Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3057

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا مَسْلَمَةُ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَوَاقِفٌ عَلَى بَعِيرٍ لَهُ بِعَرَفَاتٍ مَعَ النَّاسِ يَدْفَعُ مَعَهُمْ مِنْهَا، مَا ذَاكَ إِلَّا تَوْفِيقًا مِنَ اللَّهِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَوْلُهُ: قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ (ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ) [البقرة: 199]، أَوْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَنْزِلَ عَلَيْهِ جَمِيعُ الْقُرْآنِ. وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ ذَلِكَ.

حضرت جبیر بن معطم ؓ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے دیکھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے اونٹ پر سوار کھڑے تھے ۔ آپ ان کے ساتھ ہی میدان عرفات سے واپس ہوئے تھے ۔ اور آپ کا یہ کام خالص اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تھا ( کیونکہ قریش خود کو دین کا علمبردار سمجھتے ہوئے حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے ۔ ) امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : ان کا یہ قول: آپ پر وحی نازل ہونے سے پہلے ۔ ممکن ہے اس سے مراد اس آیت کے نزول سے پہلے ہو ( ثُمَّ أَفِیْضُوْامِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ)"پھر تم بھی وہیں سےواپس لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں ۔"یا یہ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ مکمل قرآن مجید کے نازل ہونے ( اور آپ کے مبعوث ہونے ) سے پہلے میں نے آپ کو میدان عرفات میں دیکھا ہے ۔ اور اس تاویل کے درست ہونے کی دلیل درج ذیل حدیث ہے ۔

أَبِيه جُبَير بن مطعم، ← عَمِّهِ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مَسْلَمَةُ ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Hadith 3057

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3058

أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ، حَدَّثَنَا قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَتْ قُرَيْشٌ وَمَنْ دَانَ دِينَهَا يَقِفُونَ بِالْمُزْدَلِفَةِ وَكَانُوا يُسَمَّوْنَ الْحُمْسَ، وَكَانَ سَائِرُ الْعَرَبِ يَقِفُونَ بِعَرَفَةَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ أَمَرَ اللَّهُ نَبِيَّهُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنْ يَأْتِيَ

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ قریش والے اور ان کے ہم مذہب لوگ مزدلفہ ہی میں رک جاتے تھے اور وہ حمس ( دین میں بہت پختہ اور سخت لو گ کہتے تھے ۔) جبکہ باقی سارے عرب لوگ عرفات میں ٹھہرے تھے ۔ پھر جب اسلام کا دور آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو میدان عرفات میں جانے اور وہاں ٹھہرنے کا حکم دیا تو آپ میدان عرفات میں ٹھہرے پھر وہاں سے واپس مزدلفہ روانہ ہوئے ، اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی وجہ سے تھا :(ثُمَّ أَفِیْضُوْا مِنْ حِیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ)(البقرہ:۱۹۹) پھر تم بھی وہیں سے واپس آؤ جہاں سے لوگ واپس آتے ہیں ۔ امام ابوبکر فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو عرفات میں ٹھہرنے کا حکم دیا کہ آپ قریش کے مزدلفہ میں ٹھہرنے اور حرم کی حدود سے باہرنہ نکلنے کے مخالفت کریں کیونکہ وہ خود کو حمس ( دین کے علمبردار ) کہلواتے تھے۔ اس آیت کے ذریعے حکم دیا:(ثُمَّ أَفِیْضُوْا مِنْ حِیْثُ اَفَاضْ النَّاسُ)" تم وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں ۔"یعنی جہاں سے قریش کے علاوہ لوگ لوٹتے ہیں ۔ اور یہ الفاظ بھی اس قسم سے ہیں جس کے بارے میں ہم کہتےہیں کہ الناسِ کا اطلاق کچھ لوگوں پر بھی ہو جاتا ہے کیونکہ یہ یقینی بات ہے کہ سارے لوگ میدان عرفات میں نہیں ٹھہرتے تھے بلکہ کچھ لوگ ( قریش کے علاوہ ) وہاں ٹھہرتے تھے حضرت جبیر ؓ کا یہ قول : اور یہ کام آپ نے اللہ کی توفیق سے کیا تھا ۔ اس میں دلیل ہے کہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے آپ پر وحی نازل کر کے آپ کو وقوف عرفات کا حکم نہیں دیا تھا ۔ کیونکہ اگر حضر ت جبیر بن مطعم ؓ کے نزدیک آپ کا عرفات میں ٹھہرنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا تو وہ یہ الفاظ کہتے : مجھے بخوبی علم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرفات میں ٹھہرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور میں نے یہ بات کی ہے ہوسکتا ہے کہ حضرت جبیر بن مطعم کی مراد یہ ہو کہ سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے میں نے آپ کو عرفات میں کھڑے دیکھا ۔ کیونکہ سارا قرآن آپ پر ہجرت مدینہ سے قبل مکہ مکرمہ میں نازل نہیں ہوا بلکہ کچھ قرآن ہجرت مدینہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوا ہے اور کچھ مدینہ منورہ میں نازل ہوا ہے ۔ اور میں نے اس کے اس قول سے یہ مراد لی ہے کہ سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے کا یہ واقعہ ہے ان کی مرادیہ نہیں کہ آپ پر قرآن کی پہلی وحی سے بھی پہلے کایہ واقعہ ہے ۔ اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَنَّ سَلْمَ بْنَ جُنَادَةَ

Hadith 3058

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3059

لأن محمد بن معمر حدثنا قال ثنا محمد بن بكر أخبرنا ابن جريح أخبرني أبي عن جبير بن مطعم : قال : أضللت جملا لي يوم عرفة فانطلقت إلى عرفة أتتبعه فإذا أنا بمحمد واقفا في الناس بعرفة على بعيره عشية عرفة و ذلك بعدما أنزل عليه قال أبو بكر : فإن كان عبد العزيز بن جريح قد أدرك جبير بن مطعم فهذا الخبر يبين أن تأويل خبر نافع بن جبير عن أبيه أي قبل أن يزل عليه جميع القرآن

حضرت جبیر بن مطعم ؓ سے روایت ہے کہ عرفہ والے دن میرا ایک اونٹ گم ہوگیا تو میں میدان عرفات میں اس کی تلاش میں نکلا تو اچانک میں نے محمد ﷺ کو اپنے اونٹ پر عرفہ کی شام میدان عرفات میں لوگوں کے ساتھ ٹھہرے ہوئے دیکھا ، اور یہ واقعہ آپ پر وحی نزول کے بعد کا ہے ۔ امام ابوبکر فرماتےہیں : اگر عبدالعزیز بن جریج نے حضرت جبیر بن مطعم کو پایا ہو تو یہ روایت بیان کرتی ہے کہ حضرت جبیر کی روایت کی صحیح تاویل یہ ہے کہ یہ واقعہ آپ پر سارا قرآن نازل ہونے سے پہلے کا ہے ۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← أَبِي ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← لأن محمد بن معمر

Hadith 3059

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3060

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: ذَهَبْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لِي بِعَرَفَةَ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاقِفًا بِعَرَفَةَ مَعَ النَّاسِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لِمَنَ الْحُمْسِ فَمَا شَأْنُهُ هَاهُنَا. وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقِفُ بِعَرَفَةَ سِنِيهِ الَّتِي كَانَ بِهَا.

حضرت جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک اونٹ کو تلاش کرنے کےلیے عرفات گیا تو میں نے نبی کریم ﷺ کو لوگوں کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے دیکھا ۔ میں نے اپنے دل میں کہا: اللہ کی قسم! بے شک آپ تو حمس ( قریش ) میں سے ہیں پھر آ پ عرفات میں کیوں ٹھہرے ہوئے ہیں اور نبی کریمﷺ اس سال بھی عرفات میں وہیں کھڑے تھے جہاں آپ پہلے کھڑے ہوتے تھے ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Hadith 3060

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3061

ثَنَاهُ الْمَخْزُومِيُّ، وَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَقَالَ: فَمَا لَهُ خَرَجَ مِنَ الْحَرَمِ؟ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ لَا تُجَاوِزُ الْحَرَمَ. تَقُولُ: نَحْنُ أَهْلُ اللَّهِ، لَا نَخْرُجُ مِنَ الْحَرَمِ. وَلَمْ يَقُلْ: كَانَ يَقِفُ بِعَرَفَةَ سِنِيهِ الَّتِي كَانَ بِهَا. وَخَبَرُ رَبِيعَةَ بْنِ عَبَّادٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ.

حضرت جبیر بن مطعم ؓ فرماتے ہیں : آپ ( قریشی ہونے کے باوجود ) حدود حرم سے باہر کیوں گئے ہیں ۔ جبکہ قریش حدود حرم سے باہر نہیں نکلتے تھے ، وہ کہتے تھے : ہ م اللہ والے لوگ ہیں ، ہم حرم کی حدود سے نہیں نکلیں گے ۔ لیکن یہ الفاظ بیان نہیں کیے : آپ ا سی طرح عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے جہاں ا ٓپ پہلے ٹھہرا کرتے تھے ۔ جناب ربیعہ بن عباد کی روایت بھی اس باب کے متعلق ہے ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← ثَنَاهُ الْمَخْزُومِيُّ،

Hadith 3061

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3062

ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَاتٍ مَعَ الْمُشْرِكِينَ، ثُمَّ رَأَيْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَاقِفًا مَوْقِفَهُ ذَلِكَ، فَعَرَفْتُ أَنَّ اللَّهَ وَفَّقَهُ لِذَلِكَ.

ربیعہ بن عبا د اپن ےوالد کے واسطے سے ایک قریشی آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو جاہلیت میں دیکھا کہ آپ میدان عرفات میں مشرکین کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے ۔ پھر میں نے اسلامی دو رمیں بھی اسی جگہ ٹھہرے ہو ئے دیکھا ۔ تو میں جان گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا م کی فوفیق دی تھی۔

رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ ← أَبِيهِ ← رَبِیعَۃَ، ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَرِيرٌ ← ثَنَاهُ يُوسُفُ بْنُ مُوسَى

Hadith 3062

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3063

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ، فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ (1)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ابْنُ أَخْطَلَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "اقْتُلُوهُ" قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا.

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول اللہﷺ اس حال میں مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے کہ آپ کے سر مبارک پر خود تھا ۔ جب آپ نے خود اتارا تو ایک شخص آپ کے پا س آیا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے ۔ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اسے قتل کر دو ۔"امام ابن شہاب زہری فرماتے ہیں : اس دن رسول اللہﷺ محرم نہیں تھے ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ وَهْبٍ، أَنَّ مَالِكًا حَدَّثَ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 3063

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3064

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثَنَا سَلَمَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَعَثَ مَعِي رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: "ائْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَاقْتُلَاهُ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ قَالَ لِي صَاحِبِي: هَلْ لَكَ أَنْ نَبْدَأَ فَنَطُوفَ بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا وَنُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقُلْتُ: أَنَا أَعْلَمُ بِأَهْلِ مَكَّةَ أَنَّهُمْ إِذَا أَظْلَمُوا رَسُوا أَفْنِيَتَهُمْ، ثُمَّ جَلَسُوا بِهَا، وَأَنَا أَعْرِفُ فِيهَا مِنَ الْفَرَسِ الْأَبْلَقِ، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَتَيْنَا الْبَيْتَ، فَطُفْنَا بِهِ أُسْبُوعًا، وَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْنَا.

جناب امیہ الضمری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے مجھے اور میرے ساتھ ایک انصاری شخص کو بھیجا اور حکم دیا کہ "ابو سفیان کے پاس جاؤ اور اسے قتل کر دو۔ "پھر مکمل حدیث بیان کی۔ اور بیان کرتے ہیں : پھر جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو میرے ساتھی نے مجھے کہا : کیا خیال ہے ، کیا ہم پہلے بیت اللہ شریف کا طواف کر کے دو رکعت نماز نہ پڑھ لیں ؟ میں نے کہا: مجھے اہل مکہ کی عادت وطریقے کا علم ہے کہ جب رات کا اندھیرا ہوتا ہے تو وہ اپنے گھروں کے صحن میں پانی چھڑک کر محفل جما کر بیٹھتے ہیں اور میں مکہ مکرمہ میں چتکبرے گھوڑے کے مالک کو بھی پہچا نتا ہوں ( اس لیے بھی تم پہلے اصلی کام کی طرف آؤ) لیکن وہ مسلسل اصرار کرتا رہا اور وہ مجھے اس بات پر آمادہ کرتا رہا حتی کہ ہم بیت اللہ شریف میں پہنچ گئے اور ہم نے طواف کے سات چکر لگائے اور دو رکعات ادا کیں پھر ہم ( وہاں ) سے نکلے گئے ۔

أَعْلَمُ بِأَهْلِ مَكَّةَ أَنَّهُمْ إِذَا أَظْلَمُوا رَسُوا أَفْنِيَتَهُمْ، ثُمَّ جَلَسُوا بِهَا، ← لِي صَاحِبِي: هَلْ لَكَ أَنْ نَبْدَأَ فَنَطُوفَ بِالْبَيْتِ أُسْبُوعًا وَنُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ؟ فَقُلْتُ: ← فَلَمَّا دَخَلْنَا مَكَّةَ ← الْحَدِيثَ. ← "ائْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ فَاقْتُلَاهُ"، ← بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ وَبَعَثَ مَعِي رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Hadith 3064

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3065

ثَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ الْهَاشِمِيُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ. عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سُؤَالِ جِبْرِيلَ إِيَّاهُ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: "الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ، وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ". قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ: صَدَقْتَ.

حضرت ابن عمرؓ نبی کریمﷺ سے حضرات جبرائیل ؑ کے اسلام کے متعلق حدیث بیان کرتےہیں ، جبرائیل کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو گواہی دے : اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ۔ اور یہ کہ تو نماز قائم کرے ، تو زکوٰۃ ادا کرے ، حج کرے اور عمرہ ادا کرے اور جنابت کی وجہ سے غسل کرے ، اور تو مکمل وضو کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔ جبرائیل نے کہا: جب میں یہ کام کر لوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا ؟ آپ نے فرمایا: "ہاں ۔ "انھوں نے کہا: آپ نے سچ کہا ہے ۔

الْإِسْلَامِ، ← الْإِسْلَامِ، ← حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ. ← یَّحْیَی بْنِ یَعْمُرَ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← یُوْسُفُ بْنُ وَاضِحِ الْھَاشِمِیُّ

Hadith 3065

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3066

ثنا عبد الله بن سعيد الأشج ثنا أبو خالد عن ابن جريح عن نافع عن ابن عمر قال : ليس من أحد إلا و عليه حجة و عمرة واجبتان لا بد منهما فمن زاد بعد ذلك خير و تطوع

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتےہیں کہ ہر شخص پر ایک حج اور ایک عمرہ کرنا واجب ہے ان دونوں کو ادا کرنا لازمی ہے ۔ پھر جو شخص زیادہ حج یا عمرے ادا کرے تو یہ بڑی خیروبرکت اور نیکی والی بات ہے ۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Hadith 3066

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3067

ثنا الأشج ثنا أبو خالد عن ابن جريح عن أبي الزبير عن جابر : قال : ليس من خلق الله أحد إلا و عليه عمرة واجبة

حضرت جابر ؓ بیان کرتےہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہر بندے پر ایک عمرہ ادا کرنا واجب ہے ۔

ليس من خلق الله أحد إلا و عليه عمرة واجبة ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← أَبُو خَالِدٍ؛ ← الْأَشَجُّ،

Hadith 3067

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 3068

قال أبو بكر : هذا الخبر يدل على توهين خبر الحجاج بن أرطاة عن ابن المنكدر عن جابر : سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن العمرة واجبة هي ؟ قال لا إن تعتمر فهو أفضل ثناه بشر بن معاذ ثنا عمرو بن علي ثنا الحجاج بن أرطاة فلو كان جابر سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول في العمرة إنها ليست بواجبة لما خالف قول النبي صلى الله عليه وسلم و في خبر منصور عن أبي وائل عن الضبي بن معبد في قصة عمر كالدلالة على أن العمرة واجبة عند عمر بن الخطاب

امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حضرت جابر کی یہ موقوف حدیث ان کی درج ذیل مرفوع حدیث کے ضعیف ہونے کی دلیل ہے ۔ جسے ابن منکدر بیان کرتا ہے ۔ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ سے پوچھا گیا: کیا عمرہ واجب ہے ؟ آپ نے فرمایا: " نہیں لیکن اگر تم عمر ہ ادا کرو تو وہ افضل واعلیٰ کام ہے ۔"اما م ابوبکرؒ فرماتے ہیں : اگر حضرت جابر ؓ نے نبی کریمﷺ سے یہ بات سنی ہوتی کہ عمرہ واجب نہیں ہے تو ہو کبھی بھی نبی اکرمﷺ کے فرمان کی مخالفت نہ کرتے ( اور عمرے کے واجب ہونے کا فتویٰ نہ دیتے ) جناب ضبی بن معبد سے مروی حضرت عمر ؓ کے قصے میں یہ دلیل موجود ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے نزدیک بھی عمرہ واجب ہے ۔( وہ قصہ درج ذیل ہے )۔

لَا۔ ← الْعُمْرَةِ وَاجِبَةٌ هِيَ ← جَابِرٍ سُئِلَ النَّبِيُّ ← ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، ← أَبُو بَكْرٍ هَذَا الْخَبَرُ يَدُلُّ عَلَى تَوْهِينِ خَبَرِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ

Hadith 3068

chevron_left Previous
1…45464748
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals