صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 273
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، نَا أَبِي، أَخْبَرَنِي إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ (1) أَنَّ عَطَاءً حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "مَا لَهُمْ، قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ -ثَلَاثًا- قَدْ جَعَلَ اللَّهُ الصَّعِيدَ -أَوِ التَّيَمُّمَ- طَهُورًا". شَكَّ فِي ابْنِ عَبَّاسٍ ثُمَّ أَثْبَتَهُ بَعْدُ.
"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص سردیوں میں جنبی ہو گیا تو اس نے(مسئلہ) پوچھا:تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا۔(اس نے غسل کیا) تو وہ فوت ہو گیا۔نبی اکرمﷺ کو یہ واقعہ بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: انہیں کیا ہو ا تھا،انہوں ن اسے قتل کر دیا، اللہ تعالیٰ انہیں قتل کرے، آپ نے تین مرتبہ فرمایا:((پھر فرمایا) اللہ تعالیٰ نے مٹی یا تیمیم کو پاک کرنے والا بنایا ہے حضرت ابن عباس ؓ کے بارے میں شک ہے(کہ انہوں نے مٹی کہا یا تمیم)پھریہ شک ختم ہو گیا۔"
ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا أَجْنَبَ فِي شِتَاءٍ فَسَأَلَ، فَأُمِرَ بِالْغُسْلِ، فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ. ← إِيَّاهُ الْوَلِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ عَطَاءً ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 273
