Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 313

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا وَكِيعٌ، نَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لَقِيتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ، فَضَمَمْتُهَا إِلَيَّ وَبَاشَرْتُهَا، وَقَبَّلْتُهَا، وَفَعَلْتُ بِهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُجَامِعْهَا. فَسَكَتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ). فَدَعَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَرَأَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَهُ خَاصَّةً أَوْ لِلنَّاسِ كَافَّةً؟ فَقَالَ: "لَا. بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً".

"حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں ایک عورت سے باغ میں ملا تو میں نے اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا ، اس کے ساتھ پیا ر محبت کیا ، اسے بوسہ دیا اور اس سے جماع کے سوا ہر کام کیا ہے ۔ تو نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ، تو یہ آیت کریمہ ناز ہوئی ، بے شک نیکیان برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ نصیحت پکڑنے والوں کےلیے نصیحت ہے ۔ "تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بلایا اور اس پر یہ آیت تلاوت کی ۔ تو حضرت عمرؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اس کےلیے خاص ہے یا تمام لوگوں کےلیے ؟ تو آپ نے فرمایا : بلکہ تمام لوگوں کےلیے ہے ۔"

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 313

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 314

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ".

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پانچ فرض نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 314

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 315

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ الْمُجْمِرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُخْبِرَانِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ سَكَتَ. فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي حَزِينَا لِيَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، ثُمَّ قَالَ: "مَا مِنْ عَبْدٍ يَأْتِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ، إِلَّا فُتِحَتْ لَهُ أَبُوابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى إِنَّهَا لَتَصْطَفِقُ. ثُمَّ تَلَا: (إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ) [النساء: 31].

"حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدریؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ منبر پر رونق افروز ہوئے پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جانی ہے ، تین مرتبہ فرمایا۔ پھر آپ خاموش ہوگئے ، تو ہم میں سے ہر شخص سرنگوں ہر کر رسول اللہ ﷺ کی قسم کی وجہ سے غمگین ہر کر رونے لگا ۔ پھر آپ نے فرمایا: جو شخص بھی پانچ فرض نمازیں ادا کرے ، رمضان المبارک کے روزے رکھے ، اور سات بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرے ، تو اس کےلیے قیامت کے روز جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے حتی کہ وہ دروازے (خوشی سے ) ہل رہے ہوں گے ۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی:(إِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآ ئِرَمَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَا تِکُمْ)"اگر تم کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے ، تو ہم تمہاری برائیاں معاف کر دیں گے۔"

أَبَا هُرَيْرَةَ وَأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يُخْبِرَانِ ← أَنَّهُ ← أَنَّ صُهَيْبًا مَوْلَى الْعُتْوَارِيِّينَ ← أَنَّ نُعَيْمَ بْنَ الْمُجْمِرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي هِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 315

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 316

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ قَالَ: لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقُلْتُ لَهُ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعْنِي اللَّهُ بِهِ -أَوْ يُدْخِلْنِي الْجَنَّةَ-. قَالَ: فَسَكَتَ (1) عَنِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ [47 - ب] فَقَالَ: عَلَيْكَ بِالسُّجُودِ. فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً". قَالَ أَبُو عَمَّارٍ: هَكَذَا قَالَ الْوَلِيدُ -يَعْنِي سَجْدَةً بِنَصْبِ السِّينِ-.

"حضرت معدان بن ابی طلحہ یعمری ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام ثوبان ؓ سے ملا تو میں نے عرض کی : مجھے ایسا عمل بتائیں جس سے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا فرمائیں یا مجھے جنت میں داخل فرمادیں ۔ کہتے ہیں : تین بار( میرے سوال کرنے کے باوجود) انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا پھر میری طرف متوجہ ہوئے تو فرمایا کہ سجدے کیا کرو بلاشبہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کےلیے ایک سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس ( سجدے ) کے ذریعے اس کا ایک درجہ بلند کر دیتے ہیں اور اس کی غلطی معاف کر دیتے ہیں ۔" ابو عمار کہتے ہیں : ولید نے سجدہ کہا ہے ، یعنی سین پر زبر روایت کی ہے ۔"

مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 316

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 317

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ، نَا قَيْسٌ قَالَ: قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا".

"حضرت جریر عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرمایا : اگر تم طاقت رکھو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے کی نماز ( نماز فجر) اور سورج غروب ہونے سے پہلے کی نماز (نماز عصر ) سے مغلوب نہ ہو جاؤ ۔ ( تو انہیں بروقت ضرور ادا کر لینا۔)" 318 "حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کر دیتے ہیں ۔ اہل بصرہ میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے ۔"

"فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا". ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ ← قَيْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 317

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 318

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا يَحْيَى، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ". وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ: وَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

"حضرت ابوبکر بن عمارہ بن رویبہ ؓ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کر دیتے ہیں ۔ اہل بصرہ میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے ۔"

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← رَجُلٍ مَنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ← "مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ رُوَيْبَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← يَحْيَى، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 318

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 319

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ مَنْ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا".

"حضرت عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز پڑھی۔"

عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 319

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 320

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُؤَيْبَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبِهَا". فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ. فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: وَأَنَا أَشْهَدُ بِأَنَّكَ سَمِعْتَهُ.

"حضرت عمارہ بن رویبہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا آپ فرما رہے تھے: کوئی شخص ہرگز آگ میں داخل نہیں ہوگا جس نے سورج طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے نماز ادا کی ۔ "تو ان کے پاس اہل بصرہ میں سے ایک آدمی آیا تو اس نے کہا: کیا آپ نے یہ فرمان رسول اللہﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ، تو اس نے کہا : اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ نے ( اس فرمان کو) رسول اللہﷺ سے سنا ہے ۔"

عُمَارَةَ بْنِ رُؤَيْبَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 320

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 321

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ، فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْفَجْرِ نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ-: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. فَإِذَا كَانَ صَلَاةُ الْعَصْرِ، نَزَلَتْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ فَشَهِدُوا مَعَكُمُ الصَّلَاةَ جَمِيعًا، ثُمَّ صَعِدَتْ [48 - أ] مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَمَكَثَتْ مَعَكُمْ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. قَالَ: فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ- فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُمْ عِبَادِي يَصْنَعُونَ؟ قَالَ: فَيَقُولُونَ: جِئْنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. قَالَ: فَحَسِبْتُ أَنَّهُمْ يَقُولُونَ: فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو تمہارے پاس آگ پیچھے آتے رہتے ہیں ۔ پھر جب نماز فجر کا وقت ہوتا ہے تو دن کے فرشتے ناز ل ہوتے ہیں اور وہ تمہارے ساتھ اکٹھے نماز میں حاضر ہوتے ہیں پھر رات کے فرشتے اوپر جڑھ جاتے ہیں ۔ اور دن کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ، تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان سے بخوبی واقف ہے ، تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ وہ جواب دیتے ہیں : ہم آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں نماز اد ا کرتے ہوئے چھوڑ ا ہے ۔ پھر جب نماز عصر کا وقت ہوتا ہے تو رات کے وقت فرشتے نازل ہوتے ہیں اور تمہارے ساتھ اکٹھے نماز ادا کرتے ہیں ، پھر دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور رات کے فرشتے تمہارے ساتھ رہ جاتے ہیں ۔ فرمایا: تو ان کا رب ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ انہیں بخوبی جانتا ہے ، وہ فرماتا ہے : تم نے میرے بندوں کو کیا کرتے ہوئے چھوڑا ہے ؟ فرمایا کہ میرا خیال ہے وہ کہتے ہیں: تو ( اے اللہ) انہیں قیامت کے دن معاف فرما دینا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 321

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 322

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَجْتَمِعُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَمَلَائِكَةُ النَّهَارِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ. وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَتَصْعَدُ مَلَائِكَةُ النَّهَارِ، وَتَثْبُتُ مَلَائِكَةُ اللَّيْلِ. فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: أَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَتَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، فَاغْفِرْ لَهُمْ يَوْمَ الدِّينِ".

"حضرت ابوہریرہؓ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رات اور دن کے فرشتے نماز فجر اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں ۔ نماز فجر میں جمع ہوتے ہیں تو رات کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں اور دن کے فرشتے ٹھہر جاتے ہیں ۔ اور نماز عصر میں جمع ہوتے ہیں تو دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں تو ان سے ان کا رب سوال کرتا ہے تم نے میرے بندوں کو کیسے چھوڑا ؟ تو وہ کہتے ہیں : ہم ان کے پاس آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ نماز ادا کر رہے تھے ۔ لہٰذا تو انہیں قیامت کے روز معاف فرمادینا۔"

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانَ -وَهُوَ الْأَعْمَشُ-، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو بَكْرٍ، نَاهُ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 322

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 323

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ وَمُوسَى بْنُ خَاقَانَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ -وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَوَاتِ. فَقَالَ: "صَلِّ مَعَنَا". فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ [صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ]- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الظُّهْرَ، وَقَالَ: وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ. فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ أَخَّرَ فَوْقَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا. ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟ " قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَمْ أَجِدْ فِي كِتَابِي عَنِ الزَّعْفَرَانِيِّ: الْمَغْرِبَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي.

"حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے نمازوں کے وقت کے بارے میں پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا: ہمارے ساتھ نماز پڑھو (تمہیں وقت معلوم ہوجائے گا) پھر جب سورج ڈھل گیا تو رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز ادا کی ، اور کہا کہ آپ نے عصر کی نماز ادا کی جبکہ سورج بلند اور صاف و روشن تھا، اور سورج غروب ہونے پر نماز مغرب ادا کی ، اور نماز عشاء شفق غائب ہونے پر ادا کی ، اور نما فجر اندھیرے میں ادا کی ، پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے حضرت بلال ﷺ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اذان دی اور اسے ٹھنڈ ا کیا تو خوب ٹھنڈا کیا۔ اور آپ نے اسے حکم دیا تو انہوں نے نماز عصر کی اقامت کہی جبکہ سورج زندہ (خوب روشن) تھا آپ نے کل سے زیادہ تاخیر سے ادا کی اور آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سرخی غائب ہونے سے پہلے نماز مغرب کی اقامت کہی، اور آپ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے تہائی رات گزرنے پر عشاء کی نماز قائم کی اور آپ کے حکم سے انہوں نے نماز فجر کو روشنی میں قائم کیا، پھر آپ نے فرمایا: نماز کے وقت کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے عرض کی: میں موجود ہوں، اے اللہ کے رسول ۔ آپ نے فرمایا: تمہاری نمازوں کے اوقات اس کے درمیان ہیں جو تم نے ( دو دن میں ) دیکھا ہے ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں: میں نے اپنی کتاب میں زعفرانی سے یہ الفاؓ نہیں پائے : "مغرب دوسرے دن میں ۔"

وقت الصلوات ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ -وَهُوَ ابْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ- وَهَذَا حَدِيثُ الدَّوْرَقِيِّ، ← مُوسَى بْنُ خَاقَانَ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 323

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 324

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَوَاقِيتِ. لَمْ يَزِدْنَا بُنْدَارٌ عَلَى هَذَا. قَالَ بُنْدَارٌ: فَذَكَرْتُهُ لِأَبِي دَاوُدَ، فَقَالَ: صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ يَنْبَغِي [48 - ب] أَنْ يُكَبَّرَ عَلَيْهِ. قَالَ بُنْدَارٌ: فَمَحَوْتُهُ مِنْ كِتَابِي، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَنْبَغِي أَنْ يُكَبَّرَ عَلَى أَبِي دَاوُدَ حَيْثُ غَلِطَ. وَأَنْ يُضْرَبَ بُنْدَارٌ عَشَرَةً، حَيْثُ مَحَا هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ كِتَابِهِ. [لِأَنَّهُ] حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ أَيْضًا عَنْ عَلْقَمَةَ. غَلِطَ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيَّرَ بُنْدَارٌ. هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ أَيْضًا عَنْ عَلْقَمَةَ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِخَبَرِ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ، مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، نَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ عَنْ شُعْبَةَ: بِالْحَدِيثِ تَمَامِهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَرُ رَادٌّ (1) عَلَى زَعْمِ الْعِرَاقِيِّينَ أَنَّ الْمُقِرَّ عِنْدَ الْحَاكِمِ أَنَّ لِفُلَانٍ عَلَيْهِ مَا بَيْنَ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، أَنَّ عَلَيْهِ ثَمَانِيَةَ دَرَاهِمَ. فَجَعَلُوا هَذَا الْمُحَالَ مِنَ الْمَقَالِ بَابًا طَوِيلًا، فَرَّعُوا مَسَائِلَ عَلَى هَذَا الْخَطَإِ. وَقَوْدُ مَقَالَتِهِمْ يُوجِبُ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْيَوْمَيْنِ وَاللَّيْلَتَيْنِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي غَيْرِ مَوَاقِيتِهَا، لِأَنَّ قَوْدَ مَقَالَتِهِمْ أَنَّ أَوْقَاتِ الصَّلَاةِ مَا بَيْنَ الْوَقْتِ الْأَوَّلِ، وَالْوَقْتِ الثَّانِي. وَأَنَّ الْوَقْتَ الْأَوَّلَ وَالثَّانِي خَارِجَانِ مِنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، كَزَعْمِهِمْ أَنَّ الدِّرْهَمَ وَالْعَشَرَةَ خَارِجَانِ مِمَّا أَقَرَّ بِهِ الْمُقِرُّ، وَأَنَّ الثَّمَانِيَةَ هُوَ بَيْنَ دِرْهَمٍ إِلَى عَشَرَةٍ. قَدْ أَمْلَيْتُ مَسْأَلَةً طَوِيلَةً مِنْ هَذَا الْجِنْسِ.

"حضرت بریدہ ؓ نبی ﷺ سے اوقات نماز کے متعلق روایت بیان کرتے ہیں ۔ بندار نے ہمیں اس سے زیادہ روایت بیان نہیں کی ۔ بندار کہتے ہیں: میں نے اسے ابوداؤد سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا: "اس روایت کے راوی پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے ۔"اس روایت کے راوی پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے ۔ "بندا ر کہتے ہیں: تو میں نے اس روایت کو اپنی کتا ب سے مٹا دیا۔ امام ابوبکر کہتے ہیں: ابوداؤد پر نماز جنازہ پڑھی جانی چاہیے کیونکہ انہوں نے غلطی کی ہے ۔ اور بندار کو یہ حدیث اپنی کتاب سے مٹانے کی وجہ سے دس کوڑے مارے جانے چاہئیں۔ یہ حدیث صیح ہے جیسا کہ ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے ابوداؤد نے غلطی کھائی ہے اور بندار نے اس کو تبدیل کر دیا ہے ۔ یہ حدیث صیح ہے ۔ اسے ثوری نے بھی علقمہ سے روایت کیا ہے ۔ امام ابوبکر حرمی بن عمارہ کی سند سے مکمل حدیث بیان کرتے ہیں ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث عراقیوں کے اس دعویٰ کی تردید کرتی ہے کہ حاکم کے پاس کوئی شخص یہ اقرار کر لے کہ فلاں شخص کے اس پر ایک سے دس درہم تک واجب ہیں تو اس پر آٹھ درہم واجب ہوں گے ۔ اس طرح انہوں نے اس محال بات کو طویل باب کی شکل دے دی ہے ۔ اور اس غلط حکم پر بے شمار فرعی مسائل کی بنیاد رکھی ہے ۔ ان کے اس قول سے یہ واجب ہوت اہے کہ جبرائیل ؑ نے نبی اکرم ﷺ کو دو دن اور دو راتیں پانچوں نمازین ان کے اوقات کے بغیر پڑھائیں ۔ کیونکہ ان کے قول کا لازم یہ ہے کہ نمازوں کے اوقات پہلے اور دوسرے وقت کے درمیان ہیں اور پہلا اور دوسرا وقت نماز کے وقت سے خارج ہے جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے کہ حاکم کے سامنے ، ایک اور دس درہم ، اقرار کرنے والے کے اقرار سے خارج ہیں اور آٹھ درہم ، ایک اور دس درہم کے درمیان ہے۔ میں اس قسم کا طویل مسئلہ املاء کرواچکا ہوں۔

صَاحِبُ هَذَا الْحَدِيثِ يَنْبَغِي ← بندار: فذكرته لأبي داود ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← شُعْبَةُ، ← حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 324

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals