صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ تَطھِیرِ الثِّیَابِ بِالغَسلِ مِنَ الأَنجَاسِ · حديث 287
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ-، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا ابْنُ مُبَارَكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ مَنِيُّ غَسَلَهُ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ مِنْ أَثَرِ الْغَسْلِ فِي ثَوْبِهِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الصَّنْعَانِيِّ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَتْ: كُنْتُ أَغْسِلُ ثَوْبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَنِيِّ، فَيَخْرُجُ، وَفِي ثَوْبِهِ أَثَرُ الْمَاءِ. وَفِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ.
"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کپڑے کو جب منی لگ جاتی تھی تو آپ اسے دھو لیتے تھے پھر آپ نماز کے لیے تشریف لے جاتے جبکہ آپ کے کپڑے میں دھونے سے پڑنے ولاے نشان کو دیکھ رہی ہوتی تھی۔"یہ صنعانی کی روایت کے الفاظ ہیں۔امام ابن مبارک ؑ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں:وہ کہتی ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے کپڑے منی (لگنے کی وجہ( سے دھویا کرتی تھی تو آپ (انہیں پہن کر) باہر تشرہف لے جاتے حالانکہ آپ کے کپڑے میں پانی کا اثر (دکھائی دیتا) تھا۔یزید بن ہارون کی سند میں عن عائشۃ کی بجاۓ اخبرتنی عائشۃ کے الفاظ ہیں۔
عَائِشَةَ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← ابْنُ مُبَارَكٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، ← عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ1 ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 287
