صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 106
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ [18 - أ] يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: "مَرِضْتُ، فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ (1)، فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، كَيْفَ أَمْضِيَ فِي مَالِي، فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ: (إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ...) [النساء: 176] الْآيَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ.
"محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا:"(ایک دفعہ) میں بیمار ہوگیا تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ پیدل چل کر میری عیادت کےلیے تشریف لائے ، آپ نے مجھے بے ہوشی کی حالت میں پایا تو وضو کیا او ر(باقی ماندہ ) پانی مجھ پر ڈالا۔ (اس سے) مجھے کچھ افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں اپنے مال میں کیسے تصرف کروں، اپنے مال کو کیسے تقسیم کروں؟آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا ، حتی کہ آیت میراث نازل ہوگئی( ان امرؤاھلک۔۔۔)"اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ اس کا ہے ۔"ایک بار انہوں نے یہ کہا کہ "حتی کہ آیت کلالہ نازل ہوئی۔"
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أ] ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 106
