Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1939

نَا بُنْدَارٌ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، نَا زَمْعَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ، وَبِقَيْلُولَةِ النَّهَارِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ".

سحری کھانے سے روزہ رکھنے میں مدد لینے کےحکم کا بیان بشرطیکہ زمعہ بن صالح کی روایت سے دلیل لینا درست ہو کیونکہ ان کے برے حافظے کی وجہ سے میرا دل غیر مطمئن ہے

"اسْتَعِينُوا بِطَعَامِ السَّحَرِ عَلَى صِيَامِ النَّهَارِ، وَبِقَيْلُولَةِ النَّهَارِ عَلَى قِيَامِ اللَّيْلِ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، ← زَمْعَةُ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1939

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1940

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، نَا مُوسَى بْنُ عَلِي؛ ح وَثَنَا يُونُسُ، نَا عَبْد اللَّه بْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني مُوسَى بْنُ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا عَبْد اللَّه -يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ-؛ ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أُكْلَةُ السَّحُورِ". وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ: مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ.

''حضرت عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ کے آزادکردہ غلام ابو قیس بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : "ہمارے روزوں اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔''جناب وکیع کی روایت میں ہے:''تمہارے روزوں (اور اہل کتاب کے روزوں ) کے درمیان ۔'

أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← وَكِيعٌ، كِلَاهُمَا ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ -يَعْنِي ابْن الْمُبَارَكِ- ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← مُوسَى بْنِ عَلِي بْنِ رَبَاحٍ، ← وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← وَثَنَا يُونُسُ، ← مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1940

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1941

نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، نَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- نَا هِشَامٌ صَاحِبُ الدَّسْتُوَائِيِّ، نَا قَتَادَةُ؛ ح وَثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ؛ ح وَثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْد بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[202 - أ] ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ". قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ، وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ.

''حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ ہم نے رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر ہم نماز کےلیے اٹھ گئے۔میں نے پوچھا :سحری کرنے اور نماز کے درمیان کتنا وقعہ تھا؟انہوں نے جواب دیا: پچاس آیت کی قراءت کرنے کی مقدار کے برابر وقفہ تھا۔'

قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً. مَعَانِي أَحَادِيثِهِمْ سَوَاءٌ، وَهَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ. ← تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه أ] ثُمَّ قُمْنَا إِلَى الصَّلَاةِ". قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← وَثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← وَكِيعٌ، ← وَثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1941

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1942

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: كُنْتُ أَتَسَحَّرُ فِي أَهْلِي، ثُمَّ تَكُونُ سُرْعَةٌ [بِي] أَنْ أُدْرِكَ صَلَاةَ الصُّبْحِ مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَفْعَالِ اللَّوَاتِي تُفَطِّرُ الصَّائِمَ

''حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سحری کھانا پھر میں نماز فجر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ادا کرنے کےلیے جلدی کرتا۔'

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ، أَنَّهُ ← سُلَيْمَانُ -وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ- ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1942

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1943

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ؛ ح وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة؛ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِي؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن أَنَّ أَبَا هُرَيْرَة حَدَّثَهُ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ رَجُلا أَفْطَرَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِتْقِ رَقَبَةٍ، أَوْ صِيَامِ شَهْرَيْنِ، أَوْ إِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا. قَالَ مَالِكٌ فِي عَقِبِ خَبَرهِ: وَكَانَ فِطْرُهُ بِجِمَاعٍ.

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان میں روزہ توڑنے والے شخص کو حکم دیا کہ وہ ایک گردن آزاد کرائے یا وہ ماہ کے روزے رکھے یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلایئے۔''امام مالک نے اپنی روایت کے بعد فرمایا : ''اس شخص نے اپنی بیوی سے جماع کرکے روزہ توڑا تھا۔''

حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← وَحَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1943

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1944

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، نَا سُفْيَان، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِي، سَمِعَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: جَاءَ رَجُل إِلَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَقَالَ: هَلَكْتُ. فَقَالَ: "وَمَا أَهْلَكَكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقَالَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ ". قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "اجْلِسْ"، فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، قَالَ: وَالْعَرَقُ هُوَ الْمِكْتَلُ (1) الضَّخْمُ. قَالَ: "خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَعَلَى أَهْلِ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا، فَمَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَفْقَرَ مِنَّا. فَضَحِكَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ، وَقَالَ: "اذْهَبْ فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : ''میں ہلاک ہو گیا۔''آپ نے پوچھا : تجھے کس چیز نے ہلاک کیا ہے؟ اس نے جواب دیا :''میں نے ماہ رمضان میں (دن کے وقت روزے کی حالت میں)اپنی بیوی سےہم بستری کر لی ہے ۔آپ نے پوچھا :''کیا تم ایک گردن آزاد کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ اس نے کہا : نہیں ۔آپ نے پوچھا : توکیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا :نہیں۔آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔تو وہ شخص بیٹھ گیا۔ پھر اس اثنا میں نبی کریم ﷺ کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا۔ عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں۔آپ نے فرمایا : ''یہ ٹوکرا لے لو اور یہ کھجوریں صدقہ کردو۔''تو اس نے عرض کہ اے اللہ کے رسول ! کیا میں اپنے سے زیادہ غریب لوگوں پر صدقہ کروں؟ تو مدینہ منورہ کے پتھریلے اطراف کے درمیان ہم سے زیادہ غریب گھرانہ کوئی نہیں ہے۔ اس بات پر نبی کریم ﷺ خوب ہنسے حتی کہ آپ کے کچلی والے دانت مبارک ظاہر ہوگئے۔اور آپ نے فرمایا:"جاؤ اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دو۔''

"خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ". فَقَالَ: ← وَالْعَرَقُ هُوَ الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ. ← "اجْلِسْ"، فَجَلَسَ فَأُتِيَ النَبِيّ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، ← لَا۔ ← "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ ← لَا۔ ← "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ ← لَا۔ ← وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي شَهْرِ رَمَضَانَ. فَقَالَ: "هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُعْتِقَ رَقَبَةً؟ ← جَاءَ رَجُل إِلَى النَبِيّ فَقَالَ: هَلَكْتُ. فَقَالَ: "وَمَا أَهْلَكَكَ؟ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدَ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن يُخْبِرُ، ← حَفِظْتُهُ مِنْ فِي الزُّهْرِي، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1944

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1945

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: جَاءَ رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ لَهُ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ. قَالَ: فَقَالَ لَهُ: "أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: "أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ: لَا. قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ فَقَالَ: "أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ". فَقَالَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا، قَالَ: "فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رسو ل اللہ کی خدمت میں حاضر ہو اور آپ سے کہنے لگا کہ اس بد نصیب نے رمضان مبارک میں (دن کےوقت) اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے۔تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا :کیا تیرے پاس گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے؟ اس نے عرض کیا نہیں ۔آپ نے دریافت کیا :کیا تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا :نہیں ۔آپ نے کہا:کیا تمہارے پاس ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کی گنجائش ہے؟ اس نے عرض کی: نہیں ۔پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا ٹوکرا لا یا گیا جس مین کھجوریں تھیں۔اسے زنبیل کہتے ہیں۔ تو آپ نے فرمایا : ''اپنی طرف سے یہ کھجوریں (مساکین کو) کھلا دو۔''تو اس نے عرض کی:" مدینے کے دو پتھریلے کناروں کے درمیان ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ نہیں ہے تو آپ نے فرمایا:''تو اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔'

"فَأَطْعِمْ أَهْلَكَ". ← مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجَ مِنَّا، ← "أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ". ← فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزِّنْبِيلُ ← لَا۔ ← "أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ سِتِّينَ مِسْكِينًا؟ ← لَا۔ ← "أَفَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ؟ ← لَا۔ ← لَهُ: "أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً؟ ← لَهُ: إِنَّ الْآخَرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ. ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1945

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1946

نَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَني عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْد اللَّه بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَة تَقُولُ: أَتَى رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! احْتَرَقْتُ، فَسَأَلَهُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَأْنُهُ. فَقَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِيَ. قَالَ: "تَصَدَّقْ". قَالَ: وَاللَّه مَا لِي شَيْءٌ وَمَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ. قَالَ: "اجْلِسْ". فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ، أَقْبَلَ رَجُل يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ "، فَقَامَ الرَجُل، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَصَدَّقْ بِهَذَا". فَقَالَ: عَلَى غَيْرنَا؟ فَوَاللَّه إِنَّا لَجِيَاعٌ، وَمَا لَنَا شَيْءٌ. قَالَ: "فَكُلُوهُ". وَقَالَ ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ: قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَغَيْرنَا فَوَاللَّه ...

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں مسجد میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول !میں برباد ہو گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ا س سے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے؟ تو اس نےبتایا کہ میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے ۔آپ نے فرمایا :صدقہ کرو۔''اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میرے پاس کچھ نہیں ہے اور نہ میں صدقہ کرنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔ تو وہ بیٹھ گیا ۔ اسی اثنا میں کہ وہ بیٹھا ہو تھا ، ایک شخص گدھا ہانکتا ہو ا آ گیا ، جس پر کھانا لدا ہو تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''برباد ہونے والا شخص کہاں ہے؟ تو وہ شخص کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''یہ غلبہ صدقہ کردو۔تو اس نے عرض کی : کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں؟ اللہ کی قسم ! ہم خود بھوکے ہیں اور ہمارے پاس کچھ نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ''تو تم ہی اسے کھالو۔''جناب عبدالحکیم کی روایت میں ہے:''اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا اپنے علاوہ کسی اور شخص پر صدقہ کروں اللہ کی قسم ! (ہم تو خود بھوکے اور محتاج ہیں )۔''

عَائِشَة تَقُولُ: أَتَى رَجُل إِلَى رَسُولِ اللَّه فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: ← أَنَّهُ ← أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْد اللَّه بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ؛ أَنَّ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، ← وَأَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1946

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1947

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا مُصْعَبُ بْنُ عَبْد اللَّه، نَا عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ وَقَالَ الْعِرَاقِيُّونَ: يُطْعِمُ كُلَّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. فَأَمَّا ثُلُثُ صَاعٍ، فَلَسْتُ أَحْفَظُ عَنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ يَجُوز أَنْ يَكُونَ تَرْكُ ذِكْر الْأَمْرِ بِصِيَامِ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ فِي هَذَا [203 - أ] الْخَبَر إِنَّمَا كَانَ لِأَنَّ السُّؤَالَ فِي هَذَا الْخَبَر إِنَّمَا كَانَ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ [أَنْ] يَقْضِيَ الشَّهْرَ، وَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ لِهَذِهِ الْحَوْبَةِ لَا يُمْكِنُ الِابْتِدَاءُ فِيهِ إِلَّا بَعْدَ أَنْ يُقْضَى شَهْرُ رَمَضَانَ، وَبَعْدَ مُضِيِّ يَوْمٍ مِنْ شَوَّالٍ. فَأَمَرَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُجَامِعَ (1) بِإِطْعَامِ سِتِّينَ مِسْكِينًا، إِذِ الْإِطْعَامُ مُمْكِنٌ فِي رَمَضَانَ لَوْ كَانَ الْمُجَامِعُ مَالِكًا لِقَدْرِ الْإِطْعَامِ، فَأَمَرَهُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا (2) يَجُوز لَهُ فِعْلُهُ مُعَجِّلًا، دُونَ مَا لَا يَجُوز لَهُ فِعْلُهُ إِلَّا بَعْدَ مُضِيِّ أَيَّامٍ وَلَيَالي وَاللَّه أَعْلَمُ. وَلَسْتُ أَحْفَظُ فِي شَيْءٍ مِنْ أَخْبَارِ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّ السُّؤَالَ مِنَ (3) الْمُجَامِعِ قَبْلَ [أَنْ] يَنْقَضِيَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَجَازَ إِذَا كَانَ السُّؤَالُ بَعْدَ مُضِيِّ رَمَضَانَ أَنْ يُؤْمَرَ بِصِيَامِ شَهْرَيْنِ. لِأَنَّ الصِّيَامَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ لِلْكَفَّارَةِ (4) جَائِزَةٌ.

''حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بلند سائے میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس بنی بیاض کا ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! میں برباد ہو گیا ۔ نبی کریم ﷺ نے اسے پوچھا : تمہیں کیا ہوا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں اپنی بیوی سے (روزے کی حالت میں ) ہم بستری کر لی ہے۔ اور یہ کام رمضان المبارک میں کیاتو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ ایک گردن آزاد کرو۔ اس نے کہا کہ میرے پا س گردن آزاد کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا : ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ۔ اس نے عرض کی : میرے پاس (اتنا اناج بھی) نہیں ہے۔ آپ نے کہا : بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بڑا ٹوکرالایا گیا جس میں بیس صاع (کھجوریں) تھیں تو آپ نے پوچھا : ابھی ابھی سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا : اے اللہ کے رسول ! میں یہ حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا : یہ لے لو او ر اسکا صدقہ کردو۔اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا میں اپنے اور اپنے گھر والوں سے زیادہ محتاج اور فقیر پر صدقہ کروں؟ تو اس ذات کی قسم جس نےآپ کو حق دے کر بھیجا ہے آج را ت ہمارے پاس رات کا کھانا نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :''تو پھر اسے اپنے اور اپنے گھر والوں پر خرچ کر لے۔''اس روایت میں روزوں کا ذکر نہیں ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''اگریہ الفاظ ثابت ہو جائیں:''ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں بیس صاع اناج تھا ''تو پھر نبی کریم ﷺ نے اس جماع کرنے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ ہر مسکین کو ایک تہائی صاع کھجوریں دے دے۔''کیونکہ بیس صاع جب ساٹھ مسکین میں تقسم کریں گے تو ہر مسکین کو تہائی صاع ملے گا ۔ لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ الفاظ ثابت ہوں ۔ کیونکہ امام زہری ؒ کی روایت میں ہے: ''ایک ٹوکرا لا گیا جس میں پندرہ یا بیس صاع کھجوریں تھیں ۔ یہ امام زہری سے منصور بن معتمر کی خبر ہے ۔ جبکہ ہقل بن زیاد نے امام اوزاعی کے واسطے سے امام زہری سے بیان کیا ہے: ''پندرہ صاع '' میں نے یہ دونوں روایات بعد میں بیان کر دی ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ کسی حجازی یا عراقی عالم دین نے یہ فتویٰ دیا ہوکہ رمضان میں جما ع کے کفار ے میں ہر مسکین کو تہائی صاع کھلائے ۔ حجاز کے علماء کہتے ہیں :''وہ ہر مسکین کو ایک مد کھانا کھلا دے ، وہ کھجوریں ہوں یا دیگر اناج ۔ جبکہ عراقی علماء کہتے ہیں : ''ہر مسکین کو ایک صاع کھجوریں کھلائے ۔ جبکہ تہائی صاع کے متعلق میری معلومات کے مطابق کسی نے نہیں کیا۔امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :'' مسکین کو ایک صاع کھجوریں کھلائے ۔ جبکہ تہائی صاع کے متعلق میری معلومات کے مطابق کسی نے نہیں کہا۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''یہ ممکن ہے کہ اس روایت میں دو ما ہ کے مسلسل روزے رکھنے کا حکم اس لیے چھو ڑ دیا گیا ہو کیونکہ اس روایت میں یہ سوال رمضا ن المبارک کے دوران مہینہ مکمل ہونے سے پہلے کیا گیا ہے۔ جبکہ اس گناہ کی وجہ سے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے کی ابتدا رمضان المبارک کے مکمل ہونے اور شوال کاایک دن گزرنے کے بعد ہی ممکن ہے۔ لہٰذا نبی کریم ﷺ نے جماع کرنے والے کو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کاحکم دیا کیونکہ اگر جماع کرنے والا مساکین کو کھانا کھلانے کی قدرت رکھتا ہو تو رمضان المبارک میں یہ کفارہ ادا کرنا ممکن ہے۔ اس طرح نبی کریم ﷺ نے اسے وہ حکم دیا ہے جس پر عمل کرناممکن تھا اور اس کا حکم نہیں دیا جس پر عمل کرنا کئی دن اور راتوں کے بعد ہی ممکن تھا ۔ واللہ اعلم ۔اور مجھے یاد نہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کسی روایت میں یہ مذکور ہو کہ جماع کرنے والے کا سوال ماہ رمضان کے مکمل ہونےسے پہلے تھا ۔ لہذا اگر یہ سوال رمضان المبارک کےبعد ہو تو پھر اسے دو ماہ کے روزے رکھنے کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت ہی کفارے کے طور پر روزے رکھنا جائز و ممکن ہے۔''

أَبُو بَكْرٍ: قَدْ يَجُوز أَنْ يَكُونَ تَرْكُ ← أَحَدٍ مِنْهُمْ. ← الْعِرَاقِيُّونَ: يُطْعِمُ كُلَّ مِسْكِينٍ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. فَأَمَّا ثُلُثُ صَاعٍ، فَلَسْتُ أَحْفَظُ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ ← مصعب بن عبد الله ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1947

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1948

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر عَائِشَة، قَالَ: "إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَيْءٌ. هَذَا فِي خَبَر عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ. وَفِي خَبَر عَبْد الرَّحْمَن بْنِ الْحَارِثِ: مَا لَنَا عَشَاءُ لَيْلَةٍ. وَفِي خَبَر أَبِي هُرَيْرَة: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا أَحْوَجَ مِنَّا.

''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :حضرت عائشہ کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں :''بے شک ہم خود بھوکے ہیں ، ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔''یہ بات عمر و بن حارث کی روایت میں ہے اور عبدالرحمن بن حارث کی روایت میں ہے۔ ''ہمارے پاس رات کا کھانا بھی نہیں ہے۔''اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:''مدینہ کے دو پتھریلے علاقوں کےدرمیان ہم سے زیادہ محتاج اور تنگ دست کوئی نہیں ہے۔''

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَر عَائِشَة،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1948

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1949

أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ رَجُل جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَة، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَاءَهُ رَجُل، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! هَلَكْتُ. قَالَ: "وَيْحَكَ، مَا شَأْنُكَ؟ " قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ. قَالَ: "أَعْتِقْ رَقَبَةً". قَالَ: مَا أَجِدُهَا. قَالَ: "صُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ". قَالَ: مَا أَسْتَطِيعُ. قَالَ: "أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: مَا أَجِدُهُ. قَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ، فَقَالَ: "خُذْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ" قَالَ: مَا أَجِدُ أَحَقَّ بِهِ مِنْ أَهْلِي يَا رَسُولَ اللَّه! مَا بَيْنَ طُنُبَيِ الْمَدِينَةِ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَيْهِ مِنِّي. فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ. قَالَ: "خُذْهُ، وَاسْتَغْفِرِ اللَّه".

رمضان المبارک کا روزہ جماع کرکے توڑنے کا گناہ کرنے والے شخص کو استغفار کرنے کا حکم دینے کا بیان ۔ جبکہ وہ گردن آزاد کرنے اور کھانا کھلانے کا کفارہ کھجوریں کھلا کر اد ا کرنے کے حکم کا بیان

جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّه جَاءَهُ رَجُل، فَقَالَ: ← بَيْنَمَا ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← رَجُل جَامَعَ أَهْلَهُ فِي رَمَضَانَ، ← عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1949

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1950

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثَنَا مُؤَمَّلٌ، ثَنَا سُفْيَان، ثَنَا مَنْصُورٌ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرُونَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ".

''حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ک:''تو رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں پندرہ یا بیس صاع کھجوریں تھیں ۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :''یہ لے لو اور اپنی طر ف سے (مساکین کو) کھلا دو۔''

النَبِيّ "خُذْهُ فَأَطْعِمْهُ عَنْكَ". ← فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّه بِمِكْتَلٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَوْ عِشْرُونَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، ← الْحَدِيثَ. ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1950

chevron_left Previous
1…567…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals