے عاجز ہوں ۔ تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی ثنا بیان فرمائی ہے ۔"یہ جنات دورقی کی حدیث ہے ۔ جناب علی بن شعیب نے عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے یہ الفاظ بیان کیے:"میں تیری حمد و ثنا ء کو شمار کرنے سے قاصر ہوں ۔"

عَائِشَةَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← أَبُو أُسَامَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 671

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 672

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: "اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجُلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ".

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ اپنے سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے :((اللھُمَّ اغْفِرْلِی ذَنْبِیْ کُلَّہُ، دِقَّہُ وَجِلَّہُ ، وَأَوَّلَہُ وَاٰخِرَہُ، وَعَلَا نِیَّتَہُ وَسِرَّہُ))"اے اللہ ! میرے چھوٹے اور بڑے ، اگلے اور پچھلے ، علانیہ اور پوشیدہ ، تمام گناہ معاف فرما دے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 672

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 673

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ، فَذَكَرَ بعض الْحَدِيثَ. وَقَالَ: ثُمَّ إِذَا سَجَدَ قَالَ فِي سُجُودِهِ: "اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّي، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلْقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ".

"حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب فرض نماز کےلیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے ۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا : پھر جب آپ نے سجدہ کیا تو اپنے سجدے میں یہ دعا مانگی اللھُمَّ لَکَ سَجَدتُّ، وَبِکَ اٰمَنْتُ وَلَکَ أَسْلَمْتُ، وَأَنْتَ رَبِّیق، سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہُ، وَشَقَّ سَمْعَہُ وَبَصَرَہُ تَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔"اے اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لیے مطیع و فرمانبردار ہوا، اور توہی میرا پروردگار ہے ، میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا: اس کے کان اور آنکھیں بنائیں ، بہت بابرکت ہے اللہ ، بہترین صورت میں پیدا کرنے والا۔"

عَلِيٍّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَعْرَجِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 673

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 674

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: "وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ".

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے( اپنے حجرہ مبارک کا) پردہ ہٹایا جبکہ لوگ حضرت ابوبکر ؓ کے پیچھے نماز ادا کر رہے تھے ۔ تو آپ نے فرمایا: رہے سجدے تو تو ان میں خوب محنت وکوشش کے ساتھ دعا کیا کرو تو یہ زیادہ لائق ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔"

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ سُحَيْمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 674

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 675

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: نَا بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ، نَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَسْجُدَ بَسَطَ ثَوْبَهُ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَسَجَدَ عَلَيْهِ. وَقَالَ الصَّنْعَانِيُّ: فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ (1) بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم شدید گرمی میں رسول اللہﷺ کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ، تو جب ہم میں سے کوئی شخص سجدہ کرنے کا ارادہ کرتا تو وہ اپنا کپڑا شدید گرمی کی وجہ سے بچھا لیتا اور اس پر سجدہ کرلیتا۔"اور صنعانی کی روایت میں ہے : لہٰذا جب ہم میں سے کوئی شخص زمین پر اپنا چہرہ نہ جما سکتا تو وہ اپنا بچھا کر اس پر سجدہ کر لیتا ۔"

أَنَسٍ، ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← غَالِبٌ الْقَطَّانُ ← بِشْرُ بْنُ مُفَضَّلٍ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 675

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 676

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ صَامِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي مَسْجِدِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ مُلْتَفٌّ بِهِ، يَضَعُ يَدَيْهِ، يَقِيهِ الْكِسَاءُ بَرَدَ الْحَصَى.

"حضرت عبدالرحمان بن ثابت بن صامت اپنے والد بزرگوار اور ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے بنی عبدالاشھل کی مسجد میں نماز پڑھی ، آپ پر ایک چادر تھی جس میں آپ لپٹے ہوئے تھے، آپ اپنے ہاتھ اس کے اوپر رکھتے ، یہ چادر آپ کو کنکریوں کی ٹھنڈک سے محفوظ کرتی تھی۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ صَامِتٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 676

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 677

وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ السُّلَمِيُّ، نَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكِتَّانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحٍ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [83 - ب] قَالَ: أَنَا أَعْلَمُكُمُ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالُوا: مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلَا أَطْوَلَنَا لَهُ تَبَاعَةً. قَالَ: بَلَى. قَالُوا: فَاعْرِضْ. قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَاعْتَدَلَ قَائِمًا حَتَّى يَقَرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ وَيُكَبِّرُ وَيَرْكَعُ،

"جناب محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں حضرت ابو حمید ساعدی ؓ کو سنا ، وہ فرماتے ہیں : میں رسول اللہﷺ کی نماز کو تم سب سے زیادہ جانتا ہوں ۔ انہوں نے کہا: نہ تو رسول اللہﷺ کے ساتھ تمہاری رفاقت ہم سے پرانی ہے اور نہ تم آپ کی اقتدا ء اور پیروی میں ہم سے زیادہ ہو۔ وہ فرماتے ہیں ہیں: کیوں نہیں ( میں تم سے زیادہ رسول اللہﷺ کی نماز کو جانتا ہوں) انہوں نے کہا: ( اگر یہ بات ہے ) تو پھر پیش کرو( آپ کی نماز بیان کرو) وہ فرماتے ہیں :"رسول اللہﷺ جب نماز کےلیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کندھوں کے برابر اٹھاتے تھے پھر اللہ اکبر کہتے ۔ پھر آپ بالکل سیدھے کھڑے ہوجاتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر سکون کر جاتی ۔ پھر آپ قراءت کرےت ، پھر دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے ، اپنے سر کو نہ اٹھا کر رکھتے اور نہ زیادہ جھکا تے ( بلکہ درمیانی حالت میں برابر رکھتے) پھر آپ سمع اللہ لمن حمدہکہتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پورے اعتدال کے ساتھ اپنے دونوں کندھوں تک اٹھاتے ۔ حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ قرار پالیتی ۔ پھر آپ اللہ اکبر کہتے اور سجدہ کرتے تو اپنے دونوں بازوؤں کو دونوں پہلوؤں سے دو ر رکتھے ، پھر آپ(سجدے سے ) سر اٹھاتے تو اپنا بایاں پاؤں موڑ کر اس پر بیٹھ جاتے اور دائیں پاؤں کی انگلیاں کھول کر رکھتے ۔ پھر آپ کھڑے ہوتے تو دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے ، پھر آپ دو رکعت ( کے تشہد ) سے اٹھتے تو اسی طرح کرتے جیسے شروع کرتے وقت کیا تھا (یعنی اللہ اکبر کہہ کر کندھوں کے برابر ہاتھ اٹھاتے ۔)"

فَاعْرِضْ. ← بَلٰی ← مَا كُنْتَ أَقْدَمَنَا لَهُ صُحْبَةً وَلَا أَطْوَلَنَا لَهُ تَبَاعَةً. ← أعلمكم بصلاة رسول الله ← أَبَا حُمَيْدٍ السَّاعِدِيَّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ب] ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، ← عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْمِسْمَعِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← محمد بن الفضل بن محمد بن إسحاق بن خزيمة ← أَبُو طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ الْكِتَّانِيُّ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ السُّلَمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 677

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 678

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو كريب و عبد الله بن سعيد الأشج قالا انا أبو خالد حدثنا هارون بن إسحاق حدثنا ابن فضيل ح وحدثنا سلم بن جنادة نا وكيع عن سفيان كلهم عن يحيى بن سعيد قال : سمعت القاسم بن محمد يقول حدثنا عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه عبد الله بن عمر قال : إن من السنة في الصلاة أن تضجع رجلك اليسرى وتنصب اليمنى إذا جلست في الصلاة هذا حديث ابن فضيل وقال الآخرون : عن القاسم بن محمد عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه

"حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں کہ بے شک نماز میں سنت طریقہ یہ ہے کہ جب تم نماز میں بیٹھو تو اپنے بائیں پاؤں کو لٹا لو اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لو۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الْآخَرُونَ ← تنصب اليمنى إذا جلست في الصلاة هذا حديث ابن فضيل ← إن من السنة في الصلاة أن تضجع رجلك اليسرى ← أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ كُلُّهُمْ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← أبو كريب و عبد الله بن سعيد الأشج ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 678

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 679

أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا سعيد بن عبد الرحمن المخزومي نا سفيان عن يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن عبد الله بن عبد الله بن عمر عن أبيه قال : من سنة الصلاة أن تضجع رجلك اليسرى وتنصب اليمنى قال : وكان النبي إذا جلس في الصلاة أضجع اليسرى ونصب اليمنى قال أبو بكر : هذه الزيادة التي في خبر ابن عيينة لا أحسبها محفوظة - أعني قوله : وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا جلس في الصلاة أضجع اليسرى ونصب اليمنى باب إباحة الإقعاء على القدمين بين السجدتين وهذا من جنس اختلاف المباح فجائز أن يقعي المصلي على القدمين بين السجدتين وجائز أن يفترش اليسرى وينصب اليمنى

"حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے مسنون طریقے میں سے یہ ہے کہ تم اپنے بائیں پاؤں کو بچھا لو اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھو اور فرمایا : نبی کریمﷺ جب نماز میں بیٹھے تھے تو آپ اپنے بائیں پاؤں کو لٹا لیتے تھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا رکھتے تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں :"امام ابن عیینہ کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ میرے خیال میں ثابت نہیں کہ: "نبی کریمﷺجب نماز میں بیٹھتے تھے تو آپ اپنا بایاں پاؤں لٹا لیتے تھے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھتے تھے۔"

وكان النبي إذا جلس في الصلاة أضجع اليسرى ونصب اليمنى ← «مِنْ سُنَّةِ الصَّلَاةِ أَنْ تُضْجِعَ رِجْلَكَ الْيُسْرَى، وَتَنْصِبَ الْيُمْنَى»، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 679

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 680

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا، يَقُولُ: قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ؟ فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ. فَقُلْنَا: إِنَّا لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجُلِ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

"جناب طاؤس ؒ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے حضرت بن عباسؓ سے اقعاء کرتے ہوئے دونوں قدموں پر بیٹھنے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ سنت ہے ۔ ہم نے عرض کی : ہم تو اسے پاؤں پر ظلم وستم خیال کرتے ہیں۔ تو انہوں نے فرمایا: بلکہ یہ تو تمہارے نبی ﷺ کی سنت ہے ۔"

لَنَرَاهُ جَفَاءً بِالرِّجُلِ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ سُنَّةُ نَبِيِّكَ ← قُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْإِقْعَاءِ عَلَى الْقَدَمَيْنِ؟ فَقَالَ: هِيَ السُّنَّةُ. فَقُلْنَا: ← طَاوُسًا ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 680

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 681

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، نَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَنْ رَافَا (1) ... رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ إِذَا سَجَدَ الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ (2) سَاعِدٍ قَالَ: جَلَسْتُ بِسُوقِ الْمَدِينَةِ فِي الضُّحَى مَعَ أَبِي أُسَيْدٍ مَالِكِ بْنِ رَبِيعَةَ وَمَعَ أَبِي حُمَيْدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا مِنْ رَهْطِهِ مِنْ بَنِي سَاعِدَةَ، وَمَعَ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ وَأَنَا أَسْمَعُ: أَنَا أَعْلَمُ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكُمَا، كُلٌّ يَقُولُهَا لِصَاحِبِهِ، فَقَالُوا لِأَحَدِهِمْ: فَقُمْ فَصَلِّ بِنَا حَتَّى نَنْظُرَ أَتُصِيبُ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ لَا؟ فَقَامَ أَحَدُهُمَا فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، ثُمَّ كَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ بَعْضَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَثْبَتَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، حَتَّى اطْمَأَنَّ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاعْتَدَلَ حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ وَقَعَ سَاجِدًا عَلَى جَبِينِهِ وَرَاحَتَيْهِ [84 - أ] وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ رَاجِلًا بِيَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ مَا تَحْتَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ ثَبَتَ حَتَّى اطْمَأَنَّ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَاعْتَدَلَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَصَدْرِ قَدَمَيْهِ. حَتَّى رَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ مِنْهُ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ عَادَ لِمِثْلِ ذَلِكَ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أُخْرَى مِثْلَهَا، قَالَ: ثُمَّ سَلَّمَ. فَأَقْبَلَ عَلَى صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُمَا: كَيْفَ رَأَيْتُمَا؟ فَقَالَا لَهُ: أَصَبْتَ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي.

"جناب ابن اسحاق ؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے عباس بن سہل نے رسول اللہﷺ کی نماز کے بارے میں بیان کیا۔ جب عباس بن سہل بن سعد بن مالک بن ساعد نے سجدہ کیا ( یعنی نماز پڑھی) تو فرمایا: میں چاشت کے وقت مدینہ منورہ کے بازار میں حضرت ابو حمید اور یہ دونوں نبی ساعدہ قبیلہ سے ہیں ، اور حضرت ابو قتادہ حارث بن ربعی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا اور میں سن رہا تھا۔ میں تم دونوں سے زیادہ رسول اللہﷺ کی نماز کو جانتا ہوں۔ ہر ایک ساتھی سے یہی کہہ رہا تھا۔ تو انہوں نے ایک ساتھی سے کہا: تو کھڑے ہو کر ہمیں نماز پڑھا ئے تاکہ ہم دیکھیں کہ آپ رسول اللہﷺ کی نماز درست طریقے سے ادا کرتے ہیں یا نہیں؟ تو ان میں سے ایک کھڑا ہوا تو اس نے قبلہ رخ ہو کر اللہ اکبر کہا پھر قرآن مجید کا کچھ حصہ پڑھا ، پھر رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر خوب جما کر رکھا ۔ حتی کہ ان کی ہڈی پر سکون ہوگئی پھر انہوں نے ( رکوع سے) سر اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہوگئے حتی کہ ان کی ہر ہڈی اپنی جگہ لوٹ گئی۔ پھر کہا سمع اللہ لمن حمدہپھر وہ اپنی پیشانی ، دونوں ہتھیلیوں ، اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے اگلے حصے کے بل پر سجدہ ریز ہوگئے ، انہوں نے دونوں بازؤں کو پہلوؤں سے الگ رکھا حتی کہ میں نے ان کے کندھوں کے نیچے ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی ، پھر انہوں نے سکون سے سجدہ کیا حتی کہ ان کی ہڈی مطمئن ہوگئی پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو اپنی دونوں ایڑیوں اور دو قدموں کے پنجوں پر سیدھے بیٹھ گئے ، یہاں تک ان کی ہر ہڈی اپنی جگہ میں لوٹ گئی، پھر انہوں نے دوبارہ اسی طرح کیا، پھر انہوں نے کھڑے ہو کر اسی طرح دوسری رکعت پڑھی ، پھر سلام پھیر دیا، پھر وہ دونوں ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے تو ان دونو ں سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے ؟ تو ان دونوں نے کہا: تم نے رسول اللہﷺ کی نماز درست طریقے سے ادا کی ہے ، آپ اسی طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔"

رَافَا رَسُولِ اللَّهِ فِي صَلَاتِهِ إِذَا سَجَدَ الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ سَاعِدٍ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ -وَكَتَبْتُهُ مِنْ أَصْلِهِ- ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 681

chevron_left Previous
1…101112…19
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals