Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2905

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ؛ ح وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: ضْحَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَر. هَذَا لَفْظُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَعَلِيّ. فَأَمَّا أَبُو مُوسَى فَإِنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ، فَقَالَ لَهَا: "اقضِي مَا يقضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ". قَالَتْ: فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أتيت بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا [286 - أ]: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ.

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے قربان کی ۔ یہ الفاظ جناب عبدالجبار اور علی کی روایت کے ہیں۔ جناب ابوموسی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ مکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی مقامسرف پر جب حائضہ ہوگئیں تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: بیت اللہ شریف کے طواف کے علاوہ باقی تمام اعمال اسی طرح کرتی رہو جس طرح دیگر حاجی کرتے ہیں ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں : پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو میرے پاس گائے کا گوشت لایا گیا، میں نے پوچھا:یہ کیسا گوشت ہے؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: رسول اللہﷺ نے اپنی بیویوں کی طرف سے ایک گائے ذبح کی ہے۔

نِسَائِهِ بِالْبَقَر. هَذَا لَفْظُ عَبْدِ الْجَبَّارِ وَعَلِيّ. فَأَمَّا أَبُو مُوسَى فَإِنَّهُ ← عَائِشَةَ: ضْحَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← وَثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2905

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2906

ثنا محمد بن عيسى ثنا سلمة قال حدثني محمد بن إسحاق عن محمد بن مسلم الزهري عن عروة بن الزبير عن المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم إنهما حدثاه قالا : خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الحديبية يريد زيارة البيت لا يريد قتالا و ساق معه الهدى سبعين بدنة و كان الناس سبعمائة رجل فكانت كل بدنة عن عشرة نفر قال محمد فحدثني الأعمش عن أبي سفيان عن جابر بن عبد الله الأنصاري قال : كنا أصحاب الحديبية أربع عشر مائة

حضرت مسعود بن مخرمہ ؓ اور مروان بن حکم ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال بیت اللہ شریف کی زیارت (عمرے) کےلیے نکلے، آپ کا جنگ کرنے کا ارادہ نہیں تھا، آپ نے اپنے ساتھ ستر اونٹ قربانی کے لیے لے لیے اور لوگوں کی تعداد سات سو تھی ، اس طرح پر اونٹ دس افراد کی طرف سے ایک اونٹ قربانی تھی حضرت جابر ؓ کی روایت میں ہے : ہم حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔

المسور بن مخرمة و مروان بن الحكم إنهما حدثاه ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2906

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2907

ثنا عبد الجبار بن العلاء ثنا سفيان و ثنا علي بن خشرم أخبرنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن المسور بن مخرمة و مروان : أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج عام الحديبية في بضع عشر مائة من أصحابه فلما كان بذي الحليفة قلد الهدى و أشعره فأحرم منها فذكر الحديث قال أبو بكر في خبر ابن إسحاق : ساق معه الهدى سبعين بدنة و كان الناس سبعمائة رجل يريد سبعمائة رجل الذين نحر عنهم السبعين البدنة لا أن جميع أصحابه الذين كانوا معه بالحديبية كانوا سبعمائة رجل من الجنس الذي نقول إن إسم الناس قد يقع على بعض الناس كقوله تعالى { الذين قال لهم الناس إن الناس قد جمعوا لكم } فالعلم محيط أن كل الناس لم يقولوا و لا كل الناس قد جمعوا لهم و كذلك قوله { ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس } فالعلم محيط أن جميع الناس لم يفيضوا من عرفات و إنما أراد بقوله : أفاض الناس بعض الناس لا جميعهم و هذا باب طويل ليس هذا موضعه و خبر ابن عيينة يصرح بصحة هذا التأويل ألا تسمعه قال في الخبر : وكانوا بضعة عشر مائة فأعلم أن جميع أهل الحديبية كانوا أكثر من ألف و ثلاثمائة إذ البضع ما بين الثلاث إلى العشر و هذا الخبر في ذكر عددهم شبيه بخبر أبي سفيان عن جابر أنهم كانوا بالحديبية أربع عشر مائة فهذا الخبر يصرح أيضا أنهم كانوا ألفا و أربعمائة فدلت هذه اللفظة على أن قوله في خبر ابن إسحاق : و كان الناس سبعمائة رجل كانوا بعض الناس الذين كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم بالحديبية لا جميعهم فعلى هذا التأويل و هذه الأدلة قد نحر من بعضهم عن كل عشرة منهم بدنة نحر عن بعضهم عن كل سبعة منهم بدنة أو بقرة فقول جابر : إشتركنا في الجزور سبعة و في البقرة سبعة يريد بعض أهل الحديبية و خبر المسور و مروان اشترك عشرة في بدنة أي سبعمائة منهم و هم نصف أهل الحديبية لا كلهم و قد روى الحسين بن واقد عن علباء بن أحمر عن عكرمة عن ابن عباس قال :

حضرت مسعود بن مخرمہ ؓ اور جناب مروان ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ حدیبیہ والے سال ایک ہزار سے زائد صحابہ کرام کے ساتھ نکلے جب آپ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپ نے اپنی قربانی کو ہار پہنایا اور اشعار کیا۔ اور ہاں سے عمرے کا احرا م باندھا۔ پھر بقیہ حدیث ذکر کی۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن اسحاق کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ستر اونٹ قربانی کے لیے اپنے ساتھ لیے تھے اور صحابہ کرا م کی تعداد سات تھی اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ آ پ نے سات سو افراد کی طرف سے ستر اونٹ نحر کیے تھے۔ یہ مرد نہیں کہ صلح حدیبیہ میں شریک ہونے والے تمام صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی ، یہ مسئلہ اسی جنس سے ہے جس کے بارے میں ہم کہتے ہیں کہ لفظ الناس بول کر بعض افراد مراد لیے جاتے ہیں ، اس سے تمام لوگ مراد نہیں ہوتے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(اَلَّذِیْنَ قَالَ لَھُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْ الَکُمْ)( آل عمران :۱۷۳)"ان سے لوگوں نے کہا تھا کہ تمھارے خلاف ایک بڑی فوج جمع ہوئی ہے۔"اب یہ بات یقینی ہے کہ سب کافروں نے یہ بات نہیں کہی تھی اور نہ سب لوگ ان کےخلاف ہوئے تھے ۔ (حلانکہ دونوں جگہ لفظ الناس استعمال ہوا ہے ) اسی طرح یہ ارشاد باری تعالی ہے (ثُمَّ أَفِیْضُوْا مِنْ حَثُاس أَفَاصَ النَّاسُ)پھر تم بھی وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے لوگ واپس لوٹتے ہیں ۔ (البقرۃ : ا۹۹) یہ بات بھی حتمی اور یقینی ہے کہ سب لوگ عرفات سے واپس نہیں ہوتے تھے۔ اس لیے اللہ تعالی نے افاض الناس سے مراد کچھ لوگ لیے ہیں سارے لوگ مراد نہیں ہیں یہ مسئلہ بڑا طویل ہے جسے بیان کرنےکا یہ موقع نہیں ہے ۔ جناب سفیان بن عینیہ کی روایت اس تادیل کے صحیح ہونےکی واضح دلیل ہے کیونکہ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں : صحابہ کرام کی تعداد ایک ہزار سے زائد تھی ۔ اس طرح انھوں نے بیان کر دیا کہ اہل حدیبیہ کی تعداد تیرہ سو سے زیادہ تھی کیونکہ بِضْعٌ کا لفظ تین سے دس تک بولا جاتا ہے (اور ابن عینیہ نے ایک ہزار اور بِضْعٌتعداد بتائی ہے) جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحا بہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی ۔ اور یہ روایت اس روایت کے مشا بہ ہے جس میں ہے کہ حدیبیہ میں صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی۔ اور یہ روایت بھی صراحت کرتی ہے کہ صحابہ کرام کی تعداد چودہ سو تھی ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن اسحاق کی روایت میں مذکورہ یہ الفاط :"صحابہ کرام کی تعداد سات سو تھی " اس سے مراد کچھ صحابہ کرام ہیں جو حدیبیہ میں رسول اللہ کے ساتھ تھے، یہ ان کی کل تعداد نہیں ہے اس تاویل اور ان دلائل کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ نے کچھ صحابہ کرام کی طرف سے ایک اونٹ دس افراد کی طرف سے قربان کیا اور کچھ صحابہ کرام سات افراد ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی میں شریک ہوئے ۔ اس لیے حضرت جابر ؓ کا یہ فرمان : " ہم نے اونٹ کی قر بانی میں سات افراد نے شرکت کی اور گائے کی قربانی میں بھی سات افراد شریک ہوئے۔ "اس سے مراد کچھ اہل حدیبیہ ہیں سب لوگ مراد نہیں ۔ اور جناب مسعور ؓ اور مروان ؒ کی روایت میں ہے اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہوئے یعنی چوودہ سو صحابہ میں سے سات سو صحابہ نے ستر اونٹوں میں دس دس کے حساب سے شرکت کی ، یہ تعداد حدیبیہ میں شریک ہونے والے صحابہ کی نصف تعداد ہے ، کل تعداد نہیں۔

المسور بن مخرمة و مروان ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← سفيان و ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2907

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2908

كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فحضر النحر فاشتركنا في البقرة سبعة و في البعير عشرة وثنا أبو عمار حدثنا الفضل بن موسى عن الحسين بن واقد ح

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے تو عید الاضحیٰ آگئی ، پس ہم نے گائے کی قربانی میں سات افراد اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد نے شرکت کی۔

الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2908

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2909

و خبر رافع بن خديج : في قسم الغنائم فعدل النبي صلى الله عليه وسلم عشرة من الغنم بجزور كالدليل على صحة هذه المسألة

حضرت رافع بن خدیج ؓ کی یہ حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے مال غنیمت تقسیم کرتے وقت دس بکریاں ایک اونٹ کے برابر قرار دیں ۔ یہ حدیث بھی اس مسئلہ کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کہ اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2909

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2910

فِي عَقِبِ خَبَرِ أَبِي ذَرٍّ؛ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا سُئِلَ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، فَقَالَ فِي عَقِبِ هَذَا الْخَبَرِ: وَالْفِعْلُ (1) مُضْطَرٌّ إِلَى أَنْ يَعْلَمَ أَنَّ كُلَّ مَا عَظُمَتْ رَزِيَّتُهُ عِنْدَ الْمَرْءِ كَانَ أَعْظَمَ لِثَوَابِ اللَّهِ إِذَا أَخْرَجَهُ لِلَّهِ (2).

حضرت ابو ذر ؓ کی نبی کریمﷺ سے روایت کے بعد یہ الفاظ آئے ہیں آپ سے سوال کیا گیا: کون سا غلام آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ نے فرمایا : "جو زیادہ قیمتی ہو اور اپنے مالکوں کے مزدیک زیادہ عمدہ ہو۔" اس روایت کے بعد فرمایا:ہر وہ چیز جس کے جانے سے انسان کو زیادہ تکلیف ہو اگر وہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ کی جائے تو اس کا اجروثواب بھی بہت زیادہ ہوگا۔

أَغْلاَهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا، ← النَّبِيِّ لَمَّا سُئِلَ أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ ← فِي عَقِبِ خَبَرِ أَبِي ذَرٍّ؛

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2910

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2911

ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَرْبِ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ شَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، وعَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَهْدَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَجِيبة لَهُ أعْطي بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَهْدَيْتُ نَجِيبَةً، وَإِنِّي أُعْطِيتُ بِهَا ثَلَاثَمِائَةِ دِينَارٍ فَأَبِيعُهَا وَأَشْتَرِي بِثَمَنِهَا بُدْنًا فَأَنْحَرُهَا؟ قَالَ: "لَا، انْحَرْهَا إِيَّاهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الشَّيْخُ اخْتَلَفَ أَصْحَابُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ فِي اسْمِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: جَهْمُ بْنُ الْجَارُودِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: شَهْمٌ.

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتےہیں کہ حضر ت عمر بن خطاب ؓ نے اعلی نسل کا مضبوط وتوانا اونٹ قربانی کے لیے مکہ مکرمہ رونہ کیا پھر انھیں اس کی تین سو دینار قیمت دی جانے لگی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نے ایک اعلیٰ نسل کا مضبوط اونٹ قربانی کے لیے مکہ مکرمہ روانہ کیا ہے اور اب مجھے اس کی سو دینار قیمت مل رہی ہے ، کیا میں اسے بیچ کر اس کی قیمت سے کئی اونٹ خرید کر ان کی قربانی کر دوں ؟ آپ نے فرمایا:"نہیں اسی عمدہ اونٹ کو نحر کرو۔ "امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : جناب محمد بن سلمہ کے شاگردوں نے ابن جارود کے نام میں اختلاف کیا ہے۔ کچھ اس کا نام جہنم بن جارود بیان کرتے ہیں اور کچھ شہم۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← شَهْمِ بْنِ الْجَارُودِ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَرْبِ الْبَغْدَادِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2911

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2912

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: ثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ: حَدِّثْنِي مَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: [قَالَ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَكَذَا بِيَدِهِ -وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ فِي الْأَضَاحِي: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنِ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تَنْقَى". قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ.

جناب عبید بن فیروز بیان کرتے ہیں کہ نے حضرت براء ؓ سے عرض کی: مجھے ان جانوروں کے بارے میں بیان کریں کن کی قربانی کرنا رسول ﷺ نے نابسند کیا ہے یا منع فرمایا۔ حضرت براء ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے اس طرح اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے فرمایاتھا، اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے چھوٹا اور حقیر ہے:" چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں : وہ بھینگا جانور جس کا بھینگا ہونا واضح ہو ، بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو ۔ لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو۔ اور ایسا بوڑھا جانور کہ کمزوری کی وجہ سےاس کی ہڈیوں کا گودا ختم ہو چکا ہو۔" حضرت عبید ؓ نے فرمایا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا معلوم ہوتا ہے جس کے کان اور سینگ میں نقص ہو (یعنی کان کٹا ہو یا سینگ ٹوٹا ہو ) آپ ؓ نے فرمایا: جو جانور تمہیں نا پسند ہو تم اسے چھوڑ دو لیکن دوسروں کو اس کی قربانی سے منع نہ کرو۔

فَمَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى غَيْرِكَ. ← فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ وَالْقَرْنِ. ← الْمَرِيضَةُ الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ الْبَيِّنُ ظَلَعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ الَّتِي لَا تَنْقَى". ← مَا كَرِهَ أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنَ الْأَضَاحِيِّ، ← قلت للبراء ← عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدٌ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2912

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2913

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ -رَجُلًا مِنْهُمْ- عَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُضَحّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ. قَالَ قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: الْعَضْبُ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ. ثَنَا بُنْدَارٌ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ قَالَ: الْعَضْبُ: الْقَرْنُ الدَّاخِلُ.

حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ٹوٹے سینگ اور کٹے کان والے جانور کی قر بانی کرنے سے منع کیا ہے۔ امام قتادہ ؒ فرماتے ہیں : میں نے یہ روایت امام سعید بن مسیّب ؒ کو سنائی تو انھوں نے فرمایا: عضب سے مراد وہ جانور ہے جس کا آدھا سینگ ٹوٹا ہوا ہو یا آدھا کابؤن چیرا ہوا ہو۔ جناب شہر بن حوشب فرماتے ہیں : عضب سے مراد ہے اندر تک ٹوٹا ہوا سینگ۔

الْعَضْبُ: الْقَرْنُ الدَّاخِلُ. ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← قَتَادَةَ ← سَعِیدِ بْنِ بَشِیرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ عَثْمَةَ، ← بُنْدَارٌ ← قَتَادَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقَالَ: الْعَضْبُ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ. ← عَلِيٍّ: أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ نَهَى أَنْ يُضَحّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ. ← جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ -رَجُلًا مِنْهُمْ- ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2913

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2914

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثَنَا خَالِدُ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ؛ ثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ؛ ح وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ، -وَهَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ- أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ.

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانور کے ) کان اور آنکھیں اچھی طرح دیکھ بھال لیں۔

«أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» ← عَلِيًّا ← حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ الْكِنْدِيَّ ← سُفْيَانَ وَشُعْبَةَ، -وَهَذَا حَدِيثُ الصَّنْعَانِيِّ- أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ كُهَيْلٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← وَثَنَا أَبُو مُوسَى، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ← خَالِدٌ -يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ-، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2914

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2915

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا عَنِ الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ. فَقَالَ: الْقَرْنُ؟ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. قَالَ: الْعَرْجُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ. قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ.

جناب حجیہ بن عدی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی ؓ سے گائے کی قربانی کے بارے میں سات افراد شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس نے پوچھا : اگر سینگ (تھوڑا سا ٹوٹا ہوا ہو؟ ) انھوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اس نے پھر عرض کی : لنگڑے پن کا کیا حکم ہے؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا: اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم جانور کی آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیں (ّکہ ان میں نقص نہ ہو)۔

وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ. ← إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسِكَ. ← الْعَرْجُ؟ ← سَبْعَةٍ. فَقَالَ: الْقَرْنُ؟ فَقَالَ: لَا يَضُرُّكَ. ← الْبَقَرَةِ، فَقَالَ: ← حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ الْقَيْسِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2915

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2916

ثَنَا أَبُو مُوسَى، ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، قَالَ عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. قَالَ: "ضَحِّ بهَا". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَرَّجْتُ تَمَامَ أَبْوَابِ الضَّحَايَا فِي كِتَابِ الضَّحَايَا، وَإِنَّمَا خَرَّجْتُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ الَّتِي فِيهَا ذِكْرُ الضَّحَايَا فِي هَذَا الْكِتَابِ لِأَنَّ الْعُلَمَاءَ لَمْ يَخْتَلِفُوا أَنَّ كُلَّ مَا جَازَ فِي الضَّحِيَّةِ فَهُوَ جَائِزٌ فِي الْهَدْيِ.

حضر ت عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کے درمیان قربانی کے جانور تقسیم کیے ، حضرت عقبہ فرماتے ہیں : میرے حصے میں بھیڑ کا ایک سالہ بچہ آہا ۔ میں نے عرض کیا : اے الل کے رسول ! میرے حصے میں بھیڑ کا ایک سالہ بچہ آیا ہے ۔ آپ نے فرمایا: "اسے ہی ذبح کر لو۔" امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے قربانی کے مسائل کتاب الضحایا مٰیں بیان کر دئیے ہیں میں نے یہاں قربانی کے یہ مسا ئل صرف اس لیے بیان کیے ہیں کیونکہ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ ہر وہ جانور جو عید کی قربانی میں ذبح کرنا جائز ہے وہ حج کی قربانی میں بھی ذبح کرنا جائز ہے۔

عُقْبَةُ: فَصَارَتْ لِي جَذَعَةٌ. فَقُلْتُ: ← قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ضَحَايَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ، ← عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← بَعْجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيُّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← أَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2916

chevron_left Previous
1…333435…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden
22. The groups of the gates of obligatory travel
23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness
24. The congregation of the gates of prayer on the rows
25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer
26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs
27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them
28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night
29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers
30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned
31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it
32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down
33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel
34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them
35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization
36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr
37. The gates of the prayer of fear
38. Collections of the gates of an eclipse prayer
39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it
40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them
41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals