صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1998
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْد الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ نَسْأَلُهَا عَنِ الْمُبَاشَرَةِ. فَاسْتَحْيَيْنَا، قَالَ: قُلْتُ: جِئْنَا نَسْأَلُ حَاجَةً فَاسْتَحْيَيْنَا. فَقَالَتْ: مَا هِيَ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا. قَالَ: قُلْنَا: كَانَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ قَالَتْ: "قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا خَاطَبَ اللَّه جَلَّ ثَنَاؤُهُ نَبِيّهُ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتَهُ بِلُغَةِ الْعَرَبِ أَوْسَعِ اللُّغَاتِ كُلِّهَا، الَّتِي لَا يُحِيطُ بِعِلْمِ جَمِيعِهَا أَحَدٌ غَيْر نَبِيّ، وَالْعَرَبُ فِي لُغَاتِهَا تُوقِعُ اسْمَ الْوَاحِدِ عَلَى شَيْئَيْنِ، وَعَلَى أَشْيَاءَ ذَوَاتِ عَدَدٍ، وَقَدْ يُسَمَّى الشَّيْءُ تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، ايتُوهَا تَمْشُونَ وَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ". فَاسْمُ السَّعْيِ يَقَعُ عَلَى الْهَرْوَلَةِ، وَشِدَّةِ الْمَشْيِ، وَالْمُضِيِّ إِلَى الْمَوْضِعِ. فَالسَّعْيُ الَّذِي أَمَرَ اللَّه بِهِ أَنْ يُسْعَى إِلَى الْجُمُعَةِ، هُوَ الْمُضِيُّ إِلَيْهَا، وَالسَّعْيُ الَّذِي زَجَرَ النَبِيّ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهُ إِتْيَانَ الصَّلَاةِ هُوَ الْهَرْوَلَةُ وَسُرْعَةُ الْمَشْيِ. فَاسْمُ السَّعْيِ وَاقِعٌ عَلَى فِعْلَيْنِ، أَحَدُهُمَا مَأْمُورٌ، وَالْآخَرُ مَنْهِيٌّ عَنْهُ. وَسَأُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللَّه تَعَالَى هَذَا الْجِنْسَ فِي كِتَابِ "مَعَانِي الْقُرْآنِ"، إِنْ وَفَّقَ اللَّه لِذَلِكَ.
''جناب اسود بیان کرتے ہیں کہ میں اور مسروق ام المومنین (عائشہ رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں مباشرت کی متعلق سوال کرنے کےلیے حاضر ہوئے تو ہمیں شرم آگئی ، میں نے عرض کیا: ہم ایک سوال پوچھنے کےلیے حاضر ہوئے تھے مگر ہم شرما گئے ہیں ۔'' تو انہوں نے کہا: وہ سوال کیا ہے؟ جو پوچھنا چاہتے ہو پوچھ لو۔ ہم نے عرض کی: کیا نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کر لیتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا : آپ کبھی کبھار ایسا کر لیتے تھے، لیکن اپنی خواہش او ر نفس پر تم سے کہیں زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''اللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ان کی امت کو عربی زبان میں خطاب کیا ہے جو تمام زبانوں سے زیاوہ وسیع ہے۔ جس کے تمام علوم و فنون کا احاطہ نبی ﷺ کے سوا کوئی نہیں کر سکتا ۔ اور عرب اپنی اپنی لغت میں ایک ہی اسم کا دو چیزوں پر اطلاق کرتےہیں اور کئی چیزوں پر بھی کر دیتے ہیں اور کبھی ایک ہی چیز کو کئی کئی نام دے دیتے ہیں۔ کبھی اللہ تعالی ایک چیز سے منع کر دیتے ہیں اور ایک دوسری چیز کو مباح قرار دے دیتے ہیں حالانکہ ان مباح اور ممنوع دونوں چیزوں پر یاک ہی نام کا اطلاق کرتے ہیں۔ اسی طرح کبھی ممنوع چیز کو مباح قرار دے دیتے ہیں اور دونوں پر ایک ہی نام کا اطلاق کیا گیا ہوتا ہے۔ اس طرح ایک ہی نام دو مختلف چیزوں پر واقع ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک مباح اور دوسرا ممنوع ہوتا ہے جبکہ دونوں کا نام ایک ہی ہوتا ہے ، عربی زبان سے ناواقف شخص یہ بات سمجھ نہیں سکتا اور وہ ایک ہی چیز پر دونوں معافی محمول کر دیتا ہے۔ یہ وہ وہم دیتاہے کہ دونوں چیزیں متضاد ہیں کیونکہ ایک کام ایک نام سے جائز قرار دیا گیا ہے تو دوسرا فعل اسی نام سےممنوۡع کیا گیا ہے ۔جس شخص کا کلی علم اتنا ہی ہو تو اس کےلیے فقہی مسائل بیان کرنا اور فتوے جاری کرنا جائز نہیں ہے۔ اس پر واجب ہے کہ علم حاصل کر لے یا خاموش بیٹھ جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اتنا علم حاصل کر لے جس کے ساتھ فتوے دیان اور علمی مسائل حل کرنا جائز ہو۔ اور جو شخص یہ فن سمجھ لےوہ جان لیتا ہے کہ جو چیز جائز قرار دی گئی ہے وہ ممنوع چیز کے علاوہ ہے اگرچہ دونوں پر ایک ہی اسم کا اطلاق ہوا ہو۔ اسی قسم سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ روزے دالے دن عورتوں سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے (فَا لَاٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ وَابْتَغُوْا مَا کَتَبَاللہُ لَکُمْ وَکُلُوْاوُاشَرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْظُ اْلاَّ بْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ اْلأَ سْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوْاالصِّیَامَ إِلَی الَّیْلِ)''اس لیے اب تم ان سے ہم بستی کر سکتے ہو اور اللہ نے تمہارے لیے صبح کی سفیدی دھاری ، کالی دھاری سے واضح ہو جائے پھر تم روزے کو رات تک پورا کر۔'' لہٰذا اللہ تعالی نے رات کے عورتوں سے مباشرت اور کھانا پینا جائز قرار دیا ہے۔ پھر ہمیں رات تک روزہ مکمل کرنے کا حکم دیا ہے اس شرط کے ساتھ کہ رات کو مباشرت کرنا اور کھانا پینا جائز تھا اب وہ مباشرت جو جماع ہے وہ روزے دار کا روزہ توڑ دے گی اوراللہ تعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ کے فعل سے روزے کی حالت میں جماع سے کم مباشرت (بوس و کنار اور پیار و محبت ) کو جائز قرار دیا ہے۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کر لیتے تھے۔ وہ مباشرت جو اللہ تعالی نے اپنی کتا ب میں ذکر کی ہے وہ روزہ توڑ دیتی ہے وہ اس مباشرت سے مختلف ہے جو نبی کریم ﷺ روزے کی حالت میں کیا کرتے تھے۔''چنانچہ مباشرت ایک ہی اسم ہے جو دو فعلوں پر واقع ہوا ہے۔ ان میں سے ایک روزے کی حالت میں دن کے وقت جائز ہے جبکہ دوسرا روزے کی حالت میں منع ہے اورروزہ کو توڑ دیتا ہے۔ اسی قسم سے اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے(یَا أَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاإذَنُوْدِیَ لِلصَّلَاۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْاإِلٰی ذِکْرِ اللہِ وَذَرُوْاالْبَیْعَ)''اے ایما ن والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دے دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خریدو فروخت چھوڑ دو۔''پس اللہ تعالی نے جمعہ کےلیے سعی (دوڑنے) کا حکم دیا ہے ۔ جبکہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں : جب تم نماز کےلیے آؤ تو تم دوڑتے ہوئے مت آؤ بلکہ آرام و سکون کے ساتھ چلتے ہوئے آؤ۔''لہٰذا سعی ایک ایسا اسم ہے جو دوڑنے اور تیز چلنے پر واقع ہوتا ہے اور کسی جگہ کی طرف جانے پر بھی واقع ہوتا ہے۔ لہٰذا جس سعی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس سے مراد جمعہ کےلیے مسجد میں جانا ہے۔ اور جس سعی سے نبی کریم ﷺ نے منع کیا ہے اس سے مراد دوڑنا اور تیز رفتاری ہے ۔ اس طرح سعی کا اسم دو فعلوں پر واقع ہو ا ہے۔ ایک جائز ہے جس کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرا ممنوع ہے۔ میں عنقریب یہ قسم ، کتاب''معانی القرآن'' میں بیان کروں گا۔ اگر اللہ تعالی نے اس کام کی توفیق عطا کی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ
"قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، وَلَكِنَّهُ كَانَ أَمْلَكَ لِإِرْبِهِ مِنْكُمْ. ← قُلْنَا: كَانَ النَبِيّ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟ ← مَا هِيَ؟ سَلَا عَمَّا بَدَا لَكُمَا. ← قُلْتُ: جِئْنَا نَسْأَلُ حَاجَةً فَاسْتَحْيَيْنَا. ← الْمُبَاشَرَةِ. فَاسْتَحْيَيْنَا، ← وَمَسْرُوقٌ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ نَسْأَلُهَا ← انْطَلَقْتُ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← ابْنِ عَوْنٍ ← بِشْرٌ -يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،
Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1998
