صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ التَّیَمُّمِ عِندَا الاِعوَازِ مِنَ ءِ فِی السَّفَرِ · حديث 261
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ -يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ-، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ قِلَادَةً مِنْ أَسْمَاءَ، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ. قَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً.
’’حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے ایک ہار ادھارلیا (ایک جگہ پڑاؤ کے درمیان ) وہ گم ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے کچھ صحابہ کرام کو اسے تلاش کرنے کےلیے بھیجا ۔تو نماز کاوقت ہوگیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھی تو جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کا شکوہ کیا ۔ اس پر آیت تمیم نازل ہوئی ۔ حضرت اسید بن حضیر ؓ نے کہا :(اے ام المومنین عائشہ ) اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ، اللہ کی قسم ! جب بھی آپ کسی مشکل میں گرفتار ہوئیں تو اللہ نے آپ کی نجات کی راہ بنا دی اور مسلمانو ں کے لیے اس میں خیروبرکت عطا کردی ۔‘‘
أَبِيهِ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ عُرْوَةَ ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling · Hadith 261
