Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2058

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ؛ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَاصِمِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (1) رَضِيَ اللَّه عَنْهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، أَفْطَرَ الصَّائِمُ". قَالَ هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ: فَقَدْ أَفْطَرْتُ. وَقَالَ أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ: إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا. وَلَمْ يَقُلْ أَحْمَد وَلَا هَارُونُ: لِي. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، لَفْظُ خَبَر وَمَعْنَاهُ مَعْنَى الْأَمْرِ، أَيْ: فَلْيُفْطِرِ الصَّائِمُ إِذْ قَدْ حَلَّ لَهُ الْإِفْطَارُ. وَلَوْ كَانَ مَعْنَى هَذِهِ اللَّفْظَةِ مَعْنَى لَفْظِهِ، كَانَ جَمِيعُ الصُّوَّامُ فِطْرُهُمْ وَقْتًا وَاحِدًا، وَلَمْ يَكُنْ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ"، وَلِقَوْلِهِ: "لَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ (2) النَّاسُ الْفِطْرَ"، مَعْنًى، وَلَا كَانَ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَقُولُ اللَّه -تَبَارَكَ وَتَعَالَى-: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا" مَعْنًى، لَوْ كَانَ اللَّيْلُ إِذَا أَقْبَلَ، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ كَانَ الصُّوَّامُ جَمِيعًا مُفْطِرُونَ، وَلَوْ كَانَ فِطْرُ جَمِيعِهِمْ فِي وَقْتٍ وَاحِدٍ لَا يَتَقَدَّمُ فِطْرُ أَحَدِهِمْ غَيْرهُ لَمَا كَانَ لِقَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ وَجَدَ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ". مَعْنًى، وَلَكِنَّ مَعْنَى قَوْلِهِ: "فَقَدْ أَفْطَرَ" أَيْ: فَقَدْ حَلَّ لَهُ الْفِطْرُ، وَاللَّه أَعْلَمُ.

"حضرت عاصم بن عمر بن خطاب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہﷺنے مجھے فرمایا:"جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار ، روزہ کھول لے ۔"جناب ہارون کی روایت میں ہے :"تو تم نے روزہ کھول دیا۔"اور جناب احمد بن عبداہ کی روایت میں ہے:"جب ادھرسے رات آجائے ۔"جناب احمد اور ہارون کی روایات میں "لی"( مجھے فرمایا) کے لفظ نہیں ہے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "تو روزے دار نے روزہ کھول دیا۔"یہ الفاظ خبری انداز کے ہیں ، لیکن ان کا معنی امر کا ہے ۔ یعنی تو روزے دار روزہ کھول دے کیونکہ اس کی افطاری کا وقت ہوگیا ہے ۔ اور اگر ان الفاظ کا معنی الفاظ کے مطابق خبری ہوتا تو تمام روزے دار وں کی افطاری کا وقت ایک ہی ہوتا اور نبی کریمﷺ کے درج زیل فرامین کا کوئی معنی نہیں رہتا ۔ آپ کا فرمان ہے : "لوگ جب تک افطاری کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے ، وہ خبر وبھلائی کے ساتھ رہیں گے ۔ "اور آپ کا فرمان مبارک ہے : "دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے ۔ "اور آپ کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں ہوگا کہ "اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں :میرے بندوں میں سے میرا زیادہ محبوب وہ ہے جو ان میں سے جلدی افطاری کرتا ہے ۔ "اگر رات کے آنے اور دن کے جانے پر اور سورج کے غروب ہونے پر تمام روزے دار روزہ کھول دیتے اور اگر ان سب کی افطاری ایک ہی وقت میں ہوتی اور کوئی شخص دوسرے سے پہلے افطاری نہ کر سکتا تو پھر آپ کے اس فرمان کا بھی کوئی معنی نہیں رہتا ۔ آپ کا ارشاد ہے : " جس شخص کو کھجور ملے وہ اسی سے افطاری کر لے اور جسے کھجور نہ ملے تو وہ پانی سے روزہ کھول لے ۔ "لیکن آپ کے اس فرمان "تو اس کا روزہ کھل گیا "کا معنی یہ ہے کہ اس کےلیے روزے کھولنا حلال ہوگیا۔"واللہ علم

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← عَاصِمٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← عَبْدَةُ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2058

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2059

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ سَهْلٍ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَان، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ".

"حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"لوگ اس وقت تک خیر وبھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک وہ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے ۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← سَهْلٍ -وَهُوَ ابْنُ سَعْدٍ- ← أَبِيهِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2059

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2060

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا يَزَالُ الدِّينُ ظَاهِرًا مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ، إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى يُؤَخِّرُونَ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نےفرمایا:"دین اسلام اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ روزہ کھولنے میں جلدی کرتے رہیں گے ۔ بلاشبہ یہودو نصاری افطاری کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْمُحَارِبِيُّ2 ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ← عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ؛ ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2060

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2061

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَبِي حَازِمٍ [212 - ب]، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى سُنَّتِي مَا لَمْ تَنْتَظِرْ بِفِطْرِهَا النُّجُومَ". قَالَ: وَكَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ صَائِمًا أَمَرَ رَجُلا، فَأَوْفَى عَلَى شَيْءٍ، فَإِذَا قَالَ: غَابَتِ الشَّمْسُ أَفْطَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَكَذَا حَدَّثَنَا بِهِ ابْنُ أَبِي صَفْوَانَ، وَأَهَابُ أَنْ يَكُونَ الْكَلَامُ الْأَخِيرُ عَنْ غَيْر سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، لَعَلَّهُ مِنْ كَلَامِ الثَّوْرِيِّ، أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي حَازِمٍ، فَأُدْرِجَ فِي الْحَدِيثِ.

"حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"میری امت اس وقت تک میری سنت پر قائم رہے گی جب تک وہ روزہ کھولنے کےلیے ستاروں کے طلوع ہونے کے انتظار نہیں کرے گی۔"حضرت سہل فرماتے ہیں :"نبی اکرمﷺ جب روزے سے ہوتے تو ایک شخص کو حکم دیتے تو وہ کسی بلند جگہ سے ( سورج کے غروب ہونے کو ) دیکھتا ، پھر جب وہ اطلاع دیتا کہ سورج غروب ہوگیا ہے تو آپ روزہ کھول دیتے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :" ہمیں محمد بن ابی صفوان نے اس طرح روایت بیان کی ہے ۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ آخری کلام حضرت سہل بن سعدؓ کی نہیں ہوگی ۔ شاید یہ کلام امام سفیان ثوری یا ابو حازم کا قول ہوگا ، جو حدیث میں درض کر دیا گیا۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ب]، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2061

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2062

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، نَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ حَيْوَئِيلَ؛ أَنَّهُ سَمِعَ الزُّهْرِي يُحَدِّثُ. ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ -وَهُوَ الزُّهْرِي- عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة، عَنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "قَالَ اللَّه - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا".

جلدی روزہ افطار کرنے والوں سے اللہ تعالی ٰ کے محبت کرنے کا بیان

اللَّه تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَحَبُّ عِبَادِي إِلَيَّ أَعْجَلُهُمْ فِطْرًا". ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ابْنُ شِهَابٍ -وَهُوَ الزُّهْرِي- ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← أَبُو عَاصِمٍ ← وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِي، ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّةُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ حَيْوَئِيلَ؛ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2062

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2063

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ. ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يُصَلِّي الْمَغْرِبَ حَتَّى يُفْطِرَ وَلَوْ كَانَ شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ. قَالَ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ: أَصْلُهُ كُوفِيٌّ -يَعْنِي الْقَاسِمَ بْنَ غُصْنٍ- رَوَى عَنْهُ وَكِيعٌ وَسُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ.

''حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نماز مغرب ، افطاری کرنے کے بعد ادا کرتے تھے اگرچہ افطاری میں پانی کا ایک گھونٹ ہی ہوتا۔''جناب موسی بن سہل کہتے ہیں : قاسم بن غصن کوفہ کے رہنے والے ہیں ، ان سے امام وکیع او ر سلیمان بن حیات روایت کرتے ہیں۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← الْقَاسِمُ بْنُ غُصْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ، ← وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْعَزِيزِ الْوَاسِطِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2063

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2064

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْمَلِكِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- حَدَّثَنَا سُفْيَان بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ أَبِي لَيْلَى، كِلَاهُمَا عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ زَيْد بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا، أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، أَوْ فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْر أَنْ يَنْتَقِصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ". هَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ. وَلَمْ يَقُلْ عَلِي: أَوْ جَهَّزَ حَاجًّا.

''حضرت زید بن خالد جہنی ﷺ بیان کرے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے مجاہد کو (سامان جنگ دے کر تیار کیا یا حاجی کو تیار ی میں مدد دی یا اس کے بعد اس کے گھر والوں کا خیال رکھا یا روزے دار کو افطاری کرائی تو اسے ان کے برابر اجر ملے گا، جبکہ ان سب کے اجروثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی۔''یہ حدیث جناب صنعانی کی ہے۔ اور جناب علی بن منذر کی روایت میں''یا حاجی کو تیاری میں مدد دی''کے الفاظ نہیں ہیں۔''

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ أَبِي لَيْلَى، كِلَاهُمَا ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2064

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2065

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن التُّجِيبِيُّ (1)، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا كَانَ صَائِمًا لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِرُطَبٍ وَمَاءٍ، فَيَأْكُلُ وَيَشْرَبُ، إِذَا كَانَ الرُّطَبُ، وَأَمَّا الشِّتَاءُ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى نَأْتِيَهُ بِتَمْرٍ وَمَاءٍ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحْرِزٍ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَلِي الْجُعْفِيّ،، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ بِهَذَا.

''حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کا روزہ ہوتا تو آپ اس وقت تک نماز نہ پڑھتے جب تک ہم آپ کے پاس پانی اور رطب (تروتازہ) کھجوریں نہ لےآتے اور وہ کھانہ لیتے اور پانی پی نہ لیتے۔ جب تازہ کھجوریںمیسر ہوتیں۔ لیکن سردیوں میں آپ اس وقت تک نماز ادا نہ کرتے جب تک ہم آپ کے پاس خشک کھجوریں اور پانی نہ لے آتے(اور آپ افطاری نہ کر لیتے)۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← مِسْكِينُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن التُّجِيبِيُّ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2065

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2066

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِي بْنِ مُقَدَّمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْد الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ وَجَدَ تَمْرًا فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، وَمَنْ لَا، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طُهُورٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ إِلَّا هَذَا.

''حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کو خشک کھجوریں مل جائے تو وہ اس سے روزہ کھولے، اور جسےنہ ملے تو وہ پانی سے روزہ افطار کرے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: ''اس روایت کو سعید بن عامر کی سند سے امام شعبہ سے صرف ابو بکر بن اسحاق اور محمد بن عمر ہی بیان کرتے ہیں۔''

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِي بْنِ مُقَدَّمٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2066

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2067

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْدةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْد- كِلَاهُمَا عَنْ عَاصِمٍ؛ وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَاب، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى الْقَرِيبِ صَدَقَتَانِ؛ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنَّهُ بَرَكَةٌ، فَإِنْ [لَمْ] (1) يَجِدْ فَمَاءٌ فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَقَالَ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اذْبَحُوا عَنِ الْغُلَامِ عَقِيقَتَهُ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، وَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا". هَذَا حَدِيثُ عَبْد الْجَبَّارِ. وَقَالَ الْآخَرَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طُهُورٌ". وَلَمْ يَذْكُرَا قِصَّةَ الصَّدَقَةِ وَلَا الْعَقِيقَةِ.

''حضرت سلیمان بن عامر الضبییؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا، آپ فرما رہے تھے تھے۔''مسکین پر صدقہ کرنا ایک صدقہ ہے جبکہ قریبی رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو صدقے ہیں: ایک صدقہ اور دوسرا صلہ رحمی۔''اور آپ ﷺ نے فرما یا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ کھولے تو اسے کھجور سے روز ہ کھولنا چاہیے کیونکہ وہ باعث برکت ہے اور اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی سے افطاری کرے کیونکہ وہ بہت پاکیزہ ہے۔''اور آپ ﷺ نے فرمایا: ''بچے کی طرف سے ایک بکرے کو عقیقے میں ذبح کرو۔ اور اس سے گندگی صاف کرو اور اس کی طرف سے (بکرےکا )خون بہاؤ۔(اسے ذبح کرو)۔ ''یہ حدیث جناب عبدالجبارکی ہے۔جبکہ دیگر دو اساتذہ کی روایت میں ہے: ''رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے کھجور کے ساتھ روزہ افطار کرنا چاہیے ۔ اگر اسے کھجور نہ ملے تو پانی کے ساتھ افطار کرلے کیونکہ وہ پاکیزہ ہے۔''دونوں اساتذہ کرام نے صدقہ کرنے اور عقیقہ کرنے کا قصہ ذکر نہیں کیا۔''

عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ← الرَّبَابِ ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمٍ، ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ كِلَاهُمَا ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2067

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2068

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (2): "إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّكَ وَاصِلُ؟ قَالَ: "إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ، إِنِّي [أَ] بِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي".

''حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''وصال کرنے (رات اور دن کا مسلسل روزے رکھنے)سے بچو۔''صحابہ کرامؓ نے عرض کی: اےاللہ کے رسول ! آپ بھی وصال کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا : بے شک میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔''میں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2068

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2069

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِي، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ -يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ- عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّه، إِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ: "إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى".

''حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صوم وصال سے اجتناب کرو۔''صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ لے رسول !آپ بھی بھی وصال کرتے ہیں ۔آپ نے فرمایا:بے شک میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔''

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو سَعِيدٍ -يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ- ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2069

chevron_left Previous
1…151617…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals