Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2010

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنْ سُمَيٍّ؛ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، حَدَّثَنَا سُمَيٌّ، سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن الْمَخْزُومِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ؛ بِمِثْلِهِ. قَالَ أَبُو عَمَّارٍ فِي كُلِّهَا: عَنْ.

" حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺنے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ۔"

أَبُو عَمَّارٍ فِي كُلِّهَا: ← بِمِثْلِهِ. ← عَائِشَة تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّه ← أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْد الرَّحْمَن الْمَخْزُومِيَّ، أَنَّهُ ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ، ← سُمَيٍّ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَمَّارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2010

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2011

حدثنا محمد بن بشار حدثنا عبد الوهاب حدثنا أيوب عن عكرمة عن خالد عن أبي بكر بن عبد الرحمن قال : إني لأعلم الناس بهذا الحديث بلغ مروان أن أبا هريرة يحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم و حدثنا بندار حدثنا يحيى عن ابن جريح حدثني عبد الملك بن أبي بكر عن أبيه أنه سمع أبا هريرة يقول : من أصبح جنبا فلا يصوم قال : فانطلق أبو بكر و أبوه عبد الرحمن حتى دخل على أم سلمة و عائشة و كلاهما قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصبح جنبا ثم يصوم فانطلق أبو بكر و أبوه حتى أتيا مروان فحدثاه فقال : عزمت عليكما لما انطلقتما إلى أبي هريرة فحدثاه فقال : أهما قالتا لكما ؟ قالا : نعم قال هما أعلم إنما أنبأنيه الفضل قال أبو بكر : قال أبو هريرة أحال الخبر على مليء صادق بار في خبره إلا أن الخبر منسوخ لا أنه و هم لا غلط و ذلك أن الله تبارك و تعالى عند ابتداء فرض الصوم على أمة محمد صلى الله عليه و سلم كان حظر عليهم الأكل و الشرب في ليل الصوم بعد النوم كذلك الجماع فيشبه أن يكون خبر الفضل بن العباس : من أصبح و هو جنب فلا يصوم في ذلك الوقت قبل أن يبيح الله الجماع إلى طلوع الفجر فلما أباح الله تعالى الجماع إلى طلوع الفجر كان للجنب إذا أصبح قبل أن يغتسل أن يصوم ذلك اليوم إذ الله عز وجل لما أباح الجماع إلى طلوع الفجر كان العلم محيطا بأن المجامع قبل طلوع الفجر يطرقه فاعلا ما قد أباحه الله له في نص تنزيله و لا سبيل لمن هذا فعله إلى الإغتسال إلا بعد طلوع الفجر و لو كان إذا أدركه الصبح قبل أن يغتسل لم يجز له الصوم كان الجماع قبل طلوع الفجر بأقل وقت يمكن الإغتسال فيه محظورا غير مباح و في إباحة الله عز و جل الجماع في جماع الليل بعدما كان محظورا بعد النوم بان وثبت أن الجنابة الباقية بعد طلوع الفجر بجماع في الليل مباح لا يمنع الصوم فخبر عائشة و أم سلمة رضي الله عنهما في صوم النبي صلى الله عليه و سلم بعد ما كان يدركه الصبح جنبا ناسخ لخبر الفضل بن عباس لأن هذا الفعل من النبي صلى الله عليه و سلم يشبه أن يكون بعد نزول إباحة الجماع إلى طلوع الفجر فاسمع الآن خبرا عن كاتب الوحي للنبي صلى الله عليه و سلم بصحة ما تأولت خبر الفضل بن عباس رحمه الله

"جناب ابوبکر بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں :"بے شک میں اس روایت کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں ۔ مروان کو یہ بات پہنچی کہ حضرت ابوہریرہؓ رسول اللہﷺ سے یہ بیان کرتے ہیں ۔ جناب ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو بیان کرتے ہوئے سنا: "جس شخص نے جنابت کی حالت میں صبح کی تو اس کا روزہ نہیں ہے۔"(وہ روزہ نہیں رکھا سکتا ) چنانچہ ابوبکر کی رو اس ابوبکر اور ان کے والد حضرت ام سلمہ اور حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ( اور مسئلہ پچوچھا تو ) دونوں نے فرمایا:"رسول اللہﷺ جناب کی حالت میں صبح کرتے تھے ( پھر روزہ رکھ لیتے تھے ) پھر ابوبکر اور ان کے والد مروان کے پاس آئے اور انہیں صورت حال بیان کی تو اس نے کہا: میں تمہیں پختہ حکم دیتا ہوں کہ تم دونوں حضرت ابوہریرہؓ کے پاس جاؤاور انہیں یہ صورت حال بتاؤ۔ (وہ گئے اور اصل واقعہ بیان کیا ) تو حضرت ابوہریرہؓ نے فرمایا: کیا دونوں امہات المومنین نے یہ بات فرمائی ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا: وہ دنووں بہتر جانتی ہیں مجھے تو حضرت فضل نے یہ حدیث سنائی تھی ۔ ( کہ جنابت کی حالت میں صبح ہو جائے تو پھر روزہ نہیں رکھا جاسکتا ) امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: " حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کا حوالہ ایک معزز اور سچے شخص کی طرف کیا جو اپنی روایت کے بیان میں صادق ہے ( یعنی حضرت فضل ؓ )مگر یہ روایت منسوخ ہوچکی ہے ۔ یہ بات نہیں کہ انہیں وہم ہوا ہے کیا انہیں روایت بیان کرنے میں غلطی لگی ہے ۔ وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں امت محمد ﷺپر روزے فرض کیے تو ان کےلیے روزے کی رات سونے کے بعد کھانا ، پینا اور جماع کرنا ممنوع تھا ۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ حضرت فضل بن عباسؓ کی اس روایت "جس شخص نے جنابت کی حالت میں صبح کر لی تو وہ روزہ نہ رکھے" کا تعلق اس وقت سے ہو جبکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کےلیے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت دے دی تو جنبی شخص کو اجازت مل گئی کہ اگر وہ حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کا روزہ رکھ لے ۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے طلوع فجر تک جماع کرنے کی اجازت دے دی تو پھر یہ یقینی بات ہے کہ طلوع فجر سے چند لمحے پہلے مجامعت کرنے والے شخص نے ایک جائز کام کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کی نص میں جائز قرار دیا ہے ۔ اور جو شخص یہ کام ( طلوع فجر سے کچھ پہلے جماع ) کرے تو وہ طلوع فجر کے بعد ہی غسل کر سکے گا ۔ اور اگر بات یہ ہوتی کہ غسل کرنے سے پہلے صبح ہو جانے کی صورت میں ا سکےلیے روزہ جائز نہ ہوتا پھر طلوع فجر سے پہلے اس کم سے کم وقت میں جس میں غسل کرنا ممکن ہےھ ، اس میں جماع کرنا منع ہوتا اور جائز نہ ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ کے ساری رات میں جماع کرنے کی اجازت دینے میں جبکہ شروع میں سو جانے کے بعد جماع کرنا ممنوع تھا ، اس بات کا ثبوت اور وضاحت ہے کہ رات کے وقت جماع کرنے سے طلوع فجر کے وقت باقی رہنے والی جنابت روزہ رکھنے میں رکاوٹ نہیں ہے ۔ اس طرح حضرت عائشہ اور ام سلمہؓ کی یہ حدیث کہ نبی کریمﷺ جنابت کی حالت میں صبح کرنے کے بعد روزہ رکھ لیتے تھے ، یہ حضرت فضل بن عباسؓ کی حدیث کے لیے ناسخ ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺکا یہ فعل اس بات کے زیادہ مشابہ ہے کہ یہ طلوع فجر تک جماع کرنے کی اباحت و اجازت کے بعد کا ہوگا ۔ میں نے حضرت فضل بن عباسؓ کی روایت کی جو تاویل کی ہے اس کے صحیح ہونے کی دلیل نبی کریمﷺ کے کاتب وحی سے سنیے۔"

أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← خَالِدٌ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2011

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2012

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ ثَوْبَانَ -وَهُوَ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ. عَنْ أَبِيه، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ. أَنَّهُ أَخْبَرَ زَيْد بْنَ ثَابِتٍ عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَة أَنَّهُ قَالَ: مَنِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ الْفَجْرُ فِي شَهْرِر [209 - أ] رَمَضَانَ وَهُوَ جُنُبٌ لَمْ يَغْتَسِلْ، أَفْطَرَ وَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ. فَقَالَ زَيْد بْنُ ثَابِتٍ: إِنَّ اللَّه كَتَبَ عَلَيْنَا الصِّيَامَ، كَمَا كَتَبَ عَلَيْنَا الصَّلَاةَ، فَلَوْ أَنَّ رَجُلا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَهُوَ نَائِمٌ كَانَ يَتْرُكُ الصَّلَاةَ؟ قَالَ: قُلْتُ لِزَيْد: فَيَصُومُ، وَيَصُومُ يَوْمًا آخَرَ؟ فَقَالَ زَيْد: يَوْمَيْنِ بِيَوْمٍ؟

"جنابت قبیصہ بن ذؤیب سے روایت ہے کہاس نے حضرت زید بن ثابت ؓ کو حضرت ابوہریرہؓ کا یہ فتویٰ بتایا کہ وہ فرماتے ہیں : "جس شخص کو رمضان المبارک میں جنابت کی حالت میں صبح ہوگئی اور اس نے غسل نہ کیا ہو تو وہ روزہ نہیں رکھے گا اور اس پر قضا دینا لازم ہے ۔ تو حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے ہم پر روزے فرض کیے ہیں جس طرح ہم پر نماز فرض کی ہے ۔ تو اگر کسی شخص پر سورج طلوع ہو جائے جبکہ وہ سویا ہوا ہو تو کیا وہ نما زچھوڑ دے گا ؟ کہتے ہیں : میں نے حضرت زید سے عرض کی: تو کیا ایسا شخص روزہ رکھ لے گا اور ایک اور روزہ ( اس کی قصا کے لیے) رکھے گا ؟ تو حضرت زید ؓ نے فرمایا: "کیا ایک روزے کے بدلے میں دو ر وزے رکھے گا ؟( بلکہ صرف اسی دن کا روزہ رکھے گا ۔)"

قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابن ثوبان وهو عبد الرحمن بن ثابت بن ثوبان ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2012

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2013

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ. عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْد الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ أُمَّهِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصْبِحُ جُنُبًا مِنَ النِّسَاءِ مِنْ غَيْر حُلْمٍ، ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا.

نبی کریمﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں: رسول اللہﷺا پنی بیویوں سے ( ہم بستری ) جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے ، احتلا م کی وجہ سے نہیں ، پھر آپ روزے رکھ لیتے۔

أُمَّهِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَبِيّ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2013

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2014

حَدَّثَنَا عَلِي بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْد اللَّه -يَعْنِي ابْنَ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ مَعْمَرٍ أَبِي طُوَالَةَ- أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَة أَخْبَرَهُ، عَنْ عَائِشَة: أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَفْتِيهِ وَهِيَ تَسْمَعُ مِنْ وَرَاءِ الْبَاب، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه! تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ أَفَأَصُومُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ (1) وَأَنَا جُنُبٌ فَأَصُومُ". فَقَالَ: لَسْتَ مِثْلَنَا يَا رَسُولَ اللَّه! قَدْ غَفَرَ اللَّه لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ. قالَ: "وَاللَّه -يَعْنِي- إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّقِي" (2). قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الرَّجَاءُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ: إِنَّهُ جَائِزٌ أَنْ يَقُولَ الْمَرْءُ فِيمَا لَا يَشُكُّ فِيهِ وَلَا يَمْتَرِي: وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يَكُونَ كَذَا وَكَذَا، إِذْ لَا شَكَّ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ مُسْتَيْقِنًا غَيْر شَاكٍّ، وَلَا مُرْتَابٍ أَنه كَانَ أَخْشَى الْقَوْمِ لِلَّهِ، وَأَعْلَمَهُمْ بِمَا يَتَّقى. وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي رُوِيَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ: أَمُؤْمِنٌ أَنْتَ؟ قَالَ: أَرْجُو، وَلَا شَكَّ وَلَا ارْتِيَابَ أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ كَانَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ أَحْكَامُ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْمُنَاكَحَاتِ وَالْمُبَايَعَاتِ وَشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ. وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ. فَاسْمَعِ الدَّلِيلَ الْوَاضِحَ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ بِقَوْلِهِ: إِنِّي لَأَرْجُو، مَا أَعْلَمْتُ أَنَّهُ قَدْ أَقْسَمَ بِاللَّه أَنَّهُ أَشَدُّهُمْ خَشْيَةً.

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریمﷺ سے فتویٰ پوچھنے کےلیے حاضر ہوا جبکہ حضرت عائشہ ؓ دورازے کے پیچھے سن رہی تھیں، تو اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول!مجھے جنابت کی حالت میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے ، تو کیا میں روزہ رکھوں؟ تو رسوھ اللہﷺ نے فرمایا: " مجھے بھی اس حالت میں نماز کا وقت ہو جاتا ہے کہ میں جنبی ہوتا ہوں ، تو میں روزہ رکھتا ہوں ، اس نے عرض کی: "اے اللہ کے رسول!آپ ہماری طرح نہیں ہیں ، یقیناً اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے تمام قصور معاف فرما دئیے ہیں۔" تو آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم! بے شک مجھے امید ہے کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ تقویٰ کو جاننے والا ہوں ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں: "یہ امید اسی جنس کے متعلق ہے جس کے بارے میں کہتا ہوں :"کہ آدمی جس چیز میں کوئی شک و شبہ نہ رکھتا ہو اس کے بارے میں کہہ دیتا ہے : "مجھے امید ہے کہ میں ایسے ایسے ہوں گا ۔"کیونکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریمﷺکو اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں بلکہ آپ کو مکمل یقین ہے کہ آپ سب سے بڑھ کر اللہ سے ڈرنے والے اور ان سب سے بڑھ کر تقویٰ کی چیزوں کو جاننے والے ہیں ۔ یہ مسئلہ اسی قسم سے ہے جو علقمہ بن قیس سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا : کیا آپ مومن ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے امید ہے کہ میں مومن ہوں ۔ جبکہ اس بات میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ وہ ان مؤمنوں میں سے تھے جن پر مومنوں کے احکام نکاح ، خرید وفروخت اور شریعت کے دیگر احکام لاگو ہوتے ہیں ۔ میں نے یہ مسئلہ "کتاب الایمان "میں بیان کیا ہے ۔ لیجیے ا س بات کی واضح دلیل سنیے کہ آپ کے اس فرمان"مجھے امید ہے "سے مراد پختہ یقین ہے جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ آپ نے قسم اٹھا کر فرمایا تھا کہ آپ سب لوگوں سے بڑ ھ کر اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔"

عَبْد اللَّه -يَعْنِي ابْنَ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ مَعْمَرٍ أَبِي طُوَالَةَ- ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2014

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2015

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ، فَقَالَ: "مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ بِالْأَمْرِ يَرْغَبُونَ عَنْهُ، وَاللَّه إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّه، وَأَشَدُّهُمْ خَشْيَةً". جُمَّاعُ أَبْوَابِ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ، مَنْ أُبِيحَ لَهُ الْفِطْرَ فِي رَمَضَانَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ (1)

"حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺنےکسی معاملے میں رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے اعراض کیا۔ تو آپ نے فرمایا:"لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ میں انہیں ایک حکم دیتا ہوں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہوں اور ان سے بڑھ کر اللہ سے ڈرتا ہوں۔"

رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ، ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2015

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2016

حَدَّثَنَا عَبْد الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَان قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِي، يَقُولُ: أَخْبَرَني صَفْوَانُ؛ ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الزُّهْرِي؛ ح وَحَدَّثَنَا عَلِي بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِي [208 - ب] عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصَّوْمُ فِي السَّفَرِ". لَمْ يَنْسِبِ الْحَسَنُ كَعْبًا، وَلَمْ يَقُلِ الْمَخْزُومِيُّ: الْأَشْعَرِيَّ. خَرَّجْتُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ فِي "كِتَابِ الْكَبِيرِ".

"حضرت کعب بن عاصمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: "سفر کے دوران روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے ۔"امام حسن نے کعب ؓ کی نسبت بیان نہیں کی اور نہ جناب مخزومی نے انہیں"اشعری"کہا ہے ۔ میں نے یہ الفاظ کتاب الکبیر میں بیان کیے ہیں۔"

كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ؛ ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← صَفْوَانَ بْنِ عَبْد اللَّه بْنِ صَفْوَانَ، ← الزُّهْرِي ب] ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ عَبْد الرَّحْمَن، ← صَفْوَانُ؛ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2016

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2017

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْد الرَّحْمَن بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عمرو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِي بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْد اللَّه قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالُوا: هَذَا رَجُل صَائِمٌ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَر دَالٌّ عَلَى أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا قَالَ هَذِهِ الْمَقَالَةَ إِذِ الصَّائِمُ الْمُسَافِرُ غَيْر قَابِلٍ يُسْرَ اللَّه حَتَّى اشْتَدَّ بِهِ الصَّوْمُ وَاحْتِيجَ إِلَى أَنْ يُظَلَّ.

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جس کے گر دلوگ جمع تھے اور اس پر سایہ کیا گیا تھا ۔ ( آپ نے پوچھا کہ اسے کیا ہوا ہے ؟) تو انہوں نےعرض کی : یہ شخص روزے دار ہے ۔"تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: یہ نیکی نہیں ہے کہ تم ( اس مشقت کے ساتھ) سفر میں روزہ رکھو۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریمﷺ نے یہ ارشاد اس وقت فرمایا تھا جب روزہ رکھنے والے مسافر شخص نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آسانی اور رخصت کو قبول نہیں کیا تھا ۔ حتی کہ اس پر روزہ نہایت مشکل ہوگیا اور وہ سائے کا محتاج ہوگیا۔"

أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَر دَالٌّ عَلَى ← رَسُولُ اللَّهِ "ليس البر أن تصوموا في السفر" ← هَذَا رَجُل صَائِمٌ. ← رَأَى رَسُولُ اللَّه رَجُلا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← محمد بن عمرو بن الحسن بن علي بن أبي طالب ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيِّ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2017

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2018

وَفِي خَبَر سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَنْضَحُ الْمَاءَ، أَيْ عَلَيْهِ. قَالَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - (1). إِنَّمَا قَالَ: "لَيْسَ الْبِرُّ الصَّوْمَ فِي السَّفَرِ": أَيْ: لَيْسَ الْبِرُّ الصَّوْمَ فِي السَّفَرِ حَتَّى يُغْشَى عَلَى الصَّائِمِ وَيُحْتَاجُ إِلَى أَنْ يُظَلَّلَ، وَيُنْضَحَ عَلَيْهِ، إِذِ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ فِي الْفِطْرِ، وَجَعَلَ لَهُ أَنْ يَصُومَ فِي أَيَّامٍ أُخَرَ، وَأَعْلَمَ فِي مُحْكَمِ تَنْزِيلِهِ أَنَّهُ أَرَادَ بِهِمُ الْيُسْرَ لَا الْعُسْرَ فِي ذَلِكَ، فَمَنْ لَمْ يَقْبَلْ يُسْرَ اللَّه، جَازَ أَنْ يُقَالَ لَهُ: لَيْسَ أَخْذُكَ بِالْعُسْرِ، فَيَشْتَدُّ الْعُسْرُ عَلَيْكَ مِنَ الْبِرِّ، وَقَدْ يَجُوز أَنْ يَكُونَ فِي هَذَا الْخَبَر: لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ: أَيْ: لَيْسَ كُلُّ الْبِرِّ هَذَا، قَدْ يَكُونُ الْبِرُّ أَيْضًا [أَنْ] تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، [وَ] قَبُولُ رُخْصَةِ اللَّه وَالْإِفْطَارِ فِي السَّفَرِ. وَسَأدلّ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّه - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ. حَدَّثَنَا بِخَبَر سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ (1).

"حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ وہ شخص بے ہوش ہوگیا تو اس پر پانی چھڑکا جانے لگا ۔"[امام صاحب فرماتے ہیں ] :نبی کریمﷺ کا یہ فرمان کہ "سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے"اسے سے آپ کی مرادہ یہ ہے کہ سفر میں( ایسی مشقت کے ساتھ( روزہ رکھنا کہ جس سے روزہ دار بے ہوش ہوجائے اور اس پر سایہ کرنا پڑے اور اس پر پانی چھڑکنا پڑے، یہ نیکی نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کو رخصت دی ہے کہ وہ سفر میں روزہ چھوڑ ے اور رمضان کے بعد رکھ لے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی کتا ب"قرآن مجید "میں یہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو آسانی دینا چاہتا ہے ، ان پر تنگی اور مشقت نہیں ڈالنا چاہتا ۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی آسانی کو قبول نہیں کرتا ، اس کےلیے یہ کہنا درست ہے کہ تمہارا تنگی کو اختیار کرنا ، اس حال میں کہ تنگی تمہارے لیے شدید مشکل بن جائے ، یہ کوئی نیکی نہیں ہے ۔ اسی طرح اس روایت کا یہ معنی کرنا بھی درست ہوگا کہ سفر میں تمہارا روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے یعنی یہ کوئی مکمل نیکی نہیں ہے بلکہ کبھی سفر میں تمہارا روزہ رکھنا نیکی ہوگا اور کبھی اللہ کی رخصت کو قبول کرنا ۔ اور سفرمیں روزہ نہ رکھنا نیکی ہوگا ۔"میں عنقریب اس تاویل کی دلیل بیان کروں گا ۔ ان شاء اللہ

جَابِرٍ، فَغُشِيَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَنْضَحُ الْمَاءَ، أَيْ عَلَيْهِ. ← وَفِي خَبَر سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2018

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2019

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْد الْوَهَّابِ بْنُ عَبْد الْمَجِيدِ. حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيه، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ، وَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ، فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَهُ. فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ. قَالَ: "أُولَئِكَ الْعُصَاةُ، أُولَئِكَ الْعُصَاةُ". حَدَّثَنَاهُ الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

"حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺفتح مکہ والے سال مکہ مکرمہ کی طرف نکلے تو آپ نے روزہ رکھا ۔ حتی کہ آپ"کراع الغمیم"نا می جگہ پہنچے ۔ اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا تھا ۔ پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے بلند کیا حتی کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا ، پھر آپ نے وہ پانی نوش کیا ۔ بعد میں آپ کو بتایا گیا کہ کچھ لو گ ابھی تک روزہ رکھے ہوئے ہیں ۔ آپ نے فرمایا:"وہی لوگ نافرمان ہیں ۔ وہی لوگ نافرمان ہیں ۔"

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2019

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2020

حَدَّثَنَا أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ. حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَافَرَ فِي رَمَضَانَ، فَاشْتَدَّ الصَّوْمُ عَلَى رَجُل مِنْ أَصْحَابهِ، فَجَعَلَتْ رَاحِلَتُهُ تَهِيمُ بِهِ تَحْتَ الشَّجَرِ، فَأُخْبِرَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ، ثُمَّ دَعَا النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِنَاءٍ فَوَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ، ثُمَّ شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ.

"حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے رمضان المبارک میں سفر کیا تو آپ کے ایک صحابی پر روزہ نہایت مشکل ہوگیا تو اس کی سواری بار بار درختوں کے سائے تلے جانے لگی ۔ تو نبی کریمﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپ نے اسے روزہ افطار کرنے کا حکم دیا ۔ پھر نبی اکرمﷺنے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے اپنے ہاتھ پر رکھا پھر آپ نے اسے نوش فرمایا جبکہ لوگ دیکھ رہے تھے ۔"

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَد بْنُ سِنَانٍ الْوَاسِطِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2020

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2021

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْد الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَان، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الْأَمْرِ [209 - أ] فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ. فَقَالَ: "مَا بَالُ رِجَالٍ آمُرُهُمْ بِالْأَمْرِ يَرْغَبُونَ عَنْهُ؟ وَاللَّه إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّه، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً".

"حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ نے کسی مسئلہ میں رخصت دی تو کچھ لوگوں نے اس سے بے رغبتی کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا:"کچھ لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ میں انہیں ایک چیز کا حکم دیتا ہوں تو وہ اس سے بے رغبتی کا اظہار کرتے ہیں ۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور ان سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں ۔"

رَخَّصَ رَسُولُ اللَّه فِي بَعْضِ الْأَمْرِ أ] فَرَغِبَ عَنْهُ رِجَالٌ. ← عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← بُنْدَارٌ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2021

chevron_left Previous
1…111213…31
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals