Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1789

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، قَالَا: ثَنَا خَالِدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- ثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ قَالَ: قِيلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَحَطَ الْمَطَرُ، وَأَجْدَبَتِ الْأَرْضُ، وَهَلَكَ الْمَالُ. قَالَ: فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَاسْتَسْقَى، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً. قَالَ: فَمَا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ حَتَّى إِنَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الْمَنْزِلِ لَيُهِمُّهُ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ مِنْ شِدَّةِ الْمَطَرِ، فَدَامَتْ جُمُعَةً. فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ، وَاحْتُبِسَتِ الرُّكْبَانُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ بِيَدِهِ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا، وَلَا عَلَيْنَا" فَكُشِطَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، غَيْرَ أَنَّ أَبَا مُوسَى قَالَ: قَحَطَ الْمَطَرُ.

"جناب حمید بیان کرتے ہیں کہ حضرت انس ؓ سے سوال کیا گیا: کیا نبی کریمﷺ ( دعا کرتے وقت ) اپنے ہاتھ بلند کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا :"جمعہ والے دن آپ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! بارش بند ہوچکی ہے اور زمین بنجر ہوگئی ہے اور مال مویشی ہلاک ہوگئے ہیں تو آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے بارش کی دعا کی حتیٰ کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی اور ہم نے آسمانوں پر کوئی بدلی نہ دیکھی تھی ۔ پھر جیسے ہی ہم نے نماز مکمل کی تو مسجد سے بلکل قریب رہنے والے شخص کو بھی شدید بارش کی وجہ سے اپنے گھر والوں کے پاس لوٹنے میں فکر مندی اور تشویش کا سامنا کر نا پڑا ۔ پھر بار ش ایک ہفتہ جاری رہی۔ پھر صحابہ کرم نے عرض کی : اے للہ کے رسول ! گھر منہدم ہوگئے ہیں اور قافلے رک گئے ہیں ۔ اس پر رسول اللہﷺ مسکرا دیے ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ ( اٹھا کر ) دعا کی : "اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا دے اور ہم پر بارش نہ برسا ۔"چنانچہ مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گئے ۔"جبکہ ابو موسیٰ کی روایت میں "قحط المطر " بار ش نہیں ہورہی"کے الفا ظ ہیں ۔"

قِيلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: ← سُئِلَ أَنَسٌ هَلْ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ؟ ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ -وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ- ← أَنَسٍ؛ وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الدِّرْهَمِيُّ، ← حُمَيْدٍ ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1789

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1790

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ: "فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -".

"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "حمید کی حضرت انس ؓ سے مروی حدیث میں ہے : "تو رسول اللہﷺ مسکرا دئیے۔"

أَنَسٍ: "فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ حُمَيْدٍ

Hadith 1790

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1791

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، نَا يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، ثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ أَوْ عِنْدَ شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، فَإِنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ.

"حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں کہ نبی کریمﷺ اپنی کسی دعا میں یا کسی دعا کے کرتے وقت ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے بار ش کی دعا کے ۔ آپ ( بار ش کی دعا کرتے وقت ) اس قدر ہاتھ بلند کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگتی ۔"

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ -يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ- ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1791

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1792

قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَيْهِ، قَدْ أَمْلَيْتُهُ قَبْلُ فِي خَبَرِ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ، يُرِيدُ إِلَّا عِنْدَ مَسْأَلَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَسْقِيَهُمْ، وَعِنْدَ مَسْأَلَتِهِ بِحَبْسِ الْمَطَرِ عَنْهُمْ. وَقَدْ أَوْقَعَ اسْمَ الِاسْتِسْقَاءِ عَلَى الْمَعْنَيَيْنِ جَمِيعًا أَحَدُهُمَا مَسْأَلَتُهُ أَنْ يَسْقِيَهُمْ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي أَنْ يَحْبِسَ الْمَطَرُ عَنْهُمْ. وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلْتُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدْ أَخْبَرَ فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْهُ أَنَّهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فِي الْخُطْبَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حِينَ سَأَلَ اللَّهَ أَنْ يُغِيثَهُمْ، وَكَذَلِكَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ قَالَ: "اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا" فَهَذِهِ اللَّفْظَةُ أَيْضًا اسْتِسْقَاءٌ إِلَّا أَنَّهُ سَأَلَ اللَّهَ أَنْ يَحْبِسَ الْمَطَرُ عَنِ الْمَنَازِلِ وَالْبُيُوتِ، وَتَكُونَ السُّقْيَا عَلَى الْجِبَالِ وَالْآكَامِ وَالْأَوْدِيَةِ.

"امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : "شریک بن عبداللہ کی حضرت انس ؓ سے روایت میں ہے :"تو رسول اللہﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ۔" میں اس سے پہلے حضرت قتادہ کی حضرت انس ؓ سے روایت املا کرا چکا ہوں کہ نبی کریمﷺ بار ش کی دعا کے علاوہ اپنی کسی دعا میں ہاتھ بلند نہیں کرتے تھے ۔" ان کی مراد یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے وقت اور بارش رکنے کی دعا کرتے وقت اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے ۔ انہوں نے دونوں معنوں کےلیے "استقاء" کا اسم استعمال کیا ہے ، جبکہ ایک مرتبہ بارش طلب کرنے کی دعا کی ہے اور دوسری مرتبہ بارش رکنے کی دعا کی ہے ۔ میری اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل حضرت انس ؓ کی وہ حدیث ہے جسے شریک بن عبداللہ نے بیان کیا ہے کہ نبی کریمﷺ نے جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے دوران اپنے ہاتھ بلند کیے جبکہ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کی تھی ۔ اسی طرح آپ نے اس وقت بھی ہاتھ اٹھائے تھے جب آپ نے یہ دعا کی تھی:" اے اللہ! ہمارے ارد گرد بارش برسا ہم پر بارش نہ برسا ۔""

أَنَسٍ، ← أَبُو بَكْرٍ: فِي خَبَرِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Hadith 1792

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1793

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، قَالَ: خَطَبَ بِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَدْعُو، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيَدَيْنِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَمَا يَقُولُ إِلَّا هَكَذَا، يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ. هَذَا حَدِيثُ جَرِيرٍ. وَفِي حَدِيثِ هُشَيْمٍ: شَهِدْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ [189 - أ] الثَّقَفِيَّ فِي يَوْمِ عِيدٍ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُنَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، وَزَادَ: وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَّابَةِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: رَوَاهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ عَنْ حُصَيْنٍ، فَقَالَا: رَأَى بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

"جناب عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ بشر بن مروان نے خطبہ دیا اور ( خطبہ کے دوران ) وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہا تھا تو حضرت عمارہ نے کہا:"اللہ ان دونوں ہاتھوں کا ستیا ناس کرے ، میں نے رسول اللہﷺ کو منبر پر دیکھا آپ ﷺ صرف اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے ۔"یہ جناب جرید کی حدیث ہے ۔ جناب ہشیم کی روایت میں ہے :"میں حضرت عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ کے پاس عید والے دن حاضر ہوا جبکہ بشر بن مروان ہمیں خطبہ دے رہا تھا تو اس نے دعا کےلیے دونوں ہاتھ بلند کیے ۔"اور یہ اضافہ بیان کیا ہشیم نے شہاد کی انگلی سے اشارہ کیا ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں :"امام شعبہ اور ثوری نے حصین سے یہ الفاظ روایت کیے ہیں کہ انہوں نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن منبر پر دیکھا۔"امام ابوبکر ؒ نے امام شعبہ اور سفیان ثوری ؒ کی روایت کی سند بیان کی ہے ۔"

عمارة بن رويبة الثقفي ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمٌ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← حُصَيْنٍ ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1793

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1794

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، نَا أَبُو دَاوُدَ، نَا شُعْبَةُ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ جَمِيعًا عَنْ حُصَيْنٍ.

امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : "میں حضرت سہل بن سعد ؓ کی روایت کتاب العیدین میں لکھوا چکا ہوں ۔"

حُصَيْنٍ ← سُفْيَانَ، جَمِيعًا ← وَكِيعٌ، ← وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1794

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1795

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، ثَنَا خَالِدٌ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؛ أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، فَقَرَأَ (ص)، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةَ، نَزَّلَ فَسَجَدَ، وَسَجَدْنَا، وَقَرَأَ بِهَا مَرَّةً أُخْرَى فَلَمَّا بَلَغَ السَّجْدَةِ تَيَسَّرْنَا لِلسُّجُودِ، فَلَمَّا رَآنَا، قَالَ: "إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنْ أَرَاكُمْ قَدِ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ"، فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَدْخَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ بَيْنَ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ وَبَيْنَ عِيَاضٍ. وَإِسْحَاقَ مِمَّنْ لَا يَحْتَجُّ أَصْحَابُنَا بِحَدِيثِهِ، وَأَحْسَبُ أَنَّهُ غَلِطَ فِي إِدْخَالِهِ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ (1).

"حضرت ابو سعید ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا تو سورۂ ص کی تلاوت کی ۔ پھر جب سجدے والی آیت پڑھی تو آپ منبر سے اتر ے اور سجدہ کیا تو ہم نے بھی سجدہ کیا ۔ پھر دوبارہ اس سورت کی تلاوت کی تو جب سجدہ والی آیت پر پہنچے تو ہم سجدے کے لیے تیار ہوئے ۔ جب آپ نے ہمیں ( سجدے کےلے تیار ) دیکھا تو فرمایا : یہ تو ایک نبی کی توبہ کا ذکر ہے لیکن میں تمہیں سجدے کےلےی تیار دیکھا رہا وہں ۔ لہٰذا ٓپ نیچے تشریف لائے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا۔" امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : " ابن وہب کے کسی شاگرد نے اس حدیث کو ابن وہب سے عمرو بن حارث کی سند سے بیان کرتے وقت سعید بن ابی ہلال اور عیاض کے درمیان اسحاق بن عبداللہ ابوفروہ کا اضافہ کر دیا ہے ۔ جبکہ ہمارے اصحاب اسحاق کی حدیث کو دلیل وحجت نہیں بناتے ۔ اور میرے خیال میں اس نے اسحاق بن عبداللہ کو اس سند میں داخل کر کے غلطی کی ہے ۔"

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ← خَالِدٍ -وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ- ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1795

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1796

وَأَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمٍ السُّلَمِيُّ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا أَبُو بَكْرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، نَا شَرِيكٌ (1) ... عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَتَى السَّاعَةُ؟ فَأَشَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ أَنِ اسْكُتْ، فَسَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ: أَنِ اسْكُتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الثَّالِثَةِ: "وَيْحَكَ مَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ " قَالَ: حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: "إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ". قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً، ثُمَّ مَرَّ غُلَامٌ شَنَئِيٌّ قَالَ أَنَسٌ: أَقُولُ أَنَا: هُوَ مِنْ أَقْرَانِي قَدِ احْتَلَمَ، أَوْ نَاهَزَ -فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ " قَالَ: هَا هُوَ ذَا، قَالَ: "إِنْ أَكْمَلَ هَذَا الْغُلَامُ عُمُرَهُ، فَلَنْ يَمُوتَ حَتَّى يَرَى أَشْرَاطَهَا".

"حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ "منبر پر جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول ! قیامت کب آئے گی ؟ تو صحابہ کرام نے اسے ارشاد کیا کہ خاموش ہوجاؤ۔ تو اس نے تین بار آپ سے یہی سوال کیا ۔ ہر مرتبہ صحابہ کرام اسے اشارہ کرتے کہ خاموش ہوجاؤ۔ پھر رسول اللہﷺ نے تیسری مرتبہ سوال کرنے پر فرمایا: تیرا بھلا ہو تم نے قیامت کے لیے کیا تیار ی کی ہے ؟"اللہ اور اس کے رسول کی محبت ۔"آپ نے فرمایا: یقیناً تم اسی کے ساتھی ہوگے جسے سے تمہیں محبت ہے ۔"پھر رسول اللہﷺ کچھ دیر خاموش رہے ۔ پھر ایک نوجوان لڑکا گزرا ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ وہ میرا ہم عمر تھا۔ وہ بالغ ہوچکا تھا یا بلوغت کے قریب تھا۔ تو نبی کریمﷺ نے فرمایا:قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے کہا:"میں یہاں موجود ہوں ۔"آپ نے فرمایا:"اگر اس لڑکے نے اپنی عمر مکمل کر لی تو وہ قیامت کی علامت دیکھے بغیر ہرگز فوت نہیں ہوگا۔"

اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← الْأُسْتَاذُ الْإِمَامُ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَحْمَدَ، ← الشَّيْخُ الْفَقِيهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْمُسْلِمِ السُّلَمِيُّ،

Hadith 1796

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1797

نَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، نَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَقَالَ: "يَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، أَلَا وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةَ مَلَكٍ". قَالَ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي.

"حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ منورہ آیا تو نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا: "تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والون کا بہترین شخص داخل ہوگا، آگاہ رہو اس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہوگا۔"حضرت جریر فرماتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان اور نعمت پر اس کا شکر اد اکیا۔"

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ ← يُونُسُ بْنُ إِسْحَاقَ ← سَلمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1797

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1798

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، ثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ -وَهُوَ ابْنُ شِبْيلٍ- عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، أَنَخْتُ رَاحِلَتِي وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي، فَلَبِسْتُ حُلَّتِي، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ، فَقُلْتُ لِجَلِيسٍ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ! هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ، ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ بَيْنَمَا هُوَ يَخْطُبُ [189 - ب] إِذْ عَرَضَ لَهُ فِي خُطْبَتِهِ، قَالَ: "إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ، أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ مِنْ خَيْرِ ذِي يَمَنٍ، وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ لَمَسْحَةَ مَلَكٍ". قَالَ: فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي.

"حضرت جریر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہﷺ کے مدینہ منورہ کے قریب پہنچ گیا تو میں نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور اپنا تھیلا کھول کر اپنا جوڑا پہنا ، پھر میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے مجھے سلام کیا ۔ تو لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ تو میں نے اپنے ہاتھ بیٹھے شخص سے پوچھا : اے عبداللہ! کیا رسول اللہﷺ نے میرے بارے میں کچھ فرمایا تھا( جو یہ سب لوگ مجھے غور سے دیکھ رہے ہیں؟) اس نے جواب دیا کہ ہاں آپ ﷺ نے تمہارا بڑا چھا تذکرہ فرمایا ہے ۔ اس دوران کہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، تو آپ کو اپنے خطبے میں کوئی با ت یاد آئی تو آپ نے فرمایا: تمہارے پاس اس دروازے سے یا اس راستے سے یمن والوں کا بہترین شخص داخل ہوگا اور اس کے چہرے پر بادشاہ کا نشان ہوگا۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں :"تو میں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان پراس کا شکر اد اکیا۔"

جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← الْمُغِيرَةِ -وَهُوَ ابْنُ شِبْيلٍ- ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1798

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1799

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَجَاءَ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ، فَأَبَى حَتَّى صَلَّى. فَلَمَّا انْصَرَفَ مَرْوَانُ، أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كَادُوا لَيَفْعَلُونَ بِكَ. قَالَ: مَا كُنْتُ لِأَتْرُكَهُمَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ -وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ- فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَصَدَّقُوا، فَألَقَوْا (1) ثِيَابًا، فَأَمَرَ لَهُ بِثَوْبَيْنِ، وَأَمَرَهُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَتَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى رَجُلٌ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَصَاحَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ زَجَرَهُ، وَقَالَ: "خُذْ ثَوْبَكَ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ هَذَا دَخَلَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَتَصَدَّقُوا، فَألَقَوْا ثِيَابًا فَأَمَرْتُ لَهُ بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ الْيَوْمَ فَأَمَرْتُ أَنْ يَتَصَدَّقُوا، فَأَلْقَى هَذَا أَحَدَ ثَوْبَيْهِ"، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ.

"جناب عیاض بن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح سے مروی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری ؓ جمعہ والے دن مسجد میں داخل ہوئے جبکہ مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا۔ چنانچہ حضرت سعید نے کھڑے ہو کر نماز ( تحیۃ المسجد ) شروع کر دی ۔ تو ( مروان کے ) محافظ انہیں بٹھانے کےلیے آگئے ۔ تو انہوں نے بیٹھنے سے انکار کر دیا حتی کہ نماز اد کر لی۔ پھر جب مروان فارغ ہو کر چلا گیا تو ہم حضرت ابو سعید ؓ کے پاس آئے اور ان سے عرض کی: اللہ آپ پر رحم فرمائے ، یہ لوگ آپ کے ساتھ پر سلوک کرنے ہی والے تھے ۔ انہوں نے فرمایا: "میں رسول اللہﷺ کا فرمان دیکھنے کے بعد ان دو رکعات کو ہرگز چھوڑنے والا نہیں تھا ۔ پھر بتایا کہ ایک شخص نہایت شکستہ حالت میں جمعہ کے دن آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام کو ( اس شخص پر ) صدقہ کرنے کا حکم دیا تو صحابہ کرام کو ( اسے دینے کے لیے ) کپڑے میسر نہ آئے ۔ آپ نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے دو رکعات ادا کیں پھر وہ دوسرے جمعے آیا جبکہ رسول اللہﷺ خطبہ دے رہے تھے تو رسول اللہﷺ نے ( اس پر ) صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ تو ایک شخص نے اپنی دو چادروں میں سے ایک اسے دے دی تو نبی کریمﷺ نے اسے بلند آواز سے ڈانٹا اور فرمایا: "اپنی چادر واپس لے لو۔"پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: "یہ شخص سخت بدحالی میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو میں نے لوگوں کو ( اس پر) صدقہ کرنے کا حکم دیا تھا تو انہیں کپڑے نہ ملے لہٰذا میں نے اسے دو کپڑے دینے کا حکم دیا تھا ۔ پھر یہ آج مسجد میں آیا ہے تو میں نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس شخص نے اسے اپنی چادر دی ہے ۔ پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ دو رکعات نماز اد اکرے ۔"

عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1799

صیح ابن حزیمیہ · کتاب ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ الأذَانِ وَالخُطبَۃِ فِی الجُمُعَۃِ وَمَا یَجِبُ عَلَی المَأمُومِینَ فِی ذلِکَ الوَقتِ مِنَ الاِستِمَاعِ لِلخُطبَۃِ وَالاِنصَاتِ لَھَا ، وَمَا أُبِیحَ لَہُم مِنَ الأَفعَالِ وَمَا نُھُوا عَنہُ · حديث 1800

أَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نَا الْمُقْرِئُ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمُهُ حَدِيدًا، قَالَ حُمَيْدٌ: أُرَاهُ رَأَى خَشَبًا أَسْوَدَ حَسِبَهُ حَدِيدًا، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ وَأَتَمَّ آخِرَهَا.

"حضرت ابو رفاعہ عدوی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس پہنچا تو آپ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ایک اجنبی شخص اپنے دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہے ، اسے معلوم نہیں کہ اس کا دین کیا ہے ؟ تو آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اپنا خطبہ چھوڑ دیا پھر آپ کے پاس ایک کرسی لائی گئی ، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے ۔ جناب حمید کہتے ہیں : میرے خیال میں انہوں نے سیاہ رنگ کی لکڑی کے پائے دیکھیے تو انہوں نے اسے لوہا سمجھ لیا۔ تو نبی کریمﷺ مجھے اللہ تعالیٰ کا سکھایا ہوا علم سکھانے لگے ۔ پھر آپ نے خطبہ دوبارہ شروع کیا اور اس کا باقی حصہ مکمل کیا۔"

انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ‏:‏ ← أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← الْمُقْرِئُ ← أَبُو زُهَيْرٍ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Hadith 1800

chevron_left Previous
1…91011…14
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals