صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3057
ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا مَسْلَمَةُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ يَدْفَعُ مَعَهُمْ مِنْهَا، مَا ذَاكَ إِلَّا تَوْفِيقًا مِنَ اللَّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) [البقرة: 199]، أَوْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْقُرْآنِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ.
حضرت جبیر بن معطم ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے ۔ آپ ان کے ساتھ ہی میدان عرفات سے واپس ہوئے تھے ۔ اور آپ کا یہ کام خالص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تھا ( کیونکہ قریش خود کو دین کا علمبردار سمجھتے ہوئے حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے ۔ ) امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : ان کا یہ قول: آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے ۔ ممکن ہے اس سے مراد اس آیت کے نزول سے پہلے ہو ( ثُمَّ أَفِیْضُوْامِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ)"پھر تم بھی وہیں سےواپس لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں ۔"یا یہ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ مکمل قرآن مجید کے نازل ہونے ( اور آپ کے مبعوث ہونے ) سے پہلے میں نے آپ کو میدان عرفات میں دیکھا ہے ۔ اور اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل درج ذیل حدیث ہے ۔
أَبِيه جُبَير بن مطعم، ← عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مَسْلَمَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،
Hadith 3057
