Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 337

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ فَنُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ.

"حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز مغر ب پڑھتے تھے پھر ہم بنو سلمہ ( کے محلے ) میں آتے تو ہم تیر گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتے تھے۔"

كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ فَنُبْصِرُ مَوَاقِعَ النَّبْلِ. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 337

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 338

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ يَرْجِعُونَ فَيَرَى أَحَدُهُمْ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ.

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ ( صحابہ کرام ) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز مغرب پڑھتے تھے پھر وہ ( اپنے گھروں کو) لوٹتے تو ان میں سے کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہوں کو دیکھ لیتا تھا۔"

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 338

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 339

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن إبراهيم الدورقي و مؤمل بن هشام اليشكري قالا حدثنا ابن علية عن محمد ابن إسحاق ح وحدثنا الفضل بن يعقوب الجزري نا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق حدثني يزيد بن أبي حبيب عن مرثد بن عبد الله اليزني قال : قدم علينا أبو أيوب غازيا و عقبة بن عامر يومئذ على مصر فأخر المغرب فقام إليه أبو أيوب فقال : ما هذه الصلاة يا عقبة ؟ فقال : شغلنا فقال أما والله ما بي إلا أن يظن الناس إنك رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع هكذا سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي بخير - أو على الفطرة - ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم هذا لفظ حديث الدورقي وقال المؤمل و الفضل بن يعقوب أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن موسى الحرشي نا زياد بن عبد الله نا محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب : فذكر الحديث وقال أما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تزال أمتي بخير - أو على الفطرة - ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم قال : بلى

" حضرت مرثد بن عبداللہ یزنی ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ایوب ؓ جہاد کرتے ہوئے ہمارے پاس آئے جبکہ ان دنوں مصر کے گورنر حضرت عقبہ بن عامر ؓ تھے ۔ تو انہوں نے مغرب کی نماز تاخیر سے ادا کی ، تو حضرت ابو ایوب ؓ ان کے پاس گئے اور فرمایا: اے عقبہ ! یہ کونسی نماز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ہم مشغول تھے ( اس لیے تاخیر ہوگئی) تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم ! مجھے کوئی مشک نہیں مگر لوگ یہ گمان کریں گے کہ آپ نے رسول اللہﷺ کو اسی طرح ( نماز موخر ) کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : "میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فرمایا: فطرت پر رہے گی ، جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کا جمگٹھا ہونے تک موخر نہیں کریں گے ۔ یہ دورقی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ مؤمل اور افضل بن یعقوب کی روایت میں ہے :"کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی پر رہے گی۔۔۔۔۔۔۔۔ امام ابو بکر محمد بن موسیٰ حرشی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ اور کہا : "کیا آپ نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی یا فطرت پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کا جمگٹھے ہونے تک موخر نہیں کریں گے " تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں ( میں نے سنا ہے ) "

مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← محمد ابن إسحاق ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يعقوب بن إبراهيم الدورقي و مؤمل بن هشام اليشكري ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 339

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 340

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو زرعة نا إبراهيم بن موسى نا عباد بن العوام عن عمر بن إبراهيم عن قتادة عن الحسن عن الأحنف بن قيس عن العباس بن عبد المطلب : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : لا يزال أمتي على الفطر ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم قال أبو بكر : في قوله لا تزال أمتي بخير ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم دلالة على أن قوله في خبر عبد الله بن عمرو بن العاص : ووقت المغرب ما لم يسقط تور الشفق إنما أراد وقت العذر والضرورة لا أن يعتمد تأخير صلاة المغرب إلى أن تقرب غيبوبة الشفق لأن إشتباك النجوم يكون قبل غيبوبة الشفق بوقت طويل يمكن أن يصلي بعد إشتباك النجوم قبل غيبوبة الشفق ركعات كثيرة أكثر من أربع ركعات

"حضرت عباس بن مطلب ؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میری امت ہمیشہ فطرت پر رہے گی جب تک وہ نماز مغرب کو ستاروں کے جمگٹھے ہونے تک موخر نہ کریں۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : آپ کے فرمان "میری امت ہمیشہ خیرو بھلائی کے ساتھ رہے گی جب تک وہ ستاروں کے باہم جڑ جانے تک نماز مغرب کو موخر نہ کریں"میں یہ دلیل ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی حدیث میں آپ کے اس فرمان "نماز مغرب کا وقت شفق کی تیزی اور پھلاؤ ہونے تک رہتا ہے ۔" جمگٹھا شفق غائب ہونے سے بہت پہلے ہو جا تا ہے ۔ ستاروں کے جم گھٹے کے بعد اور شفق کے غائب ہونے سے پہلے بہت سی رکعات ، چار رکعات سے زیادہ ادا کی جاسکتی ہیں۔"

لا يزال أمتي على الفطر ما لم يؤخروا المغرب حتى تشتبك النجوم ← النَّبِيِّ ← الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو زُرْعَةَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 340

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 341

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ قَالَ: قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ: نَا عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا يَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ. قَالَ: وَيَقُولُ الْأَعْرَابُ: هِيَ الْعِشَاءُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ.

"حضرت عبداللہ مزنی ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: نماز مغرب کے نام کے بارے میں اعرابی تم پر ہرگز غالب نہ آجائیں ۔ فرماتے ہیں: اعرابی کہتے ہیں : وہ عشاء ہے ۔ امام ابوبکر ؒ کہتے ہیں : عبداللہ مزنی ، وہ عبداللہ بن مغفل ؓ ہیں۔"

عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الحسين ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 341

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 342

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات نماز عشاء موخر کر دی تو عمر ؓ باہر نکلے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! نماز( پڑھا دیجیے) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے جبکہ آپ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے گر رہے تھے اور آپ اپنی دونوں جانب سے پانی جھاڑ رہے تھے ۔ اور آپ فرما رہے تھے : " اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دون گا تومیں انہیں ( یہ نماز ) اسی وقت پڑھنے کا حکم دیتا ۔ ( ابن جریج اور عمر ) دو میں سے کسی ایک نے یہ یہ الفاظ روایت کیے کہ : یہی وقت ہے اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشکل و مشقت میں ڈال دوں گا۔" یہ عبدالجبار کی حدیث کے الفاظ ہیں جب انہوں نے ابن جرج اور عمر بن دینار سے روایت کوجمع کر کے بیان کیا ۔ اور جب ابن جریض کی روایت کو منفرد بیان کیا تو کہا : "یہی وقت ہے کہ اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا ۔ احمد بن عبدہ نے اپنی روایت میں یہ الفاظ بیان کیے ہیں: " اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ میں مومنوں کو مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں یہ نماز اسی وقت ادا کرنے کا حکم دیتا ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 342

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 343

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا محمد بن رافع نا عبد الرزاق أخبرنا معمر عن الزهري عن سالم عن بن عمر قال : أعتم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعشاء ذات ليلة فناداه عمر فقال : نام النساء والصبيان فخرج إليهم فقال : ما ينتظر هذه الصلاة أحد من أهل الأرض غيركم قال الزهري : ولم يكن يصلي يومئذ إلا من بالمدينة

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک رات رسول اللہﷺ نے نما ز عشاء کو موخر کر دیا تو حضرت عمر ؓ نے بآواز آپ سے عرض کی:(حضور) عورتیں اور بچے سو گئے ہیں : تو آپ ان کی طرف تشریف لائے اور فرمایا : اہل زمین میں سے تمہارے سوا کوئی بھی اس نماز کا انتظار نہیں کر رہا ۔"امام زہری ؒ فرماتے ہیں : ان دنوں صرف اہل مدینہ ہی نماز پڑھتے تھے۔"

الزهري ولم يكن يصلي يومئذ إلا من بالمدينة ← ما ينتظر هذه الصلاة أحد من أهل الأرض غيركم ← نام النساء والصبيان فخرج إليهم ← أعتم رسول الله بالعشاء ذات ليلة فناداه عمر ← بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 343

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 344

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يوسف بن موسى نا جرير عن منصور عن الحكم عن نافع عن ابن عمر قال : كنا ذات ليلة ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم لصلاة العشاء الآخرة فخرج إلينا حتى ذهب ثلث الليل ولا ندري أي شيء شغله في أهله أو غير ذلك فقال حين خرج : إنكم لتنتظرون صلاة ما ينتظرها أهل دين غيركم ولولا أن يثقل على أمتي لصليت بهم هذه الساعة ثم أمر المؤذن فأقام الصلاة فصلى

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات نماز عشاء کےلیے رسول اللہﷺ کا انتظار کر رہے تھے تو آپ ہمار ےپاس تہائی رات گزر جانے کے بعد تشریف لائے ۔ اور ہمیں معلوم نہیں کہ کس چیز نے آپ کو آپ کے گھر والوں میں یا کسی اور کام میں مشغول کر دیا تھا ۔ جب آپ تشریف لائے تو آپ نے فرمایا: ب شک تم اس نماز کا انتظار کر رہے ہو کہ تمہارے سو ا کوئی مذہب والے اس کا انتظار نہیں کر رہے ۔ اور اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری امت پر گراں ہو گا تو میں انہیں ( یہ نماز ) اسی وقت پڑھاتا ۔ پھر آپ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے نماز کی اقامت کہی تو آپ نے نماز پڑھائی ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَكَمِ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 344

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 345

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ دَاؤُدَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ، نَا دَاؤُدُ؛ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ دَاؤُدَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: انْتَظَرْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى ذَهَبَ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِنَا، ثُمَّ قَالَ: "خُذُوا مَقَاعِدَكُمْ. فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا مَضَاجِعَهُمْ، فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُوهَا، وَلَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِيفِ، وَسَقَمُ السَّقِيمِ، وَحَاجَةُ ذِي الْحَاجَةِ لَأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ". هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کا نماز عشاء کے لیے تقریبا آدھی رات تک انتظار کیا ۔ پھر آپ تشریف لائے اور ہمیں نماز پڑھائی ، پھر فرمایا : اپنی نشستوں کو سنبھالو۔ بے شک لوگ تو سوچکے ہیں ۔ بے شک تم جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ، اس وقت سے مسلسل نماز ہی میں ہو ۔ اور اگر مجھے کمزور شخص کی کمزوری ، بیمار شخص کی بیماری اور حاجب مند کی حاجب مندی حاجت و ضرورت کا خیال نہ ہوتا تو میں اس نماز کو آ دھی رات تک موخر کر دیتا ۔" یہ بندار کی حدیث ہے ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، ← دَاوُدُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 345

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 346

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا عَوْفٌ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ عَوْفٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ. وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ (1) فَسَأَلَهُ أَبِي: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ؟ قَالَ: كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ. وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَعَبْدِ الْوَهَّابِ: عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، وَمَتْنُ حَدِيثِهِمَا مِثْلُ مَتْنِ حَدِيثِ يَحْيَى.

"حضرت ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔"یہ احمد بن منیع کی حدیث ہے ۔ یحییٰ بن سعید کی روایت میں ہے ، وہ کہتے ہیں کہ : ہمیں ابومنہال سیا ربن سلامہ نے بیان کیا کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمیؓ کے پاس حاضر ہوا تو میرے والد نے ان سے پوچھا : رسول اللہﷺ فرض نماز کیسے ادا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو کر موخر کرناپسند کرتے تھے۔ اور آپ عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا نا پسند کرتے تھے ۔" محمد بن جعفر اور عبدالوھاب کی روایت میں عَنْ أَبِی الْمِنْھَالِہے جبکہ متن یحییٰ کی روایت ہی کی طرح ہے ۔

أَبِي بَرْزَةَ: ← سَيَّارِ بْنِ سَلاَمَةَ ← عَوْفٌ، ← هُشَيْمٌ، وَعَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 346

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 347

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ -يَعْنِي الْبُرْسَانِيَّ-، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شُغِلَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، عَنْ صَلَاةِ الْعَتَمَةِ، حَتَّى رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ رَقَدْنَا، ثُمَّ اسْتَيْقَظْنَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: "لَيْسَ يَنْتَظِرُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ هَذِهِ الصَّلَاةَ غَيْرُكُمْ". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ. وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَتَّى رَقَدْنَا فِي الْمَسْجِدِ. وَفِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَخَرَجَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الصَّلَاةُ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ.

"حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک رات نبی اکرم ﷺ نماز عشا ء سے مشغول ہوگئے حتی کہ ہم سو گئے پھر ہم بیدار ہوئے ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوئے ، پھر آپ تشریف لائے تو فرمایا : تمہارے سوا اہل زمین میں سے کوئی بھی نماز کا منتظر نہیں ہے ۔" یہ محمد بن بکرکی حدیث ہے ۔ ابن رافع کی روایت میں ہے : " حتی کہ ہم مسجد میں سوگئے ۔"حضرت ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے: "تو حضرت عمر باہر نکلے تو انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! نماز ( پڑھا دیجیے ) عورتیں اور بچے سوگئے ہیں۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ -يَعْنِي الْبُرْسَانِيَّ-، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 347

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 348

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ. وَقَالَ حَجَّاجٌ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ؛ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ عَنْ عَائِشَةَ، -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا-: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْتَمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، حَتَّى ذَهَبَ عَامَّةُ اللَّيْلِ، وَحَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ فَصَلَّى، وَقَالَ: "إِنَّهُ وَقْتُهَا لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي". وَفِي خَبَرِ أَبِي عَاصِمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَخَّرَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ حَتَّى نَامَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، لَمْ يَزْجُرْهُمْ عَنِ النَّوْمِ لَمَّا خَرَجَ عَلَيْهِمْ. وَلَوْ كَانَ نَوْمُهُمْ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ لَمَّا أَخَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ مَكْرُوهًا، لَأَشْبَهَ أَنْ يَزْجُرَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[52 - أ] عَنْ فِعْلِهِمْ، وَيُوَبِّخَهُمْ عَلَى فِعْلِ مَا لَمْ يَكُنْ لَهُمْ (1) فِعْلُهُ. وَفِي خَبَرِ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوَاقِيتِ (2) قَالَ فِي وَقْتِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ: فَنِمْنَا، ثُمَّ قُمْنَا، ثُمَّ نِمْنَا ثُمَّ قُمْنَا، ثُمَّ نِمْنَا مِرَارًا.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات رسول اللہﷺ نے ( نماز عشاء ) موخر کردی حتی کہ رات کا اکثر حصہ گزر گیا اور مسجد والے سوگئے ۔ پھر آپ تشریف لائے اور نماز پڑھائی اور فرمایا: بے شک اس کا یہی وقت ہے اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا۔" ابو عاصم اور محمد بن بکر کی روایت میں ہے ۔"حدثنی المغیرۃ بن حکیم"یعنی اخبرنی کی بجائے حدثنی کہا ہے ) امام ابوبکر کہتےہیں : نبی اکرمﷺ نے جب نماز عشاء کو موخر کیا حتی کہ اہل مسجد سو گئے تو جب نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو آپ نے انہیں ( عشاء سے قبل سونے پر ) ڈانٹا نہیں ہے ، اور اگر نماز عشاء سے پہلے ان کا سونا مکروہ ہوتا جبکہ نبی ﷺ نے نماز کو موخر کر دیا تھا تو نبی اکرمﷺ انہیں ان کے اس فعل پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور انہیں اس کام پر سرزنش کرتے جو ان کےلیے جائز نہ تھا ۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے اوقات نماز کے متعلق روایت میں ہے ، وہ دوسری رات نماز عشاء کے وقت کے بارے میں فرماتے ہیں : ہم سوگئے پھر بیدار ہوگئے ، پھر ہم سو گئے ، پھر ہم بیدار ہوگئے ، پھر ہم کوئی بار سوئے۔"

عَائِشَةَ ← الْمُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ؛ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَتْهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← ابْنِ جُرَيْجٍ. وَقَالَ حَجَّاجٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا ← وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 348

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals