Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ أَبوَابُ الصَّلَاۃِ قَبلَ الجُمُعَۃِ · حديث 1878

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ -بَصْرِيٌّ-، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ -وَهُوَ الْقَطَّانُ-، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَدْرًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ! لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُ هَذَا؟ قَالَ: لِأَنِّي رَأَيْتُ سَيِّدَ الْمُسْلِمِينَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَكَذَا يَصْنَعُ، يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: (فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ) [الجمعة: 10] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

"جناب عبداللہ بن بسر بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھی حضرت عبداللہ بن بسر ؓ کو دیکھا کہ جب وہ نماز جمعہ ادا کر لیتے تو مسجد سے نکل کر بہت دور تشریف لے جاتے ۔ پھر وہ مسجد میں واپس آتے اور جتنی نماز اللہ تعالیٰ ان کےلیے مقدر کرتا وہ ادا کرتے ۔ تو میں نے ان سے عرض کی:" اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ یہ کام کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : "کیونکہ میں نے سید المرسلین نبی کریمﷺ کو ایسا ہوئے دیکھا ہے "اور یہ آیت تلاوت کی(فَإِذَا قُضِیَتِ الصَّلَاۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْأَرَضِ وَابْتَغُوْامِنْ فَضْلِ اللہِ) "پھر جب نماز پوری ہوجائے تو تم زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو ، تاکہ تم فلاح پاؤ۔"

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عَنْبَسَةَ وَهُوَ الْقَطَّانُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَيَّاضٍ بَصْرِيٌّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The gates of prayer before Friday · Hadith 1878

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1720

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، نَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: ح وَثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أخبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ، -يَعْنِي يَوْمَ الْجُمُعَةِ- النَّاسُ لَنَا تَبَعٌ فِيهِ، الْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ". هَذَا حَدِيثُ الْمَخْزُومِيُّ. وَقَالَ عَبْدُ الْجَبَّارِ: وَإِنَّ هَذَا الْيَوْمَ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ. وَقَالَ مَرَّةً: ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْهِمُ اخْتَلَفُوا فِيهِ. وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ: هَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ فَاخْتَلَفُوا فِيهِ. خَبَرُ مَعْمَرٍ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مِنْ هَذَا الْبَابِ.

"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "ہم سب سے آخر میں آنے والی امت ہیں اور ہم قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے ، تاہم انہیں ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد کتاب عطا ہوئی ۔ پھر یہ دن جسے اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا تھا، انہوں نے اس میں اختلاف کیا تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت دے دی یعنی جمعہ کے دن کی۔ لوگ ا س بارے میں ہمارے پیروکار ہیں یہودی کل( ہفتےکو) اور عیسائی اتوار کو عبادت کریں گے۔"یہ جناب مخزومی کی حدیث ہے ۔ اور جناب عبدالجبار کی روایت میں ہے :"پھر یہ دن جس کو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا تھا، انہوں نے اس کے بار ے میں اختلاف کیا ۔ جناب معمر کی ہمام بن منبہ کے واسطے سے حضرت ابوہریرہ سے روایت اسی باب سے ہے۔"

أَبِيهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَعَنِ ابْنِ طَاوُوسٍ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبُو الزِّنَادٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1720

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1721

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ -وَهُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ-، ثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، وَعَلَى مَنْ رَاحَ الْجُمُعَةَ الْغُسْلُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ: "عَلَى كُلِّ مُحْتَلِمٍ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ"، مِنَ اللَّفْظِ الَّذِي نَقُولُ: إِنَّ الْأَمْرَ إِذَا كَانَ لِعِلَّةٍ فَالتَّمْثِيلُ وَالتَّشْبِيهُ بِهِ جَائِزٌ، مَتَى كَانَتِ الْعِلَّةُ قَائِمَةً فَالْأَمْرُ وَاجِبٌ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا عَلَّمَ أَنَّ عَلَى الْمُحْتَلِمِ رَوَاحَ الْجُمُعَةِ، لِأَنَّ الِاحْتِلَامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى كَانَ الْبُلُوغُ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ احْتِلَامٌ وَكَانَ الْبُلُوغُ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، فَفَرْضُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ بَالِغٍ وَإِنْ كَانَ بُلُوغُهُ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، وَلَوْ كَانَ عَلَى غَيْرِ أَصْلِنَا، وَكَانَ عَلَى أَصْلِ مَنْ خَالَفَنَا مِنَ التَّشْبِيهِ وَالتَّمْثِيلِ، وَزَعَمَ أَنَّ الْأَمْرَ لَا يَكُونُ لِعِلَّةٍ، وَلَا يَكُونُ إِلَّا تَعَبُّدًا، لَكَانَ مَنْ بَلَغَ عِشْرِينَ سَنَةً وَثَلَاثِينَ سَنَةً وَهُوَ حَرٌّ عَاقِلٌ فَسَمِعَ الْأَذَانَ لِلْجُمُعَةِ فِي الْمِصْرِ، أَوْ هُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ رَوَاحُ الْجُمُعَةِ، إِنْ لَمْ يَكُنِ احْتَلَمَ، لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْلَمَ أَنَّ رَوَاحَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمُحْتَلِمِ! وَقَدْ يَعِيشُ (1) كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ السِّنِينَ الْكَثِيرَةَ فَلَا يَحْتَلِمُ أَبَدًا، وَهَذَا كَقَوْلِهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: (وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْيَسْتَأْذِنُوا كَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ) [النور: 59] فَإِنَّمَا أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِالِاسْتِئْذَانِ مَنْ قَدْ بَلَغَ الْحُلُمَ، إِذِ الْحُلُمُ بُلُوغٌ، وَ [لَوْ] (2) لَمْ يَجُزِ الْحُكْمُ بِالتَّشْبِيهِ، وَالنَّظِيرِ كَانَ مَنْ بَلَغَ ثَلَاثِينَ سَنَةً وَلَمْ يَحْتَلِمْ، لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ الِاسْتِئْذَانُ. وَهَذَا كَخَبَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ" قَالَ فِي الْخَبَرِ: "وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ" وَمَنْ لَمْ يَحْتَلِمْ [181 - ب] وَبَلَغَ مِنَ السِّنِّ مَا يَكُونُ إِدْرَاكًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ فَالْقَلَمُ عَنْهُ غَيْرُ مَرْفُوعٍ، إِذِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "حَتَّى يَحْتَلِمَ" أَنَّ الِاحْتِلَامَ بُلُوغٌ، فَمَتَى كَانَ الْبُلُوغُ وَإِنْ كَانَ بِغَيْرِ احْتِلَامٍ، فَالْحُكْمُ عَلَيْهِ، وَالْقَلَمُ جَارٍ عَلَيْهِ كَمَا يَكُونُ بَعْدَ الِاحْتِلَامِ.

"حضرت حفصہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کے لیے جانا ضروری ہے اور جمعہ کےلیے جانے والے شخص پر غسل کرنا واجب ہے ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ الفاظ "ہر بالغ شخص کےلیے جمعہ کےلیے جانا واجب ہے ۔"یہ ان الفاظ میں سےہیں جن کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ جب حکم کسی علت وسبب کی بنیاد پر ہو تو اس کے ساتھ تمثیل وتشبیہ دینا جائز ہوتا ہے ۔ جب تک وہ علت باقی ہو وہ حکم واجب ہوتا ہے ۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ ہر محتلم ( بالغ ) شخص کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب ہے اور احتلام سے مراد بالغ ہونا ہے ۔ لہٰذا جب کوئی شخص بالغ ہوجائے اور اگرچہ اسے احتلام نہ آئے اور وہ کسی او ر علامت سے بالغ ہو جائے تو ایسے ہر بالغ شخص پر جمعہ فرض ہوتا ہے اگرچہ اس کا بالغ ہونا احتلام کے علاوہ کسی اور علامات سے ہی ہو۔ اگرچہ یہ بات ہمارے قاعدے کے خلاف ہے اور تشبیہ وتمثیل میں ہمارے مخالفین کے قاعدے اور اصول کے مطابق ہے ۔ اس کا خیال یہ ہے کہ حکم کسی علت کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ حکم صرف تعبد کے لیے ہوتا ہے ۔ اگر بات ایسے ہی ہو تو وہ شخص جس کی عمر بیس یا تیس سال ہو اور وہ ابھی بالغ نہ ہوا(اسے احتلام نہ آیا ہو) اور وہ مسلمان عقلمند آزاد شخص ہو وہ شہر میں جمہ کےلیے اذان سنے یا وہ مسجد کے دروازے پر موجود ہو تو اس کےلیے جمعہ کےلیے حاضر ہونا واجب نہیں ہوگا۔ کیونکہ نبی کریمﷺ نے بتایا ہے کہ جمعہ کی حاضری صرف محتلم شخص پر واجب ہے ۔ حالانکہ ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہیں سالہا سال تک احتلام نہیں ہوتا اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی طرح ہے :(وَإِذَا بَلَغَ الْأَطْفَالُ مِنْکُمُ الحُلُمَ فَلْیَسْتَأْذِنُوْا کَمَا اسْتَأْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِٰھِمْ)"اور جب تم میں سے لڑکے بلوغت کی حد کو پہنچ جائیں تو انہیں چاہیے کہ وہ بھی اسی طرح اجازت مانگیں جس طرح ان سے پہلے ( ان کے بڑے ) اجازت مانگتے رہے ہیں ۔"اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان بچوں کو اجازت لینے کا حکم دیا ہے جنہیں احتلام آجائے اور احتلام کا آنا بالغ ہونے کی دلیل ہے اور اگر تشبیہ اور نظیر ( پر قیاس کرتے ہوئے) حکم لگانا جائز نہ ہوتا تو ایسا شخص جو تیس سال کا ہوجائے اور اسے احتلام نہ آئے تو اس پر اجازت طلب کرنا واجب نہیں ہوگا ۔ اور یہ بات نبی کریمﷺ کی اس حدیث کی طرح ہے :"تین قسم کے افراد سے قلم اٹھالی گئی ہے ( وہ شریعف کے مکلف نہیں ہیں) اس روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا: "اور بچے سے حتیٰ کہ اسے احتلام آنے لگے ۔"اور جس شخص کو احتلام نہ آئے اور وہ اس عمر کو پہنچ چکا ہو جس میں انسان بغیر احتلام کے بالغ ہوجاتا ہے تو ایسے شخص سے قلم نہیں اٹھایا گیا ۔ کیونکہ کریم ﷺ کے اس فرمان کا مطلب "یہاں تک کہ وہ احتلام والا ہوجائے" یہ ہے کہ احتلام بلوغت کی دلیل ہے ۔ اس لیےجب بھی بچہ بالغ ہوجائے گا اگرچہ احتلام آئے بغیر ہی ہو، تو اس پر شرعی احکام لاگو ہوں گے اور اس پر قلم جاری ہوگا جیسا کہ احتلام آنے کے بعد جاری ہوتا ہے ۔

حَفْصَةَ، ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ -وَهُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حَمْزَةَ، ← عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1721

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1722

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، نَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا جَمَعَ نِسَاءَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَأَتَانَا عُمَرُ، فَقَامَ عَلَى الْبَابِ، فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُنَّ. فَقُلْنَا: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: أَتُبَايِعْنَ عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقْنَ، وَلَا تَزْنِينَ؟ قَالَتْ: قُلْنَا: نَعَمْ. فَمَدَدْنَا أَيْدِيَنَا مِنْ دَاخِلِ الْبَيْتِ، وَمَدَّ يَدَهُ مِنْ خَارِجٍ. قَالَتْ: وَأُمِرْنَا أَنْ نُخْرِجَ الْحُيَّضَ وَالْعَوَاتِقَ فِي الْعِيدَيْنِ، وَنُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَا جُمُعَةَ عَلَيْنَا. قَالَ: قُلْتُ لَهَا: مَا الْمَعْرُوفُ الَّذِي نُهِيتُنَّ عَنْهُ؟ قَالَتِ: النِّيَاحَةُ.

"جناب اسماعیل بن عبدالرحمان بن عطیہ انصاری روایت کرتے ہیں کہ مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ جب نبی کریمﷺ نے انصاری عورتوں کو ایک گھر میں جمع کیا تو حضرت عمر ؓ ہمارے پاس تشریف لائے۔ وہ دروازے پر کھڑے ہوگئے اور سلام کیا ، ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: میں تمہاری طرف رسول اللہﷺ کا قاصد ہوں۔ ہم نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے پیغام رساں کو خوش آمدید ۔ انہوں نے کہا : کیا تم اس شرط پر بیعت کرتی ہو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گی، نہ چوری کرو گی نہ زنا کاری میں مبتلا ہوگی؟ وہ فرماتی ہیں ، ہم نے جواب دیا: جی ہاں ۔ لہٰذا ہم نے گھر کے اندر ہی سے اپنے ہاتھ ( بیعت کےلیے ) بڑھائے اور انہوں نے باہر سے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ وہ فرماتی ہیں : اور آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین کے روز حیض والی کنواری لڑکیوں کو بھی نکالا کریں اور ہمیں جنازوں کی اتباع سے منع کر دیا گیا ، اور ہم پر جمعہ فرض نہیں ہے ۔ اسماعیل کہتے ہیں : میں نے انہیں کہا: وہ کون سا معروف کام ہے جس سے تمہیں منع کیا گیا؟ انہوں نے فرمایا: "نوحہ گری سے منع کیا گیا۔"

إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي: ← إِسْحَاقُ بْنُ عُثْمَانَ الْكِلَابِيُّ، ← وَكِيعٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1722

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1723

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عُثْمَانَ بِنَحْوِهِ. وَلَمْ يَقُلْ: لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا.

"امام صاحب اپنے استاد محمد بن معمر قعبنی سے مذکورہ بالا کی طرح رویات کرتے ہیں اور اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :"تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنانا۔"

إِسْحَاقَ بْنِ عُثْمَانَ بِنَحْوِهِ. وَلَمْ يَقُلْ: لَا تُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا. ← أَبُو عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1723

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1724

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، نَا سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ-، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ؛ ح وَثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ الْفَضْلُ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ (1)، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى: عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَسَمِعَ الْأَذَانَ بِهَا صَلَّى عَلَى أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ. قَالَ: فَمَكَثَ حِينًا عَلَى ذَلِكَ لَا يَسْمَعُ الْأَذَانَ لِلْجُمُعَةِ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَعَجْزٌ بِي حَيْثُ لَا أَسْأَلُهُ، مَا لَهُ إِذَا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ صَلَّى عَلَى أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ؟ قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا كُنْتُ أَخْرُجُ بِهِ، فَلَمَّا سَمِعَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ صَلَّى عَلَى أَبِي أُمَامَةَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ! مَا لَكَ إِذَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ صَلَّيْتَ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِالْمَدِينَةِ فِي هَزْمِ بَنِي بَيَاضَةَ، يُقَالُ لَهُ: نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ. قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلًا. هَذَا حَدِيثُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ.

"حضرت کعب بن مالکؓ کے بیٹے حضرت عبدالرحمان بیان کرتےہیں کہ میں اپنے والد محترم حضرت کعب بن مالک ؓ کی بینائی ختم ہونے کے بعد ان کا راہنما تھا ۔ اور جب میں انہیں لے کر جمعہ کےلیے گھر سے نکلتا اور وہ جمعہ کی اذان سنتے تو حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ ؓ کےلیے دعائے خیر کرتے ۔ فرماتے ہیں : تو وہ ایک عرصہ تک اسی طرح جب جمعہ کےلیے اذان سنتے تو حضرت ابو امامہ کےلیے دعا کرتے اور ان کےلیے بخشش طلب کرتے ۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کی قسم ! یہ تو میری نہایت بے بسی ہے کہ میں ان سے یہ بھی نہ پوچھ سکوں کہ وہ جمعہ کی اذان سن کر حضرت ابوامامہ اسعد بن زرارہ ؓ کےلیے دعائے خیر کیوں کرتے ہیں؟ بیان کرتے ہیں کہ میں پہلے کی طرح جمعہ کے روز انہیں لے کر گھر سے نکلا ۔ جب انہوں نے جمعہ کی اذان سنی تو حضرت ابوامامہ ؓ کےلیے دعا کی اور استغفار کیا ۔ تو میں نے ان سے عرض کی: اے اباجان ! کیا بات ہے کہ آپ جب بھی جمعہ کی اذان سنتے ہیں ، حضرت ابو امامہ کےلیے دعا کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا:"اے پیارے بیٹے !(ابوامامہ) وہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ میں بیاضہ کی بستی میں جمعہ پڑھایا۔ اس مقام کو نقیع الخضمات کہا جاتا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا ، اس دن تمہاری تعداد کتنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : چالیس مرد تھے ۔"یہ جناب سلمہ بن فضل کی حدیث ہے ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِيهِ ← محمد بن أبى امامة بن سهل بن حنيف ← مُحَمَّدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← محمد بن أبى امامة بن سهل بن حنيف ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةُ -يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ- ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1724

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1725

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو عَامِرٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ -وَهُوَ ابْنُ طَهْمَانَ- عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ جُمُعَةٍ جُمِّعَتْ بَعْدَ جُمُعَةٍ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَسْجِدُ عَبْدِ الْقَيْسِ بِجُوَائَى مِنَ الْبَحْرَيْنِ.

مدینہ منورہ میں پڑھے گئے جمعہ کے بعد پڑھے جانے والے جمعہ اور اس کے مقام کا بیان

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ← إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1725

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرُ مِنَ المُختَصَرِ · حديث 1726

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَا غَرَبَتْ عَلَى يَوْمٍ خَيْرٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، هَدَانَا اللَّهُ لَهُ، وَضَلَّ النَّاسُ عَنْهُ، وَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، فَهُوَ لَنَا، وَالْيَهُودُ يَوْمُ السَّبْتِ، وَالنَّصَارَى يَوْمُ الْأَحَدِ، إِنَّ فِيهِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. جِمَاعُ أَبْوَابِ فَضْلِ الْجُمُعَةِ

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جمعہ کے دن سے بہتر کسی اور دن پر سورج نہ طلوع ہوا ہے نہ غروب ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی ہدایت نصیب فرمائی اور لوگ اس سے بھٹک گئے ۔ چنانچہ لوگ اس بارے میں ہمارے پیچھے پیچھے ہیں اور جمعہ کے دن ہمارے لیے ہے۔ یہود کےلیے ہفتہ اور عیسائیں کےلیے اتوار ہے ۔ اس ( جمعہ کے ) دن میں ایک ایسی گھڑی بھی ہے کہ جو مسلمان شخص نماز کی حالت میں اسے پاکر اللہ تعالیٰ سے جو بھی مانگتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے وہی عطا کر دیتے ہیں ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › The abbreviated collection book from the abbreviated · Hadith 1726

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1727

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، نَا الْعَلَاءُ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ -يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ-، نَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ بُنْدَارٌ: عَنِ الْعَلَاءِ، وَقَالَ أَبُو مُوسَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثَنَا يَزِيدُ -يَعْنِي [ابْنَ] زُرَيْع- نَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ بِيَوْمٍ، وَلَا تَغْرُبُ أَفْضَلَ أَوْ أَعْظَمَ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ لَا تَفْزَعُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ إِلَّا هَذَيْنِ الثَّقَلَيْنِ: الْجِنَّ وَالْإِنْسَ". قَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَابْنُ بَزِيعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ: "عَلَى يَوْمٍ أَفْضَلَ"، وَلَمْ يَشُكُّوا.

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"سورج کسی ایسے دن میں نہ طلوع ہوتا ہے نہ غروب کہ جو دن جمعہ کے دن سے افضل یا اعظم ہو ۔ اور جنوں اور انسانوں کے سوا ہر جانور جمعہ کے دن خوفزدہ ہوتا ہے اور ڈرتا ہے ۔ "جناب علی بن حجر ، ابن بزیع او ر محمد بن ولید کی روایت میں ہے :"کسی افضل دن پر "اور انہوں نے "افضل "یا"اعظم"کے الفاظ میں شک نہیں کیا۔(بلکہ صرف افضل کا لفظ بیان کیا ہے ۔)"

شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ الْمَدَنِيَّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1727

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1728

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: غَلِطْنَا فِي إِخْرَاجِ الْحَدِيثِ، لِأَنَّ هَذَا مُرْسَلٌ. مُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَبُوهُ أَبُو عُثْمَانَ التَّبَّانُ رَوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَارًا سَمِعَهَا مِنْهُ.

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:"جمعہ کا دن باقی تمام دنوں کا سردار ہے ۔ اسی دن آدم ؑ پیدا کیے گئے، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ ہی کے دن قائم ہوگی ۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "اس حدیث کو روایت کرنے میں ہم سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ یہ مرسل روایت ہے"جناب موسیٰ بن ابی عثمان نے حضرت ابوہریرہؓ سے روایات نہیں سنیں ۔ جبکہ ان کے والد گرامی جناب ابو عثمان تبان نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنی ہوئی روایات بیان کی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ← أَبِيهِ ← وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِیْعُ بْنُ سلیمان المرادی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1728

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1729

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا يعقوب بن ابراهيم الدروقي حدثنا محمد بن مصعب ـ يعني القرقسائي ـ ثنا الأوزاعي عن أبي عمار عن عبد الله بن فروخ عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أدخل الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال أبو بكر : قد اختلفوا في هذه اللفظة في قوله فيه خلق آدم إلى قوله و فيه تقوم الساعة أهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أو عن أبي هريرة عن كعب الأحبار ؟ قد خرجت هذه الأخبار في كتاب الكبير من جعل هذا الكلام رواية من أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و من جعله عن كعب الأحبار و القلب إلى رواية من جعل هذا الكلام عن أبي هريرة عن كعب أميل لأن محمد بن يحيى حدثنا قال : نا محمد بن يوسف : ثنا الأوزاعي عن يحيى عن أبي سلمة عن أبي هريرة : خير يوم تطلع فيه الشمس يوم الجمعة فيه خلق آدم و فيه أسكن الجنة و فيه أخرج منها و فيه تقوم الساعة قال قلت له : أشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : بل شيء حدثناه كعب و هكذا رواه أبان بن يزيد العطار و شيبان بن عبد الرحمن النحوي عن يحيى بن أبي كثير قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لا مرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب قال أبو بكر : و أما قوله : خير يوم طلعت فيه الشمس يوم الجمعة فهو عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك و لامرية فيه و الزيادة التي بعدها : فيه خلق آدم إلى آخره هذا الذي اختلفوا فيه فقال بعضهم عن النبي صلى الله عليه و سلم و قال بعضهم : عن كعب

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہےکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:"جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔ اسی دن حضرت آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انہیں جنت سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قاتم ہوگی۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں :"اس روایت کے الفاظ"اسی دن آدمی ؑ کو پیدا کیا گیا "سے لے کر "اسی دن آدمؑ کو پیدا کیا گیا"سے لے کر "اسی دن قیامت قائم ہوگی"تک کے الفاظ میں علمائے کرام کا اختلاف ہے کہ کیا یہ الفاظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں یا جناب کعب الاحبار ؒ سے روایت کیے ہیں ؟ میں نے کتاب الکبیر میں یہ روایات بیان کر دی ہیں کہ کن راویوں نے یہ کلام حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے نبی کریمﷺ سے روایت کیا ہے اور کن راویوں نے اسے جناب کعب الاحبار کا کلام بنا کر روایت کیا ہے ۔ جبکہ میرا دل ان راویوں کی روایت کی طر ف زیادہ مائل ہے جنہوں نے اسے حضرت ابوہریرہؓ کے واسطے سے جناب کعب ؓ کے کلام کے طور پر بیان کیا ہے ۔ کیونکہ ہمیں جناب محمد بن یحییٰ نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہؓ سے بیان کیا کہ "بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوا ہے وہ جمعہ کا دن ہے اسی دن حضرت آدم ؑ پیدا ہوئے اور اسی دن انہیں جنت میں بسایا گیا اور اسی دن انہیں وہاں سے نکالا گیا اور اسی دن قیامت قائم ہوگی ۔"جناب ابوسلمہ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہؓ سے پوچھا : "کیا آپ نے یہ چیز رسول اللہﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: ( نہیں ) بلکہ یہ چیز ہمیں کعب ؓ نے بیان کی ہے ۔ اسی طرح یہ روایت جناب ابان بن یزید عطار اور سیطان بن عبدالرحمان نحوی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کی ہے ۔ امام ابوبکرؒ بیان کرتے ہیں : حدیث کے یہ الفاظ "جمعہ کا دن وہ بہترین دن ہے جس میں سورج طلوع ہوا ہے ۔"تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ الفا ظ حضرت ابوہریرہؓ نے رسول اللہﷺ سے بیان کیے ہیں اور اس کے بعد والے الفاظ "اسی دن حضرت آدمؑ پیدا کیے گئے " سے لے کر آخر تک۔ تو ان میں علمائے کرام کا اختلاف ہے ۔ کچھ کے نزدیک یہ نبی کریمﷺ سے مروی ہیں اور بعض دوسرے علماء کے نزدیک یہ جناب کعب ؓ سے مروی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَرُّوخَ ← أَبِي عَمَّارٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← محمد بن مصعب يعني القرقسائي ← يعقوب بن إبراهيم الدروقي، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1729

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ فَضلِ الجُمُعَۃِ · حديث 1730

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمْنَانِيُّ، ثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ؛ ح وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ثَنَا الْهَيْثَمُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مَعْيدٍ -وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ- عَنْ طَاوُوسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْئَتِهَا، وَيَبْعَثُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا، تُضِيءُ لَهُمْ، يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا، وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلَانِ مَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا، حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّةَ، لَا يُخَالِطُهُمُ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ". هَذَا حَدِيثُ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى.

"حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ، دنوں کو ان کی اصلی حالت پر اٹھائے گا۔ اور جمعہ کا دن جگمگاتا ہوا روشن بنا کر اٹھایا جائے گا۔ جمعہ والے لوگ اسے اس طرح گھیرے ہوں گے جیسے دلہن ( عزیز واقارب کے جھرمٹ میں) دولہا کے سپرد کی جاتی ہے ۔ جمعہ ان کےلیے روشنی کرے گا اور وہ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے۔ ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے ، ان کی خوشبو اور مہک کستوری کی طرح پھیل رہی ہوگی ۔ وہ کافور کے پہاڑوں میں داخل ہو رہے ہوں گے ۔ انہیں جن اور انسان دیکھ رہے ہوں گے ( ان کے بلند مقام ومرتبے پر ) تعجب وحیرت کی وجہ سے وہ اپنی نظریں نہیں جھکائیں گے ۔ حتیٰ کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے ۔ ان کے ساتھ کوئی اور شخص شریک نہیں ہوگا ، صرف اجرو ثواب کی نیت سے اذانیں دینے والے موذن ان کے ساتھ شریک ہوں گے ۔ "یہ جناب زکریا بن یحییٰ کی حدیث ہے ۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَاوُوسٍ، ← أَبُو مَعْيدٍ -وَهُوَ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ- ← الْهَيْثَمُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← وَحَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ السِّمْنَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Friday Book › Collections are the gates of the preference of the congregation · Hadith 1730

chevron_left Previous
12345…14
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals