صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2058
حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَاصِمِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (1) رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، أَفْطَرَ الصَّائِمُ". قَالَ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَقَدْ أَفْطَرْتُ. وَقَالَ أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا. وَلَمْ يَقُلْ أَحْمَد وَلَا هَارُونُ: لِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، لَفْظُ خَبَر وَمَعْنَاهُ مَعْنَى الْأَمْرِ، أَيْ: فَلْيُفْطِرِ الصَّائِمُ إِذْ قَدْ حَلَّ لَهُ الْإِفْطَارُ. وَلَوْ كَانَ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ مَعْنَى لَفْظِهِ، كَانَ جَمِيعُ الصُّوَّامُ فِطْرُهُمْ وَقْتًا وَاحِدًا، وَلَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ"، وَلِقَوْلِهِ: "لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ (2) النَّاسُ الْفِطْرَ"، مَعْنًى، وَلَا كَانَ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَقُولُ اللَّه -تَبَارَكَ وَتَعَالَى-: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا" مَعْنًى، لَوْ كَانَ اللَّيْلُ إِذَا أَقْبَلَ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ كَانَ الصُّوَّامُ جَمِيعًا مُفْطِرُونَ، وَلَوْ كَانَ فِطْرُ جَمِيعِهِمْ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ لَا يَتَقَدَّمُ فِطْرُ أَحَدِهِمْ غَيْرهُ لَمَا كَانَ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ وَجَدَ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ". مَعْنًى، وَلَكِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ: "فَقَدْ أَفْطَرَ" أَيْ: فَقَدْ حَلَّ لَهُ الْفِطْرُ، وَاللَّه أَعْلَمُ.
"حضرت عاصم بن عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے مجھے فرمایا:"جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار ، روزہ کھول لے ۔"جناب ہارون کی روایت میں ہے :"تو تم نے روزہ کھول دیا۔"اور جناب احمد بن عبداہ کی روایت میں ہے:"جب ادھرسے رات آجائے ۔"جناب احمد اور ہارون کی روایات میں "لی"( مجھے فرمایا) کے لفظ نہیں ہے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "تو روزے دار نے روزہ کھول دیا۔"یہ الفاظ خبری انداز کے ہیں ، لیکن ان کا معنی امر کا ہے ۔ یعنی تو روزے دار روزہ کھول دے کیونکہ اس کی افطاری کا وقت ہوگیا ہے ۔ اور اگر ان الفاظ کا معنی الفاظ کے مطابق خبری ہوتا تو تمام روزے دار وں کی افطاری کا وقت ایک ہی ہوتا اور نبی کریمﷺ کے درج زیل فرامین کا کوئی معنی نہیں رہتا ۔ آپ کا فرمان ہے : "لوگ جب تک افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے ، وہ خبر وبھلائی کے ساتھ رہیں گے ۔ "اور آپ کا فرمان مبارک ہے : "دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے ۔ "اور آپ کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں ہوگا کہ "اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :میرے بندوں میں سے میرا زیادہ محبوب وہ ہے جو ان میں سے جلدی افطاری کرتا ہے ۔ "اگر رات کے آنے اور دن کے جانے پر اور سورج کے غروب ہونے پر تمام روزے دار روزہ کھول دیتے اور اگر ان سب کی افطاری ایک ہی وقت میں ہوتی اور کوئی شخص دوسرے سے پہلے افطاری نہ کر سکتا تو پھر آپ کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں رہتا ۔ آپ کا ارشاد ہے : " جس شخص کو کھجور ملے وہ اسی سے افطاری کر لے اور جسے کھجور نہ ملے تو وہ پانی سے روزہ کھول لے ۔ "لیکن آپ کے اس فرمان "تو اس کا روزہ کھل گیا "کا معنی یہ ہے کہ اس کےلیے روزے کھولنا حلال ہوگیا۔"واللہ علم
عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَاصِمٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2058
