Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2130

فَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ -وَهُوَ الرِّشْكُ- عَنْ مُعَاذَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَة: أَكَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ، أَوْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ؟ قَالَتْ: نَعَمْ. قَالَتْ: مِنْ أَيِّهِ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّهِ صَامَ.

''حضرت معاذ ؓ بیان کرتی ہیں :''میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : ''کیا رسول اللہ ﷺ ہرمہینے روزے رکھتے تھے۔ یا کیا آپ ہر مہینے میں تین روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں۔ انہوں نے پوچھا۔ کو سے دنوں میں رکھتے تھے؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: ''آپ اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ کن دنوں کا روزہ رکھا ہے۔''

مُعَاذَةَ ← يَزِيدَ -وَهُوَ الرَشْكٌ-، ← شُعْبَةُ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2130

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2131

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالُ: "مَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا اجْتَمَعَتْ هَذِهِ الْخِصَالُ قَطُّ فِي رَجُل إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فَلَوْ كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه دَخَلَ الْجَنَّةَ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه لَكَانَ فِي هَذَا الْخَبَر دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ صَوْمُ يَوْمٍ، وَإِطْعَامُ مِسْكِينٍ، وَشُهُودُ جَنَازَةٍ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، لَكِنْ هَذِهِ فَضَائِلُ لِهَذِهِ الْأَعْمَالِ، لَا كَمَا يَدَّعِي مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُحْسِنُهُ.

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''تم میں سے کس نے آج صبح روزے کی حالت میں کی ہے۔؟ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا : میں نے ۔ آپ نے فرمایا: ''تم میں سے کس شخص نے آج کسی مسکین کو کھاناکھلایا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: میں نےکھلایاہے۔آپ نے پھر یوچھا: تم میں سے کس شخص نے آج جنازے میں شرکت کی؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی: میں نے شرکت کی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا: ''تم میں سے کسی نےمریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا: میں نے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص میں بھی یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔''اما م ابو بکرؒ فرماتے ہیں: ''یہ روایت اس قسم سے ہے جسے میں نے کتاب الا یمان مین بیان کیا ہے۔لہذا اگر آپ کے اس فرمان : ''جس شخص نے لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔''میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہی مکمل ایما ن ہے پھر اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ مکمل ایمان ایک روزہ روزہ کھنا ، مسکین کو کھانا کھلانا، جنازے میں شریک ہونا اور بیمار کی تیمارداری کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ان اعمال کے فضائل ہیں ۔ ان سے مقصود وہ نہیں ہے جیساکہ کم علم نا تجربہ کار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2131

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَة: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ: لَا، إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ، وَسَأَلْتُهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ شَهْرًا تَامًّا؟ قَالَتْ: لَا، وَاللَّه مَا صَامَ شَهْرًا تَامًّا غَيْر رَمَضَانَ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ، وَمَا مَضَى شَهْرٌ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ، وَمَا أَفْطَرَهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ، وَسَأَلْتُهَا: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مَعَ السَّحَرِ؟ قَالَتْ: لَا، وَلَا الْمُصَلِّينَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: تَعْنِي الَّذِينَ يُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ الْكَثِيرَ.

''جناب عبداللہ بن شفیق ؒ فرماتے ہیں کہ میں نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ چاشت کی نماز ادا کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا :نہیں مگر یہ کہ آپ کسی سفر سے واپس آئیں تو پھر ادا کرتے تھے۔ میں نے ان سے سوال کیا: کیا رسول اللہ ﷺ کسی مہینے کے مکمل روزے بھی رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ نے اپنی وفات تک رمضان المبارک کے سوا کسی مہینے کے مکمل روزے نہیں رکھے اور آپ ہر مہینے سے کچھ روزے رکھتے تھے اور کچھ دن روزے نہیں رکھتے تھےاور میں نے ان سے دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے سحری تک نماز تہجد پڑھی ہے؟انہوں نے کہا : نہیں ، اور نہ نماز پڑھنے والوں نے (اتنی طویل پڑھی ہے)۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : ''حضرت عائشہ ؓ کا مطلب یہ ہے کہ جو رات کو بکژت نماز پڑھتے ہیں ، (انہوں نے بھی ساری رات نماز نہیں پڑھی)۔ ''

لَا إِلَّا ← سألت عائشة هل كان رسول الله يصلي الضحى ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2132

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2133

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَة عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: "كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يُفْطِرُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: لَا يَصُومُ، وَكَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ أَوْ عَامَّةَ شَعْبَانَ.

''حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کی کیفیت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا:''آپ (اس قدر مسلسل) روزے رکھتے کہ ہم کہتے : آپ ناغہ نہیں کریں گےاور پھر روزے رکھناچھوڑ دیتے ، حتی کہ ہم کہنا شروع ہو جاتے کہ آ اب روزے نہیں رکھیں گے۔ آپ سارا ماہ شعبان یا اکثر شعبان روزے رکھتے تھے۔''

صِیَامِ رَسُوْلُ اللہِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَة ← أُسَامَةُ بْنُ زَيْد اللَّيْثِيُّ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ وَبَحْرُ بْنُ نَصْرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2133

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2134

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-. ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ- قَالَا: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ صَوْمِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ يُفْطِرُ مِنْهُ شَيْئًا [219 - ب] وَيُفْطِرُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ يَصُومُ مِنْهُ شَيْئًا. وَكُنْتَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ، وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ. هَذَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ. وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ: سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ صَلَاةِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا.

''جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک ؓ سے نبی کریم ﷺ کے روزوں کےبارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ''آپ کسی مہینے روزے رکھتے رہتے حتی کی ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی ناغہ نہیں کرنا چاہتے اور پھر کسی مہینے روزہ رکھنا چھوڑ دیتے حتی کہ ہم خیال کرتے کہ آپ اس مہینے میں کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔ اور تم رات کے جس حصے میں آپ کو نماز پڑھتے دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہوا وراگر تم آپ کو سویاہوا دیکھنا چاہو تو دیکھ سکتے ہو۔''یہ روایت اسما عیل بن جعفری کی ہے۔ اور جناب خالد بن حارث کی روایت میں ہے: ''حضرت انسؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نفلی نماز اور روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔''

صَوْمِ النَّبِيِّ ← سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← أَبُو مُوسَى، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2134

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2135

أَخْبَرَني ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَأَخْبَرَني ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَة؛ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى أَعْرِفَ عَنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى أَقُولَ: مَا هُوَ بِصَائِمٍ، وَكَانَ أَكْثَرُ صِيَامِهِ فِي شَعْبَانَ.

''حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے حتی ٰ کہ مجھے معلوم ہو جاتا ۔ اور آپ روزےرکھنا چھوڑ دیتے حتی کہ میں کہتی : آپ روزے نہیں رکھیں گے اور آپ اکثر روزے شعبان میں رکھتے تھے۔''

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2135

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2136

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَر عَبْد الرَّحْمَن بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ، فَإِنَّ ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ: "هِيَ لِمَنْ قَالَ طَيِّبَ الْكَلَامِ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَقَامَ لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ".

''حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''بے شک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے بیرونی حصے کا نظارہ اند رسے کیا جا سکتا ے اور اندر سے بیرونی حصہ دکھائی دیتا ہے۔''تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی: ''اے اللہ کے رسول !یہ بالا خانے کس کےلیے ہیں؟آپ نے فرمایا: ''یہ اس کےلیے ہیں جو پاکیزہ شیریں گفتگو کرتا ہے ، بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے، ہمیشہ روزے رکھتا ہےاوررات کو اس وقت اللہ کی رضا کےلیے نفل پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔''

عَلِيٍّ، ← النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2136

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2137

وَأَمَّا خَبَر يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ. قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ: حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْد الرَّزَّاق، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ، أَوْ أَبِي معانق، عن أبي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرْفَةً قَدْ يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّه لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلْيَنَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ".

''حضرت ابو مالک اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : بلا شبہ جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کا بیرونی منظر اندر سے دیکھا جا سکتا ہے اور اندرونی نظارہ باہر سے وکھائی دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بالا خانے اس شخص کےلیے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے،نرم گفتگو کرتا ہے،پے در پے پے روزے رکھتا ہے اور رات کو نفل نماز پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔''

أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ ← ابْنِ مُعَانِقٍ، أَوْ أَبِي معانق، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مَهْدِيٍّ: ← وَأَمَّا خَبَر يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ.

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2137

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2138

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْد، عَنْ مَوْلَاةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ -يَعْنِي جَدَّةَ حَبِيبِ بْنِ زَيْد-: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ صَائِمَةٌ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ: "تَعَالَيْ فَكُلِي". فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الصَّائِمُ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ".

''جناب حبیب بن زید کی دادی حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے جبکہ و ہ روزے سے تھیں ۔ انہوں نے آپ کو کھاناپیش کیا تو آپ نے فرمایا:''تم بھی آجاؤاور کھانا کھا لو۔''انہوں نے عرض کی : ''میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔''تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ''جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جائے تو فرشتے اس کےلیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔''

جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ -يَعْنِي جَدَّةَ حَبِيبِ بْنِ زَيْد-: ← مَوْلَاةٍ يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2138

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2139

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، أَوْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ -شَكَّ عَلِي- قَالَ: سَمِعْتُ مَوْلَاةً لَنَا يُقَالُ لَهَا: لَيْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ: بِمِثْلِهِ سَوَاءً. وَزَادَ: حَتَّى يَفْرُغُوا، أَوْ يَقْضُوا أَكْلَهُ. شُعْبَةُ شَكَّ. قَالَ عَلِي: قَالَ وَكِيعٌ: حبيب.

''جناب علی بن خشرم کی سند سے حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ سے مذکورہ بالا کی مثل مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ بیان کیا ہے۔''حتی کہ وہ کھانے سے فارغ ہو جائیں ، یا وہ کھانا ختم کرلیں۔''امام شعبہ کو شک ہے کون سے الفاظ کہے تھے۔''

حَبِيبٍ، أَوْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ -شَكَّ عَلِي- ← شُعْبَةُ، ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2139

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2140

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنا شَرِيكٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْد، عَنْ لَيْلَى، عَنْ مَوْلَاتِهَا، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قال: "الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ".

''حضرت ام عمارہ بنت کعب ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :''جب روزہ نہ رکھنے والے روزے دار کے پاس کھاتے ہیں تو فرشتے اس کےلیے شام تک دعائیں کرتے ہیں۔''

"الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُمْسِيَ". ← النَّبِيِّ ← مَوْلَاتِهَا، ← لَيْلَى، ← حَبِیبُ بْنُ زَیْدٍ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2140

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2141

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ (1) وَأَبُو قِلَابَةَ عَبْد الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَائِشَة بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَة أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ طَعَامَنَا فَجَاءَ يَوْمًا فَقَالَ: "هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكِ الطَّعَامِ؟ ". فَقُلْتُ: لَا. فَقَالَ: "إِنِّي صَائِمٌ".

''حضرت عائشہ ام المومنینؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے کھانے کو پسند فرماتے تھے۔ پس ایک دن آپ تشریف لائے تو فرمایا:''کیا تمہارے پاس اس کھانے سے کچھ ہے؟تو میں نے عرض کیا نہیں: تو آپ نے فرمایا (پھر)میں روزے سے ہوں۔''

«إِنِّي صَائِمٌ» ← "هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكِ الطَّعَامِ؟ فَقُلْتُ: لَا. ← كَانَ رَسُولُ اللَّه يُحِبُّ طَعَامَنَا فَجَاءَ يَوْمًا ← عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُؤْمِنِیْنَ ← عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، ← طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو قِلَابَةَ عَبْد الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2141

chevron_left Previous
1…212223…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals