Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1915

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- نَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّه قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ". وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو دَاوُدَ، ثَنَا شُعْبَةُ بِمِثْلِهِ.

"جناب ابو البختری بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک کا چاند دیکھا جبکہ ہم ذات عرق مقام پر تھے ۔ کہتے ہیں تو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے ایک آدمی بھیجا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا:" بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دیکھنے کےلیے چاند کو پھیلا دیا ہے ۔ پس اگر چاند تم پر بادلوں میں چھپ جائے تو تم تیس کی گنتی مکمل کر لو۔"

فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ. فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ← أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، ← أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← بُنْدَارٌ

Hadith 1915

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1916

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ: أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، [200 - أ] قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ فَسَأَلَنِي عَبْد اللَّه بْنُ عَبَّاسٍ -ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ. فَقَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، وَرَآهُ النَّاسُ، وَصَامُوا، وَصَامَ مُعَاوِيَةُ. قَالَ: لَكِنَّنَا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُهُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ قَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"جناب کریب سے روایت ہے کہ ام افضل بنت حارث نے انہیں حضرت معاویہ ؓ کے پاس ملک شام بھیجا ۔ وہ کہتے ہیں :"میں شام آیا اور ان کا کام اور ضرورت پوری کردی اور میں نے رمضان المبارک کا چاند شام ہی میں دیکھا پس ہم نے جمعہ کے رات کو چاند دیکھا اور لوگوں نے چاند دیکھا اور روزہ رکھا ۔ "اور حضرت معاویہ ؓ نے بھی روزہ ر کھا ۔ پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے مجھ سے سوال کرتے ہوئے چاند کا ذکر کیا تو پوچھا : تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے عرض کی کہ ہم نے چاند جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے خود جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے خود جمعہ کی رات کو چاند دیکھا تھا ۔ اور لوگوں نے بھی چاند دیکھا تھا اور ورزہ رکھا اور حضرت معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا تھا تو حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: لیکن ہم نے چاند ہفتہ کی رات کو دیکھا تھا لہٰذا ہم اسی طرح مسلسل روزے رکھتے رہیں گے حتی کہ تیس دن مکمل کر لیں یا چاند دیکھ لیں ۔ میں نے عرض کی: کیا آپ حضرت معاویہ ؓ کی رؤیت اور ان کے روزوں پر کفایت نہیں کریں گے ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں، ہمیں رسول اللہﷺ نے اسی طرح حکم دیا ہے ۔"

كُرَيْبٍ، ← محمد يعني إبن أبي حرملة ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Hadith 1916

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1917

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، قَالَا: ثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، قَالَ بُنْدَارٌ: نَا شُعْبَةُ، وَقَالَ يَحْيَى: عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ (1)، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".

"جناب حیات بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر ؓ کو نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہوئے سنا کہ آپ نے فرمایا:"مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے ۔"

"الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ". ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ، وَقَالَ يَحْيَى: ← بُنْدَارٌ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ،

Hadith 1917

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1918

حَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَأَحْمَد بْنُ مَنِيعٍ وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، قَالُوا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ- أَخْبَرَنا أَيُّوبُ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُؤَمَّلٌ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے شک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← الزَّعْفَرَانِيُّ وَمُؤَمَّلٌ: ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ،

Hadith 1918

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1919

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، نَا حُصَيْنٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلَالَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وهُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. قَالَ: فَلَقِيَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. فَقَالَ: أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[قَالَ: "إِنَّ اللَّه] مَدَّهُ (2) لِرُؤْيَتِهِ فَهُوَ لِلَيْلَةِ رَأَيْتُمُوهُ".

"جناب ابوالبختری بیان کرتے ہیں کہ ہم عمرہ اد اکر نے کے لیے نکلے ۔ پھر جب ہم بطن نخلہ مقام پر اترے تو ہم نے چاند دیکھا۔ کچھ لوگ کہنے لگے کہ یہ تین راتوں کا ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا چاند ہے ۔ کہتے ہیں : ہم حضرت ابن عباسؓ سے ملے تو ہم نے عرض کی: ہم نے چاند دیکھا تو کچھ لوگوں نے کہا: یہ تیسری رات کا چاند ہے اور کچھ نے کہا کہ یہ دوسری رات کا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا: تم نے اسے کس رات دیکھا تھا ۔ ہم نے جواب دیا : اس اس رات کو دیکھا تھا تو ا نہوں نے فرمایا:"بے شک رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے : "بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے چاند کو دیکھنے کےلیے اسے بڑا کر دیا ہے ۔ وہ اسی رات کا ہے جس رات تم نے اسے دیکھا تھا ۔"

أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟ قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا. ← بَعْضُهُمْ: هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. ← بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، ← فَلَقِيَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقُلْنَا: رَأَيْنَا الْهِلَالَ ← بَعْضُهُمْ: وهُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ. ← بَعْضُ الْقَوْمِ: هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ، ← خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ، فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلَالَ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← حُصَيْنٍ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Hadith 1919

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1920

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ- نَا إِسْمَاعِيلُ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، أَخْبَرَنا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا، وَهَكَذَا". وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ: "الشَّهْرُ هَكَذَا، وَهَكَذَا"، ثُمَّ قَبَضَ أَصَابِعَهُ فِي الثَّالِثَةِ.

"حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: مہینہ اس طرح اور اس طرح اور اسی طرح ہوتا ہے ۔ جناب محمد بن بن بشر کی روایت میں ہے :" رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ آپ فرما رہے تھے : "مہینہ ایسے ، ایسے اور ایسے ہوتا ہے پھر تیسری مرتبہ اپنی انگلی کو بند کر کے ( انتیس کا اشارہ کیا)"

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بِشْرٍ- ← وَحَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه، ← إِسْمَاعِيلُ ← مَرْوَانُ -يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ- ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Hadith 1920

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1921

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ، حَدَّثَنِي عَبْد اللَّه بْنُ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي -يَعْنِي عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ- قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّمَا كُنْتَ فِي غُرْفَةٍ تِسْعًا وَعِشْرِينَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ" [200 - ب].

"حضرت عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں انتیس دن رہے ہیں ( جبکہ آپ نے ایک مہینے کی علیحدگی اختیار کی تھی) تو رسول اللہﷺ نے فرمایا:"بےشک مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ۔"

لَمَّا اعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّه نِسَاءَهُ، قُلْتُ: ← عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← -يَعْنِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سِمَاكٌ أَبُو زُمَيْلٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Hadith 1921

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1922

حَدَّثَنِي أَحْمَد بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ مُسْلِمٍ، نَا ابْنُ زَائِدَةَ، أَخْبَرَني عِيسَى بْنُ دِينَارٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، نَا [أَبُو] أَحْمَد (1) وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَا: ثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَا صُمْتُ مَعَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ. وَقَالَ عَلِي بْنُ مُسْلِمٍ: عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ. وَقَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ ابْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يُسَمِّهِ.

حضرت ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کے ساتھ انتیس روزے تیس روزوں کی نسبت زیادہ مرتبہ رکھے ہیں ۔

ابْنِ الْحَارِثِ وَلَمْ يُسَمِّهِ. ← بُنْدَارٌ ← عَلِي بْنُ مُسْلِمٍ: عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ. ← لَمَا صُمْتُ مَعَ النَبِيّ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ. ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ ← أَبِيهِ ← عِيسَی بْنِ دِينَارٍ ← [أَبُو] أَحْمَد وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ← بُنْدَارٌ ← عِيسَی بْنِ دِينَارٍ ← ابن زائدة ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Hadith 1922

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1923

نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، نَا أَبُو أُسَامَةَ، ثَنَا زَائِدَةُ، نَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ. فَقَالَ: "أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدهُ وَرَسُولُهُ؟ " قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "قُمْ يَا فُلَانُ؛ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا".

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ ایک اعرابی نبی کریمﷺ کے پاس حاضر ہوا تو اس نے کہا: "میں نے آج رات چاند دیکھا ہے ، تو آپ نے فرمایا: "کیا تم گواہی دیتے ہو کہ ایک اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا: اے فلاں! کھڑے ہو جاؤ اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ صبح روزہ رکھیں۔"

"قُمْ يَا فُلَانُ؛ فَأَذِّنْ بِالنَّاسِ فَلْيَصُومُوا غَدًا". ← نَعَمْ ← أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ← أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ. ← جاءَ أعرابيٌّ إلى النبيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ

Hadith 1923

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1924

ثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الْمَسْرُوقِيُّ، نَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِي الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَنَحْوِهِ. وَقَالَ: أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِالنَّاسِ.

"جناب زائدہ کی سند سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے اور فرمایا:"آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں ۔""

زَائِدَةَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَنَحْوِهِ. وَقَالَ: أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِالنَّاسِ. ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ

Hadith 1924

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1925

أَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، وَأَخْبَرَنا بِبَعْضِ الْأَحَادِيثِ أَبُو الْقَاسِمِ زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ، أَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَا: أَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَحْمَد بْنُ مَنِيعٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَخْبَرَني عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ) [البقرة: 187] قَالَ النبي - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا ذَاكَ بَيَاضُ النَّهَارِ مِنْ سَوَادِ اللَّيْلِ".

"حضر ت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت (وَکُلُوْا وْاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ)(اور تم کھاؤ او رپیو حتی کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہوجائے ) اتری تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے شک یہ رات کی سیاہی سے دن کی سفیدی کا نمایاں ہونا ہے ۔"

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← بِبَعْضِ الْأَحَادِيثِ أَبُو الْقَاسِمِ زَاهِرُ بْنُ طَاهِرٍ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ،

Hadith 1925

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1926

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! مَا الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ، أَهُمَا الْخَيْطَانِ؟ قَالَ: "إِنَّكَ لَعَرِيضُ الْقَفَا، أَرَأَيْتَ أَبْصَرْتَ الْخَيْطَيْنِ قَطُّ؟! ". ثُمَّ قَالَ: "لَا، بَلْ هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ".

"حضرت عدی بن حاتم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول سیاہ دھاگے اور سفید دھاگے سے کیا مراد ہے ؟ کیا یہ دو دھاگے ہیں؟ آپ نے فرمایا:"بے شک چوڑی گدی والے ہو۔" مجھے بتاؤ کیا تم نے کبھی دو دھاگے دیکھے ہیں ؟ پھر فرمایا: "نہیں ، بلکہ اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے ۔"

قُلْتُ ← عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← عَامِرٍ، ← مُطَرِّفٍ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Hadith 1926

chevron_left Previous
12345…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals