صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1789
أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قَالَا: ثَنَا خَالِدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- ثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ قَالَ: قِيلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحَطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ. قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً. قَالَ: فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الْمَنْزِلِ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ، فَدَامَتْ جُمُعَةً. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَاحْتُبِسَتِ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ بِيَدِهِ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا" فَكُشِطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ.
"جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا: کیا نبی کریمﷺ ( دعا کرتے وقت ) اپنے ہاتھ بلند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا :"جمعہ والے دن آپ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! بارش بند ہوچکی ہے اور زمین بنجر ہوگئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے بارش کی دعا کی حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور ہم نے آسمانوں پر کوئی بدلی نہ دیکھی تھی ۔ پھر جیسے ہی ہم نے نماز مکمل کی تو مسجد سے بلکل قریب رہنے والے شخص کو بھی شدید بارش کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے میں فکر مندی اور تشویش کا سامنا کر نا پڑا ۔ پھر بار ش ایک ہفتہ جاری رہی۔ پھر صحابہ کرم نے عرض کی : اے للہ کے رسول ! گھر منہدم ہوگئے ہیں اور قافلے رک گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہﷺ مسکرا دیے ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ ( اٹھا کر ) دعا کی : "اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا دے اور ہم پر بارش نہ برسا ۔"چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گئے ۔"جبکہ ابو موسیٰ کی روایت میں "قحط المطر " بار ش نہیں ہورہی"کے الفا ظ ہیں ۔"
قِيلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: ← سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- ← أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،
Hadith 1789
