Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2034

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَر ابْنِ عَبَّاسٍ: صَامَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ.

"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"حضرت ابن عباسؓ کی یہ حدیث "رسول اللہﷺنے فتح مکہ والے سال رمضان المبارک میں ( دوران سفر ) روزہ رکھا حتی کہ آپ "الکدید"مقام پر پہنچے تو روزہ کھول دیا ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2034

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2035

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنَا الزُّهْرِي؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ عَبْد اللَّه، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ الْفَتْحِ حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْكَدِيدَ أَفْطَرَ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ (1) مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا حَدِيثُ عَبْد الْجَبَّارِ. وَزَادَ، قَالَ سُفْيَان: لَا أَدْرِي هَذَا مِنْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَوْ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّه، أَوْ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِي؟.

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فتح مکہ والے سال ( دوران سفر ) روزے رکھے حتی کہ جب آپ الکدیم مقام پر پہنچے تو روزہ کھول دیا اور رسول اللہﷺکے آخری اور مؤخر فرمان پر عمل کیا جائے گا ۔ "یہ جناب عبدالجبار کی روایت ہے ۔ اس میں یہ اضافہ کرتے ہیں کہ امام سفیان فرماتے ہیں : "مجھے معلوم نہیں ( یہ آخری جملہ ) حضرت ابن عباسؓ کا قول ہے یا عبید اللہ یا امام زہری کا قول ہے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2035

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2036

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُوسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمَدِينَةِ يُرِيدُ مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى عُسْفَانَ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، حَتَّى نَظَرَ إِلَيْهِ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ. وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ. هَذَا حَدِيثُ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَقَالَ يُوسُفُ: سَافَرَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ [عُسْفَانَ] (2) ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ، فَشَرِبَ نَهَارًا، لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ. قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: صَامَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ، وَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر يُصَرِّحُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَرَى صَوْمَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ فِي الِابْتِدَاءِ، وَإِفْطَارَهُ بَعْدُ هَذَا مِنَ الْجِنْسِ الْمُبَاحِ أَنَّ كِلَا الْفِعْلَيْنِ جَائِزٌ، لَا أَنَّ إِفْطَارَهُ بَعْدَ بُلُوغِهِ عُسْفَانَ كَانَ نَسْخًا لِمَا تَقَدَّمَ مِنْ صَوْمِهِ.

"حضرت ابن عباسؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺمدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ کے ارادے سے روانہ ہوئے تو آپ ( دوران سفر) روزہ رکھتے رہےحتی کہ جب عسفان مقام پر پہنچے تو آپ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اور اسے اپنے دست مبارک پر رکھا حتی کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا، پھر آپ نے روزہ کھول دیا۔"حضرت ابن عباسؓ فرمایا کرتے تھے : "جو شخص چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے وہ روزہ نہ رکھے ۔ "یہ جناب حسن بن محمد کی روایت ہے ۔ جناب یوسف کی روایت میں ہے : "رسول اللہﷺ نے رمضان البارک میں سفر کیا"تو آپ نے روزے رکھے حتی کہ آپ عسفان مقام پر پہنچ گئے پھر آ پ نے پانی کا برتن منگوایا تو دن کے وقت پی لیا تاکہ لوگ آپ کو دیکھ لیں ۔ پھر آپ نے مکہ مکرمہ پہنچنے تک روزے چھوڑے رکھے ۔ "حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے تھے کہ:"رسول اللہﷺ نے سفر میں روزے رکھے ہیں اور روزے چھوڑے بھی ہیں۔ لہٰذا جو شخص چاہے روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"یہ حدیث اس بات کی صراحت کر رہی ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے نزدیک نبی کریمﷺکا ابتداء میں دوران سفر روزے رکھنا اور پھر بعد میں روزے نہ رکھنا جائز قسم سے تعلق رکھتا ہے اور یہ دونوں کام ہی جائز ودرست ہیں۔ یہ مطلب نہیں کہ عسفان مقام پر پہنچ کر آپ کا روزہ کھولنا ( اور باقی سفر میں روزے نہ رکھنا) ابتدائی روزے رکھنے کا حکم کا ناسخ ہے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُوسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مَنْصُورٌ، ← عبيدة بن حميد ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2036

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2037

خَبَر قَزْعَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ (1).

"حضرت ابو سعیدؓ بیان کرتےہیں :" میں نے دیکھا کہ اس کے بعد ہم رسول اللہﷺکے ساتھ سفر میں روزہ رکھا کرتے تھے ۔"میں یہ روایت اس سے پہلے لکھ چکا ہوں ۔"

وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ مَعَ رَسُولِ اللَّه أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← خَبَر قَزْعَةَ بْنِ يَحْيَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2037

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2038

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْد الْعَزِيزِ التَّنُوخِيِّ، حَدَّثَنَا عَطِيَّةُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنَا قَزْعَةُ بْنُ يَحْيَى [210 - ب] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلَيْلَتَيْنِ خَلَتَا مِنْ رَمَضَانَ، فَخَرَجْنَا صُوَّامًا، حَتَّى بَلَغَنَا الْكَدِيدَ، أُمِرْنَا بِالْفِطْرِ، فَأَصْبَحْنَا شَرِحِينَ (2) مِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَنَا مَرَّ الظَّهْرَانِ، أَعْلَمَنَا بِلِقَاءِ الْعَدُوِّ، أُمِرْنَا بِالْفِطْرِ، فَأَفْطَرْنَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَر ابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ هَذَا الْبَاب.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رمضان المبارک کی دو تاریخ کو ( سفر میں) نکلے جبکہ ہم نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ یہاں تک کہ ہم الکدید جگہ پر پہنچے تو ہم کو روزہ نہ رکھنے کا حکم دے دیا گیا ۔ تو ہم نے صبح خوش و خرم اور فراخی میں کی ، ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا حتی کہ جب "مراظہران "مقام پر پہنچے تو ہمیں دشمن کے مقابلے کی اطلاع ملی، ہمیں روزہ کھولنے کا حکم دے دیا گیا تو ہم سب نے روزہ کھول لیا۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "حضرت ابن عباس اور ابو نضرہ کی حضرت ابوسعید ؓ سے روایت بھی اسی مسئلہ کے متعلق ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← قَزَعَۃَ بْنِ یَحْیٰی ← عَطِیَّۃَ بْنِ قَیْسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التَّنُوخِيُّ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2038

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2039

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ. حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْد اللَّه الْمُزَنِيَّ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي سَفَرٍ وَمَعَهُ أَصْحَابهُ فَشَقَّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَشَرِبَ -وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ- وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سفر میں تھے تو آپ کے صحابہ پر روزہ بہت شاق گزرا ۔ تو رسول اللہﷺنے ایک برتن منگوایا جس میں پانی تھا تو آپ نے اپنی سواری پر بیٹھے بیٹھے اسے نوش فرمایا جبکہ صحابہ کرام آپ کی طرف دیکھ رہےتھے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ عَبْد اللَّه الْمُزَنِيَّ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2039

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2040

أَخْبَرَنا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَخْبَرَنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ -هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ (1) - حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ الْحَضْرَمِيَّ (2)، حَدَّثَهُ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جبْرٍ (3)، قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفِينَةٍ (4) مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَدَفَعَ، ثُمَّ قَرَّبَ غَدَاءَهُ، فَقَالَ: اقْتَرِبْ. فَقُلْتُ: أَلَسْتَ تَرَى الْبُيُوتَ؟ فَقَالَ أَبُو بَصْرَةَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَسْتُ أَعْرِفُ كُلَيْبَ بْنَ ذُهْلٍ، وَلَا عُبَيْدَ بْنَ جَبْرٍ (3)، وَلَا أَقْبَلُ مَنْ لَا أَعْرِفُهُ بِعَدَالَةٍ.

"جناب عبید بن جبیر بیان کرتےہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے صحابی حضرت ابو بصرہ غفاری ؓ کے ساتھ رمضان المبارک میں فسطاط شہر سے کشتی میں سوار ہوا۔ وہ روانہ ہوئے پھر انہیں دوپہر کا کھانا پیش کیا گیا تو انہوں نےفرمایا:"قریب ہوجاؤ:(اور کھانا کھاؤ)۔ میں نے عرض کیا: "کیا آپ ( ابھی ) شہر کی آبادی نہیں دیکھ رہے؟ تو حضرت ابوبصرہ ؓ نے فرمایا:"کیا تم رسول اللہﷺکی سنت سے اعراض کر رہے ہو ؟ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "میں کلیب بن ذہل اور عبید بن جبیر کو نہیں جانتا اور جس شخص کی عدالت وامانت کو میں نہ جانتا ہوں ، میں اس کے دین ( روایات ) کو قبول نہیں کرتا ۔"

يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو عُثْمَانَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن الصَّابُونِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2040

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2041

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، أَخْبَرَنا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ: أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرْيَةِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ مِنَ الْفُسْطَاطِ فِي رَمَضَانَ، فَأَفْطَرَ، وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، فَلَمَّا رَجَعَ (5) إِلَى قَرْيَتِهِ، قَالَ: وَاللَّه لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَرَاهُ. إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابهِ: يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ. وَقَالَ ابْنُ عَبْد الْحَكَمِ: خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ بِدِمَشْقَ الْمِزَّةِ إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ. وَالْبَاقِي لَفْظًا وَاحِدًا. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: ابْنُ لَهِيعَةَ يَقُولُ فِي هَذَا: مَنْصُورُ بْنُ زَيْد الْكَلْبِيُّ.

"جناب منصور کلبی بیان کرتےہیں کہ جناب دحیہ بن خلیفہ رمضان المبارک میں اپنی بستی فسطاط سے حضرت عقبہ بن عامر کی بستی کی طرف نکلے تو روزہ کھول دیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ روزہ کھول دیا ۔ جبکہ کچھ لوگوں نے روزہ کھولنا ناپسند کیا۔ پھر جب وہ اپنی بستی میں واپس آگئے تو فرمایا:"اللہ کی قسم! آج میں نے ایک ایسا منظر دیکھا ہے جسے دیکھنے کی مجھے امید نہ تھی ۔ کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺاور آپ کے صحابہ کی سیرت سے بے رغبتی کی ہے ۔ یہ بات انہوں نے ان لوگوں کے بارے میں فرمائی جنہوں نے ( دوران سفر) روزہ رکھا تھا ۔ اس موقع پر انہوں نے دعا کی: "اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلالو ( مجھے فوت کر لو)۔"جناب ابن عبدالحکم بیان کرتے ہیں : " وہ اپنی دمشق کی بستی "المزہ"سے حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی بستی کی مقدار کے برابر مسافت کےلیے نکلے پھر انہوں نے روزہ کھول دیا ۔"باقی روایت ایک جیسی ہے ۔ جناب محمد بن یحییٰ کہتے ہیں : ابن لہیعہ اس راوی کے بارے میں کہتے تھے : "منصور بن زید کلبی "

مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ: ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2041

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2042

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ- حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، قَالَ: كَانَ أَبُو قِلَابَةَ حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ لِي: هَلْ لَكَ فِي الَّذِي حَدَّثَنِيهِ، فَدَلَّنِي عَلَيْهِ، فَلَقِيتُهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي يُقَالُ لَهُ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: [211 - أ]. أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي إِبِلٍ لجاري أُخِذَتْ، فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ، فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: "ادْنُ -أَوْ قَالَ: هَلُمَّ- أُخْبِرْكَ عَنْ ذَاكِ: إِنَّ اللَّه وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ (1) الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ". فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ يَقُولُ: أَلَا أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ دَعَانِي إِلَيْهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ أَنَّ اسْمَ النِّصْفِ قَدْ يَقَعُ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ الشَّيْءِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ نِصْفًا عَلَى الْكَمَالِ وَالتَّمَامِ، إِذِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعْلَمَ فِي هَذَا الْخَبَر أَنَّ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ - وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَالشَّطْرُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ النِّصْفُ لَا الْقِبَلُ، وَلَا التِّلْقَاءُ وَالْجِهَةُ، أَعْنِي قَوْلَهُ [تَعَالَى]: (فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ). [البقرة: 144] وَلَمْ يَضَعِ اللَّه عَنِ الْمُسَافِرِ [نِصْفَ] (1) فَرِيضَةِ الصَّلَاةِ عَلَى الْكَمَالِ وَالتَّمَامِ، لِأَنَّهُ لَمْ يَضَعْ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَلَا مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ عَنِ الْمُسَافِرِ شَيْئًا.

"جناب ایوب کہتے ہیں :حضرت ابوقلابہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی پھر انہوں نے مجھے کہا:"کیا تمہیں اس استاد کی معرفت حاصل کرنے کا شوق ہے جس نے مجھے یہ حدیث بیان کی تھی؟ پھر مجھے اس کے بارے میں بتایا تو میں انہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے قریبی رشتہ دار حضرت انس بن مالک ؓ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس اپنے اونٹوں کے سلسلے میں حاضر ہوا جو کہ پکڑ لیے گئے تھے ، تو میں اس وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کھانا کھا رہے تھے تو آپ نے مجھے کھانا کھانے کی دعوت دی تو میں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا: قریب ہو جاؤ یا فرمایا: آجاؤ ( کھا لو ) میں تمہیں اس بارے میں خبر دوں گا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزہ اور آدھی نماز معاف کرد ی ہے ۔ اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ( روزہ معاف کر دیا ہے ) حضرت انس ؓ اس کے بعد فرمایا کرتے تھے : "اے کاش! میں رسول اللہﷺکی دعوت پر آپ کے کھانے میں سے کھا لیتا۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : " یہ روایت اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں نے کتاب الایمان میں بیان کیا ہے کہ نصف کا اطلاق کسی چیز کے کسی حصے پر بھی ہو جاتا ہے اگرچہ وہ حصہ مکمل طور پر آدھا بھی نہ ہو ۔ نبی اکرمﷺنے اس روایت میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے شطر( آدھی ) نماز معاف کر دی ہے ۔ اس مقام پر شطر کا معنی نصف ہے ۔ اس جگہ شطر کا معنی طرف ، سمت اور جہت نہیں ہے ۔ میری مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :(فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ)(البقرہ:۱۴۴)"تو تم مسجد حرام کی طر ف اپنے چہرے کو پھیر لو ۔ "( اس میں شطر کا معنی: طرف اور جہت ہے ) اور اللہ تعالیٰ نے مسافر سے مکمل آدھی نما زمعاف نہیں کی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو نماز فجر اور مغرب سے کچھ نما ز معاف نہیں کی۔"

أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2042

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2043

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه، عَنْ سُفْيَان، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَتَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُل وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: "ادْنُهْ". قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ. فَقَالَ: "ادْنُهْ، أُحَدِّثْكَ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّه قَدْ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى أَوِ الْمُرْضِعِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أنس بن مالك هذا ليس أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ، هُوَ مِنْ بَنِي عَبْد اللَّه بْنِ مَالِكٍ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺکی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جبکہ آپ اس وقت کھانا کھا رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: "کھانے کے قریب ہو جاؤ۔ اس نے عرض کی: "میں نے روزہ رکھا ہوا ہے ۔ "آپ نے فرمایا: "کھانے کے قریب ہوجاؤ( اور کھا لو) میں تمہیں روزے کے بارے میں بتاتا ہوں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز معاف کر دی ہے اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت سے بھی ( روزہ معاف کر دیا ہے ) ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"انس بن مالک انصاری سے مراد عبداللہ بن مالک کے خاندان کا ایک فرد ہے ۔ ( رسول اللہﷺ کے خادم مرا دنہیں ہیں)۔ "

الْحُبْلَى أَوِ الْمُرْضِعِ". ← الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، ← الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّه قَدْ وَضَعَ ← "ادْنُهْ، أُحَدِّثْكَ ← «إِنِّي صَائِمٌ» ← "ادْنُهْ". ← أَتَى النَبِيّ رَجُل وَهُوَ يَتَغَدَّى، ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2043

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2044

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ -رَجُل مِنْ بَنِي عَبْد اللَّه بْنِ مَالِكٍ-؛ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَيْضًا، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِي، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. فَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: وَالْمُرْضِعِ.

"امام صاحب مذکورہ بالا روایت جناب عفان کی سند سے بیان کرتے ہیں : اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت انس بن مالک ؓ سے ہے مگر وہ انصاری نہیں ہیں ۔ اور جناب عفان نے اپنی حدیث میں دودھ پلانے والی عورت کا ذکر کیا ہے ( حاملہ کا ذکر نہیں کیا)۔"

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ، وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: وَالْمُرْضِعِ. ← أَبُو هِلَالٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. فَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَيْضًا، ← أَبُو هِلَالٍ؛ ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ -رَجُل مِنْ بَنِي عَبْد اللَّه بْنِ مَالِكٍ-؛ ← عَبْد اللَّه بْنِ سَوَادَةَ، ← أَبِي هِلَالٍ، ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2044

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2045

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ (2)، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَني زَيْد -وهُوَ ابْنُ أَسْلَم- عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْد اللَّه، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ؛ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَجُل الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ". فَقُلْنَ لَهُ: مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّه؟ قَالَ: "أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَجُل؟ " قُلْنَ: بَلَى. قَالَ: "ذَلِكَ لِنُقْصَانِ عَقْلِهَا. أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ؟ " قَالَ: "فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا". هَذَا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى.

"حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"اے عورتوں کی جماعت! تمہارے دین اور عقل کے نقص وکمی کے باوجود میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو عقل مند شخص کی عقل وہوش کو اڑانے والا نہیں دیکھا ۔ تو انہوں نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول!ہمارے دین اور عقل کا نقصان کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا:"کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے آدھی نہیں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کی عقل کی کمی اور نقص کی وجہ سے ہے۔ کیا جب عورت کو حیض آجاتا ہے تو وہ نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا چھوڑ نہیں دیتی؟ آپ نےفرمایا: تو یہ چیز اس کے دین کا نقصان ہے ۔"یہ حدیث جناب محمد بن یحییٰ کی ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← زَيْد -وهُوَ ابْنُ أَسْلَم- ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2045

chevron_left Previous
1…131415…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals