صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ الوُضُو ءِ وَسُنَنَہِ · حديث 142
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ، وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ". لَمْ يَقُلْ [23 - أ] أَحْمَدُ: وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى.
"حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولاللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"اعمال (کی قبولیت کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر شخص کےلیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ۔(یعنی اچھی یا بری نیت کے مطابق جزا یا سزا ملے گی) تو جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۔ اور جس شخص کی ہجرت دنیا کے حصول کےلیے یا کسی عورت سے شادی کےلیے تھی تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔"احمد کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں"وانما لا مری مانوی"آدمی کےلیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی"
رَسُولِ اللَّهِ ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصِ اللَّیْثِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 142
