Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1903

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ-، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ-[199 - أ] عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: كُنَّا فِي رَمَضَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ، وَافْتَدَى بِإِطْعَامِ مِسْكِينٍ، حَتَّى أُنْزِلَتِ الْآيَةُ (فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ) [البقرة: 185].

"حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے عہد میں رمضان المبارک میں جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا وہ روزہ چھوڑ دیتا ، اور ایک مسکین کو بطور فدیہ کھانا کھلا دیتا ۔ حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی(فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ)" پس تم میں سے جو شخص اسے مہینے میں ( گھر میں) موجود ہو تو اسے روزے رکھنا چاہیے ۔"

سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، -وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ-[199 أ] ← بُكَيْرٍ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ-، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1903

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1904

ثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كَانَ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ أَحَدُهُمْ صَائِمًا، فَحَضَرَ الْإِفْطَارُ، فَنَامَ قَبْلَ أَنْ يُفْطِرَ، لَمْ يَأْكُلْ لَيْلَتَهُ، وَلَا يَوْمَهُ حَتَّى يُمْسِيَ، وَأنَّ قَيْسَ بْنَ صِرْمَةَ كَانَ صَائِمًا، فَلَمَّا حَضَرَ الْإِفْطَارُ، أَتَى امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكِ طَعَامٌ؟ قَالَتْ: لَا. وَلَكِنْ أَطْلُبُ، فَطَلَبَتْ لَهُ، وَكَانَ يَوْمَهُ يَعْمَلُ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ، وَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ، قَالَتْ: خَيْبَةً لَكَ. فَأَصْبَحَ، فَلَمَّا انْتَصَفَ النَّهَارُ غُشِيَ عَلَيْهِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: (أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ) [البقرة: 187] فَفَرِحُوا بِهَا فَرَحًا شَدِيدًا فَقَالَ: (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ) [البقرة: 187]. جُمَّاعُ أَبْوَابِ الْأَهِلَّةِ وَوَقْتُ ابْتِدَاءِ صَوْمِ شَهْرَ رَمَضَانَ

"حضرت براءؓ بیان کرتےہیں کہ محمد ؓ کے صحاہب کرام میں کوئی شخص جب روزے دار ہوتا پھر افطاری کا وقت آجاتا او روہ افطاری سے پہلے سو جاتا تو وہ اس رات اور اگلے دن شام تک کچھ نہ کھاتا اور حضرت قیس بن صرمہ ؓ روازے دار تھے پھر جب افطاری کا وقت ہوا تو وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور پوچھا : کیا تمہارے پاس کھانا ہے ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ، لیکن میں تلاش کر کے لاتی ہوں تو وہ ان کےلیے کھانا لینے چلی گئیں اور حضرت قیس سارا دن کام کرتے رہے تھے ، لہٰذا انہیں نیند آگئی ۔ ان کی زوجہ محترمہ ( کھانا لے کر ) آئی۔( انہیں سویا ہوا دیکھا کر) کہنے لگیں : افسوس تم محروم ہوگئے ۔ پھر اسی حالت میں انہوں نے صبھ کی ۔ پھر جب دوپہر کا وقت ہوا تو وہ بے ہو ش ہوگئے ۔ یہ بات نبی کریمﷺ کو بتائی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی:(أُحِلَّ لَکُمُ لَّیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلٰی نِسَأٓئِکُمْ)"تمہارے لیے روزوں کی رات میں بیویوں سے ہمبستری کرنا حلال کر دیا گیا ہے "اس سے صحابہ کو بہت زیادہ خوشی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مزید قرآن نازل فرمایا:(کُلُوْا وَشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَمَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْأَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ)"کھاؤ اور پیو حتی کہ تمہارے لیے صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے ۔"

الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِسْمَاعِيلُ ← عَمِّي عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْقُرَشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1904

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1905

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَني يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَني سَالِمٌ، أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ".

"حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: "جب تم چاند کو دیکھ لو تو روزے رکھو اور جب چاند دیکھ لو تو روزہ افطار کر لو اور اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو اس کی گنتی پوری کر لو۔"

"إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← سَالِمٌ، أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1905

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1906

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِي، نَا أَبُو عَاصِمٍ (1)، ثَنَا عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ (2)، ثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّه جَعَلَ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الشَّهْرَ لَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِينَ".

"حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے چاند کو اوقات معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا ہے ۔ لہٰذا جب تم اسے دیکھ لو روزہ رکھو اور جب اسے دیکھ لو تو روزہ رکھنا بند کر دو ، پھر اگر تم پر بادل چھا جائیں ( اور چاند نظر نہ آئے ) تو اس کی گنتی کر لو اور خوب جان لو کہ مہینہ تیس دن سے زیادہ نہیں ہوتا ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عَبْد الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1906

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1907

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، إِلَّا أَنْ يُغَمَّ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ غُمِّيَ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ حُفَّاظِ الدُّنْيَا فِي زَمَانِهِ.

"حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے ۔لہٰذا تم چاند کو دیکھے بغیر روزہ نہ رکھو اور نہ چاند دیکھے بغیر افطار کرو ، سوائے اس کے کہ تم پر بادل چھا جائیں پھر اگر بادل چھائے ہوں تو مہینے کا اندازہ اور گنتی کر لو ۔ "امام ابوبکر ؒ کہتے ہیں :"جناب اسماعیل بن جعفر اپنے زمانے کے دنیا کے عظیم حافظ حدیث تھے ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1907

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1908

أَخْبَرَني مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَني يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ خَبَر ابْنِ عُمَرَ؛ فَقَالَ: "فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ".

"حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے حضرت ابن عمر ؓ کی طرح روایت کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: "پھر اگر تم پر بادل چھاجائیں تو ( شعبان کے ) تیس دن شما ر کر لو۔"

رَسُولِ اللَّه نَحْوَ خَبَر ابْنِ عُمَرَ؛ فَقَالَ: "فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلَاثِينَ". ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← وَأَخْبَرَني يُونُسُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1908

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1909

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، نا عاصم، عن أبيه، عن ابن عمر؛ ح نَا ابْنُ فُضَيْلٍ، نَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيه، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ (1): قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا [199 - ب] وَهَكَذَا ثَلَاثِينَ، وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا" وَيَعْقِدُ فِي الثَّالِثَةِ -"فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ" وَفِي خَبَر ابْنِ فُضَيْلٍ: ثُمَّ طَبَّقَ بِيَدِهِ وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً مِنْ أَصَابِعِهِ، "فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَثَلَاثِينَ".

"حضر ت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "مہینہ ایسے ایسے اور ایسے تیس دن کا ہوتا ہے ۔ اور مہینہ اس طرح اور اس طرح ، اس طرح بھی ہوتا ہے ۔ اور تیسری ( اپنے انگوٹھے کو) بند کر لیتے ( یعنی مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ) اور اگر تم پر بادل چھا جائیں تو ( شعبان کے ) تیس دن مکمل کر لو۔" جناب ابن فضیل کی روایت میں ہے :" پھر آپ نے اپنا ہاتھ کھولا اور ایک انگلی کو بند رکھا ( انتیس کا اشارہ کیا ) پھر اگر تم پر بادل چھائے ہوں تو ( شعبان کے ) تیس دن پورے کرو ۔"

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَاصِمٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1909

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1910

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ] (2) عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ أَبِي قَيْسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرهِ، ثُمَّ يَصُومُ لِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْهِ، عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، ثُمَّ صَامَ.

"حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ جس قدر شعبان کے چاند کا خیال رکھتے تھے اس قدر دوسرے کسی مہینے کا خیال نہیں رکھتے تھے ۔ پھر رمضان کا چاند دیکھ رک روزہ رکھتے ۔ اور اگر آپ پر بادل چھا جاتے تو آپ ( شعبان کے ) تیس دن شما ر کر تے پھر روزہ رکھتے ۔"

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1910

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1911

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تُقَدِّمُوا هَذَا الشَّهْرَ حَتَّى تَرَوُا الْهِلَالَ أَوْ تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ".

"حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے بیان فرمایا: "ا س مہینے ( رمضان ) سے آگے نہ بڑھو حتی کہ تم چاند دیکھ لو یا ( شعبان کی) گنتی مکمل کر لو۔"

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1911

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1912

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ الْبَزَّارُ، نَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ -وَهُوَ يَأْكُلُ- فَقَالَ: ادْنُ، فَكُلْ. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: وَاللَّه لَتَدْنُوَنَّ. قُلْتُ: فَحَدِّثْنِي. قَالَ: ثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ".

"جناب سماک بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عکرمہ کے پاس اس دن آیا جس دن رمضان کے شروع ہوجانے کے بارے میں شک کیا جارہا ہے ، جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے ۔ تو انہوں نے کہا: قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ تو میں نے عرض کی : میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم ضرور قریب ہوگے ( اور کھاؤ گے ) میں نے کہا: تو مجھے ( اس بارے میں) بیان فرمائیں ۔ انہوں نے فرمایا: "ہمیں حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "تم ( روزہ رکھ کر ) رمضان کا استقبال مت کرو ۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کر و۔ پھر ایک چاند دیکھنے اور تمہارے درمیان بادل یا دھند وغبار حائل ہو جائے تو ( شعبان کی) گنتی تیس دن پوری کر لو۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← والله لتدنون، قلت: ← ادْنُ، فَكُلْ. فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، ← دخلت على عكرمة في اليوم الذي يشك فيه من رمضان وهو يأكل، ← سِمَاكٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ کَثِيرٍ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ الْبَزَّارُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1912

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1913

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْد الْوَهَّابِ، نَا عُبَيْدُ اللَّه، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" -وَعَقَدَ إِبْهَامَهُ- "فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ".

"حضرت ابن عمر ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "مہینہ انتیس دنوں کا بھی ہوتاہے ۔"اور آپ نے اپنا انگوٹھا بند کر لیا ۔لہٰذا چاند کو دیکھے بغیر روزے مت رکھو اور نہ تم چاند دیکھے بغیر روزے رکھنا چھوڑو ۔ پھر اگر تم پر چاند بادلوں میں چھپ جائے تو اس کی گنتی کا اندازہ کر لو۔"

النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1913

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1914

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ مَا لَا أُحْصِي غَيْر مَرَّةٍ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

مجمل غیر مفسر لفظ کے ساتھ اس دن کے روزے کی ممانعت کا بیان جس کے بارے میں شک ہو کہ یہ دن رمضان کا ہے یا شعبان کا

«إِنِّي صَائِمٌ» ← كُلُوا، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، ← كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، ← صِلَۃَ بْنَ زُفَرَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَمْرَو بْنَ قَيْسٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْد اللَّه بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ مَا لَا أُحْصِي غَيْر مَرَّةٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1914

chevron_left Previous
1234…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals