صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَامَعُ الأَبوَابِ ، ذِکرُ المَا ءِ الَّذِی لَا یَنجُسُ وَالَّذِی یَنجُسُ اِذَا خَالَطَتہُ نَجَاسَۃٌ · حديث 82
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ دَاوُدَ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ- قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَلْقَمَةَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ عَلْقَمَةُ: أَنَا سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقُلْتُ: هَلْ شَهِدَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مَع رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْجِنِّ؟ فَقَالَ: لَا. وَلَكِناْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَة فَفَقَدْنَاهُ، فَالْتَمَسْنَاهُ فِي الْأَوْدِيَةِ وَالشِّعَابِ، فَقُلْنَا: اسْتُطِيرَ أَوِ اغْتِيلَ، قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، قال: فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، إِذَا هُوَ جَاءٍ مِنْ قِبَلِ حِرَاء. قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَدْنَاكَ، فَطَلَبْنَاكَ، فَلَمْ نَجِدْكَ، فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَة بَاتَ بِهَا قَوْمٌ. قَالَ: "أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ". قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانَا نِيرَانَهُمْ. قَالَ: وَسَأَلُوهُ الزَّادَ. فَقَالَ: "لَكُمْ كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا يَكُونُ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرٍ عَلَفًا لِدَوَابِّكُمْ". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهَا طَعَامُ إِخْوَانِكُمْ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الْأَعْلَى. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَسْتَنْجُوا بِالْعَظْمِ وَلَا بِالْبَعْرِ، فَإِنَّهُ زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْمَاءِ
"حضرت عامر ؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علقمہ سے پوچھا : کیا حضرت ابن مسعود ؓ جنوں(سے ملاقات ) والی رات رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے؟ تو علقمہ ؒ نے فرمایا : میں نے حضرت ابن مسعود ؓ سے پوچھا تو میں نے عرض کی : کیا تم میں سے کوئی شخص جنوں (سے ملاقات) والی رات رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: نہیں، لیکن ایک رات ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے تو ہم نے آپ کو گم پایا۔ ہم نے آپ کو (پہاڑوں کی ) وادیوں اور گھاٹیوں میں تلاش کیا(لیکن آپ نہ ملے ) تو ہم نے (آپس میں) کہا: آپ کو جنوں نے اغوا کر لیا ہے یا دھو کے سے قتل کردئیے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے بدترین رات گزاری جیسے کوئی قوم گزارتی ہے ۔ پھر جب صبح ہوئی تو آپ حراء کی طرف سے تشریف لاتے ہوئے دکھائی دیے ، ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم نے آپ کو گم پایا تو آپ کو (ہر جگہ) تلاش کیا مگر آپ ہمیں نہ ملے ، تو ہم نے ایسی بری رات گزاری جو کوئی قوم گزارتی ہے ۔ آپ نے فرمایا:"میرے پاس جنوں کا پیغا مبر آیا تھا تو میں اس کے ساتھ گیا اور انہیں قرآن مجید کی تلاوت سنائی۔"حضرت ابن مسعود کہتے ہیں: پھر آپ ہمیں(ان کے پڑاؤ کی جگہ) لے گئے اور ہمیں ان کی بجھی ہوئی) آگ دکھائی ۔ حضرت ابن مسعود کہتے ہیں : انہوں نے آپ سے (اپنی) خوراک کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تمہاری خورات ہر وہ ہڈی ہے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھوں میں آتے ہی وہ گوشت سے بھرپور ہو جائے گی۔ اور ہر لید تمہارے چوپاؤں کا چارہ ہے ۔"پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں (ہڈی اور لید) سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائیوں کا کھانا ہے ۔"یہ عبدالاعلیٰ کی روایت ہے ۔ ابن ابی زائدہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ؤ نے فرمایا:"تم ہڈی اور لید سے استنجا مت کرو کیونکہ وہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے۔
عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← دَاوُدُ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 82
