Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2022

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَر أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى عَلَى نَهَرٍ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ مِنْ هَذَا الْجِنْسِ أَيْضًا. قَالَ فِي الْخَبَر: "إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ، إِنِّي رَاكِبٌ وَأَنْتُمْ مُشَاةٌ، إِنِّي أَيْسَرُكُمْ". فَهَذَا الْخَبَر دَلَّ عَلَى أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَامَ وَأَمَرَهُمْ بِالْفِطْرِ فِي الِابْتِدَاءِ، إِذْ كَانَ الصَّوْمُ لَا يَشُقُّ عَلَيْهِ إِذْ كَانَ رَاكِبًا، لَهُ ظَهْرٌ لَا يَحْتَاجُ إِلَى الْمَشْيِ، وَأَمَرَهُمْ بِالْفِطْرِ إِذْ كَانُوا مُشَاةً يَشْتَدُّ عَلَيْهِمُ الصَّوْمُ مَعَ الرَّجَّالَةِ فَسَمَّاهُمْ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عُصَاةً إِذِ امْتَنَعُوا مِنَ الْفِطْرِ بَعْدَ أَمْرِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهُمْ بَعْدَ عِلْمِهِ أَنْ يَشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَيْهِمْ، إِذْ لَا ظَهْرَ لَهُمْ، وَهُمْ يَحْتَاجُونَ إِلَى الْمَشْيِ.

"امام ابوبکرؒ فرماتےہیں :"حضرت ابوسعید ؓ کی یہ حدیث کی نبی کریمﷺ ایک برساتی نہر تشریف لائے "بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:"میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ میں سواری پر سوار ہوں اور تم پیدل چل رہے ہو ، میں تمہاری نسبت زیادہ آسانی اور سہولت میں ہوں ۔"یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابتدا ء میں نبی کریمﷺ نے خود روزہ رکھا ہوا تھا اور صحابہ کو روزہ کھولنے کا حکم دیا تھا ۔ کیونکہ آپ سواری پر تھے اور آپ کےلیے روزے میں مشقت نہیں تھی اور آپ کی سواری ہونے کی وجہ سے آپ پیدل چلنے سے بے نیاز تھے اور آپ نے صحابہ کرام کو روزہ کھولنے کا حکم دیا کیونکہ وہ پیدل چل رہے تھے جس کی وجہ سے ان کےلیے رزہ رکھنا بڑا مشکل ہو گیا تھا لہٰذا جب انہوں نے نبی کریمﷺ کے حکم کے باوجود روزہ نہ کھولا تو ا ٓپ نے انہیں نافرمان قرار دیا ، آپ نے انہیں یہ حکم اس اطلاع کے بد دیا تھا کہ روزہ ان کے لیے مشکل ہوچکا ہے کیونکہ سواریاں نہ ہونے کی وجہ سے وہ پیدل چلنے پر مجبور تھے۔

أَبُو بَكْرٍ: وَفِي خَبَر أَبِي سَعِيدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2022

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2023

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ هَاشِمٍ. حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بنْ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي قَزْعَةُ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ، وَهُوَ مَكْثُورٌ عَلَيْهِ، فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ، قُلْتُ: لَا أَسْأَلُكُ عَمَّا يَسْأَلُكَ هَؤُلَاءِ عَنْهُ. وَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ. فَقَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَكَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ، وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ". فَكَانَتْ رُخْصَةً، فَمِنَّا مَنْ صَامَ، وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ. ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ، فَقَالَ: "إِنَّكُمْ مُصَبِّحي عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ، فَأَفْطِرُوا". فَكَانَتْ عَزْمَةً، فَأَفْطَرْنَا. ثُمَّ قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ ذَلِكَ فِي السَّفَرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَر بَيِّنٌ وَاضِحٌ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمَّاهُمْ عُصَاةً إِذْ عَزَمَ عَلَيْهِمْ فِي الْفِطْرِ لِيَكُونَ أَقْوَى لَهُمْ عَلَى عَدُوِّهِمْ إِذْ قَدْ دَنَوْا مِنْهُمْ، وَيَحْتَاجُونَ إِلَى مُحَارَبَتِهِمْ، فَلَمْ يَأْتَمِرُوا لِأَمْرِهِ، لِأَنَّ خَبَر جَابِرٍ فِي عَامِ الْفَتْحِ وَهَذَا الْخَبَر فِي تِلْكَ السَّفْرَةِ أَيْضًا، فَلَمَّا عَزَمَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيْهِمْ بِالْفِطْرِ، لِيَكُونَ الْفِطْرُ أَقْوَى لَهُمْ، فَصَامُوا حَتَّى كَانَ يُغْشَى عَلَى بَعْضِهِمْ، وَيَحْتَاجُ إِلَى أَنْ يُظَلَّلَ، وَيُنْضَحَ الْمَاءُ عَلَيْهِ، فَيَضْعُفُوا عَنْ مُحَارَبَةِ عَدُوِّهِمْ، جَازَ أَنْ يُسَمِّيَهُمْ عُصَاةً إِذْ أَمْرَهُمْ بِالتَّقَوِّي لِعَدُوِّهِمْ، فَلَمْ يُطِيعُوا، وَلَمْ يَتَقَوَّوْا لَهُمْ.

"جناب قزعہ بیان کرتےہیں کہ میں حضرت ابو سعید ؓ کے پا س آیا جبکہ ان کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا تو جب منتشر ہوئے تو میں نے عرض کی: میں آپ سے ان چیزوں کے بارے میں سوال نہیں کروں گا جب کے بارے میں یہ لوگ آپ سے سوال کر رہے تھے ۔ اور میں نے ان سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:" ہم نے روزہ رکھ کر رسول اللہﷺ کے ساتھ مکہ کی طرف سفر کیا پھر ہم ایک جگہ آرام کرنے کےلیے رکے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "بے شک تم اپنے دشمن کے قریب پہنچ چکے ہو اور روزہ نہ رکھنا یہ تمہارے لیے تقویت کا باعث ہے ۔ "تو یہ رخصت تھی لہٰذا ہم میں سے بعض نے روزہ رکھ لیا اور کچھ افراد نے روزہ نہ رکھا ۔ پھر ہم ایک اور منزل پر اترے تو آپ نے فرمایا: "تم صبح کے وقت دشمن کے پاس پہنچنے والے ہو اورا ب تمہارا روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے ( دشمن کے مقابلے میں) طاقت کا باعث ہو گا۔لہٰذا روزہ کھول دو۔ اس طرح یہ لازمی حکم تھا تو ہم نے روزہ چھوڑ دیا۔ پھر فرماتےہیں :"پھر اس سفر کے بعد میں نے صحابہ کرامؑ کو دیکھا کہ ہم سفر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ روزہ رکھ لیتے تھے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں:"یہ روایت واضح طور پر بتاتی ہے کہ نبی کریمﷺ نے انہیں نافرمان اس وقت قرار دیا جبکہ آپ نے انہیں روزہ کھولنے کا وجوبی حکم دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلے میں انہیں قوت و طاقت حاصل ہو سکے ۔ کیونکہ وہ دشمن کے قریب آچکے تھے اور ان کے ساتھ جنگ کی ضرورت تھی ۔ مگر انہوں نے آپ کے حکم کی تعمیل نہ کی ( تو آپ نے انہیں نافرمان قرار دیا) کیونکہ حضرت جابر ؓ کی روایت اور یہ روایت دونوں فتح مکہ والے سال کے سفر سے متعلق ہیں ۔ پھر جب نبی کریمﷺنے روزہ کھولنا ان کےلیے ضروری قرار دے دیا تاکہ روزہ کھولنا ان کےلیے طاقت کا باعث ہو اور انہوں نے روزہ نہ کھولا حتی کہ ایک شخص بے ہوش ہوگیا اور اس پر سایہ کرنا پڑا اور پانی کا چھڑکاؤ کرنا پڑا ، اور وہ دشمن کے مقابلے کےلیے کمزور ہوگئے تو ایسے وقت میں انہیں نافرمان قرار دینا درست اور جائز تھا کیونکہ آپ نے انہیں دشمن کے مقابلے کےلیے طاقت حاصل کرنے کا حکم دیا تھا اور انہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی اور نہ دشمن کےلیے طاقت حاصل کی ۔"

قَزَعَةَ ← رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، ← مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2023

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2024

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْد اللَّه بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي".

"حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: " جس شخص نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے ۔"

سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي". ← "مَنْ رَغِبَ ← النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← مُجَاهِدٍ ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2024

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2025

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَر أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ خَرَّجْتُهُ بَعْدُ فِي إِبَاحَةِ الْفِطْرِ فِي رَمَضَانَ لِلْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ.

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : " رمضان المبارک میں حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کے روزہ چھوڑنے کے جواز کے باب میں حضرت انس بن مالک قثیری ؓ کی حدیث میں نے بعد میں ذکر کی ہے ۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2025

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2026

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْد اللَّه بْنُ وَهْبٍ؛ ح وَأَخْبَرَني عَبْد الْحَكَمِ [209 - ب] أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُمْ، أَخْبَرَني ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَميِّ؛ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّه فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ فَلَا جُنَاحٌ عَلَيْهِ". قَالَ: وَفِي خَبَر مُحَمَّدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّه الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ؛ فَاقْبَلُوهَا".

"حضرت حمزہ بن عمرو سلمی ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے عرض کی :"اے اللہ کے رسول! میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں تو کیا ( روزہ رکھنے کی صورت میں ) مجھے کوئی گناہ ہوگا ؟ تو رسو ل اللہﷺنے فرمایا: "یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے تو جو شخص اس رخصت سے فائدہ اٹھائے تو بہت اچھا ہے ۔ اور جو شخص روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔ حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے : "نبی کریمﷺ نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اختیار کرو ، جو رخصت اللہ نے تمہیں عطا کی ہے اسے قبول کر و۔"

حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ أَنَّهُ ← أَبِي مُرَاوِحٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← أَبِي الْأَسْوَدِ ← ابْنُ الْحَارِثِ، ← وَأَخْبَرَني عَبْد الْحَكَمِ ب] أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2026

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2027

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، -وَزَعَمَ عُمَارَةُ أَنَّهُ رِضَىً- عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِنَّ اللَّه يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُتْرَكَ مَعْصِيَتُهُ".

"حضرت ابن عمر، نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی رخصت کو اختیار کیا جائے جیسا کہ وہ پسند کرتا ہے کہ اس کی نافرمانی ترک کر دی جائے ۔"

"إِنَّ اللَّه يُحِبُّ أَنْ تُؤْتَى رُخَصُهُ كَمَا يُحِبُّ أَنْ تُتْرَكَ مَعْصِيَتُهُ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، -وَزَعَمَ عُمَارَةُ أَنَّهُ رِضَىً- ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ عَبْد اللَّه بْنِ عَبْد الْحَكَمِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2027

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2028

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ؛ وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، أَخْبَرَنا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ- أَخْبَرَنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَة: أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَميَّ سَأَلَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ -وَكَانَ رَجُلا يَسْرُدُ الصَّوْمَ- فَقَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَنْتَ بِالْخِيَارِ إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".

"حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریمﷺسےسفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا اور وہ مسلسل روزے رکھتے تھے ۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:"تمہیں اختیار ہے تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور اگر تم چاہو تو روزہ چھوڑ دو۔"

الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ -وَكَانَ رَجُلا يَسْرُدُ الصَّوْمَ- ← عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، سَأَلَ النَّبِيَّ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← شُعْبَةُ، ← محمد يعني ابن بكر ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ، ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2028

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2029

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ وَجَابِرِ بْنِ عَبْد اللَّه: أَنَّهُمَا سَافَرَا مَعَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، [وَكَانَ] يَصُومُ الصَّائِمُ وَيُفْطِرُ الْمُفْطِرُ، فَلَا يَعِيبُ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، وَلَا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا بَاب طَوِيلٌ خَرَّجْتُهُ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"حضرت ابوسعید خدری اور جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ان دونوں نے نبی کریمﷺکے ساتھ سفر کیا تو روزہ رکھنے والا روزہ رکھ لیتا اور چھوڑنے والا چھوڑ دیتا ۔ پھر روزہ چھوڑنے والا روزے دار پر کوئی اعتراض نہ کرتا اور نہ روزے دار روزہ چھوڑنے والے پر کوئی عیب لگاتا ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "یہ باب بڑا طویل ہے ۔ میں نے اسے کتاب الکبیر میں بیان کر دیا ہے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2029

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2030

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْد الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ-؛ ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ بن إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ -وَهُوَ الْجُرَيْرِيُّ- عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ قَالَ: سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي رَمَضَانَ، فَمِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَلَمْ يَعِبِ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ، وَلَا الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ. وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ وَجَدَ قُوَّةً فَصَامَ أَنَّ ذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ، وَمَنْ وَجَدَ ضَعْفًا، فَأَفْطَرَ، فَذَلِكَ حَسَنٌ جَمِيلٌ. هَذَا حَدِيثُ الثَّقَفِيِّ، غَيْر أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ فِي: رَمَضَانَ. وَلَمْ يَقُلْ سَالِمُ بْنُ نُوحٍ: جَمِيلٌ، وَقَالَ: يَرَوْنَ. وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ: كُنَّا نَغْدُو مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَلَمْ يَقُلْ: فِي رَمَضَانَ.

"حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رمضان المبارک میں رسول اللہﷺ کے ساتھ سفر کیا، تو ہم سے کچھ روزے دار تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا ۔ تو نہ روزہ چھوڑنے والے نے روزے دار پر اعتراض کیا اور نہ روزے دار نے بے روزہ پر عیب لگایا ۔ اور صحابہ کرام کا موقف یہ تھا کہ جو شخص قوت وطاقت رکھتا ہو وہ روزہ رکھ لے تو یہ بہت ہی اچھا ہے ۔ اور جو شخص کمزوری محسوس کرے تو وہ روزہ نہ رکھے تو یہ ( اس کے حق میں ) بہت اچھا ہے ۔"یہ جنابت ثقفی کی روایت ہے ، لیکن انہوں نے "فی رمضان"(رمضان میں) کے الفاظ بیان نہیں کیے اور جناب سالم بن نوح کی روایت میں "جمیل"کا لفظ نہیں ہے اور "یرون"کا لفظ روایت کیا ہے ۔ اور جناب ابن علیہ کی روایت میں ہے : "ہم رسول اللہﷺکے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ۔"فی رمضان"( رمضان میں ) کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِيدٍ وَهُوَ الْجُرَيْرِيُّ، ← أَبُو هَاشِمٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ بن إِسْمَاعِيلَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ← بُنْدَارٌ، أَيْضًا ← عَبْدُ الْوَهَّابِ -يَعْنِي الثَّقَفِيَّ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2030

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2031

حَدَّثَنَا عَبْدةُ بْنُ عَبْد اللَّه وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْحَدَّادِيُّ (1) قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "ادْنُوَا فَكُلَا" فَقَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ. فَقَالَ: "اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ، ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ، ادْنُوَا فَكُلَا". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ: حَدَّثَنِي سُفْيَان بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر أَيْضًا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي ذَكَرْتُ [210 - أ] قَبْلُ أَنَّ لِلصَّائِمِ فِي السَّفَرِ الْفِطْرَ بَعْدَ مُضِيِّ بَعْضِ النَّهَارِ، إِذِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَمَرَهُمَا بِالْأَكْلِ بَعْدَ [مَا] أَعْلَمَاهُ أَنَّهُمَا صَائِمَانِ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ "مرالظھران"مقام پر آپ کے ساتھ تھے تو کھانا لایا گیا تو آپ نے حضرت ابوبکر اور عمرؓ سے کہا: قریب ہو جاؤاور کھانا کھاؤ۔"تو انہوں نے عرض کیا ہم روزے دار ہیں ۔ آپ نے فرمایا: "تم اپنےساتھیوں کے ضروری کام کردو اور ان کی سواریاں تیار کر دو ۔ تم دونوں قریب ہو جاؤ اور کھانا کھا لو۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "یہ روایت بھی اسی قسم سے ہے جو میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ روزے دار کےلیے سفر میں دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد روزے کھولنا جائز ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺنے انہیں کھانے کا حکم دیا ہے جبکہ انہوں نے بتایا ہے کہ وہ روزے دار ہیں ۔"

سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ ← "اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ، ارْحَلُوا لِصَاحِبَيْكُمُ، ادْنُوَا فَكُلَا". ← صائمان ← لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "ادْنُوَا فَكُلَا" ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّه بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَأُتِيَ بِطَعَامٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْحَدَّادِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2031

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2032

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُؤَرِّقٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي السَّفَرِ: فَصَامَ بَعْضٌ، وَأَفْطَرَ بَعْضٌ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ، وَعَمِلُوا، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، فَقَالَ فِي ذَلِكَ: "ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ".

"حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ایک سفر میں تھے تو کچھ صحابہ نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا ۔ پس روزہ نہ رکھنے والوں نے ہمت واحتیاط سے کام لیا اور خدمت کے کام انجام دیئے ۔ جبکہ روزے دار کچھ کام کرنے سے کمزور وبےبس ہوگئے تو آپ نے اس بار ے میں فرمایا:"آج روزہ نہ رکھنے والے اجرو ثواب لے گئے ہیں۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← مُوَرِّقٍ، ← عَاصِمٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2032

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2033

حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ مُؤَرِّقٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ، فَمِنَّا الصَّائِمُ، وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ شَدِيدِ الْحَرِّ، فَمِنَّا مَنْ يَتَّقِي الشَّمْسَ بِيَدِهِ، وَأَكْثَرُ [نَا ظِلًّا] صَاحِبُ الْكِسَاءِ (1) يَسْتَظِلُّ بِهَا الصَّائِمُونَ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَضَرَبُوا الْأَبْنِيَةَ، وَسَقُوا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ".

"حضرت انسؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، ہم میں سے کچھ افراد روزے دار تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا ۔ تو ہم ایک سخت گرمی والے دن شدید گرمی میں ایک منزل پر اترے ۔ ہم میں سے کچھ لوگ اپنےہاتھ سے سورج کی دھوپ سے بچ رہے تھے اور ہم میں سے زیادہ سائے والا وہ شخص تھا جس کے پاس چادر تھی اور روزے دار اس کے سائے میں جگہ لے رہے تھے ۔ جب افراد نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اٹھے اور انہوں نے خیمے نصب کیے اور سواریوں کو پانی پلایا تو رسول اللہﷺنے فرمایا:"روزہ نہ رکھنے والے آج اجروثواب لے گئے ہیں ۔"

أَنَسٍ، ← مُوَرِّقٍ، ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2033

chevron_left Previous
1…121314…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals