Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 349

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ، إِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ، إِنَّهَا صَلَاةُ الْعِشَاءِ".

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا :"اعرابی تمہاری نماز کے نام کے بارے میں تم پر ہر گز غالب نہ آجائیں ، بے شک وہ اونٹوں پر ( دودھ دوہنے کی وجہ سے ) دیر کیا کرتے تھے( اس لیے عشاء کو عتمہ کہتے تھے) بے شک وہ نماز عشاء ہے ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 349

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 350

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ. قَالَ أَحْمَدُ: أَخْبَرَنَا. وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنَّ -نِسَاءُ الْمُؤْمِنَاتِ- يُصَلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَخْرُجْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ مَا يُعْرَفْنَ. زَادَ أَحْمَدُ: ثُمَّ ذَكَرَ الْغَلَسَ.

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ مومن عورتیں رسول اللہﷺ کے ساتھ صبح کی نماز ادا کرتی تھیں پھر وہ اپنی چادروں میں لپٹی واپس نکلتی تھیں کہ انہیں پہچانا نہیں جاتا تھا۔"احمد کی روایت میں یہ اضافہ ہے : " پھر انہوں نے اندھیرے کا ذکر کیا"( کہ اندھیرے کی وجہ سے وہ پہچانی نہیں جاتی تھیں۔)"

عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَالْمَخْزُومِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ. ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 350

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 351

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَزَا خَيْبَرَ، قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ.

"حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے غزوہ خیبر کیا ۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں : تو ہم نے اس کے قریب صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی ۔"

أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 351

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 352

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا. فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقْتِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ. فَقَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ"، وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ، وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ [أَنْ] تَدْخُلَهَا

"حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ منبر پر تشریف فرما تھے تو انہوں نے نماز کچھ موخر کردی ۔ تو حضرت عروہ بن زبیر نے فرمایا: بے شک جبرائیل ؑ نے محمد ﷺ کو نماز کے وقت کے متعلق بیان فرمایا ہے ۔ تو حضرت عمر نے کہا: خوب سمجھ لو تم کیا کہہ رہے ہو۔ تو حضرت عروہ نے کہا: میں نے بشیر بن ابی مسعود کو سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے ابو مسعود انصاری ؓ کو فرماتے سنا ، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جبرائیل ؑ نازل ہوئے تو انہوں نے مجھے نماز کے وقت کی خبر دی ، تو میں نے ان کے ساتھ نماز اد ا کی ، پھر میں نے اس کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی ، تو انہوں نے پانچ نمازیں اپنی انگلیوں پر شمار کیں ۔ اور میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز سورج ڈھلنے پر ادا کی اور بسا اووقات اسے موخر کیا جبکہ گرم شدید ہوجاتی ۔ اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آ پ نے نماز عصر ادا کی جبکہ سورج بلند اور سفید تھا، اس سے پہلے کہ وہ زرد ہوتا ۔ تو ایک شخص نماز سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے ذوالحلیفہ آجاتا ۔ اور آپ نماز مغرب ، غروب آفتاب کے وقت ادا کرتے ، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے جب افق سیاہ ہو جاتا ہے ، اور بعض اوقات لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کردیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز کو اندھیرے میں لوگوں کے جمع ہونے تک اسے موخر کر دیتے ۔ ایک مرتبہ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی ، پھر دوسری مرتبہ اسے روشنی میں پڑھا ، پھر اس کے بعد آ پ کی نماز اندھیرے ہی میں ہوتی تھی حتی کہ آپﷺ وفات پاگئے ۔ پھر آپ نے کبھی روشنی میں نماز ادا نہیں کی۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : روایت میں یہ اضافہ صرف اسامہ بن زید راوی بیان کیا ہے ۔ اس پوری حدیث میں دلیل ہے کہ شفق سے مراد سفیدی ہے سرخی نہیں ۔ کیونکہ حدیث میں ہے : " اور آپ عشاء کی نماز اس وقت ادا کرتے جب افق سیاہ ہوجاتا ۔" اور افق سیاہ اس وقت ہوتا ہے جب سرخی کے ختم ہونے کے بعد ظاہر ہونے والی سفیدی غائب ہوجائے ۔ کیونکہ سرخی جب ختم ہوتی ہے تو سفیدی اس کے بعد باقی رہتی ہے پھر سفیدی غائب ہوتی ہے تو افق سیاہ ہوتا ہے ۔ اور حضرت جابر بن عبداللہ بن ؓ کی روایت میں ہے : " پھر بلال ؓ نے دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے نما زکی اقامت کہی ، پھر آپ نے نماز پڑھائی ۔"

«نَزَلَ جِبْرِيلُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا بِوَقْتِ الصَّلَاةِ، ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 352

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 353

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن يحيى و أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي : قالا حدثنا عمرو بن أبي سلمة نا صدقة بن عبد الله الدمشقي عن أبي وهب - وهو عبيد الله بن عبيد الكلاعي - عن سليمان بن موسى عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله : أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فسأله عن وقت الصلاة فذكر الحديث بطوله في مواقيت الصلاة في اليومين والليلتين وقال في الليلة الأولى : ثم أذن بلال العشاء حين ذهب بياض النهار وأمره النبي صلى الله عليه وسلم فأقام الصلاة فصلى وقال في الليلة الثانية : ثم أذن بلال العشاء حين ذهب بياض النهار فأخرها النبي صلى الله عليه وسلم فنمنا ثم نمنا مرارا ثم خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : إن الناس قد صلوا ورقدوا وإنكم لم تزالوا في صلاة منذ انتظرتم الصلاة ثم ذكر الحديث بطوله

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے نماز کے وقت کے متعلق پوچھا ۔ پھر انہوں نے دو دن اور دو راتوں میں اوقات نماز کے متعلق مکمل حدیث بیان کی۔ اور پہلی رات میں فرمایا: پھر حضرت بلالؓ دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی، اور نبی اکرمﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے نماز کی اقامت کہی ، تو آپ نے نماز پڑھائی اور دوسری رات کے متعلق فرمایا: پھر حضرت بلال ؓ نے دن کی سفیدی ختم ہونے پر عشاء کی اذان کہی ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے موخر کر دیا ، تو ہم سو گئے ، پھر ہم کوئی بار سوئے ۔ پھر رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا: بے شک لوگ نماز پڑھ کر سوچکے ہویں اور بے شک تم اس وقت سے مسلسل نماز ہی میں ہو جب سے تم اس کا انتظار کر رہے ہو ۔پھر پوری حدیث بیان کی۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← أبي وهب وهو عبيد الله بن عبيد الكلاعي ← صدقة بن عبد الله الدمشقي ← عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ← محمد بن يحيى و أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم البرقي ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 353

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 354

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا عمار بن خالد الواسطي نا محمد - وهو ابن يزيد وهو الواسطي - عن شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : وقت الظهر إلى العصر ووقت العصر إلى اصفرار الشمس ووقت المغرب إلى أن تذهب حمرة الشفق ووقت العشاء إلى نصف الليل ووقت صلاة الصبح إلى طلوع الشمس قال أبو بكر : فلو صحت هذه اللفظة في هذا الخبر لكان في هذا الخبر أن الشفق الحمرة إلا أن هذه اللفظة تفرد بها محمد بن يزيد إن كانت حفظت عنه وإنما قال أصحاب شعبة في هذا الخبر : ثور الشفق مكان ما قال محمد بن يزيد حمرة : الشفق أحبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار و أبو موسى قالا : حدثنا محمد - وهو ابن جعفر - نا شعبة قال : سمعت قتادة قال : سمعت أبا أيوب الأزدي عن عبد الله بن عمر فذكر الحديث وقالا في الخبر : ووقت المغرب ما لم يسقط ثور الشفق ولم يرفعاه

"حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نماز ظہر کا وقت نماز عصر تک رہتا ہے ۔ اور نماز عصر کا وقت سورج زرد ہونے تک باقی رہتا ہے ، اور نماز مغر ب کا وقت شفق کی سرخی ختم ہونے تک رہتا ہے ۔ اور عشاء کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے ۔ اور نماز صبح کا وقت طلوع آفتاب تک رہتا ہے ۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اگر اس حدیث میں یہ الفاظ ( حمرۃ الشفق ) صیح ثابت ہوں تو اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ شفق سے مراد سرخی ہے ( سفیدی نہیں) مگر ان الفاظ کو صرف محمد بن یزید نے بیان کیا ہے کہ اگر یہ اس سے یاد رکھے گئے ہوں ۔ جبکہ امام شعبہ کے شاگردوں نے اس حدیث میں محمد بن یزید کے قول ، ( شفق کی تیزی اور اس کا پھیلاؤ کو) روایت کیا ہے ۔ دونوں نے نے اس روایت میں کہا: "اور مغرب کا وقت شفق کی تیزی ختم ہونے تک ہے " انہوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا۔"

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← محمد وهو ابن يزيد وهو الواسطي ← عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 354

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 355

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن لبيد أخبرني عقبة قال حدثنا أبو داود نا شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال شعبة : رفعه مرة وقال بندار بمثل حديث الأول ورواه أيضا هشام الدستوائي عن قتادة و رفعه قد أمليته قبل وقال : إلى أن يغيب الشفق ولم يقل : ثور ولا حمرة ورواه أيضا سعيد بن أبي عروبة ولم يرفعه ولم يذكر الحمرة وكذلك رواه ابن أبي عدي عن شعبة موقوفا ولم يذكر الحمرة عن شعبة أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر قال ثنا بهما أبو موسى نا ابن أبي عدي عن شعبة ح وحدثنا أيضا أبو موسى نا ابن أبي عدي عن سعيد كليهما عن قتادة فهذا الحديث موقوفا ليس فيه ذكر الحمرة قال أبو بكر : والواجب في النظر إذا لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الشفق هو الحمرة وثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أن أول وقت العشاء إذا غاب الشفق أن لا يصلي العشاء حتى يذهب بياض الأفق لأن ما يكون معدوما فهو معدوم حتى يعدم كونه بيقين فما لم يعلم بيقين أن وقت الصلاة قد دخل لم تجب الصلاة ولم يجز أن يؤدي الفرض قد وجب فإذا غابت الحمرة والبياض قائم لم يغب فدخول وقت صلاة العشاء شك لا يقين لأن العلماء قد اختلفوا في الشفق قال بعضهم : الحمرة وقال بعضهم : البياض ولم يثبت علميا عن النبي صلى الله عليه وسلم أن الشفق الحمرة وما يتفق المسلمون عليه فغير واجب فرض الصلاة إلا أن يوجب الله أو رسوله أو المسلمون في وقت فإذا كان البياض قائما في الأفق وقد اختلف العلماء بإيجاب فرض صلاة العشاء ولم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم خبر إيجاب فرض الصلاة في ذلك الوقت فإذا ذهب بياض واسود فقد اتفق العلماء على إيجاب فرض صلاة العشاء فجائز في ذلك الوقت أداء فرض تلك الصلاة والله أعلم بصحة هذه اللفظة التي ذكرت في حديث عبد الله بن عمرو

"امام صاحب نے محمد بن لبید کی سند سے روایت بیان کی ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں : قتادہ نے ایک بار اسے مرفوع بیان کیا ہے ۔ جبکہ بندار نے مذکورہ بالا حدیث ہی کی طرح بیان کیا ہے ۔ اس روایت کو سعید بن ابی عروبہ نے بھی بیان کیا ہے مگر انہوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا اور نہ سرخی کا ذکر کیا ہے ۔ اسی طرح ابی عدی نے اسے شعبہ سے موقوف روایت کیا ہے ، انہوں نے شعبہ سے سرخی کے متعلق بیان نہیں کیا ۔ امام صاحب قتادہ کی ایک اور سند بیان کرتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں: لہٰذا یہ حدیث موقوف ہے اس سرخی کا ذکر نہیں ہے ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ دیکھا جانا چاہیے ( غوروفکر کرنا چاہئے) کہ جب نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں کہ شفق سرخی ہے اور نبی اکرمﷺ سے یہ ثابت ہے کہ عشاء کا اول وقت شفق غائب ہونے پر ہے ، تو عشاء کی نماز افق کی سفیدی ختم ہونے تک ادا نہ کی جائے کیونکہ جو چیز معدوم ہو وہ معدوم ہی ہے حتی کہ اس کا ہونا یقینی ہوجائے ۔ لہٰذا جب تک یقیناً معلوم نہ ہوجائے کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے اس وقت تک نماز واجب نہیں ہوتی ۔ فرض کی ادائیگی اس کے واجب ہونے کے یقین تک جائز نہیں ہے ۔ ا س لیے کہ جب سرخی غائب ہو جائے اور سفیدی باقی ہو تو عشاء کے وقت کا ہونا یقینی نہیں بلکہ مشکوک ہے ۔ کیونکہ علماء نے شفق کے متعلق اختلاف کیا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد سرخی ہے جبکہ بعض کے نزدیک سفیدی ہے ۔ اور نبی ﷺ کی نشاندہی سے ثابت نہیں کہ شفق سے مراد سرخی ہے ۔ اور جو وقت نبی اکرمﷺ سے ثابت نہیں اور نہ اس پر مسلمان متفق ہیں تو اس وقت میں نماز ادا کرنا واجب نہیں ہے ۔ مگر یہ کہ اسے اللہ تعالیٰ یا اس کے رسول یا مسلمان کسی وقت میں واجب کردیں۔ ( تو ادا کی جاسکتی ہے ) چنانچہ جب سفیدی افق میں موجود ہو اور علماء نے ( اس وقت ) نماز عشاء کے واجب ہونے پر اختلاف کیا ہے اور نبی اکرمﷺ سے اس وقت میں نماز کے واجب ہونے پر کوئی دلیل ثابت نہیں ہے ( تو اس وقت نماز ادا نہیں کرنی چاہیے ) اس لیے جب سفیدی ختم ہوجائے اور سیاہی چھا جائے تو علماء نے اس وقت نماز کے واجب ہونے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا اس وقت نماز عشاء کو ادا کرنا جائز ہو گا ۔ واللہ اعلم ۔ بشرطیکہ حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث میں موجود الفاظ صیح ثابت ہوں۔"

إِلَيَّ- ← قتادة و رفعه قد أمليته قبل ← بندار بمثل حديث الأول ورواه أيضا هشام الدستوائي ← شعبة رفعه مرة ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← عُقْبَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ لَبِيدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 355

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 356

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، نَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْفَجْرُ فَجْرَانِ: فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَفَجَرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ، وَيَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ الْفَرْضِ لَا يَجُوزُ أَدَاؤُهَا قَبْلَ دُخُولِ وَقْتِهَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: "فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ عَلَى الصَّائِمِ؛ "وَيَحِلُّ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ: صَلَاةَ الصُّبْحِ. وَ"فَجْرٌ يَحْرُمُ فِيهِ الصَّلَاةُ"، يُرِيدُ صَلَاةَ الصُّبْحِ، إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ الْأَوَّلُ لَمْ يَحِلَّ أَنْ يُصَلَّيَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ صَلَاةَ الصُّبْحِ. لِأَنَّ الْفَجْرَ الْأَوَّلَ يَكُونُ بِاللَّيْلِ، وَلَمْ يَرِدْ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ أَنْ يُتَطَوَّعَ بِالصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ. وَقَوْلُهُ: وَ"يَحِلُّ فِيهِ الطَّعَامُ"، يُرِيدُ لِمَنْ يُرِيدُ الصِّيَامَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: [لَمْ] (1) يَرْفَعْهُ فِي الدُّنْيَا غَيْرُ أَبِي أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيِّ.

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: فجر دو قسم کی ہے ، ایک فجر وہ ہے کہ ( روزے دار کےلیے ) اس میں کھانا کھانا حرام ہو جاتا ہے اور نماز ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔ ایک وہ فجر ہے کہ اس میں نماز فجر ادا کرنا حرام ہوتا ہے جبکہ کھانا کھانا حلال ہوتا ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ فرض نماز اس کے وقت ہونے سے قبل ادا کرنا جائز نہیں ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : آپ کا فرمان :"ایک فجر وہ ہے کہ اس میں کھانا کھانا حرام ہوتا ہے " آپ کی مراد روزہ دار ہے ۔"اور اس میں نماز کا ادا کرنا حلال ہوتا ہے ۔" آپ کی مراد نماز فجر ہے اور ایک فجر وہ ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہوتا ہے ۔ آپ کی مراد نماز فجر ہے ۔ کیونکہ جب فجر اول طلوع ہوتی ہے تو اس وقت نماز فجر ادا کرنا چائز نہیں کیونکہ فجر اول رات کے وقت طلوع ہوتی ہے ۔ آپ کا مقصد یہ نہیں کہ اس وقت نفلی حلال ہوتا ہے ۔ "آپ کی مراد وہ شخص ہے جو روزہ رکھنا چاہتا ہو تو وہ کھانا کھا سکتا ہے ۔ امام ابوبکر کہتے ہیں : اس روایت کو دنیا میں ابو احمد زبیری کے سوا کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحْرِزٍ -أَصْلُهُ بَغْدَادِيٌّ- بِالْفُسْطَاطِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 356

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 357

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بك ر نا أبو موسى محمد بن المثنى حدثني الضحاك بن مخلد أخبرنا سفيان حدثني عبد الله بن أبي بكر عن سعيد بن المسيب عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ألا أدلكم على ما يكفر الله به الخطايا ويزيد في الحسنات ؟ قالوا : بلى يا رسول الله قال : إسباغ الوضوء في المكاره وانتظار الصلاة بعد الصلاة ما منكم من رجل يخرج من بيته فيصلي مع الإمام ثم يجلس ينتظر الصلاة الأخرى إلا والملائكة تقول : اللهم اغفر له اللهم ارحمه ثم ذكر الحديث قال أبو بكر : لم يرو هذا الحديث إلا أبو عاصم

"حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتاؤں جس سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں اور نیکیوں میں اضافہ کرتے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ! ( ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا : مشقت اور مشکل کے باوجود مکمل وضو کرنا ، اورنماز کے بعد ( دوسری ) نماز کا انتظار کرنا ، تم میں سے جو شخص بھی گھر سے نکلتا ہے تو امام کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے پھر بیٹھ کر دوسری نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے ، اے اللہ اس پر رحم فرما ۔"پھر باقی حدیث بیان کی ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : اسے صرف ابو عاصم نے بیان کیا ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← سُفْيَانَ، ← الضحاك بن مخلد ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أبو بك ر ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 357

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 358

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار نا يحيى أخبرنا عبيد الله بن عمر حدثني خبيب بن عبد الرحمن عن حفص بن عاصم عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : سبعة يظلهم الله في ظله يوم لا ظل إلا ظله الإمام العادل وشاب نشأ في عبادة الله ورجل قلبه معلق في المساجد ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل طلبته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله ورجل تصدق بصدقة أخفاها لا تعلم يمينه ما تنفق شماله ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه قال لنا بندار مرة : امرأة ذات حسب وجمال فقال إني قال أبو بكر : هذه اللفظة لا تعلم يمينه ما تنفق شماله قد خولف فيها يحيى بن سعيد فقال من روى هذا الخبر غير يحيى : لا يعلم شماله ما ينفق يمينه

"حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: سات قسم کے افراد کو اللہ تعالیٰ اپنے سائے تلے جگہ عطا فرمائے گا جس روز اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عدل و انصاف کرنے والا حکمران ، اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نشوونما پانے والا نوجوان ، وہ شخص جس کا دل مساجد میں اٹکا رہتا ہے ۔ وہ دو آدمی جو اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کےلیے باہم محبت کرتے ہیں، اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اس پر جدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ آدمی جسے بلند مرتبہ خوبصورت عورت ( برائی کےلیے ) بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ اور وہ شخص جو صدقہ کرتا ہے تو اسے پوشیدہ رکھتا ہے حتی کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں چلتا کہ بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ اور وہ شخص جو تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کے آنسو نکل جاتے ہیں۔" ہمیں بندار نے ایک مرتبہ اس طرح روایت بیان کی کہ : حسب والی اور خوبصورت عورت اسے بلاتی ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ بیان کہ اس کا دایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے بائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔ اس میں یحییٰ بن سعید کی مخالفت کی گئی ہے ۔ یحییٰ کے علاوہ اس روایت کو بیان کرنے والے راوی نے یوں کہا ہے : "اس کا بایاں ہاتھ نہیں جانتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 358

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 359

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ كَانَ يُوَطِّنُ الْمَسَاجِدَ فَشَغَلَهُ أَمْرٌ أَوْ عِلَّةٌ، ثُمَّ عَادَ إِلَى مَا كَانَ، إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ إِلَيْهِ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ [53 - ب] الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ".

"حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جو شخص بھی مساجد کو اپنا ٹھکانا بنا لیتا ہے پھر اس کو کوئی کام یا بیماری مشغول کر دیتی ہے ۔ پھر وہ اپنی سابقہ حالت پر واپس آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ا س کی طرف اس طرح خوشی کا اظہار فرماتے ہیں جس طرح غائب ہونے والے کے گھر والے غائب ہونے والے کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 359

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 360

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ [لَهُ] اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، مَا لَمْ يَنْصَرِفْ أَوْ يُحْدِثْ". قَالُوا: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّ ذِكْرَهُمَا لِعِلَّةٍ، لِأَنَّهُمَا، وَكُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ يَنْقُضُ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ. وَكُلَّ مَا نَقَضَ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ مِنَ الْأَحْدَاثِ كُلِّهَا فَحُكْمُهُ حُكْمُ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَجَبْتُ بَعْضَ أَصْحَابِنَا أَنَّهُ مِنَ الْخَبَرِ الْمُعَلَّلِ الَّذِي يَجُوزُ أَنْ يُشَبَّهَ بِهِ مَا هُوَ مِثْلُهُ فِي الْحُكْمِ. وَلَوْ كَانَ التَّشْبِيهُ وَالتَّمْثِيلُ لَا يَجُوزُ عَلَى أَخْبَارِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، عَلَى مَا تَوَهَّمَ بَعْضُ مَنْ خَالَفَنَا، لَكَانَ الْبَائِلُ فِي كُوزٍ أَوْ قَارُورَةٍ، وَالْمُتَغَوِّطُ فِي طَشْتٍ أَوْ أُجَانَةٍ إِذَا جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، كَانَ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي. وَالْمُحْدِثُ إِذَا خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَجْرُ الْمُصَلِّي، وَإِنْ جَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ خُرُوجِ الرِّيحِ مِنْهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ. وَمَنْ فَهِمَ الْعِلْمَ وَعَقَلَهُ، وَلَمْ يُعَانِدْ وَلَمْ يُكَابِرْ عَقْلَهُ، عَلِمَ أَنَّ قَوْلَهُ: "يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ، إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ الْفِسَا وَالضِّرَاطَ يَنْقُضَانِ طُهْرَ الْمُتَوَضِّئِ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يَجْعَلْ لِمُنْتَظِرِ الصَّلَاةِ بَعْدَ هَذَيْنِ الْحَدَثَيْنِ فَضِيلَةَ الْمُصَلِّي، لِأَنَّهُ غَيْرُ مُتَوَضِّئِ. فَكُلُّ مُنْتَظِرٍ الصَّلَاةَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُ طَاهِرٍ طَهَارَةً تُجْزِيهِ الصَّلَاةُ مَعَهَا، فَحُكْمُهُ حُكْمُ مَنْ خَرَجَتْ مِنْهُ رِيحٌ نَقَضَتْ عَلَيْهِ الطَّهَارَةَ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ

"حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: بندہ مسلسل نماز ہی میں رہتا ہے جب تک وہ اپنی جائے نماز پر (بیٹھا ) نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے فرشتے اس کےلیے دعا کرتے ہیں: اے اللہ ! اسے معاف فرما دے ، اے اللہ! اس پر رحم فرما، جب تک وہ ( اسی جگہ سے) لوٹ نہیں جاتا یا حدث نہیں کرتا ۔"شاگردوں نے عرض کی: حدث کیا ہے ؟ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: بے آواز یا باآواز ہوا خارج کرنا۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : اور یہ الفاظ بے آواز یا باآواز ہوا خارج کر دے ، اس جنس سے ہیں جو کہتی ہے کہ ان دونوں کا ذکر کسی سبب سے کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ دونوں اور ان میں سے ہر ایک منفرد طور پر باوضو شخص کی طہارت کو توڑ دیتا ہے ۔ اور باوضو شخص کے وضو کو توڑنے والے تمام احداث کا حکم ان دو حدثوں کے حکم جیسا ہے اور یہ اسی جنس سے ہے جس کا میں نے اپنے بعض اصحابہ کو جواب دیا ہے کہ بعض معلل روایات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کے ساتھ دوسری اس جیسی روایات کو تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ دی جاسکے ۔ اور اگر نبی اکرم ﷺ کی احادیث میں تشبیہ وتمثیل جائز نہ ہوتی جیسا کہ ہمارے بعض مخالفین کا وہم ہے تو پیالے یا بوتل میں پیشاب کرنے والے شخص اور تھال یا ٹب میں پاخانہ کرنے والے کےلیے نمازی کا اجر ہونا چاہیے جب وہ مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ حالانکہ بے وضو شخص جب اس کی ہوا خارج ہو جائے تو اس کےلیے نمازی کا اجر نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ ہوا خارج ہونے کے بعد مسجد میں بیٹھا نماز کا انتظار کرتا رہے ۔ اور جو شخص علمی سمجھ اور فراست رکھتا ہو اور وہ معاند اور غافل متکبر بھی نہ ہو وہ جان لے گا کہ آپ کا فرمان : بے آواز یا باآواز ہوا خارج کردے"سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان سے یہ دونوں حدث وضو توڑ دیتے ہیں۔ اور نبی اکرم ﷺ نے نماز کا انتظار کرنے والے شخص کےلیے ان دو حدثوں کے واقع ہوجانے کے بعد نماز کا اجر نہیں رکھا ۔ کیونکہ وہ بے وضو ہے ۔لہٰذا نماز کے انتظار میں مسجد میں ، بغیر ایسی طہارت کے جس کے ساتھ نماز اد ا کرنا کافی ہو جائے ، بیٹھے شخص کا حکم اس شخص کی طرح ہے جس کی ہوا نکل گئی ہو اور اس کی طہارت ٹوٹ گئی ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 360

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals