Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 106

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ [18 - أ] يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: "مَرِضْتُ، فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي وَأَبُو بَكْرٍ مَاشِيَيْنِ (1)، فَوَجَدَنِي قَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي، كَيْفَ أَمْضِيَ فِي مَالِي، فَلَمْ يُجِبْنِي بِشَيْءٍ، حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ: (إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ...) [النساء: 176] الْآيَةَ، وَقَالَ مَرَّةً: حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ.

"محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا:"(ایک دفعہ) میں بیمار ہوگیا تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ پیدل چل کر میری عیادت کےلیے تشریف لائے ، آپ نے مجھے بے ہوشی کی حالت میں پایا تو وضو کیا او ر(باقی ماندہ ) پانی مجھ پر ڈالا۔ (اس سے) مجھے کچھ افاقہ ہوا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں اپنے مال میں کیسے تصرف کروں، اپنے مال کو کیسے تقسیم کروں؟آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا ، حتی کہ آیت میراث نازل ہوگئی( ان امرؤاھلک۔۔۔)"اگر کوئی شخص مر جائے جس کی اولاد نہ ہو اور ایک بہن ہو تو اس کے چھوڑے ہوئے مال کا آدھا حصہ اس کا ہے ۔"ایک بار انہوں نے یہ کہا کہ "حتی کہ آیت کلالہ نازل ہوئی۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أ] ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 106

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 107

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، نَا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَمَا فِي الْقَوْمِ طَهُورٌ؟ " قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ. قَالَ: فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: ثُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ أَتَوْا بَقِيَّةَ الطَّهُورِ. فَقَالَ: تَمَسَّحُوا بِهِ، فَسَمِعَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "عَلَى رِسْلِكُمْ"، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي الْقَدَحِ فِي جَوْفِ الْمَاءِ، ثُمَّ قَالَ: "أَسْبِغُوا الطُّهُورَ". فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: وَالَّذِي أَذْهَبَ بَصَرِي -قَالَ وَكَانَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ- لَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَهُ حَتَّى تَوَضَّئُوا أَجْمَعُونَ. قَالَ عَبِيدَةُ: قَالَ الْأَسْوَدُ: حَسِبْتُهُ قَالَ: كُنَّا مِائَتَيْنِ أَوْ زِيَادَةً.

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں:(ایک دفعہ ) ہم نے رسول اللہؓ کے ہمراہ سفر کیا۔ نماز کا وقت ہوا تو آپ نے فرمایا:"کیا لوگوں کے پاس پانی نہیں ہے ؟ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک شخص برتن میں بچا ہوا پانی لے کر حاضر ہوا۔ کہتے ہیں: تو اس نے وہ پانی ایک پیالے میں ڈال دیا اور رسول اللہﷺ نے وضو کیا ۔ کہتے ہیں: پھر لوگ باقی ماندہ پانی لینے کےلیے آگئے تو اس نے کہا: اس سے مسح کر لو، رسول اللہﷺ نے اپنا دست مبارک پیالے میں پانی کے وسط میں رکھا۔ پھر فرمایا:"مکمل وضو کرو۔"حضرت جابر بن عبداللہؓ فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جو میری بصارت لے گئی ، راوی کہتے ہیں : ان کی بصارت ختم ہوچکی تھی ، میں نے رسول اللہﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے پانی ابلتا ہوا دیکھا، آپ نے اپنا دست مبارک ( اس وقت تک ) نہ اٹھایا جب تک کہ سب لوگوں نے وضو نہ کر لیا۔" عبیداہ کہتے ہیں: اسود نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا:"ہم دو سو یا اس سے زیادہ لوگ تھے۔"

ثُمَّ ← فَصَبَّهُ فِي قَدَحٍ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ← فَجَاءَ رَجُلٌ بِفَضْلِ مَاءٍ فِي إِدَاوَةٍ. ← سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← نُبَيْحٍ الْعَنَزِيِّ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← عبيدة بن حميد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 107

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 108

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ -قَالَ: أَكْبَرُ عِلْمِي وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي- أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ أَخْبَرَنِي؛ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ: "أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِ مَيْمُونَةَ.

"حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ حضرت میمونہ ؓ کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا کرتے تھے۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَنَّهُ ← أَكْبَرُ عِلْمِي وَالَّذِي يَخْطِرُ عَلَى بَالِي- أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← ابْنِ جُرَيْجٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 108

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 109

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ -وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ- ثَنَا سُفْيَانُ؛ وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ؛ وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [18 - ب]: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -أَوِ اغْتَسَلَ- مِنْ فَضْلِهَا. هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ: فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ فَضْلِهَا. وَقَالَ أَبُو مُوسَى، وَعُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ مِنْ فَضْلِهَا، فَقَالَتْ لَهُ: فَقَالَ: "الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".

۔ "حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے غسل جنابت کیا تو نبی اکرمﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو یا غسل کیا۔"یہ وکیع کی حدیث ہے ۔ احمد بن منیع کی روایت میں ہے:"نبی ﷺ نے ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا۔"ابو موسیٰ اور عتبہ بن عبداللہ کی روایت میں ہے کہ"نبی ﷺ تشریف لائے ( اور) ان کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے لگے تو انہوں نے عرض کی:( اللہ کے رسول ! یہ پانی تو میرے غسل جنابت سے بچا ہوا ہے ) تو آپ نے فرمایا: "پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← سُفْيَانَ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عتبة بن عبد الله ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ وَهُوَ الزُّبَيْرِيُّ ← أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 109

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 110

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ، فَأَبْدَأُ فَأَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ يَأْخُذُ الْإِنَاءَ، فَيَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ، وَآخُذُ الْعَرْقَ فَأَعُضُّهُ، ثُمَّ يَضَعُ فَاهُ عَلَى مَوْضِعِ فِيَّ. أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

"حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں (مشروب کا) برتن لایا جاتا تو میں( اس سے ) پینے کی ابتدا کرتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔ پھر آپ برتن پکڑتے اور اپنا منہ اس جگہ لگاتے جہاں میں نے لگایا تھا( اور مشروب نوش کرتے ) او رمیں (کھانا کھاتے وقت) ہڈی پکڑتی اور اس سے( گوشت) نوچتی ۔ پھر (رسول اللہﷺ وہ ہڈی لے لیتے او ر)اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں نے منہ رکھا تھا۔( اور کھایا تھا) "امام صاحب فرماتے ہیں :ہمیں سلم بن جنادہ نے بھی اسی سند سے ایسی ہی روایت بیان کی ہے ۔

Hadith 110

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 111

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ الزَّهْرَانِيَّ- حَدَّثَنَا مَالِكٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ -مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ- أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ -وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ- أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، وَنَحْمِلُ الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا مِنْهُ عَطِشْنَا، أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ: "هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ". هَذَا حَدِيثُ يُونُسَ. وَقَالَ يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ: عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ. وَلَمْ يَقُلْ: مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، وَلَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ. وَقَالَ: نَرْكَبُ الْبَحْرَ أَزْمَانًا.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے مسئلہ دریافت کرتے ہوئے عرض کی: اے اللہ کے رسول !ہم سمندری سفر کرتے ہیں او راپنے ساتھ تھوڑا ساپانی لے جاتے ہیں ۔ اگر ہم اس سے وضو کریں تو پیا سے رہ جائیں گے ، تو کیا ہم سمندری پانی سے وضو کرلیں ؟ آپ نے فرمایا:"اس کا پانی پاک ہے ، اس کا مردار حلال ہے ۔"یہ یونس کی حدیث ہے ۔ امام صاحب کہتے ہیں:یحییٰ بن حکیم نے اپنی روایت میں " حدث" کی بجائے" عن"صفوان بن سلیم بیان کیا ہے ۔ انہوں نے سعید بن سلمہ کے نام کے ساتھ" من اٰل ان الازرق"اور مغیرہ کے نام کے ساتھ " من بنی عبدالدار"نہیں کیا (یعنی ان کے قبیلوں کا نام نہیں لیا)۔ نیز ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ:"ہم مدتوں سمندری سفر میں رہتے ہیں۔"

عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 111

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 112

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، حَدَّثَنِي [19 - أ] إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، عَنِ ابْنِ مِقْسَمٍ، -قَالَ أَحْمَدُ: يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ- عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْبَحْرِ، قَالَ: "هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، وَالْحَلَالُ مَيْتَتُهُ".

"حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے سمند ر کے متعلق پوچھا گیا، آپ نے فرمایا:"اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔"

جَابِرٍ ← أَحْمَدُ: يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ- ← ابْنِ مِقْسَمٍ، ← أ] إِسْحَاقُ بْنُ حَازِمٍ، ← أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 112

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 113

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَسَهْلُ بْنُ يُوسُفَ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَدَعَا فُلَانًا وَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: "اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ". فَانْطَلَقَا، فَلَقِيَا امْرَأَةً بَيْنَ سَطِيحَتَيْنِ -أَوْ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ- عَلَى بَعِيرٍ، فَقَالَا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ قَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفاً. فَقَالَ لَهَا: انْطَلِقِي. فَقَالَتْ: أَيْنَ؟ قَالَا لَهَا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ؟ قَالَا لَهَا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ. فَانْطَلَقَي، فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ. فَقَالَ: "اسْتَنْزِلُوهَا مِنْ بَعِيرِهَا"، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ، فَجَعَلَ فِيهِ أَفْوَاهَ الْمَزَادَتَيْنِ -أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ- قَالَا: ثُمَّ مَضْمَضَ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ -أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ-، ثُمَّ أَطْلَقَ أَفْوَاهَهُمَا. ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ".

"حضرت عمران بن حصینؓ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دفعہ) ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ نے فلاں شخص اور حضرت علی بن ابو طالب ؓ کو بلایا اور فرمایا:"جاؤ ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لاؤ۔ تو وہ دونوں (پانی کی تلاش میں ) چلے گئے ۔ وہ ایک عورت سے ملے جو دو مشکیزوں یا پانی کے دو تھیلوں کے درمیان اونٹ پر سوار (جا رہی ) تھی۔ انہوں نے اس سے پوچھا : پانی کہاں ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ کل اس وقت میں پانی (کے چشمے ) پر تھی۔ اور ہمارے مرد پیچھے ہیں ۔ حضرت علی نے اسے کہا: چلو، اس نے دریافت کیا: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ کی خدمت میں ۔ اس نے کہا: یہ وہی شخص ہے جسے صابی (بے دین ) کہا جاتا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں وہی ہے جسے تم سمجھی ہو۔ تو وہ دونوں(اس عورت کو لے کر) چلے ، اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں اسے لے آئے ، اور آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: اسے کہو کہ اپنے اونٹ سے اتر جائے ۔ پھر رسول اللہﷺ نے ایک برتن منگوایا ، اور تھیلیوں یا مشکیزوں کے منہ اس میں دکھ دیے ۔ انہوں نے کہا:پھر آپ نے کلی کی اور پانی دوبارہ تھیلوں یا مشکیزوں میں ڈال دیا۔پھر ان کے منہ کھول دیے گئے پھر لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ خود پیو اور (جانوروں کو) پلالو۔"راوی نے مکمل طویل حدیث بیان کی۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، ← سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 113

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 114

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَخِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيْتَةٌ. قَالَ: "دِبَاغُهُ يَذْهَبُ بِخُبْثِهِ أَوْ نَجَسِهِ أَوْ رِجْسِهِ".

"حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ؓ نے ایک مشکیزے سے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی: یہ مردار ( جانور کے چمڑے سے بنا ہوا مشکیزہ ) ہے ۔ آپ نے فرمایا: اس کی دباغت ، اس کی پلیدی ، ناپاکی اور گندگی دور کردیتی ہے ۔"

"دِبَاغُهُ يَذْهَبُ بِخُبْثِهِ أَوْ نَجَسِهِ أَوْ رِجْسِهِ". ← أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَتَوَضَّأَ مِنْ سِقَاءٍ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُ مَيْتَةٌ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَخِيهِ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 114

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 115

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي يَزِيد ابْنَ زُرَيْعٍ-، نَا سَعِيدٌ، نَا قَتَادَةُ؛ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ أُنَاسًا -أَوْ رِجَالًا- مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَدِينَةَ، فَتَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ، وَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّا أَهْلُ ضِرْعٍ، وَلَمْ نَكُنْ أَهْلَ رِيفٍ. فَاسْتَوْحَشُوا الْمَدِينَةَ، فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذَوْدٍ وَرَاعٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا فِيهَا فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبُوالِهَا وَأَلْبَانِهَا. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ عکل اور عریبہ قبیلے کے کچھ لوگ یا کچھ آدمی مدینہ منورہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! ہم مویشیوں والے لوگ ہیں( مویشی پالتے ہیں) اور کھیتی باڑی کرنے والے نہیں ہیں۔ پھر انہیں مدینہ منورہ کی آب وہوا موافق نہ آئی ( تو وہ بیمار ہو گئے) رسول اللہﷺ نے انہیں کچھ اونٹ اور ایک چرواہا دینے کا حکم دیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان اونٹوں کے ساتھ (مدینہ منورہ سے باہر) چلے جائیں اور ان کے پیشاب اور دودھ پئیں۔"پھر مکمل حدیث بیان کی۔

قَتَادَةُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي يَزِيد ابْنَ زُرَيْعٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 115

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 116

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْمَكُّوكُ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُدُّ نَفْسُهُ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک مد سے وضو اور پانچ مد سے غسل کیا کرتے تھے۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:"اس حدیث میں مذکورہ "مکوک"سے مراد "مد"ہی ہے ۔

أَبُو بَكْرٍ: الْمَكُّوكُ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْمُدُّ نَفْسُهُ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ، وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 116

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 117

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ الْمُدُّ، وَمِنَ الْجَنَابَةِ الصَّاعُ". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَا يَكْفِينَا ذَلِكَ يَا جَابِرُ؟ فَقَالَ: قَدْ كَفَى مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَأَكْثَرُ شَعْرًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "يُجْزِئُ مِنَ الْوُضُوءِ الْمُدُّ"، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ تَوْقِيتَ الْمُدِّ مِنَ الْمَاءِ لِلْوُضُوءِ (1) أَنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُ، لَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ النُّقْصَانُ مِنْهُ، وَلَا الزِّيَادَةُ فِيهِ.

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"وضو کےلیے ایک مد اور (غسل) جنابت کےلیے ایک صاع (پانی ) کافی ہے ۔ ایک شخص نے انہیں کہا: اے جابر! ہمیں (پانی کی) یہ مقدار کافی نہیں ہے ۔ تو انہوں نے فرمایا:"تم سے بہتر واعلیٰ اور زیادہ بالوں والی شخصیت(نبیﷺ ) کو یہ پانی کافی تھا۔ امام ابوبکر فرماتےہیں:"نبی اکرم ﷺ کے فرمان"وضو کےلیے ایک مد کافی ہے "میں یہ دلیل ہے کہ وضو کےلیے ایک مد پانی کی مقدار مقرر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مقدار کافی ہے ۔ یہ مطلب نہیں کہ اس مقدار سے کم وبیش پانی استعمال کرنا جائز نہیں۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنٍ وَيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمَذَانِيُّ مِنْ كِتَابِهِ،

Hadith 117

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals