صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ الجَنَابَۃِ · حديث 248
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلْتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ. فَذَكَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ. وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ. قَالَ: "تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا فَتَطْهُرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ. ثُمَّ تَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا فَتَدْلُكُهُ حَتَّى يَبْلُغَ شُؤونَ رَأْسِهَا. ثُمَّ تُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهَا". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ. لَمْ يَمْنَعْهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ (2) فِي الدِّينِ.
’’حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت اسماءؓ نے بنی اکرم ﷺ سے حیض کے غسل کے متعلق پوچھا ۔ پھر راوی نے کچھ حدیث بیان کی ( یعنی اس سوا ل کا جواب بیان کیا ) اور انہوں نے کہا ( حضرت اسماء نے ) آپ سے غسل جنا بت کے متعلق پو چھا تو آ پ نے فرمایا :تم میں سے کو ئی ایک عورت پانی لے اور وضو کرے ، خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر اپنے سر پر پانی ڈالے اور اسے ملے حتی کہ پانی اس کے سر کی جڑوں میں پہنچ جائے ۔ پھر وہ اپنے سر پر پانی بہا لے ۔ ‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :بہترین خواتین انصاری خواتین ہیں ، دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنے میں حیاان کے لیے رکاوٹ نہیں بنتی ۔
الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ ← بَعْضَ الْحَدِيثِ. وَسَأَلْتُهُ ← الْغُسْلِ مِنَ الْمَحِيضِ. ← عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَاءَ سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 248
