Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1801

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، نَا زَيْدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ- عَنْ حُسَيْنٍ -وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ- حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَأَقْبَلَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ، عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ وَيَقُومَانِ، فَنَزَلَ، فَأَخَذَهُمَا، فَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: "صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، (إِنَّمَا أَمْوَالَكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ) [التغابن: 15] رَأَيْتُ هَذَيْنِ فَلَمْ أَصْبِرْ". ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.

"حضرت بریدہ ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو حضرت حسن وحسین ؓ آگئے ان دونوں نے سرخ رنگ کی قیمصیں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ کپڑے میں پاؤں الجھنے سے کبھی گر جاتے اور پھر اٹھ جاتے تو نبی کریمﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور انہیں اٹھایا ، پھر انہیں اپنے سامنے بیٹھالیا اور فرمایا: اللہ کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا باعث ہیں ۔ میں نے ان دونوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کر سکا۔"پھر آپ نے اپنا خطبہ شروع کر دیا۔"

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٍ وَهُوَ ابْنُ وَاقِدٍ ← زَيْدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحُبَابِ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1801

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1802

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَا: ثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: "فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى نَزَلْتُ فَحَمَلْتُهُمَا". وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ أَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ.

"حضرت بریدہ ؓ بیا ن کرتے ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہﷺ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ مذکورہ بالا روایت کی طرف بیان کیا۔ اور آپ نے فرمایا:" تو میں صبر نہ کر سکا حتی کہ میں منبر سے اترا اور ان دونوں کو اٹھا لیا۔"اور یہ الفاظ روایت نہیں کیے:"پھر آپ نے دوبارہ خطبہ شروع کر دیا۔"

بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، بِمِثْلِهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، ← أَبُو تُمَيْلَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1802

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1803

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فَاغْتَسَلَ الرَّجُلُ، وَغَسَلَ رَأْسَهُ، ثُمَّ تَطَيَّبَ مِنْ أَطْيَبِ طِيبِهِ، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، ثُمَّ اسْتَمَعَ لِلْإِمَامِ، غُفِرَ لَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".

"حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب جمعہ کے دن ہو تو آدمی غسل کرے اور اپنا سر دھوئے پھر اپنی بہترین خوشبو لگائے اور پنا عمدہ لباس پہنے پھر نماز پڑھنے کےلیے جائے اور دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہ ڈالے ، پھر امام کی بات غور سے سنے تو اس جمعہ اور گزشتہ جمعہ کے درمیانی گناہ اور مزید تین دن کے اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔"

أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1803

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1804

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا حَبَّانُ، ثَنَا وُهَيْبٌ، ثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ [190 - أ]: "إِذَا تَكَلَّمْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ وَأَلْغَيْتَ" يَعْنِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ.

"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :"جب تم نے جمعہ والے دن گفتگو کی جبکہ امام خطبہ دے رہا تھا تو تم نے لغو کام کیا اور اپنا اجر ضائع کر لیا۔"

أ]: "إِذَا تَكَلَّمْتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَدْ لَغَوْتَ وَأَلْغَيْتَ" يَعْنِي وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ. ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُهَيْلٍ، ← وُهَيْبٌ، ← حِبَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1804

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1805

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، أَنَّ سَلَامَةَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عُقَيْلٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: ح وَثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ ح وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ -وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ- فَقَدْ لَغَوْتَ". هَذَا لَفْظُ خَبَرِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ. ح وَحَدَّثَنَا الْبُرْسَانِيُّ وَلَمْ يَذْكُرِ الْآخِرُونَ: السَّمَاعَ، قَالَ بَعْضُهُمْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

"حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:"جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہو جاؤ جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا۔"یہ الفاظ عبدالرزاق کی روایت کے ہیں ۔ باقی راویوں نے سماع کا ذکر نہیں کیا ۔ کچھ راویوں نے "قال رسول اللہﷺ"کہا ہے اور کچھ نے "عن النبی ﷺکہا ہے ۔"

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1805

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1806

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِرَجُلٍ -وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ- أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَيْتَ". وَإِنَّمَا هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ الْمَخْزُومِيُّ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ -وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ- فَقَدْ لَغَيْتَ. قَالَ سُفْيَانُ: وَقَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَغَيْتَ، لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هُوَ لَغَوْتَ.

"حضرت ابوہریرہؓ نبی کریمﷺ سے روایت کرتےہیں کہ آپ نے فرمایا"جب ایک شخص نے دوسرے شخص کو کہا: "خاموش ہوجاؤ"جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے بے ہودہ اور لغو کام کیا۔""لَغَیْتَ"حضرت ابوہریرہؓ کی لغت ہے ۔ جناب مخزومی نے یہ الفاظ روایت کیے ہیں:"جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہوجاؤ جمعہ والے دن جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے فضول وبے کار کام کیا ۔ امام سفیان فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہؓ کا "لَغَیْتَ"کہنا، ان کی ذاتی لغت ہے جبکہ اصل لفظ لَغَوْتَہے ۔ ( معنی ایک ہی ہے) ۔

سُفْيَانُ: وَقَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ: لَغَيْتَ، لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هُوَ لَغَوْتَ. ← الْمَخْزُومِيُّ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ: أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ -وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ- فَقَدْ لَغَيْتَ. ← الرَّجُلُ لِرَجُلٍ -وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ- أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَيْتَ". وَإِنَّمَا هِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ. ← «إِذَا ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1806

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1807

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ -وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ- فَجَلَسْتُ قَرِيبًا مِنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَرَأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُورَةَ بَرَاءَةَ، فَقُلْتُ لِأُبَيٍّ: مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ قَالَ: فَتَجَهَّمَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي، ثُمَّ مَكَثْتُ سَاعَةً، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَتَجَهَّمَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي، ثُمَّ مَكَثْتُ سَاعَةً، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَتَجَهَّمَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ لِأُبَيٍّ: سَأَلْتُكَ فَتَجَهَّمْتَنِي وَلَمْ تُكَلِّمْنِي، قَالَ أُبَيُّ: مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَهَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، كُنْتُ بِجَنْبِ أُبَيٍّ، وَأَنْتَ تَقْرَأُ بَرَاءَةَ، فَسَأَلْتُهُ: مَتَى نَزَلَتْ هَذِهِ السُّورَةُ؟ فَتَجَهَّمَنِي وَلَمْ يُكَلِّمْنِي، ثُمَّ قَالَ: مَا لَكَ مِنْ صَلَاتِكَ إِلَّا مَا لَغَوْتَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صَدَقَ أُبَيٌّ".

"حضرت ابوذری ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ والے دن مسجد میں داخل ہوا جبکہ نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں حضرت ابی بن کعب ؓ کے قریب بیٹھ گیا تو نبی کریمﷺ نے سورۂ براء ت ( توبہ) کی تلاوت کی۔ میں نے حضرت ابی سے پوچھا : یہ سورت کب نازل ہوئی ؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ بات نہیں کی۔ پھر کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے سخت اندا ز میں مجھے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ بات نہ کی ۔ پھر میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے ترش روئی کے ساتھ مجھے خاموش کرا دیا اور میرے ساتھ گفتگو نہ کی ۔پھر جب نبی کریمﷺ نے نماز ادا کر لی تو میں نے حضرت ابی سے پوچھا : میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا تو آپ نے مجھے ترش روئی سے خاموش کر ادیا اور مجھے کچھ جواب نہ دیا ۔ تو حضرت ابی نے فرمایا: تمہیں تمہاری نماز کا کچھ اجر نہیں ملا سوائے تمہاری لغو بات کے ( گناہ کے)۔ لہٰذا میں نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ۔"اے اللہ کے نبی ! میں حضرت ابی کے پہلو میں بیٹھا تھا جبکہ آپ سورہ ٔ براءت کی تلاوت کر رہے تھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ سورت کب نازل ہوئی؟ تو انہوں نے مجھے ترش روئی سے خاموش کرا دیا اور کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر کہا: کہ تمہیں تمہاری نماز کا کچھ اجر نہیں ملا سوائے اس لغو بات کے ۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:"ابی نے سچ کہا ہے ۔"

أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← شريك بن عبد الله ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1807

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1808

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: وَثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا بْنِ حَيْوَيْهِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أَخْبَرَنِا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: بِمِثْلِهِ.

"امام صاحب نے ابن ابی مریم کی سند سے مذکورہ بالا کی طرح بیان کیا ہے ۔"

ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: بِمِثْلِهِ. ← وَثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا بْنِ حَيْوَيْهِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1808

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1809

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى -يَعْنِي الْحَنَفِيَّ- ثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ تَلَا آيَةً، فَقَالَ رَجُلٌ -وَهُوَ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ- مَتَى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ؟ فَإِنِّي لَمْ أَسْمَعْهَا إِلَّا السَّاعَةَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ! فَسَكَتَ الرَّجُلُ. ثُمَّ تَلَا آيَةً أُخْرَى، فَقَالَ الرَّجُلُ لِعَبْدِ اللَّهِ مِثْلَ ذَلِكَ. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سُبْحَانَ اللَّهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لِلرَّجُلِ: إِنَّكَ لَمْ تَجْمَعْ مَعَنَا. قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! قَالَ: فَذَهَبَ [إِلَى] النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "صَدَقَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ، صَدَقَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ".

"حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے جب ایک آیت تلاوت کی تو ایک شخص جو حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کےپہلو میں بیٹھا تھا۔ اس نے پوچھا : یہ آیت کب اتری ہے ؟ کیونکہ میں نے تو یہ آیت ابھی ابھی سنی ہے ۔حضرت عبداللہﷺ نے کہا: سبحان اللہ۔ تو ہر شخص خاموش ہوگیا ۔ پھر آپ نے ایک اور آیت تلاوت کی تو اس شخص نے حضرت عبداللہ سے اسی طرح سوال کیا۔ تو حضرت عبداللہ نے پھر سبحان اللہ کہہ کر اسے خاموش کر ادیا ۔ پھر جب رسول اللہﷺ نے نماز مکمل کر لی تو حضرت ابن مسعود ؓ نے اس شخص سے کہا: تم نے ہمارے ساتھ جمعہ اد ا نہیں کیا۔"تو اس شخص نے حیرت سے سبحان اللہ کہا پھر وہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سارا واقعہ بتایا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ابن ام عبد نے درست کہا ہے ۔ ابن ام عبد نے صیح کہا ہے ۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي الْحَنَفِيَّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1809

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1810

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ مَسَّ مِنْ طِيبِ امْرَأَتِهِ إِنْ كَانَ لَهَا، وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ، ثُمَّ لَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، وَلَمْ يَلْغُ عِنْدَ الْمَوْعِظَةِ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهُمَا، وَمَنْ لَغَا أَوْ تَخَطَّى كَانَتْ لَهُ ظُهْرًا".

"حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا پھر اس نے اپنی بیوی کی خوشبو میں سے خوشبو لگائی اگر اس کے پاس خوشبو موجود ہو، اور اپنا بہترین لباس پہنا پھر ( مسجد میں آیا تو ) لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور دوران خطبہ اس نے کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے یہ اعمال دو جمعوں کے درمیانی گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے ۔اور جس شخص نے لغو کا م کیا یا اس نے گردنیں پھلانگیں تو اسے ظہر کی نماز کا اجر ملے گا ۔"

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← أُسَامَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1810

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1810

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ السَّائِلِ عَنِ السَّاعَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ: أَنِ اسْكُتْ.

امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "شریک بن عبداللہ کی حضرت انس ؓ سے روایت میں مذکورہ قیامت کے بارے میں سوال کرنے والے کے قصے میں ہے : "تو لوگوں نے اسے اشارہ کیا کہ خاموش ہو جاؤ۔"

السَّاعَةِ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ: أَنِ اسْكُتْ. ← أَنَسٍ فِي قِصَّةِ السَّائِلِ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ،

Hadith 1810

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1811

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ- عَنْ مُعَاوِيَةَ -وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ- عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَمَا زَالَ يُحَدِّثُنَا حَتَّى خَرَجَ الْإِمَامُ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لِي: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَقَالَ لَهُ: "اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي الْخُطْبَةِ أَيْضًا أَبْوَابٌ قَدْ كُنْتُ خَرَّجْتُهَا فِي كِتَابِ الْعِيدَيْنِ.

"جناب زاہریہ بیان کرتےہیں کہ میں جمعہ کے دن حضرت عبداللہ بن بسر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا تو وہ امام کے تشریف لانے تک مسلسل ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہے ۔ تو ایک شخص آیا، اس نے لوگوں کی گردنیں پھلانگنا شروع کر دیا تو انہوں نے مجھے فرمایا۔"ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے اسے کہا:"بیٹھ جاؤ، تم نے ( دوسروں کو) تکلیف دی ہے اور دیر سے بھی آئے ہو ۔ "امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : "خطبہ کے متعلق اور ابواب بھی ہیں جنہیں میں کتاب العیدین میں بیان کر چکا ہوں ۔"

أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ-، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ ھَاشِمٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1811

chevron_left Previous
1…1011121314
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals