Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1777

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، نَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، ثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَيُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى جِذْعٍ مَنْصُوبٍ فِي الْمَسْجِدِ فَيَخْطُبُ فَجَاءَ رُومِيٌّ، فَقَالَ: أَلَا نَصْنَعُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ وَكَأَنَّكَ قَائِمٌ؟ فَصَنَعَ لَهُ مِنْبَرًا، لَهُ دَرَجَتَانِ، وَيَقْعُدُ عَلَى الثَّالِثَةِ، فَلَمَّا قَعَدَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ خَارَ الْجِذْعُ خُوَارَ الثَّوْرِ؛ حَتَّى ارْتَجَّ الْمَسْجِدُ بِخُوَارِهِ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَنَزَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمِنْبَرِ فَالْتَزَمَهُ وَهُوَ يَخُورُ، فَلَمَّا الْتَزَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَكَتَ، ثُمَّ قَالَ: "وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْ لَمْ أَلْتَزِمْهُ مَا زَالَ هَكَذَا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ حُزْنًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدُفِنَ، يَعْنِي الْجِذْعَ. وَفِي خَبَرِ جَابِرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ".

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن کھڑے ہو تے تو مسجد میں نصب ایک تنے کے ساتھ ٹیک لگاتے ، پھر خطبہ ارشاد کرتے ۔ پھر ایک رومی شخص آیا تو اس نے عرض کی :کیا ہم آپ کےلیے ایک ایسی چیز نہ بنا دیں کہ آپ اس پر بیٹھ جائیں تو کھڑے محسوس ہوں ؟ اس نے آپ ﷺ کےلیے ایک منبر بنایا جس کی دو سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری سیڑھی پر بیٹھتے تھے ۔ پھر جب آپ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو تنے نے بیل کی طرح رونا شروع کر دیا ۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں اس کے رونے کی آواز سے مسجد گونج اٹھی ۔ چنانچہ رسول اللہﷺ منبر سے اتر کر اس کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے ساتھ چمٹا لیا جبکہ وہ رو رہا تھا۔ جب نبی کریمﷺ نے اسے اپنے ساتھ چمٹا یا تو وہ خاموش ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا:"اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر میں اسے اپنے ساتھ نہ چمٹاتا تو یہ رسول اللہﷺ کی جدائی میں تاقیامت اسی طرح رہتا ۔ پھر رسول اللہﷺ کے حکم سے تنے کو دفن کر دیا گیا۔" حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"یہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ( خطبہ ) کی جدائی میں رویا ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1777

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1778

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، نَا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ -وَهُوَ الْعَدْوَانِيُّ- عَنْ أَبِيهِ. أَنَّهُ أَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى قَوْسٍ أَوْ عَصًا حِينَ أَتَاهُمْ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: (وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ (1))، فَعَلمتُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَأَنَا مُشْرِكٌ، ثُمَّ قَرَأْتُهَا فِي الْإِسْلَامِ. فَدَعَتْنِي ثَقِيفُ، فَقَالُوا: مَا سَمِعْتَ مِنَ هَذَا الرَّجُلِ؟ فَقَرَأْتُهَا عَلَيْهِمْ.، فَقَالَ مَنْ مَعَهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ: نَحْنُ أَعْلَمُ بِصَاحِبِنَا لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّهُ -كَمَا يَقُولُ- حَقٌّ لَتَابَعْنَاهُ.

"حضر ت خالد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک کمان یا لاٹھی کا سہارا لیے ہوئے دیکھا ، جب وہ مسلمانوں کے پاس آئے تھے ۔ کہتے ہیں : میں نے آپ کو یہ سورت پڑھتے ہوئے سنا:(وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ)تو میں نے یہ سورت جاہلیت میں یاد کر لی تھی جبکہ میں ابھی مشرک ہی تھا۔ پھر میں نے مسلمان ہونے کے بعد اس کی تلاوت کی۔ پھر مجھے ثقیف کے لوگوں نے بلایا اور پوچھا : تم نے اس شخص ( محمدﷺ) سے کیا سنا ہے ؟ تو میں نے یہ سورت انہیں سنا دی تو ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے قریشی کہنے لگے : ہماپنے ساتھی کو زیادہ جانتے ہیں اگر ہم اس کی دعوت کو حق مانتے تو اس کی اتباع کر لیتے ۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ -وَهُوَ الْعَدْوَانِيُّ- ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ تَمَّامٍ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1778

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1779

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: اخْتَلَفُوا فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَيِّ شَيْءٍ هُوَ، فَأَرْسَلُوا إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْأَثْلُ هُوَ الطَّرْفَاءُ.

"جناب ابو حازم بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہﷺ کے منبر کے متعلق اختلاف کیا کہ وہ کس چیز سے بنا تھا ۔ تو انہوں نے حضرت سہل بن سعد ؓ کے پاس ( ایک شخص کو پوچھنے کےلیے ) بھیجا تو انہوں نے فرمایا: لوگوں میں مجھ سے زیادہ اس بات کو جاننے والا کوئی شخص باقی نہیں ہے ۔ وہ جنگل کے جھاؤ کی لکڑی سے بنا تھا۔" امام ابوبکرل فرماتے ہیں : "الاثل سے مراد الطرفاء(جھاؤ سے ملتا جلتا درخت ) ہے ۔"

أَبِي حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1779

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1780

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، نَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نَا الْوَلِيدُ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا اسْتَوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ لِلنَّاسِ: "اجْلِسُوا" فَسَمِعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "تَعَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ".

"حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریمﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو آپ نے لوگوں سے کہا بیٹھ جاؤ۔"تو حضرت ابن مسعود ؓ نے آپ کا یہ حکم سنا جبکہ وہ مسجد کے دروازے پر تھے تو وہ ( وہیں ) بیٹھ گئے تو نبی کریمﷺ نے انہیں فرمایا: " اے ابن مسعود ( اندر ) آجاؤ۔"

لَهُ النَّبِيُّ "تَعَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ". ← لِلنَّاسِ: "اجْلِسُوا" فَسَمِعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، فَجَلَسَ. ← لَمَّا اسْتَوَى النَّبِيُّ عَلَى الْمِنْبَرِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِیْدُ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1780

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1781

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، ثَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ [188 - أ] قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: سَمِعْتُ بُنْدَارًا يَقُولُ: كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُجِلُّ هَذَا الشَّيْخَ -يَعْنِي الْبَكْرَاوِيَّ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ جمعہ کے دن دو خطبے دیا کرتے تھے ، ان کے درمیان بیٹھتے تھے ۔ " امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے جناب بندار کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام یحییٰ بن سعیدؒ شیخ بکر اوی کو بلند مرتبہ قرار دیتے تھے اور ان کی عزت وتکریم کرتے تھے ۔"

كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ يُجِلُّ هَذَا الشَّيْخَ -يَعْنِي الْبَكْرَاوِيَّ. ← بُنْدَارًا ← أَبُو بَکْرٍ ← كَانَ النَّبِيُّ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خُطْبَتَيْنِ يَجْلِسُ بَيْنَهُمَا. ← ابْنِ عُمَرَ أ] ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو بَحْرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْبَكْرَاوِيُّ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1781

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1782

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ: خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ، فَلَمَّا نَزَلَ، قُلْنَا لَهُ: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ! لَقَدْ أَبَلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتُ نَفَّسْتَ. قَالَ: إِنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ، وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا". أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِهِ رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ أَبُو الْحَسَنِ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ عُصَيْمٍ الْجُعْفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ: بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَوْ كُنْتَ نَفَّسْتَ.

"جناب ابووائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے ان سے عرض کی : "اے ابو یقظان آپ نے بڑا بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا ہے ، اگر آپ اسے طویل کرتے تو بہت اچھا ہوتا ۔ انہوں نے فرمایا: بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے : " بلاشبہ آدمی کی لمبی نماز اور مختصر خطبہ اس کے فقیہ ہونے کی علامت ہے ۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کیا کرو۔"کیونکہ بعض بیان جادو ( کا اثر ) رکتھے ہیں ۔"جناب عبدالرحمان بن عبدالملک بن ابجر نے مذکورہ بالا کی طرح روایت بیان کی ہے مگر یہ الفاظ بیان نہیں کیے :"اگر آپ طویل خطبہ دیتے تو اچھا تھا۔"

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1782

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1783

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَصْدًا.

"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث میں ہے :" رسول اللہﷺ کا خطبہ درمیانہ ہوتا تھا۔"

أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: كَانَتْ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ قَصْدًا.

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1783

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1784

وَفِي خَبَرِ الْحَكَمِ بْنِ حَزَنٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؛ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ طَيِّبَاتٍ خَفِيفَاتٍ مُبَارَكَاتٍ.

"حضرت حکم بن حزن کی نبی کریمﷺ سےمروی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور پاکیزہ ، مختصر اور بابرکت کلمات کے ساتھ اللہ کی ثنا ء بیان کی۔"

النَّبِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ كَلِمَاتٍ طَيِّبَاتٍ خَفِيفَاتٍ مُبَارَكَاتٍ. ← وَفِي خَبَرِ الْحَكَمِ بْنِ حَزَنٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1784

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1785

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، نَا أَنَسٌ -يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: يَحْمَدُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، إِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ". ثُمَّ يَقُولُ: "بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ". وَكَانَ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَعَلَا صَوْتُهُ، وَاشْتَدَّ غَضَبُهُ، كَأَنَّهُ نَذِيرُ جَيْشٍ صَبَّحَتْكُمُ السَّاعَةُ مَسّأَتْكُمْ، ثُمَّ يَقُولُ: "مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ أَوْ عَلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ". هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ. وَلَفْظُ أَنَسِ بْنِ عِيَاضٍ مُخَالِفٌ لِهَذَا اللَّفْظِ.

"حضر ت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :" رسول اللہﷺ اپنے خطبے میں اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق حمد وثنا ء بیان کرتے تھے پھر فرماتے : "جسے اللہ راہ راست پر ڈال دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے ، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے ۔ یقیناً سب سے سچی بات اللہ کی کتاب ( قرآن مجید ) ہے اور بہترین سیر ت و طریقہ محمد ﷺ کی سیرت وطریقہ ہے اور بدترین کام دین میں نئے کام ایجا د کرنا ہے ۔ اور نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی جہنم میں ( جانے کا سبب) ہوگی ۔" پھر آپ فرماتے " میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح قریب قریب بھیجے گئے ہیں ، اور جب آپ قیامت کا ذکر فرماتے تو آپ کے رخسار سر خ ہوجاتے آپ کی آواز بلند ہوجاتی اور آپ شدید غصے میں آجاتے ،گویا کہ آپ لشکر جرار سے ڈرنے والے ہوں ۔ صبح کو قیامت بر پا ہونے والی ہے ، رات کو قیامت آنے والی ہے ۔ "پھر آپ فرماتے :"جو شخص مال چھوڑ گیا وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض یا بچے چھوڑ ے تو وہ میرے ذمے ہیں اور میں ان کی پرورش کروں گا اور میں مومنوں کا ولی اور دوست ہوں ۔ یہ ابن مبارک کی حدیث کے الفاظ ہیں ۔ اور انس بن عیاض کی حدیث کے الفاظ اس سے مختلف ہیں ۔"

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← عتبة بن عبد الله ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1785

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1786

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنِ ابْنَةِ الْحَارِثَةِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: مَا حَفِظْتُ (ق) إِلَّا مِنْ فِيّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقْرَأُ بِهَا فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، وَكَانَ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ابْنَةُ الْحَارِثَةِ هَذِهِ هِيَ أُمُّ هِشَامٍ بِنْتُ حَارِثَةَ.

"حضرت حارثہ بن نعمان کی صاحبزادی بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ(قٓ) رسول اللہﷺ کےمنہ مبارک سے سن کر یاد کی ہے ، آپ یہ سورت ہر جمعہ کو پڑھتے تھے اور ہمارا اور رسول اللہو کا تنور ایک ہی تھا ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "حضرت حارثہ کی بیٹی ام ہشام بنت حارثہ ہیں۔"

ابْنَةِ الْحَارِثَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ← عَبدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1786

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1787

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ هِشَامِ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: قَرَأْتُ (ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ (1)) مِنْ فِيّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَؤُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ عَلَى الْمِنْبَرِ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، نَسَبَهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ.

"حضرت ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول اللہﷺ کے منہ مبارک سے سن پڑھی اور یاد کی ہے ۔ آپ یہ سورت ہر جمعہ کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے وقت پڑھا کرتے تھے ۔"

أم هشام بنت حارثة بن النعمان ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1787

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1788

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، أَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّاعِدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، نَا شَرِيكٌ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ-، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ بَابِ الْقَضَاءِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَنَا. قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا، اللَّهُمَّ أَغِثْنَا"، قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ، وَلَا قَزْعَةٍ، وَلَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، [188 - ب] فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ، فَلَمَّا تَوَسَّطَتْ -يَعْنِي السَّمَاءَ- انْتَشَرَتْ ثُمَّ أَمْطَرَتْ. قَالَ أَنَسٌ: فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْعًا، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكِ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ، وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهُ أَنْ يُمْسِكَهَا عَنَّا. قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ، وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ". قَالَ: فَأَقْلَعَتْ، وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ. قَالَ شَرِيكٌ: فَسَأَلْتُ أَنَسًا أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ فَقَالَ: لَا أَدْرِي؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: السَّلْعُ: جَبَلٌ.

خطبہ جمعہ میں بارش کی دعا کرنے کی رخصت کا بیان جبکہ لوگ قحط سالی سے دو چار ہوں اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بار ش نہ عطا کرے تو قحط سالی ، اموال کی ہلاکت اور راستوں کے کٹ جانے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہو

شَرِيكٌ -وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ-، ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّاعِدِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1788

chevron_left Previous
1…8910…14
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals