Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الطِّیبِ وَالتَّسَوُّکِ وَاللُّبسِ لِلجُمُعَۃِ · حديث 1766

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، ثَنَا حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةٌ (1) يَلْبَسُهَا فِي الْعِيدَيْنِ وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ التَّهْجِيرِ إِلَى الْجُمُعَةِ [186 - أ] وَالْمَشْيِ إِلَيْهَا

"حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے پاس ایک جبہ تھا جو آ پ ﷺ عیدین اور جمعہ کے دن زیب تن فرماتے تھے۔"

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي جَعْفَرٍ، ← حجاج، ← حَفْصٌ -يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ- ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation · Hadith 1766

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1767

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو مُوسَى، نَا أَبُو أَحْمَدَ. ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ غَدَا وَابْتَكَرَ، وَجَلَسَ مِنَ الْإِمَامِ قَرِيبًا فاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ أَجْرُ سَنَة صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا". هَذَا حَدِيثُ أَبِي مُوسَى. وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ: كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا.

"حضرت اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جس نے غسل کرایا اور خود غسل کیا پھر صبح سویرے چل کر ( مسجد ) گیا اور امام کے قریب بیٹھ کر خاموشی اور غور کے ساتھ خطبہ سنا ، تو اسے ایک سال کے روزوں اور تہجد کا اجروثواب ملے گا ۔"یہ جناب ابوموسیٰ کی روایت ہے اور محمد بن یوسف کی روایت میں ہے :"اسے پر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور تہجد کا اجر ملے گا۔"

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← يحيى بن الحارث ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عِيسَی ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1767

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1768

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ، نَا مُبَشِّرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ- عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي يَحْيَ بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الْمُسْتَعْجِلُ إِلَى [الصَّلَاةِ] (2) كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي بَقَرَةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي شَاةً، وَالَّذِي يَلِيهِ كَالْمُهْدِي طَيْرًا".

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"نماز ( جمعہ کےلیے جلدی جانے ولا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح اجر وثواب کا مستحق ہے ۔ اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ اس کے بعد والے کو بکری کی قربانی کرنے والے کے جیسا ثواب ملتا ہے اور اس کے بعد آنے والے کو پرندہ ( مرغی ) کی قربانی کرنے والے کے ثواب جتنا ثواب ملتا ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← یَّحْیَ بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُبَشِّرٌ -يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ- ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ أَبُو هَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1768

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1769

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، ثَنَا سُفْيَانُ، نَا الزُّهْرِيُّ؛ وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَائِكَةٌ يَكْتُبُونَ النَّاسَ عَلَى مَنَازِلِهِمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، طُوِيَتِ الصُّحُفُ". وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: "فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوَا الصُّحُفَ"، وَقَالَا جَمِيعًا: "وَاسْتَمَعُوا الْخُطْبَةَ، فَالْمُهَجِّرُ إِلَى الصَّلَاةِ كَالْمُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ الَّذِي يَلِيهِ كَمُهْدِي كَبْشًا"، حَتَّى ذَكَرَ الدَّجَاجَةَ وَالْبَيْضَةَ. وَقَالَ الْمَخْزُومِيُّ: كَمُهْدِي الْبَقَرَةِ، وَقَالَ: كَمُهْدِي الْكَبْشِ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو لوگوں کے نام ان کے ( مسجد آنے کے ) مراتب کے لحاظ سے لکھتے ہیں ۔ جو پہلے آتا ہے اسے پہلے اور بعد میں آنے والوں کو بعد میں لکھتے ہیں ۔ پھر جب امام (خطبہ کےلیے ) تشریف لاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کردیتے ہیں ۔"جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے :"جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے رجسٹر بند کر دیتے ہیں ۔"دونوں راوی کہتے ہیں :"اور و ہ فرشتے بھی خطبہ سننے لگ جاتے ہیں ۔"لہٰذا نماز کےلے جلدی آنے والا ، اونٹ کی قربانی کرنے والے جیسا اجر پاتا ہے ۔ پھر اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے شخص کی طرح ثواب حاصل کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے شخص کی مثل ثواب پاتا ہے۔"حتی ٰ کہ آپ نے مرغی اور انڈے کا تذکرہ بھی کیا ۔ " جناب مخزومی کی روایت میں "گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح "اور" مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طر ح۔"کے الفاظ ہیں۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الزُّهْرِيُّ؛ وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1769

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1770

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ثَنَا الْعَلَاءُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- نَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مَلَكَانِ يَكْتُبَانِ الْأَوَّلَ، فَالْأَوَّلَ كَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاةً، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ طَيْرًا، وَكَرَجُلٍ قَدَّمَ بَيْضَةً. فَإِذَا قَعَدَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ". وَقَالَ بُنْدَارٌ: فَإِذَا قَعَدَ طُوِيَتِ الصُّحُفُ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ: قَدَّمَ طَائِرًا. قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ: فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ.

جمعہ کے دن جمعہ کےلیے جلدی آنے والوں کے نام لکھنے کےلیے مسجد کے ہر دروازے پر مقرر فرشتوں کی تعداد کا بیان

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1770

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1771

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا مَطَرٌ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنِي هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "تُبْعَثُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَكْتُبُونَ مَجِيءَ النَّاسِ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ طُوِيَتِ الصُّحُفُ، وَرُفِعَتِ الْأَقْلَامُ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ [186 - ب]: مَا حَبَسَ فُلَانًا؟ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا فَاشْفِهِ، وَإِنْ كَانَ عَائِلًا فَأَغْنِهِ". هَذَا حَدِيثُ الْمُقْرِئِ. وَقَالَ الْقُطَعِيُّ: قَالَ: "تَقْعُدُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ"، وَقَالَ أَيْضًا: "يَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ ضَالًّا فَاهْدِهِ، وَإِنْ كَانَ ... " إِلَى آخِرِهِ".

"حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جمعہ والے دن فرشتوں کو مسجد کے دروازوں پر بٹھایا جاتا ہے ، وہ لوگوں کی آمد کو ( بالترتیب ) لکھتے رہتے ہیں ۔ پھر جب امام تشریف لے آتا ہے تو رجسٹر لپیٹ دیئے جاتے ہیں اور قلم اٹھا لیے جاتے ہیں ۔ تو فرشتے ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں :فلاں شخص کو کس چیز نے ( جمعہ سے ) روک لیا ہے ؟ پھر فرشتے دعا کرتے ہیں : اے اللہ! فلا ں شخص اگر گمراہ ہوگیا ہے تو اسے ہدایت نصیب فرما اور اگر وہ بیمار ہے تو اسے شفا نصیب فرما اور اگر وہ فقیر ہے تو اسے غنی کر دے ۔ یہ جناب مقرئ کی حدیث ہے ۔ اور جناب قطعی کی روایت میں ہے : "فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور یہ الفاظ بھی روایت کیے کہ وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں : اے اللہ! اگر وہ گمراہ ہوگیا ہے تو اسے سیدھی راہ دکھا ۔ اگر وہ ایسے ایسے ہوگیا ہے تو ۔۔۔ ۔۔ آخر تک۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← الْمُقْرِئُ ← أَبُو حَاتِمٍ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مَطَرٍ، ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1771

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1771

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَوْسِ بْنِ أَوْسِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا"، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ.

"امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : " حضرت اوس بن اوس ؓ کی نبی کریمﷺ سے مروی روایت میں ہے : " ( جمعہ کےلے آنے والے کو) ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور قیام کا اجر ملتا ہے ۔" میں یہ روایت پہلے لکھوا چکا ہوں ۔

النَّبِيِّ "كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا"، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ. ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ أَوْسِ بْنِ أَوْسِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1771

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ التَّھجِیرِ اِلَی الجُمُعَۃِ وَالمَشیِ اِلَیھَا · حديث 1772

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ -يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ- عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ؛ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَسْعَوْنَ، وَأْتُوهَا وَأَنْتُمْ تَمْشُونَ، عَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا". جِمَاعُ أَبْوَابِ الْأَذَانِ وَالْخُطْبَةِ فِي الْجُمُعَةِ، وَمَا يَجِبُ عَلَى الْمَأْمُومِينَ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مِنَ الِاسْتِمَاعِ لِلْخُطْبَةِ وَالْإِنْصَاتِ لَهَا، وَمَا أُبِيحَ لَهُمْ مِنَ الْأَفْعَالِ، وَمَا نُهُوا عَنْهُ

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جب نماز کھڑی ہو جائے تو تم دوڑتے ہوئے نماز کےلیے مت آؤ ، تم نماز کےلیے اس حال میں چلتے آؤ کہ تم پر سکون واطمینان ہو تو تم جو نماز پالو اسے پڑھ لو اور جو تم سے فوت ہوجائے اسے پورا کر لو۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← أَبِي سَلَمَةَ، وَالزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it · Hadith 1772

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1773

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو مُوسَى، نَا أَبُو عَامِرٍ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- قَالَ: كَانَ النِّدَاءُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ، وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، حَتَّى كَانَ عُثْمَانُ، فَكَثُرَ النَّاسُ، فَأَمَرَ بِالنِّدَاءِ الثَّالِثِ عَلَى الزَّوْرَاءِ (1)، فَثَبَتَ حَتَّى السَّاعَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي قَوْلِهِ "وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ" يُرِيدُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ: الْإِقَامَةَ. وَالْأَذَانُ وَالْإِقَامَةُ يُقَالُ لَهُمَا: أَذَانَانِ، أَلَمْ تَسْمَعِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ" وَإِنَّمَا أَرَادَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانٍ وَإِقَامَةٍ. وَالْعَرَبُ قَدْ تُسَمِّي الشَّيْئَيْنِ بِاسْمِ الْوَاحِدِ إِذَا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ) [النساء: 11] وَقَالَ: (وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ) [النساء: 11] وَإِنَّمَا هُمَا أَبٌ وَأُمٌّ، فَسَمَّاهُمَا اللَّهُ أَبَوَيْنِ. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ خَبَرُ عَائِشَةَ: كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَسْوَدَيْنِ، التَّمْرَ وَالْمَاءَ. وَإِنَّمَا السَّوَادُ لِلتَّمْرِ خَاصَّةً دُونَ الْمَاءِ، فَسَمَّتْهُمَا عَائِشَةُ الْأَسْوَدَيْنِ لَمَّا قَرَنَتْ بَيْنَهُمَا. وَمِنْ هَذَا الْجِنْسِ قِيلَ: سُنَّةُ الْعُمَرَيْنِ. وَإِنَّمَا أُرِيدَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، لَا كَمَا تَوَهَّمَ مَنْ ظَنَّ أَنَّهُ أُرِيدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: وَإِذَا قَامَتِ الصَّلَاةُ النِّدَاءَ الثَّانِيَ الْمُسَمَّى إِقَامَةً.

"حضرت سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جمعہ کے دن جس اذان کا ذکر کیا ہے وہ اس وقت دی جاتی تھی جب امام ( خطبہ جمعہ کےلیے ) تشریف لے آتا اور ( دوسری اذان یعنی اقامت ) نبی کریمﷺ ، حضرت ابوبکر اور عمرؓ کے عہد میں اس وقت کہی جاتی جب نماز کھڑی ہوتی ۔ حتیٰ کہ جب حضرت عثمان ؓ کا عہد آیا تو لوگ زیادہ ہوگئے ، لہٰذا انہوں نے تیسری اذان زوراء مقام پر کہنے کا حکم دیا ۔ چنانچہ وہ اذان آج تک باقی ہے ۔"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "حدیث کے ان الفاظ "اور جب نماز کھڑی ہوتی "سے مراد دوسری اذان یعنی اقامت مراد ہے ۔ اور اذان واقامت کو اذانان ( دو اذانیں ) کہا جاتا ہے ۔ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا آپ فرماتے ہیں :"ہر دو اذانوں کے درمیان ( نفل ) نماز ہے ۔ اس سے آپ ﷺ کی مراد ہر اذان اور اقامت کے درمیان ہے ۔ اور عرب دو ملی ہوئی چیزوں کو ایک ہی نام دے دیتے ہیں ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :(وَلَاِ بَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّھْھُمَا السُّدُسُ) "والدین میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ۔ "اورارشاد باری تعالیٰ ہے (وَوَرِثَۃُ اَبَوَاہْ فَلأمِّہِ الثُّلُثُ) "اور اس کے وارث اس کے والدین ہوں تو اس کی والدہ کو تیسرا حصہ ملے گا ۔ "جبکہ والدین سے مراد ماں اور باپ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے دونوں کےلیے "أبوین"(دو باپ ) کا لفظ بولا ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث بھی اسی قسم سے تعلق رکھتی ہے ۔ "رسول اللہو کے عہد میں ہمارا کھانا دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں: کھجور اور پانی ۔" جبکہ سیاہ رنگ صرف کھجور کا ہوتا ہے پانی کا نہیں ۔ اس کے باوجود عائشہ ؓ نے دونوں کو اسودین ( دو سیاہ چیزیں) کا نام دیا ہے ۔ جبکہ ان دونوں کو ملا دیا گیا تھا۔ اسی قسم کی ایک مثال "سُنَّۃُ الْعُمَرَیْنِ" عمرین کا طریقہ اور سنت "اور اس سے مراد حضرت ابوبکر اور عمر کا طریقہ ہوتا ہے ، اور اس سے مراد حضرت عمر بن خطاب اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا طریقہ نہیں ہے ، جیسا کہ بعض لوگوں کو اس سے غلط فہمی اور وہم ہوا ہے ۔ اور اس بات کی دلیل کہ حدیث کے ان الفاظ "اور جب نما زکھڑی ہوتی " سے مراد دوسری اذان ہے جسے اقامت کہتے ہیں ۔ ( درج ذیل حدیث ہے ) ۔

السَّائِبِ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1773

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1774

أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ حدثنا، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ أَذَانَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، حَتَّى كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ، فَكَثُرَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأَذَانِ الْأَوَّلِ بِالزَّوْرَاءِ.

اس اذان کا بیان جو رسول اللہﷺ کے عہد مبارک میں موجود تھی ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جب وہ اذان دے دی جائے تو جمعہ کےلیے جلدی کی جائے اور اس وقت کا بیان جب یہ اذان دی جاتی تھی اور اس شخص کا ذکر جس نے امام کے تشریف لانے سے پہلے پہلی اذان دینی شروع کی تھی

السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← وَكِيعٌ، ← أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1774

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1775

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الْبَغْدَادِيُّ، نَا

"حضرت ابو ایوب انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :" جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا اور اگر اس کے پاس خوشبو ہوتو اس نے خوشبو لگائی اور اپنا عمدہ لباس زیب تن کیا پھر وہ مسجد چلا گیا اور اگر اس کا جی چاہا تو اس نے نماز نفل ادا کی اور اس نے کسی کو تکلیف نہ دی ، پھر جب اس کا امام آگیا تو اس نے خاموشی اختیار کی حتیٰ کہ نماز ادا کرلیتا ہے تو اس کے یہ اعمال اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "یہ اسی جنس سے متعلق ہے جس کے متعلق میں کہتا ہوں کہ عرب کے نزدیک انصات سے مراد کبھی ایک دوسرے سے بات چیت سے خاموشی ہوتی ہے ، قرآن مجید کی تلاوت ، ذکر ، الہٰی اور دعا کرنے سے خاموشی مراد نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث ہے :"صحابہ کرام نماز کے دوران بات چیت کر لیتے تھے حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوگئی ( وَإِذَا قُرِیءَالْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہُ وَأَنْصِتُوْا) "اور جب قرآن پڑھا جائے تو تم اسے غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ ۔"اس آیت میں انہیں ایک دوسرے سے گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے اور انہیں قرآن مجید کی تلاوت کے وقت خاموش رہنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ خاموشی لوگوں کی باہمی گفتگو سے ہوگی ؟ قراءت قرآن ، تسبیحات ، تکبیر ، ذکر اور دعا سے خاموش رہنا مراد نہیں ہے کیونکہ یہ بات یقینی ہے کہ نبی کریمﷺ کے اس فرمان " پھر جب امام تشریف لے آیا تو وہ خاموش ہوگیا حتیٰ کہ اس نے نماز پڑھ لی ۔" سے آپ کی مراد یہ نہیں کہ جمعہ میں حاضر ہونے والا شخص نماز شروع کرتے وقت اللہ اکبر نہیں کہے گا اور نہ رکوع کو جاتے وقت تکبیر کہے گا اور نہ رکوع میں تسبیحات پڑھے گا اور نہ رکوع سے سر اٹھا کر "رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ"پڑھے گا اور نہ سجدے کےلیے جھکتے وقت اَللہُ اَکْبَرُکہے گا اور نہ سجدے میں تسبیح پڑھے گا اور نہ قعدہ میں تشہد پڑھے گا ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کے دین کو سمجھتا ہے اسے اس وقت کا وہم نہیں ہوتا ۔ لہٰذا یہ بات حتمی اور یقینی ہے کہ اس حدیث میں انصات ( خاموشی ) کا مطلب لوگوں کی باہمی گفتگو اور کلام سے خاموشی ہے ۔ اس کا مطلب تکبیر ، قراءت قرآن ، تسبیح اور ذکر وغیرہ سے خاموشی نہیں ہے جن کا نمازی کو نماز کے دوران حکم دیا گیا ہے کہ وہ یہ اعمال انجام دے ۔ اسی طرح نبی کریمﷺ کے اس فرمان کا معنی ہے ، اگر یہ صیح ثابت ہو۔ "جب امام قراءت کرے تو خاموشی اختیار کرو۔"یعنی لوگوں سے بات چیت ختم کردو ۔ میں مسئلہ "امام کے پیچھے قراءت کرنا" کے تحت انصات کا معنی اور اس لفظ کے کتنے معانی ہوسکتے ہیں ، میں بیان کر چکا ہوں۔"

مُحَمَّدُ بْنُ شَوْكَرِ بْنِ رَافِعٍ الْبَغْدَادِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1775

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1776

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- عَنِ الْمُبَارَكِ -وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ- عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، يَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى سَارِيَةٍ مِنْ خَشَبٍ أَوْ جِذْعٍ أَوْ نَخْلَةٍ، -شَكَّ الْمُبَارَكُ- فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ: "ابْنُوا لِي مِنْبَرًا". فَبَنَوْا لَهُ الْمِنْبَرَ. فَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ، حَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ الْوَالِهِ، فَمَا زَالَتْ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمِنْبَرِ، فَأَتَاهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: الْوَالِهُ: يُرِيدُ [بِهِ] الْمَرْأَةَ إِذَا مَاتَ لَهَا وَلَدٌ.

"حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جمعہ کے دن لکڑی کے ایک ستون ، تنے یا کھجور کے درخت سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے ( اور خطبہ ارشاد فرماتے تھے ) ۔ مبارک راوی کو شک ہے کہ کون سا لفظ بیان کیا تھا۔ پھر جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا:"میرے لیے منبر بناؤ"تو صحابہ نے آپ کےلیے منبر بنا دیا ۔ لہٰذا ٓپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے تو لکڑی ، اپنے بچے کی جدائی میں رونے والی ماں کی طرح رونے لگی ۔ وہ اسی طرح روتی رہی حتی ٰ کہ رسول اللہﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے ، پھر آپ نے جا کر اسے گلے سے لگایا تو وہ خاموش ہوگئی ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "الوالہسے مراد وہ عورت ہے جس کا بچہ فوت ہوگیا ہو( اور وہ اس کی جدائی میں روتی ہو) "

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْحَسَنِ، ← الْمُبَارَكِ -وَهُوَ ابْنُ فَضَالَةَ- ← عِيسَى -يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ- ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them · Hadith 1776

chevron_left Previous
1…789…14
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals