صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ فُضُولِ التَّطھِیرِوَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ اِیجَابٍ · حديث 206
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا عَبْدُ الْأَعْلَى، نَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ الْمُنْذِرِ -قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هُوَ أَبُو سَاسَانَ (1) - عَنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذِ بْنِ عُمَرَ بْنِ جُدْعَانَ: أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَضَّأَ. ثُمَّ اعْتَذَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: "إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَذْكُرَ اللَّهَ إِلَّا عَلَى طُهْرٍ" أَوْ قَالَ: "عَلَى طَهَارَةٍ". وَكَانَ الْحَسَنُ يَأْخُذُ بِهِ".
’’حضرت مہاجر بن قنفذ بن عمر بن جدعان ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے جبکہ آپ وضو کر رہے تھے ، انہوں نے آ پ کو سلام کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے سلام کاجواب نہ دیا حتی کہ وضو کر لیا (اور سلام کا جواب دیا ) پھر ا س سے معذرت کی اور فرمایا: ’’میں نے ناپسند کیا کہ میں بغیر طہارت کے اللہ تعالی کا ذ کر کروں ۔‘‘ حضرت حسن بصری ؒ اس حدیث کے مطابق عمل کرتے تھے (یعنی سلام کا جواب با وضو حالت میں دیتے تھے ۔
أَبُو بَكْرٍ: هُوَ أَبُو سَاسَانَ ← حصين بن المنذر ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response · Hadith 206
