Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 82

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ- قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَع رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لَا. وَلَكِناْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَة فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، قال: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاء. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَة بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ: "أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ". قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ. قَالَ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ. فَقَالَ: "لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفًا لِدَوَابِّكُمْ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْأَعْلَى. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلَا بِالْبَعْرِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ

"حضرت عامر ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے پوچھا : کیا حضرت ابن مسعود ؓ جنوں(سے ملاقات ) والی رات رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے؟ تو علقمہ ؒ نے فرمایا : میں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے پوچھا تو میں نے عرض کی : کیا تم میں سے کوئی شخص جنوں (سے ملاقات) والی رات رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا۔ ہم نے آپ کو (پہاڑوں کی ) وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا(لیکن آپ نہ ملے ) تو ہم نے (آپس میں) کہا: آپ کو جنوں نے اغوا کر لیا ہے یا دھو کے سے قتل کردئیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بدترین رات گزاری جیسے کوئی قوم گزارتی ہے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ حراء کی طرف سے تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیے ، ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو گم پایا تو آپ کو (ہر جگہ) تلاش کیا مگر آپ ہمیں نہ ملے ، تو ہم نے ایسی بری رات گزاری جو کوئی قوم گزارتی ہے ۔ آپ نے فرمایا:"میرے پاس جنوں کا پیغا مبر آیا تھا تو میں اس کے ساتھ گیا اور انہیں قرآن مجید کی تلاوت سنائی۔"حضرت ابن مسعود کہتے ہیں: پھر آپ ہمیں(ان کے پڑاؤ کی جگہ) لے گئے اور ہمیں ان کی بجھی ہوئی) آگ دکھائی ۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں : انہوں نے آپ سے (اپنی) خوراک کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تمہاری خورات ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی وہ گوشت سے بھرپور ہو جائے گی۔ اور ہر لید تمہارے چوپاؤں کا چارہ ہے ۔"پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں (ہڈی اور لید) سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے ۔"یہ عبدالاعلیٰ کی روایت ہے ۔ ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ؤ نے فرمایا:"تم ہڈی اور لید سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔

عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 82

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 83

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْس [15 - أ]، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَجْلَانِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ -صَلّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَهْلِ قُبَاءٍ: "إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحْسَنَ عَلَيْكُمُ الثَنَاءَ فِي الطُّهُورِ"، وَقَالَ: " (فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا) " [التوبة: 108] حَتَّى انْقَضَتِ الْآيَةُ. فَقَالَ لَهُمْ: "مَا هَذَا الطُّهُورُ؟ " فَقَالُوا: مَا نَعْلَمُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّهُ كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَكَانُوا يَغْسِلُونَ أَدْبَارَهُمْ مِنَ الْغَائِطِ، فَغَسَلْنَا كَمَا غَسَلُوا".

"حضرت عویم بن ساعدہ انصاری عجلانیؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؓ نے قبا والوں سے فرمایا:"بے شک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری بڑی اچھی تعریف کی ہے ۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ( فِیْہِ رِجَالٌ یُحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَھَّرُوْا۔۔۔۔)اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔"پھر آ پ نے ان سے پوچھا : وہ کیسی طہارت ہے؟ (کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے تمہاری اتنی تعریف کی ہے ) انہوں نے عرض کیا : ہمیں کسی چیز کا علم نہیں سوائے اس کے کچھ یہودی ہمارے ہمسائے تھے جو قضائے حاجت سے اپنی پشتوں کو دھوتے تھے تو ہم نے بھی(استنجا کرتے وقت اپنی پشتوں کو ) دھونا شروع کر دیا جیسے وہ دھوتے تھے۔"

عُوَيْمِ بْنِ سَاعِدَةَ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ الْعَجْلَانِيِّ: ← شرحبيل بن سعد ← أَبِي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْس أ]، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 83

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 84

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ؛ حَدَّثَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، نَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَةٍ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَتَغَسَّلُ بِه.

"حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب قضائے حاجت کےلیے باہر نکلتے تو میں آپ کے پاس پانی لے کر آتا ، آپ اس سے استنجا کرتے اور اپنی پشت دھوتے ۔"

"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا تَبَرَّزَ لِحَاجَةٍ أَتَيْتُهُ بِمَاءٍ فَيَتَغَسَّلُ بِه. ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 84

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 85

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، نَا سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: "أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، ذَهَبْتُ مَعَهُ بِعُكَّازٍ وَإِدَاوَةٍ، فَإِذَا خَرَجَ يَمَسَحُ بِالْمَاءِ، وَتَوَضَّأَ مِنَ الْإِدَاوَةِ".

"حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمؓ جب قضائے حاجت کےلی جاتے تو میں آپ کے ساتھ ایک چھڑی اور پانی کا برتن لے کر جاتا ، جب آپ (فراغت کے بعد) نکلتے توپانی سے استنجا کرتے اور پانی کے برتن سے وضو کرتے۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← شُعْبَةُ، ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ الزَّهْرَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 85

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 86

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، اتَّبَعْنَاهُ أَنَا وَغُلَامٌ آخَرُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: "أَبُو مُعَاذٍ هَذَا، هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ.

"حضرت ابو معاذ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہﷺ جب قضائے حاجت کےلیے جاتے تو میں اور ایک لڑکا پانی کا برتن لے کر آپ کے پیچھے جاتے ۔"امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ ابو معاذ عطاء بن ابی میمونہ ہیں۔

أَبُو بَكْرٍ: "أَبُو مُعَاذٍ هَذَا، هُوَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ. ← وَغُلَامٌ آخَرُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا خَرَجَ لِحَاجَتِهِ، اتَّبَعْنَاهُ ← أَنَسًا ← أَبِي مُعَاذٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَنْبَرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 86

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 87

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ أَنَا وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَغَيْرِهِ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں:"رسول اللہﷺ جب بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میرے جیسا ایک اور لڑکا پانی کا برتن اٹھا کر لے جاتے ۔ آپ پانی سے استنجا کرتے۔"

وَغُلَامٌ نَحْوِي إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ وَغَيْرِهِ فَيَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ. ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَدْخُلُ الْخَلَاءَ، فَأَحْمِلُ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 87

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 88

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ؛ قَالُوا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ-، نَا مُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَالسِّوَاكُ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَنَتْفُ الْإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الْأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ". قَالَ عَبْدَةُ فِي حَدِيثِهِ: وَالْعَاشِرَةُ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ مُصْعَبٌ: وَنَسِيتُ الْعَاشِرَةَ إِلَّا أَنْ [15 - ب] تَكُونَ الْمَضْمَضَةَ. قَالَ وَكِيعٌ: انْتِقَاصُ الْمَاءِ إِذَا نَضَحَهُ بِالْمَاءِ نَقَصَ. وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ رَافِعٍ الْعَاشِرَةَ، لَا بِيَقِينٍ، وَلَا شَكَّ.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا:"دس کام فطرت سے ہیں: مونچھیں کاٹنا ، نا ک میں پانی ڈالنا ، (اور اسے صاف کرنا) ، مسواک کرنا، داڑھی بڑھانا، بغلوں کے بال اکھیڑ نا ، زیر ناف بال صاف کرنا ، استنجا کرنا ، (یا وضو کے بعد شرم گاہ کو چھینٹے مارنا) ناخن تراشنا اور انگلیوں کے جوڑ دھونا ۔"عبدہ اپنی روایت میں کہتے ہیں:"دسویں کام کا مجھے علم نہیں کہ وہ کیا ہے ، مگر یہ کہ کلی کرنا ہو۔"وکیع کی روایت میں ہے ۔"مصعب نے کہا کہ میں دسواں کام بھول گیا ہوں ، ممکن ہے کلی کرنا ہو۔"وکیع فرماتے ہیں:" إنتقَاصُ الْمَاءَ"پانی کا کم ہونا"اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اپنی شرم گاہ کو پانی سے چھینٹے مارے گا تو پیشاب کے قطرے نکلنے بند ہوجائیں گے ۔ (امام صاحب فرماتے ہیں) :ابن رافع اور سفیان نے دسواں کام ذکر نہیں کیا اور نہ شک کرتے ہوئے دسواں کام بیان کیا ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ؛ ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← زَكَرِيَّا -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، ← وَكِيعٌ؛ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 88

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 89

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثَنَا أَبَانُ بْن عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْغَيْضَةَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَأَتَاهُ جَرِيرٌ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، فَاسْتَنْجَى بِهَا. قَالَ: وَمَسَحَ يَدَهُ بِالتُّرَابِ.

"حضرت ابراہیم جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ جھاڑی میں داخل ہوئے اور قضائے حاجت کی ، تو حضرت جریرؓ آپ کے پاس پانی برتن لےکر حاضر ہوئے ، آپ نےپانی سے استنجا کیا ، وہ کہتے ہیں : اور آپ نے اپنا ہاتھ مٹی سے ملا۔"

أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَرِيرٍ ← أبان بن عبد الله البجلي ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 89

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 90

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، نَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، قَالَ: "غُفْرَانَكَ". حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ: بِهَذَا مِثْلَهُ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ ذِكْرِ الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ

"حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس گیا تو میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا:"رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء سے باہر نکلتے تو کہتے :(( غُفْرَانَکَ))" اے اللہ! تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔"(امام صاحب فرماتے ہیں):"ہمیں محمد بن اسلم نے عبید اللہ بن موسیٰ سے اور انہوں نے اسرائیل سے اسی طرح روایت بیان کی۔"

الْمَاءِ الَّذِي لَا يَنْجُسُ وَالَّذِي يَنْجُسُ إِذَا خَالَطَتْهُ نَجَاسَةٌ ← إِسْرَائِيلَ: بِهَذَا مِثْلَهُ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ أَسْلَمَ، ← «غُفْرَانَكَ» ← دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَسَمِعْتُهَا تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ إِذَا خَرَجَ مِنَ الْغَائِطِ، ← أَبِيهِ ← يُوسُفَ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، ← اِسْرَائِیْلُ ← يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 90

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 91

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ تَوَضَّأْتُ مِنْ هَذَا. فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "الْمَاءُ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ". هَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ بْنِ الْمِقْدَامِ.

"حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے وضو کرنے کا ارادہ کیا تو آپ کی ازواج مطہرات میں سے ایک زوجہ محترمہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول !میں نے اس (پانی ) سے وضو کیا ہے ۔ تو نبی اکرمﷺ نے وضو کیا اور فرمایا: پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔"یہ احمد بن مقدام کی روایت ہے ۔

أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَتَوَضَّأَ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 91

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 92

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ وَمُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ، وَأَبُو الْأَزْهَرِ حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ. قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَبَدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنِ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ". هَذَا حَدِيثُ حَوْثَرَة. وَقَالَ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: [16 - أ] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ. وَقَالَ أَيْضًا: "لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ". وَأَمَّا الْمُخَرِّمِيُّ فَإِنَّهُ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلِ الْخَبَثَ". وَلَمْ يَذْكُرْ مَسْأَلَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْمَاءِ، وَمَا يَنُوبُهُ مِنَ السِّبَاعِ وَالدَّوَابِّ.

"حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ سے اس پانی کے متعلق پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے (پانی پینے کےلیے ) آتے جاتے رہتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جب پانی دو مٹکے ہو تو وہ ناپاک نہیں ہوتا۔"یہ موثرہ کی روایت ہے ۔ موسیٰ بن عبدالرحمان نے اپنی روایت میں " حدث"کی بجائے " عن "بیان کیا ہے ۔ اور " لَم یَحْمِلْ الخُبَثَ"کی بجائے " لَمْ یُنَجِّسْہُ شَیءٌ"اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی "کے الفاظ بیان کیے ہیں۔(امام صاحب کہتے ہیں) مخرمی نے ہمیں مختصر روایت بیان کی ہے ، اور کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جب پانی دو مٹکے ہو تو ناپاک نہیں ہوتا۔"انہوں نے نبی ﷺ سے پانی اور اس پرآنے جانے والے درندوں اور چوپائیوں کے متعلق سوال کا تذکرہ نہیں کیا۔"

مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو الْأَزْهَرِ، حَوْثَرَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَصْرِيُّ، ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 92

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 93

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ، وَهُوَ جُنُبٌ". قَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلاً.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"تم میں سے کوئی شخص کھڑے پانی میں غسل نہ کرے جبکہ وہ جنبی ہو۔"اس نے عرض کی : اے ابوہریرہ! پھر وہ کیسے (غسل) کرے؟ انہوں نے جواب دیا: وہ (اس میں سے ) پانی لے لے ( اور باہر بیٹھ کر غسل کرے۔)

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَنَّهُ ← أَنَّ أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 93

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals