صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 166
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تَخَلَّفَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ سَافَرْنَاهُ، فَأَدْرَكَنَا وَقَدْ أَرْهَقَتْنَا الصَّلَاةُ -صَلَاةُ الْعَصْرِ- وَنَحْنُ نَتَوَضَّأُ، فَجَعَلْنَا نَمْسَحُ أَرْجُلَنَا، فَنَادَى بِأَعْلَى صَوْتِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا: "وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ عَفَّانَ بْنِ مُسْلِمٍ.
"حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرے ہیں کہ ہمارے ایک سفر میں رسول اللہﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، پھر آپ ہمارے پاس پہنچے اور ہمیں عصر کی نماز نے جلدی میں ڈال دیا تھا اور ہم ( جلدی جلدی) وضو کررہے تھے۔ ہم اپنے قدموں کا مسح کررہے تھے تو آپ نے ( یہ دیکھ کر کہ ہم پاؤں پوری طرح دھونے کی بجائے ان کا مسح کررہے ہیں) دو یا تین بار بآواز بلند فرمایا:"(خشک رہ جانے والی) ایڑیوں کےلیے آگ کا عذاب ہے ۔"یہ عفان بن مسلم کی حدیث ہے ۔
عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 166
