صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2022
قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَر أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى نَهَرٍ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ أَيْضًا. قَالَ فِي الْخَبَر: "إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ وَأَنْتُمْ مُشَاةٌ، إِنِّي أَيْسَرُكُمْ". فَهَذَا الْخَبَر دَلَّ عَلَى أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَامَ وَأَمَرَهُمْ بِالْفِطْرِ فِي الِابْتِدَاءِ، إِذْ كَانَ الصَّوْمُ لَا يَشُقُّ عَلَيْهِ إِذْ كَانَ رَاكِبًا، لَهُ ظَهْرٌ لَا يَحْتَاجُ إِلَى الْمَشْيِ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفِطْرِ إِذْ كَانُوا مُشَاةً يَشْتَدُّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ مَعَ الرَّجَّالَةِ فَسَمَّاهُمْ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُصَاةً إِذِ امْتَنَعُوا مِنَ الْفِطْرِ بَعْدَ أَمْرِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهُمْ بَعْدَ عِلْمِهِ أَنْ يَشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَيْهِمْ، إِذْ لَا ظَهْرَ لَهُمْ، وَهُمْ يَحْتَاجُونَ إِلَى الْمَشْيِ.
"امام ابوبکرؒ فرماتےہیں :"حضرت ابوسعید ؓ کی یہ حدیث کی نبی کریمﷺ ایک برساتی نہر تشریف لائے "بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:"میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میں سواری پر سوار ہوں اور تم پیدل چل رہے ہو ، میں تمہاری نسبت زیادہ آسانی اور سہولت میں ہوں ۔"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابتدا ء میں نبی کریمﷺ نے خود روزہ رکھا ہوا تھا اور صحابہ کو روزہ کھولنے کا حکم دیا تھا ۔ کیونکہ آپ سواری پر تھے اور آپ کےلیے روزے میں مشقت نہیں تھی اور آپ کی سواری ہونے کی وجہ سے آپ پیدل چلنے سے بے نیاز تھے اور آپ نے صحابہ کرام کو روزہ کھولنے کا حکم دیا کیونکہ وہ پیدل چل رہے تھے جس کی وجہ سے ان کےلیے رزہ رکھنا بڑا مشکل ہو گیا تھا لہٰذا جب انہوں نے نبی کریمﷺ کے حکم کے باوجود روزہ نہ کھولا تو ا ٓپ نے انہیں نافرمان قرار دیا ، آپ نے انہیں یہ حکم اس اطلاع کے بد دیا تھا کہ روزہ ان کے لیے مشکل ہوچکا ہے کیونکہ سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے وہ پیدل چلنے پر مجبور تھے۔
أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَر أَبِي سَعِيدٍ
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2022
