Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2166

حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنا زَيْد -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَاب- حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ -وَهُوَ ابْنُ لُدَيْنٍ (2) - أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَة يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الْجُمُعَةُ عِيدٌ فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ صِيَامًا إِلَّا أَنْ يُصَامَ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي صَوْمِ يَوْمِ السَّبْتِ إِذَا صَامَ صَائِمٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَهُ.

''حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ میں نےرسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :''جمعہ کا دن عید ہے لہذا تم جمعہ کے دن روزہ مت رکھو الاّیہ کہ اس سے پہلےیا ایک دن بعد بھی روز رکھو۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''اس طرح نبی کریم ﷺ نے ہفتہ کے دن روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے جبکہ روزہ دا راس سے پہلے جمعہ کے دن بھی روزہ رکھے۔''

أَبَا هُرَيْرَةَ ← عَامِرٍ الْأَشْعَرِيِّ -وَهُوَ ابْنُ لُدَيْنٍ أَنَّهُ ← أَبِي بِشْرٍ، ← مُعَاوِيَةَ، ← زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2166

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2167

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنا عَبْد اللَّه بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنا عَبْد اللَّه بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِي، عَنْ أَبِيه، أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ. أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَنَاسًا مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثُونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ [أَسْأَلُهَا] الْأَيَّامَ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ لَهَا صِيَامًا، فَقَالَتْ: يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ. فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ وَكَأَنَّهُمْ أَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَامُوا بِأَجْمَعِهِمْ إِلَيْهَا، فَقَالُوا: إِنَّا بَعَثْنَا إِلَيْكِ هَذَا فِي كَذَا وَكَذَا [وَذَكَرَ] أَنَّكِ [قُلْتِ] كَذَا، وَكَذَا، فَقَالَتْ: صَدَقَ. إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْثَرَ مَا كَانَ يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ يَوْمَ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ، كَانَ يَقُولُ: "إِنَّهُمَا يَوْمَا (1) عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَهُمْ".

''حضرت ابن عباس ؓ کے آزاد کردہ غلام کریب بیان کرتےہیں کہ حضرت ابن عباس اور رسول اللہ ﷺکے کچھ صحابہ کرام ؓ نے مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجاکہ میں ان سے پوچھ کر آؤں کہ :رسول اللہ ﷺ کن دنوں بکثرت سے روزہ رکھا کرتے تھے۔ پس میں نے واپس آکر انہیں اس کی خبر دی تو گویا انہوں نے اس بات کو تسلیم نہ کیا۔ تو وہ تمام افراد اٹھ کران کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ؑرض کیا: ہم نے اسےآپ کی خدمت میں یہ مسئلہ پوچھنے کےلیے بھیجا تھا اور اس نے ہمیں بتایا کہ آہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا:''اس سے سچ بتایا ہے۔''بے شک رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر ہفتہ اور اتوار کا روزہ رکھتےتھے اور آپ فرماتے تھے: ''یہ دو دن مشرکوں کے عید کے دن ہیں (وہ ان میں کھاتے پیتے ہیں) اور میں (روزہ رکھ کر ) ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں ۔''

أَبِيهِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدَ بْنَ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيَّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2167

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2168

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة بَلَغَ بِهِ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا مِنْ غَيْر شَهْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ؛ إِلَّا بِإِذْنِهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنْ غَيْر شَهْرِ رَمَضَانَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْأَمْرَ إِذَا كَانَ لِعِلَّةٍ فَمَتَى [كَانَتِ] الْعِلَّةُ قَائِمَةً، وَالْأَمْرُ قَائِمٌ، فَالْأَمْرُ قَائِمٌ، وَالنَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَبَاحَ لِلْمَرْأَةِ صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِغَيْر إِذْنِ زَوْجِهَا، إِذْ صَوْمُ رَمَضَانَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا، كَانَ كُلُّ صَوْمٍ صَوْمَ وَاجِبٍ مِثْلَهُ، جَائِزٌ لَهَا أَنْ تَصُومَ بِغَيْر إِذْنِ زَوْجِهَا. وَلِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ كِتَابٌ مُفْرَدٌ، قَدْ بَيَّنْتُ الْأَمْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ، وَالزَّجْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ.

''حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نےفرمایا:''عورت رمضان المبارک کے روزو ں کےعلاوہ ایک دن کا روزہ بھ ی شوہرت کی اجازت کے بغیر نہ رکھے جبکہ اس کا شوہر گھر میں موجو د ہو۔''اما م ابو بکر ؒ فرماتےہیں : ''نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان : ''ماہ رمضان کے علاوہ ''یہ اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب حکم کسی علت کی بنا پر ہو اور علت موجود اور ثابت ہو تو وہ حکم ثابت اور وجوب کےلیے ہوتا ہے۔ لہٰذا جب نبی کریم ﷺ نے عورت کے لیے رمضان المبارک کے روزے خاوند کی اجازت کے بغیر رکھنا جائز قرار دے دئیے ، کیونکہ رمضان المبار ک کے روزے اس پر واجب ہیں ، تو ہر فرض روزہ ا سکےلیے خاوند کی اجازت کے بغیر رکھنا جائز ہوا۔''اس مسئلہ پر میں نے ایک مستقل کتاب لکھی ہے جس میں میں نے وہ امر اور انہی کو بیان کیا جو کسی علت کی بنا پر ہوتے ہیں۔''

الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2168

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2168

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة بَلَغَ بِهِ: "لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ يَوْمًا مِنْ غَيْر شَهْرِ رَمَضَانَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ؛ إِلَّا بِإِذْنِهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنْ غَيْر شَهْرِ رَمَضَانَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْأَمْرَ إِذَا كَانَ لِعِلَّةٍ فَمَتَى [كَانَتِ] الْعِلَّةُ قَائِمَةً، وَالْأَمْرُ قَائِمٌ، فَالْأَمْرُ قَائِمٌ، وَالنَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَبَاحَ لِلْمَرْأَةِ صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَانَ بِغَيْر إِذْنِ زَوْجِهَا، إِذْ صَوْمُ رَمَضَانَ وَاجِبٌ عَلَيْهَا، كَانَ كُلُّ صَوْمٍ صَوْمَ وَاجِبٍ مِثْلَهُ، جَائِزٌ لَهَا أَنْ تَصُومَ بِغَيْر إِذْنِ زَوْجِهَا. وَلِهَذِهِ الْمَسْأَلَةِ كِتَابٌ مُفْرَدٌ، قَدْ بَيَّنْتُ الْأَمْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ، وَالزَّجْرَ الَّذِي هُوَ لِعِلَّةٍ.

نبی اکرمﷺ سے لیلۃ القدر کے بارے میں مروی روایات میں جمع اور تطبیق کا بیان کہ جن کے بارے میں علم حدیث سے ناواقف بہت سے اہل علم کا خیال ہے کہ وہ باہم متضاد اور مخالف ہیں لیکن اللہ کے فضل وکرم سے وہ ہمارے نزدیک ایسے نہیں ہیں بلکہ ان کے الفاظ مختلف ہیں اور معنی متفق اور متحد ہیں ۔ جیسا کہ میں عنقریب بیان کروں گا ۔ انشاء اللہ

الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2168

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2169

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ مَرْثَدٍ، أَوْ أَبُو مَرْثَدٍ (1) -شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ (2) - عَنْ أَبِيه قَالَ: لَقِيَنَا أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَسَأَلْتُهُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. فَقَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ بِأَسْأَلَ لَهَا رَسُولَ اللَّه - صلى الله عليه وسلم - مِنِّي. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! لَيْلَةُ الْقَدْرِ أُنْزِلَتْ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ بِوَحْيٍ إِلَيْهِمْ فِيهَا ثُمَّ تَرْجِعُ؟ فَقَالَ: "بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَيَّتُهُنَّ هِيَ؟ قَالَ: "لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكُمْ. وَلَكِنِ الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعَيْنِ، وَلَا تَسْأَلْنِي بَعْدَهَا". قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى النَّاسِ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! [222 - أ] فِي أَيِّ السَّبْعَيْنِ هِيَ؟. فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضْبَةً لَمْ يَغْضَبْ عَلَيَّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا مِثْلَهَا. ثُمَّ قَالَ: "أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تَسْأَلَنِي عَنْهَا. لَوْ أُذِنَ لِي لَأَنْبَأْتُكُمْ عَنْهَا أو لَأَنْبَأْتُكُمْ بِهَا، وَلَكِنْ لَا آمَنُ أَنْ تَكُونَ فِي السَّبْعِ الْآخِرِ".

''جناب مرثد یا ابو مرثد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم حضرت ابو ہریرہ ؓ سے ملے جبکہ وہ درمیانے جمرے کے پاس تھے۔ تو میں نے ان سے شب قدر کے بارے میں سوا ل کیا۔ توانہوں نے فرمایا : شب قدر کے بارے میں مجھ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔''میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! کیا شب قدر کے بارے میں انبیائے کرام پر وحی نازل ہوئی تھی پھر(انبیائے کے جانے کے بعد شب قدر بھی )واپس چلی گئی ؟تو آپ نے فرمایا: ''بلکہ شب قدر قیامت تک موجود ہے۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ کون سی رات ہے؟ آپ نے فرمایا: ''اگر مجھے اجازت ہوتی تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا۔ لیکن تم سے سات دنوں میں تلاش کرواور آج کے بعد اس کے بارے میں سوال نہ کرنا۔ کہتے ہیں: پھر رسول اللہﷺ لوگو کی طرف متوجہ ہو کر انہیں بیان کرنے لگے تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسو! وہ کون سے سات دنوں میں ہے؟ تو آپ مجھ پر اس قدر ناراض ہوئے ایسی شدید ناراضی نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی تھی اور نہ بعد میں کبھی ہوئی۔پھر آپ نے فرمایا: ''کیا میں نے تمہیں اس کے بارے میں سوال کرنے سے منع نہیں کیا تھا؟ اگر مجھے اجازت ہوتہ تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا ، میں تمہیں اس کے بارے میں ضرور اس کی خبر دے دیتا۔لیکن مجھے امید ہے کہ یہ آخری سات دنوں میں ہوگی۔''

لَيْلَةِ الْقَدْرِ. فَقَالَ: مَا كَانَ أَحَدٌ بِأَسْأَلَ لَهَا رَسُولَ اللَّه مِنِّي. قُلْتُ: ← لَقِيَنَا أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى، فَسَأَلْتُهُ ← أَبِيهِ ← مَرْثَدٍ، أَوْ أَبُو مَرْثَدٍ -شَكَّ أَبُو عَاصِمٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2169

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2170

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ- حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدٍ (1)، عَنْ أَبِيه، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ أَوْ فِي غَيْرهِ؟ فَقَالَ: "بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ". قَالَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا، فَإِذَا قُبِضَ الْأَنْبِيَاءُ رُفِعَتْ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "لَا، بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ: "الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ وَالْعَشْرِ الْأَخِيرِ" (1) قَالَ: ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَدَّثَ، فَاهْتَبَلْتُ غَفْلَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُخْبِرَنِّي أَوْ لَمَا أَخْبَرْتِنِي فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ مَا غَضِبَ عَلَيَّ مِثْلَهُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ، ثُمَّ قَالَ: "إِنَّ اللَّه لَوْ شَاءَ أَطْلَعَكُمْ عَلَيْهَا، الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ".

''حضرت مر ثد بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذرؓ سے سوا ل کیا ، میں نے کہا کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سب قدر کے بارے میں سوال کیا؟تو آپ نے فرمایا : ''میں سب سے بڑھ کر سب قدر کےبارے میں سوال کرنے والا شخص تھا۔''کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ شب قدر رمضان المبارک میں ہے یا س کے علاوہ کسی اور مہینے میں ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ''بلکہ وہ رمضان میں ہے۔''میں نے عرض کیا: ''اے اللہ کے رسول !کیا شب قدر صرف انبیائے کرام کے زمانے میں ہوتی ہے، جب انبیائے کرام فوت ہوجاتے ہیں تو شب قدر بھی اٹھا لی جاتی ہے؟ یا یہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آہ نے فرمایا: ''نہیں،بلکہ یہ قیامت تک رہے گی ۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کیا یہ رمضان میں ہے؟آپ نے فرمایا : اسے پہلے اور آخری دس دنوں میں تلاش کرو۔ کہتے ہیں : پھر آپ لوگوں کو بیان کرتے رہے تو میں نے آپ کی بے دھیانی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دے کر پوچھتا ہوں یہ کن بیس دنوں میں ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ مجھ پر ایسے شدید ناراض ہوئے کہ اس جیسے ناراض نہ کبھی پہلے ہوئے تھے نہ کبھی بعد مین۔ پھر آپ نےفرمایا: ''بے شک اگر اللہ تعالی چاہتا تو تمہیں ا سکی اطلاع کر دیتا ، تم اسے آخری سات دنوں میں تلاش کرو۔''

قُلْتُ ← كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا. ← لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ فَقَالَ: ← قُلْتُ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّه ← سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ← أَبِيهِ ← مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ ← سِمَاكٍ الْحَنَفِيِّ ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2170

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2171

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْأُوَلَ مِنْ رَمَضَانَ، ثُمَّ اعْتَكَفَ الْعَشْرَ الْوَسَطَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةٌ مِنْ حَصِيرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ. فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ، فَكَلَّمَ النَّاسَ، فَدَنَوْا مِنْهُ، فَقَالَ: "إِنِّي اعْتَكَفْتُ الْعَشْرَ الْأُوَلَ أَلْتَمِسُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ أعتكف الْعَشْرَ الْوَسَطَ، ثُمَّ أَتَيْتُ، فَقِيلَ لِي: إِنَّهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَعْتَكِفَ فَلْيَعْتَكِفْ". [فَ] اعْتَكَفَ النَّاسُ مَعَهُ، قَالَ: وَإِنِّي أُرِيتُهَا لَيْلَةَ وِتْرٍ، وَإِنِّي أَسْجُدُ صَبِيحَتِهَا فِي طِينٍ وَمَاءٍ، فَأَصْبَحَ فِي لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَقَدْ قَامَ إِلَى الصُّبْحِ، فَمَطَرَتِ السَّمَاءُ، فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ، فَأَبْصَرْتُ الطِّينَ وَالْمَاءَ، فَخَرَجَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَجَبْهَتُهُ وَأَنْفُهُ فِي الْمَاءِ وَالطِّينِ، وَإِذَا هِيَ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ. هَذَا حَدِيثٌ شَرِيفٌ شَرِيفٌ.

''حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے پہلے دس دن اعتکاف کیا۔ پھر آپ نے دوسرا عشرہ بھی ایک ترکی بے میں اعتکاف کیا ، جس کے دروازے پر ایک چٹائی لٹکائی گئی تھی۔ آپ نےاپنے دست مبارک سے وہ چٹائی پکڑی اور اسے ہٹا کر قبے کےکونے میں رکھ دیا۔پھر اپنا سر مبارک باہر نکالا اور لوگوں سے بات چیت کی تو وہ آپ کے قریب آگئے پس آپ نے فرمایا: ''بے شک میں نے شب قدر کی تلاش میں پہلا عشرہ اعتکاف پھرمیں نےدرمیانے عشرے میں بھی اعتکاف کیا۔ پھر خواب میں میرے پاس فرشتہ آیا تو مجھے بتایا گیا کہ شب قدر آخری عشرے میں ہے۔ لہٰذا جو شخص تم میں سے پسند کرے کہ وہ اعتکاف کرے ، چنانچہ لوگوں نےآپ کے ساتھ (آخری عشرے کا ) اعتکاف کیا۔ آپ نے فرمایا : ''بے شک مجھے وہ طاق راتوں میں دکھائی گئی ہے اور اس کی صبح کو میں نے کیچڑ میں سجدہ کیا ہےپھر جب آپ نے اکیسویں رات کی صبح کی اور آپ نے صبح تک نفل نماز ادا کی تھی تو بارش ہوگئی جس سے مسجد کی چھٹ ٹپکنے لگی۔ حضرت ابو سعید ؓ کہتے ہیں تو میں نےکیچڑ دیکھا۔پھر جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہوکر نکلے تو آپ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ لگا ہوا تھا اور وہ اآخری عشرے میں اکیسویں رات تھی۔''یہ حدیث نہایت بلند مرتبہ ہے۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2171

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2172

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيُّ، عَنْ أَبِيه، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَدْعُونِي مَعَ أَصْحَاب مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَيَقُولُ لِي: لَا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا (1). قَالَ: فَدَعَاهُمْ فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُمْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ [222 - ب] الْأَوَاخِرِ" أَيُّ لَيْلَةٍ تَرَوْنَهَا؟ قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ إِحْدَى. وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْلَةُ ثَلَاثٍ، وَقَالَ، آخَرُ: خَمْسٍ، وَأَنَا سَاكِتٌ. قَالَ، فَقَالَ: مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ؟ قَالَ، قُلْتُ: إِنْ أَذِنَتْ لِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ تَكَلَّمْتُ! قَالَ، فَقَالَ: مَا أُرْسِلْتُ إِلَيْكَ إِلَّا لِتَتَكَلَّمَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أُحَدِّثَكُمْ بِرَأْيِي؟ قَالَ، عَنْ ذَلِكَ نَسْأَلُكَ. قَالَ، فَقُلْتُ: السَّبْعُ. رَأَيْتُ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ - ذَكَرَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ، وَمِنَ الْأَرْضِ سَبْعًا، وَخَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ سَبْعٍ، وَنَبْتُ الْأَرْضِ سَبْعٌ، قَالَ: فَقَالَ: هَذَا أَخْبَرْتَنِي مَا أَعْلَمُ، أَرَأَيْتَ مَا لَا أَعْلَمُ؟ مَا هُوَ قَوْلُكَ نَبْتُ الْأَرْضِ سَبْعٌ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ اللَّه يَقُولُ: (ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (26) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا (31)) [عبس: 26 - 31] وَالْأَبُّ نَبْتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُهُ الدَّوَابُّ، وَلَا يَأْكُلُهُ النَّاسُ. قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَعَجَزْتُمْ (2) أَنْ تَقُولُوا كَمَا قَالَ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي لَمْ تَجْتَمِعْ شُؤُونُ رَأْسِهِ بَعْدُ. إِنِّي وَاللَّه مَا أَرَى الْقَوْلَ إِلَّا كَمَا قُلْتَ. وَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أَمَرْتُكَ أَنْ لَا تَكَلَّمَ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا، وَإِنِّي آمُرُكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ مَعَهُمْ.

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ مجھے محمد ﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ بلاتے تھے اورمجھے حکم دیا کہ اس وقت تک بات نہ کرنا جب تک صحابہ کرام بات چیت نہ کرلیں۔ کہتے ہیں: انہوں نے صحابہ کرام کو بلایا اور ان سے شب قدر کےبارے میں سوال کیا اور کہا: رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو''مجھے بتاؤ کہ تمہارے خیال میں یہ کون سی رات ہے۔ تو بعض نے کہا : یہ اکیسویں رات ہے ۔ کچھ نے کہا: تیسویں رات ہےاور بعض نے پچیسویں رات قرار دی۔ اس دوران میں خاموش رہا۔ پھر انہوں نے مجھے کہا: ''تم کیوں نہیں بتاتے؟ میں نے عرض کی: ''اے امیرالمومنین ! اگر آ پ مجھے اجازت دیں تو میں بتاتاہوں تو انہوں نے فرمایا ـ''میں تمہیں گفتگو کرنے کےلیے ہی بلایا ہے۔''تو میں نے کہا : کیا میں تمہیں اپنی رائے سے بیان کروں؟حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ''ہم نے تمہاری رائے ہی پوچھی ہے۔''تومیں نے عرض کی: وہ ستائیسویں رات ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی نے سات آسمان ، اور سات زمینیں ذکر کی ہیں ۔ انسان کو سات سے پید اکیا گیاہے اور زمینی نباتات بھی سات قسم کی ہیں۔''تو حضرت عمر نے فرمایا : ''تم نے مجھے وہ چیزیں بتائی ہیں جو میں جانتا ہوں۔ مجھے وہ چیزبتاؤ جو میں نہیں جانتا ۔ زمینی نباتات سات قسم کی اس سے تمہاری کیا مراد ہے؟ میں نے عرض کیا: بے شک اللہ تعالی فرماتے ہیں:(ثُمَّ شَقَقْنَاالْاَرْضَ شَقَا،،،،،وَفَا کِہَۃً وَّأَبَّا) (سورۃ عبس۔ 31-26) ''پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح پھاڑا ۔ پھر ہم نے اس میں اناج اگایا اور انگور اور سبزیاں اور زیتوں اور کھجوریں اور گھنے باغات اور میوے اور چارا۔''اور (أَبُّ)سے مراد وہ چارا ہے جو جانور کھاتے ہیں اور انسان نہیں کھاتے ۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ''کیا تم اس بچے کی طرح بتانے سے بھی عاجز رہے ، جس کی ابھی تک عقل بھی پوری نہیں ہوئی ۔ اللہ کی قسم ! میری رائے بھی تمہاری رائے کے موافق ہے اور فرمایا: میں نے تمہیں حکم دیا تھا کہ ان صحابہ کرام کے گفتگو لر لینے تک تم بات نہ کرنا اور میں اب تمہیں حکم دیتا ہوں کہ تم ان کے ساتھ ہی گفتگو کیا کرو۔''

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2172

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2173

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيه، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ الْأَكَابِرِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَكَانَ يَقُولُ: لَا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا. فَسَأَلَهُمْ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "اطْلُبُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وِتْرًا"، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةَ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ عُمَرَ.

''حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ اکابر صحابہ کرام ؓ کےساتھ مجھ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور مجھے فرماتے تھے:''جب تک بزرگ صحابہ کرام بات چیت نہ کر لیں تم گفتگو نہ کرنا۔''تو حضرت عمر نےان سےشب قدر کے بارے میں پوچھا: ''تو کہا: ''یقیناً تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا ہے: ''شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔''پھر انہوں نے ابن عباس ؓ کا حضر ت عمر ؓ کا قصہ بیان کیا۔''

لَيْلَةِ الْقَدْرِ فَقَالَ: لَقَدْ عَلِمْتُمْ ← لَا تَكَلَّمْ حَتَّى يَتَكَلَّمُوا. فَسَأَلَهُمْ ← كَانَ عُمَرُ يَسْأَلُنِي مَعَ الْأَكَابِرِ مِنْ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّه وَكَانَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2173

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2174

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، حَدَّثَنَا عَبْد الْمَلِكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ؛ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الْأَبُّ: مِمَّا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ مِمَّا لَا يَأْكُلُهُ النَّاسُ وَتَأْكُلُ الْأَنْعَامُ.

''حضرت ابن عباس ؓ سے مذکورہ بالا کی مثل مرو ی ہے مگر اس میں یہ الفاظ ہیں:الأب : اس گھاس اور چارے کو کہتے ہیں جو چوپائے کھاتے ہیں اور انسان نہیں کھاتے۔''

الْأَبُّ: مِمَّا أَنْبَتَتِ الْأَرْضُ مِمَّا لَا يَأْكُلُهُ النَّاسُ وَتَأْكُلُ الْأَنْعَامُ. ← ابْنِ عَبَّاسٍ مِثْلَہُ إِلا أَنَّہُ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2174

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2175

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِيه قَالَ: ذَكَرْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ حَدِيثٍ سَمِعَتْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِنِّي سَمِعَتْهُ يَقُولُ: "الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي تِسْعٍ بَقِينَ، أَوْ فِي سَبْعٍ بَقِينَ، أَوْ فِي خَمْسٍ بَقِينَ، أَوْ فِي ثَلَاثٍ بَقِينَ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ" فَكَانَ لَا يُصَلِّي فِي الْعِشْرِينَ إِلَّا كَصَلَاتِهِ فِي سَائِرِ السَّنَةِ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ اجْتَهَدَ.

''حضرت عبدالرحمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بکر ؓ کے پاس شب قدرکا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ کا فرمان سننے کے بعد میں تو اسے صرف آخری عشرے میں تلاش کروں گا۔میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: ''شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کرو جب نوراتیں باقی رہ جائیں یا جب سات باقی رہ جائیں یا پانچ رہ جائیں یا تین باقی رہ جائیں یا آخری رات میں تلاش کرو''حضرت ابوبکر ؓ پہلی بیس راتوں میں اپنے سارے سال معمول کے مطابق نماز پڑھتے تھے، پھر جب آخری عشرہ شروع ہو جاتا تو خوب محنت و ریاضت شروع کر دیتے۔''

مِنْ رَسُولِ اللَّه وَإِنِّي ← بِطَالِبِهَا إِلَّا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ بَعْدَ حَدِيثٍ ← مَا ← ذُكِرَتْ لَيْلَةُ الْقَدْرِ عِنْدَ أَبِي بَكْرَةَ، ← أَبِيهِ ← عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2175

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2176

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَشْرِ الْأَوْسَطِ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ يَلْتَمِسُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ قَبْلَ أَنْ يَتَبَيَّنَ لَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِالْبِنَاءِ فَنُقِضَ، فَأُبِينَتْ لَهُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُعِيدَ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: "إِنَّهَا أُبِينَتْ لِي لَيْلَةُ الْقَدْرِ وَإِنِّي خَرَجْتُ لِأُبَيِّنَهَا لَكُمْ فَتَلَاحَى رَجُلانِ (1) فَنَسِيتُهَا، فَالْتَمِسُوهَا فِي التَّاسِعَةِ، وَالسَّابِعَةِ، وَالْخَامِسَةِ". قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ! إِنَّكُمْ أَعْلَمُ بِالْعَدَدِ مِنَّا، فَأَيُّ لَيْلَةٍ التَّاسِعَةُ، وَالسَّابِعَةُ، وَالْخَامِسَةُ؟ قَالَ: أَجَلْ: وَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَاكَ. إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ (2)، فَالَّتِي تَلِيهَا هِيَ التَّاسِعَةُ ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا السَّابِعَةُ، ثُمَّ دَعْ لَيْلَةً، ثُمَّ الَّتِي تَلِيهَا الْخَامِسَةُ، وَأَنَّ أَبَا سَعِيدٍ (3) الَّتِي تُسَمُّونَهَا أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، وَسِتًّا وَعِشْرِينَ، [وَ] اثْنَتَيْنِ وَعِشْرِينَ.

''حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان المبارک کے درمیانی عشرے میں اعتکاف کیا اور آپ شب قدر کو تلاش کررہے تھے جبکہ ابھی آپ کےلیے معاملے کی وضاحت نہیں ہوئی تھی۔ پھر آپ نے خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا تو وہ اکھاڑ دئیے گئے۔پھر آپ کےلیے آخری عشرے میں اس کی نشاندہ کی گئی تھی تو آپ نے حکم دیااور خیمے دوبارہ لگادیئے گئے۔ پھر آپ ہمارے پاس تشریف لائے تو فرمایا : ''صورت حال یہ ہے کہ مجھے شب قدر کی نشاندہی کی گئی اور میں تمہیں بتانے کےلیے نکلا تو دو آدمی جھگڑرہے تھے تو مجھے شب قدر بھلا دی گئی۔ لہٰذا اسے نویں ساتویںاور پانچویں رات میں تلاش کرو۔''جناب ابو نضرہ کہتےہیں : میں نے کہا : اے ابو سعید ؓ بے شک آپ ہم سےزیادہ بہتر طور پر گنتی جانتے ہیں، تو نویں،ساتویں اور پانچویں رات کو ن سی بنتی ہے؟ انہوں نے فرمایا : ہاں ، اورہم ہی اس کے زیادہ حقدار ہیں ۔ جب اکیسویں رات ہو تو اس کے ساتھ والی رات نویں ہے ۔پھر ایک رات چھوڑ دو ، پھر اس کے ساتھ والی ساتویں ہے۔ پھر ایک رات چھوڑ دو ، تو اس کے بعد والی پانچویں ہے۔ جنہیں تم چوبیس ، چھبیس اور بائیس کا نام دیتےہو(انہیں چھوڑ دو)۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2176

chevron_left Previous
1…242526…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals