Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1812

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نَا يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْغُسْلَ، أَوْ تَطَهَّرَ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، فَلَبِسَ مِنْ خَيْرِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ طِيبًا أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ، وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى". قَالَ بُنْدَارٌ: أَحْفَظُهُ مِنْ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ بُنْدَارًا فِي هَذَا، وَالْجَوَادُ قَدْ يَعْثُرُ (1) فِي بَعْضِ الْأَوْقَاتِ.

"حضرت ابوذر ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا تو بہترین غسل کیا۔ یا اس نے وضو کیا تو اچھا وضو کیا ، پھر اپنا عمدہ لباس پہنا اور اللہ کی عطا کی ہوئی خوشبو لگائی یا اپنے گھر والوں کا (تیار کر دہ ) تیل لگایا اور اس نے دو ( بیٹھنے والوں کے درمیان جدائی نہ ڈالی تو اس کے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔" جنا ب بندار کہتے ہیں : میں نے یہ روایت استاد محترم کے منہ سے ان کے با پ کے واسطے سے سنی ہے ۔ امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ کسی راوی نےجناب بندار کی اس روایت میں متابعت کی ہو۔ اور ماہر شاہسوا ر بھی کبھی کوتاہی کر جاتا ہے ۔"

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَدِيعَةَ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَى -يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ- ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1812

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1813

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ [حَدَّثَنَا يَزِيدُ]-يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ (2) - ثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ (3)، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يَحْضُرُ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ يَحْضُرُهَا يَلْغُو، فَهُوَ حَظُّهُ مِنْهَا. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِدُعَاءٍ، فَهُوَ رَجُلٌ دَعَا اللَّهَ؛ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَعْطَاهُ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُ. وَرَجُلٌ حَضَرَهَا بِوَقَارٍ وَإِنْصَاتٍ وَسُكُونٍ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رَقَبَةَ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُؤْذِ أَحَدًا، فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ إِلَى الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، لِأَنَّ اللَّهَ يَقُولُ: (مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا) [الأنعام: 10] ".

"حضرت عمر وبن عاص ؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جمعہ کےلیے تین قسم کے لوگ حاضر ہوتے ہیں : ایک وہ شخص ہے جو جمعہ کےلیے حاضر ہوتا ہے اور لغو کام کرتا ہے تو اس جمعہ سے اس کا یہی حصہ ہے اور دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کےلیے حاضر ہوتا ہے ۔ لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اسے عطا کر دے اور اگر چاہے تو عطا نہ کرے ۔ تیسرا وہ شخص ہے جو وقار کے ساتھ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے ۔ خاموش اور پرسکون رہتا ہے ، کسی مسلمان شخص کی گردن نہیں پھلانگتا اور نہ کسی کو تکلیف دیتا ہے تو وہ اس کےلیے اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہوں اور مزید تین دن کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:(جَا ءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِھَا)(الانعام:160) "جو شخص ایک نیکی لائے گا تو اسے دن گنا اجر دیا جائے گا۔"

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حَبِيبٍ الْمُعَلِّمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1813

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1814

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ".

"حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: پانچ نمازین اور جمعہ دوسرے جمعہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے ۔ جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1814

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1815

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ [191 - أ] ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ- عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الْحِبْوَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.

"حضرت معاذ بن انس جہنمی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے جمعہ والے دن گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع کیا ہے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو ۔"

أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← أَبِي مَرْحُومٍ -وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْمُونٍ- ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أ] ← أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1815

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1816

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسَاجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهَا الْأَشْعَارُ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهَا الضَّالَّةُ، وَعَنِ الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ.

"حضرت عمر و بن شعیب ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے مساجد میں خریدو فروخت کرنے ، ان میں شعر پڑھنے ، گم شدہ چیز کا علان کرنے اور جمعہ کے دن نماز جمعہ سے پہلے حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع کیا ہے ۔"

الْحِلَقِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ. ← الشِّرَاءِ وَالْبَيْعِ فِي الْمَسَاجِدِ، وَأَنْ تُنْشَدَ فِيهَا الْأَشْعَارُ، وَأَنْ يُنْشَدَ فِيهَا الضَّالَّةُ، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1816

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1817

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، نَا مُعَاوِيَةُ -يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ- ثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا تَطَهَّرَ الرَّجُلُ فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَلَمْ يَلْغُ، وَلَمْ يَجْهَلْ حَتَّى يَنْصَرِفَ الْإِمَامُ، كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ".

"حضرت ابوسعید ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب مسلمان آدمی اچھی طرح طہارت حاصل کر کے جمعہ کےلیے آتا ہے پھر کوئی فضلول حرکت نہیں کرتا اور نہ کوئی جہالت والا کام کر تا ہے حتیٰ کہ امام نماز سے فارغ ہو جاتا ہے تو اس کا یہ عمل اس جمعہ اور آئندہ جمعہ کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔"

نَبِيَّ اللَّهِ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عَطِيَّةَ، ← فِرَاسٍ، ← شَيْبَانَ ← معاوية يعني ابن هشام ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1817

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1818

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَدَنَا وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ والے دن خوب اچھا وضو کیا ۔ پھر وہ جمعہ کے لیے آیا تو امام کے قریب ہو کر بیٹھا ، اس نے خاموشی اختیارکی اور خوب غور سے خطبہ سنا تو اس کے اس جمعہ اور دوسرے جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور جس نے کنکریوں کو چھوا ( ان کے ساتھ کھیلا ) تو اس نے لغو کام کیا۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1818

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1819

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ؛ ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا أَبُو خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ؛ ح وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ؛ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ؛ وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا، ثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي مَجْلِسِهِ؛ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ". هَذَا حَدِيثُ الْأَشَجِّ. وَفِي حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی شخص کو جمعہ والے دن اپنی جگہ پر اونگھ آجائے تو وہ اپنی وہ جگہ تبدیل کر لے ۔ "یہ جناب اشج کی روایت ہے ۔ اور یزید بن ہارون کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : "میں نے رسول اللہﷺ سے سنا۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدٌ؛ وَثَنَا مُحَمَّدٌ أَيْضًا، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← وَثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبُو خَالِدٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، جَمِيعًا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1819

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1820

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا يَزْعُمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يُقِمْ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ فِيهِ". فَقُلْتُ أَنَا لَهُ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَغَيْرِهِ. قَالَ: وَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُومُ لَهُ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ، فَلَا يَجْلِسُ فِيهِ.

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خو د ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے ۔ جناب نافع کہتے ہیں : میں نے عرض کی: یہ حکم جمعہ کے دن ہے؟ انہوں نے جوا ب دیا : جمعہ کے دن اور جمعہ کے علاوہ دنوں میں بھی ( یہی حکم ہے ) ۔ جناب نافع کہتے ہیں : اگر کوئی شخص حضرت ابن عمر ؓ کےلیے اپنی جگہ سے اٹھ جاتا تو وہ اس جگہ پر نہیں بیٹھتے تھے ۔"

نَافِعًا يَزْعُمُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1820

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1821

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ؛ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- وَثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا خَالِدٌ -يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ؛ وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نَا جَرِيرٌ؛ ح وَثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَا: ثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَرْجِعُ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ". زَادَ يُوسُفُ: ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ مِنْ مَجْلِسِهِ فَجَلَسْتُ فِيهِ، فَعَادَ فَأَقَامَنِي أَبُو صَالِحٍ.

اس بات کا بیان کہ اگر کوئی شخص جمعہ والے دن اپنی جگہ سے اٹھ جائے تو واپس آجائے جبکہ اس کی جگہ پر کوئی دوسرا شخص بیٹھ چکا ہو تو وہ شخص بیٹھنے والے کی نسبت اس جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← وَثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← جَرِيرٌ ← سُهَيْلٍ؛ وَثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ← خَالِدٌ -يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ- كُلُّهُمْ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ -يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ- وَثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← وحدثنا أحمد بن عبدة ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1821

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1822

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، [191 - ب] عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَخْلُفُهُ، وَلَكِنْ تَوَسَّعُوا، وَتَفَسَّحُوا".

"حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔ لیکن تم وسعت اور کشادگی پیدا کر لیا کرو۔"

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ، ب] ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1822

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1823

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا فَجَاءَتْ عِيرٌ مِنَ الشَّامِ فَانْفَتَلَ النَّاسُ إِلَيْهَا حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ الَّتِي فِي الْجُمُعَةِ: (وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا) [الجمعه-11]. جِمَاعُ أَبْوَابِ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ

"حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جب ایک تجارتی قافلہ شام سے آگیا ۔ تو لوگ ( آپ کو چھوڑ کر ) اس کی طرف چلے گئے حتی کہ صرف بارہ آدمی باقی رہ گئے تو سورۂ جمعہ کی یہ آیت نازل ہوئی :(وَإِذَا رَأَوْاتِجَارَۃً أَوْ لَھَوًا انْفَضَّوْا إِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآ ئِمًا)(الحمعۃ:۱۱)"اور جب وہ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں ۔"

جَابِرٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1823

chevron_left Previous
1…11121314
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals