Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2605

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ. لَمْ يَقُلْ عَبْدُ الْجَبَّارِ: وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ، وَزَادَ: قَالَتْ: فَكُنْتُ فِيمَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ.

آپ کے کچھ صحابہ کرام نے حج کا احرام باندھا ۔اور کچھ صحابہ نے حج اور عمرے کا احرام باندھا اور کچھ نے صرف عمرے کا احرام باندھا۔حضرت عبدالجبار کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں "اور کچھ صحابہ نے بھی حج کا احرام باندھا ۔"اور ان الفاظ کا اضافہ بیان کیا ہے :حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں :میں بھی ان لوگو ں میں شامل تھی جنہوں نے حج اور عمرے کا اکٹھا احرام باندھا تھا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2605

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2606

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ. فَقُلْتُ: مَنْ أَغْضَبَكَ؟ فَقَالَ: "أَمَّا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ. -قَالَ الْحَكَمُ: يَتَرَدَّدُونَ: أَحْسِبُ- لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّى أَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَحِلُّ كَمَا حَلُّوا".

حضرت عائشہ ؓبیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ذوالحجہ کی چار یا پانچ تاریخ کو (مکہ آئے ) آپ میرے پاس تشریف لائے تو آپ غصے میں تھے ۔تومیں نے عرض کیا : آپ کوکس نے اس قدر غصہ دلایا ہے؟آپ نے فرمایا : "کیا تمہیں پتہ نہیں چلا کہ میں نے لوگو ں کو ایک حکم دیا ہے اور وہ اس کی تعمیل میں تردد کر رہے ہیں ۔"جناب حکم کی روایت میں ہے : "وہ تردد کر رہے ہیں ،اگر مجھے اپنے معاملے کا پہلے علم ہوتا تو میں قربانی کا جانور انے ساتھ (مدینہ منورہ سے ) نہ لاتا اور مکہ مکرمہ سے خرید لیتا ۔پھر میں بھی ( صرف عمرہ کرکے ) احرام کھو ل دیتا جیسا کہ ان صحابہ نے کھولا ہے ۔"

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، مَوْلَى عَائِشَةَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2606

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2607

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا أَخْبَرَهُ، ح وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ".

حضر ت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ حجتہ الوداع والے سال (حج کےلیے ) نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا ۔پھر رسول اللہ ﷺنے فرمایا : "جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہووہ حج اور عمرے کا ایک ساتھ احرام باندھے ۔(اور تلبیہ کہے ) "

خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← وَحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيُّ، ← ابْنُ وَهْبٍ أَنَّ مَالِكًا ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2607

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2608

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثَنَا عَبْيدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ يَمْكُثُ حَلَالًا. هَذَا حَدِيثُ الزَّعْفَرَانِيِّ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی قربانی کی بکر یوں کے لیے ہار بٹتی تھی ،جنہیں آپ مکہ مکرمہ بھیجتے تھے پھر آپ خود مدینہ منورہ ہی میں حلال رہتے تھے (یعنی حج و عمرے کےلیے تشریف نہیں لے جاتے تھے ) یہ جناب زعفرانی کی حدیث ہے ۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مَنْصُورٌ، ← عُبَيْدَةُ -يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ- ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2608

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2609

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ وَأَمَرَ بِبُدْنَتِهِ أَنْ تُشْعَرَ مِنْ شِقِّهَا الْأَيْمَنِ وَقَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ، وَسَلَت عَنْهَا الدَّمَ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ الْبَيْدَاءَ أَهَلَّ. ثَنَا بُنْدَارٌ أَيْضًا، ثَنَا مُحَمَّدُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَقَالَ: صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: وَسَلَتَ عَنْهَا الدَّمَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ الَّتِي فِي خَبَرِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ: وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْعَرَبَ تُضِيفُ الْفِعْلَ إِلَى الْآمْرِ، كَإِضَافَتِهَا إِلَى الْفاعلِ. فَقَوْلُهُ: وَأَشْعَرَ بَدَنَتَهُ يُرِيدُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِإِشْعَارِهَا، لِأَنَّ فِي خَبَرِ يَحْيَى الْقَطَّانِ: وَأَمَرَ بِبُدْنَتِهِ أَنْ تُشْعَرَ، دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِإِشْعَارِهَا، لَا أَنَّهُ تَوَلَّى ذَلِكَ بِنَفْسِهِ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَشْعَرَ بَعْضَ بُدْنَتِهِ بِيَدِهِ، وَأَمَرَ غَيْرَهُ بِإِشْعَارِ بَقِيَّتِهَا، فَمَنْ قَالَ فِي الْخَبَرِ: أَمَرَ بِبُدْنَتِهِ أَنْ تُشْعَرَ أَرَادَ بَعْضَهَا، وَمَن قَالَ: أَشْعَرَ بَدَنَتَهُ أَرَادَ بَعْضَهَا لَا كُلَّهَا، فَالْأَخْبَارُ كلها مُتَصَادِقَةٌ لَا مُتَكَاذِبَةٌ عَلَى مَا يُتَوَهَّمُ أَهْلُ الْجَهْلِ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتےہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نماز ظہر ادا کی اور اپنی قربانی کےجانو ر کو دائیں جانب نشان لگانے کا حکم دیا ۔اور اس کے گلے میں دو جوتے لٹکائے اور اس کا خون صاف کیا ،پھر جب آ پ کی اونٹنی آپ کولے کر بیداء مقام پر سیدھی ہوئی تو آپ نے نیت کی اور تلبیہ پکارا ۔جناب بندار کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں نماز ظہر ادا کی اور اپنی قربانی کے جانو ر کو اشعار کیا ( اسے نشانی لگائی ) اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ نے اس کا خون صاف کیا ۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :جناب محمد بن جعفر کی روایت کے یہ الفاظ "اور آپ نے اپنی قربانی کا اشعار کیا : "یہ مسئلہ اسی قسم سے تعلق رکھتاہے جسے ہم اپنی کتب میں متعدد بار بیان کر چکے ہیں ۔کہ عرب کے لوگ کام کی نسبت اس کے حکم کرنے والے کی طرگ بھی کرتےہیں جیسا کہ کام کی نسبت اس کام کو سر انجام دینے والے کی طرف کرتے ہیں ۔لہذ ا حدیث کے یہ الفاظ : "آپ نے اپنی قربانی کا اشعار کیا :" ان کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺنے اشعار کرنے کا حکم دیا کیونکہ جناب یحیی ٰبن قطان کی روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی قربانی کے جانور کو اشعار کرنے کا حکم دیا تھا ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے اشعار کرنے کا حکم دیا تھا،بذا ت خود اشعار نہیں کیا تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اونٹوں کو اشعار کرنے کا حکم دیا ہو ۔لہذا جس راوی کی روایت میں اشعار کرنے کے حکم کا ذکر ہے تو اس کی مراد یہ ہے کہ کچھ اونٹوں کو اشعار کرنے کا حکم دیا ۔اور جس راوی نے کہا کہ آپ نے اپنی قربانی کے جانوروں کو خود اشعار کیا تو اس کی مراد بھی کچھ اونٹ ہیں سارے اونٹ نہیں۔اس طرح تمام روایت ایک دوسری کی توثیق وتصدیق کرتی ہیں ،ایک دوسری کی تکذیب نہیں کرتیں جیسا کہ بعض جہلا ءکا خیال ہے ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2609

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2610

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَجَّةَ الْوَدَاعِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسِ بْنِ خَثْعَمٍ. فَلَمَّا كَانُوا بِالشَّجَرَةِ وَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ وَتَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ.

حضرت ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ کے ساتھ حجتہ الوداع والے سال حج کےلیے نکلے جب کہ ان کے ساتھ ان کی زوجہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس بن خشعم ؓ بھی تھیں ۔ پھر جب وہ شجرہ ( یعنی ذوالحلیفہ ) کے مقام پر تھے حضرت اسماء نے محمد بن ابو بکر کو جنم دیا۔تو حضرت ابوبکر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو اس بات کی اطلاع دی ۔رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ کو حکم دیا کہ وہ حضرت اسماء کو غسل کرنے کا حکم دیں ،پھر وہ حج کا تلبیہ پکاریں اور دیگرحاجیوں کی طرح تمام مناسک ادا کریں ،لیکن وہ بیت اللہ کا طواف نہیں کریں گی۔

لَدَتْ أَسْمَاءُ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ رَسُولَ اللَّهِ ← مَعَهُ امْرَأَتُهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسِ بْنِ خَثْعَمٍ. فَلَمَّا كَانُوا ← أَبِي بَكْرٍ: أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ حَجَّةَ الْوَدَاعِ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2610

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2611

ثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَاللَّهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ بیداء مقام ہے جس کے بارے میں تم رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھتے ہو ،اللہ کی قسم ! آپ نے ذوالحلیفہ کی مسجد کے دروازے کے پاس سے تلبیہ پکا راتھا(اور احرام کی نیت کی تھی ) "

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← یَحْیَی بْنُ حَکِیمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2611

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2612

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، ثَنَا الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ- عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ إِهْلَالَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ.

حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذ والحلیفہ میں جب آپ کی سواری آپ کو لے کر سیدھی ہوگئی تو تلبیہ پکارنا تھا

جَابِرٍ: أَنَّ إِهْلَالَ النَّبِيِّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ. ← عَطَاءٌ، اَنَّہٗ ← أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، ← الْوَلِيدُ -يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ-، ← عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2612

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2613

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا وَضْعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ أَهَلَّ.

جب سوار تلبیہ پکارنے کا ارادہ کرے تو سواری کو قبلہ رخ کرنا مستحب ہے

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2613

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2614

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ رَكِبَ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَأَهَلَّ، قَالَ: ثُمَّ يُلَبِّي حَتَّى إِذَا بَلَغَ الْحَرَمَ أَمْسَكَ، حَتَّى إِذَا أَتَى ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ، قَالَ: فَيُصَلِّي بِهِ الْغَدَاةَ ثُمَّ يَغْتَسِلُ، فَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ.

امام نافع ؒ فرماتے ہیں :حضرت ابن عمر ؓ جب ذ والحلیفہ پہنچ جاتے تو اپنی سواری پر کجاوہ کسنے کا حکم دیتے ۔پھر وہ صبح کی نماز ادا کرتے ۔پھر اپنی سواری پر سوار ہوتے حتی کہ جب وہ آپ کو لےکر سیدھی ہو جاتی تو آپ قبلہ رخ ہوتے اور تلبیہ پکارتے ۔پھرآپ ( دوران سفر ) تلبیہ پکارتے رہتے حتی کہ جب حرم میں پہنچ جاتے تو تلبیہ پٖڑھنا بند کر دیتے ۔جب ذی طوی مقام پر پہنچتے تو رات وہیں گزارتے پھر صبح کی نماز وہاں پڑھ کرغسل کرتے ۔(پھر بیت اللہ میں داخل ہوتے ) حضرت ابن عمر ؓ بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بھی اسی طرح کیا تھا ۔

أَيُّوبَ، ← أَبِيهِ ← أَبِي ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2614

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2615

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ وَسَالِمٌ: أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا مَرَّ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بَاتَ بِهَا حَتَّى يُصْبِحَ، وَيُخْبِرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.

جناب نافع اور سالم بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ جب ذوالحلیفہ سے گزرتے تو رات وہیں بسر کرتے حتی کہ صبح کے وقت روانہ ہوتے ۔وہ بتاتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← وُهَيْبٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2615

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2616

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتي وَهُوَ فِي مُعَرَّسِهِ من ذِي الْحُلَيْفَةِ، فَقِيلَ: إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ. قَالَ مُوسَى: وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ بِالْمَنَاخِ الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيخُ بِهِ يَتَحَرَّى مُعَرَّسَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي بِبَطْنِ الْوَادِي. بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ وَسَطًا مِنْ ذَلِكَ.

حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک فرشتہ آیا ( یا آپ کو خواب آیا ) جب کہ آپ ذوالحلیفہ میں رات کے وقت آرام کرنے کےلیے تشریف فرماتھے ۔آپ سے کہا گیا کہ آپ بابرکت میدان میں ٹھہرے ہیں ۔جناب موسیٰ کی روایت میں ہے حضرت سالم نے ہمیں اسی جگہ ٹھہرایا جہاں حضرت عبداللہ ؓ ٹھہراکرتے تھے ۔اور وہ رسو ل اللہ ﷺ کی رات کی اقامت گاہ کو تلاش کرتے تھے ۔وہ جگہ مسجد ذوالحلیفہ کے نیچے وادی کے درمیان واقع ہے مسجد اور راستے کے عین درمیان ہے ۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْخَضِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُجَاعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2616

chevron_left Previous
1…8910…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals