صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1801
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، نَا زَيْدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ- عَنْ حُسَيْنٍ -وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ- حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ، فَأَخَذَهُمَا، فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، (إِنَّمَا أَمْوَالَكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ) [التغابن: 15] رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ". ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.
"حضرت بریدہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو حضرت حسن وحسین ؓ آگئے ان دونوں نے سرخ رنگ کی قیمصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ کپڑے میں پاؤں الجھنے سے کبھی گر جاتے اور پھر اٹھ جاتے تو نبی کریمﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور انہیں اٹھایا ، پھر انہیں اپنے سامنے بیٹھالیا اور فرمایا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا باعث ہیں ۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا۔"پھر آپ نے اپنا خطبہ شروع کر دیا۔"
أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ ← زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1801
