Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حزیمیہ

Sahih Ibn Khuzamia

by Imam Ibn Khuzamia

3,088 Hadith65 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2881

ثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ. رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لِخَبَرِ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ بَابٌ غَيْرُ هَذَا.

حضرت فضل بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے سوار تھا تو آپ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں ، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : عمر بن حفص شیبانی کی حفص بن غیاث سے روایت دوسرے باب سے تعلق رکھتی ہے۔

أخيه الفضل بن عباسٍ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2881

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2882

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهُ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ- ثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْيُ الْجِمَارِ لِإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول الل ﷺ نے فرمایا: یقیناً بیت اللہ شریف کا طواف ،صفا اور مروہ کی سعی اور جمعرات کی رمی اللہ تعالی کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔"

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ، ← عُبَيْدِ اللَّهُ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي زِيَادٍ- ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2882

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2883

ثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ، قَالَا: ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُقَدِّمُ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ، فَمِنْهُمْ مِمَّنْ يَقْدَمُ مِنًى لِصَلَاةِ الْفَجْرِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقْدَمُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَإِذَا قَدِمُوا رَمَوَا الْجَمْرَةَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: أَرْخَصَ فِي أُولَئِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ خَرَّجْتُ طُرُقَ أَخْبَارِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي كِتَابِي "الْكَبِيرِ" أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "أُبَيْنِيَّ! لَا تَرْمُوا الْجَمْرَةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ" (1)، وَلَسْتُ أَحْفَظُ فِي تِلْكَ الْأَخْبَارِ إِسْنَادًا ثَابِتًا (2) مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، فَإِنْ ثَبَتَ إِسْنَادٌ وَاحِدٌ مِنْهَا فَمَعْنَاهُ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَجَرَ الْمَذْكُورَ مِمَّنْ قَدَّمَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لَا السَّامِعَ الْمَذْكُورَ، لِأَنَّ خَبَرَ ابْنِ عُمَرَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَذِنَ لِضَعْفَةِ النِّسَاءِ فِي رَمْيِ الْجِمَارِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَلَا يَكُونُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ خِلَافَ خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ ثَبَتَ خَبَرُ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ، عَلَى أَنَّ رَمْيَ الْجِمَارِ لِضَعْفَةِ النِّسَاءِ بِاللَّيْلِ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ أَيْضًا عِنْدِي جَائِزٌ لِلْخَبَرِ الَّذِي أَذْكُرُهُ فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِي هَذَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

حضرت سالم بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اپنے گھر کے کمزور افراد کو(مزدلفہ سے منیٰ ) پہلے ہی روانہ کر دیتے تھے۔ پھر ان میں سے کچھ نماز فجر کے وقت منیٰ پہنچتے توکچھ اس کے بعد پہنچ جاتے۔ جب وہ منیٰ پہنچ جاتے تو جمرہ عقبہ کو رمی کرتے ۔ حضرت ابن عمرؓ فرماتے تھے: رسولاللہ ﷺ نے ان لوگوں کو اجازت دی ہے ۔ امام ابو بکرؒ فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابن عباس ؓکی روایت کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: اے میرے بیٹو!سورج طلوع ہونے تک جمرئ کو کنکریاں مت مارنا۔ ان تمام روایات میں مجھےکسی صحیح سند کا علم نہیں کہ کوئی روایت ان میں سے ثابت بھی ہے لیکن اگر کوئی ایک سند بھی صحیح ثابت ہو جائے تواس کا معنی یہ ہو گا کہ نبی اکرم ﷺ نے صرف ان افراد کو سورج طلوع ہونے سے قبل رمی کرنے سے منع کیا تھا جنھیں آپ نے مزدلفہ سے رات کے روانہ کیا تھا۔ تمام سامعین کو منع نہیں کیا تھا۔ کیونکہ حضرت ابن عمرؓ کی حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے عورتوں اور کمزوروں کو سورج طلوع ہونے سے پہلے رمی کرنےکی اجازت دی ہے۔ اس طرح حضرت ابن عمر کی حدیث حضرت ابنعباس کی حدیث کے مخالف نہیں رہے گی۔ بشر طیکہ حضرت ابن عباس کی حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ثابت ہو، میرے نزدیک کزور عورتوں کےلیے رات کے وقت رمی کرنا جائز ہے، اس کی دلیل وہ حدیث ہے جسے میں اگلے باب میں ذکر کروں گا ان شاء اللہ۔

ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَعِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْغَافِقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2883

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2884

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا [284 - أ] ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ -مَوْلَى أَسْمَاءَ-. أَنَّ أَسْمَاءَ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ دَارَ الْمُزْدَلِفَةِ. فَقَامَتْ تُصَلِّي، فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ! قُمِ، انْظُرْ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: لَا. فَصَلَّتْ، ثُمَّ قَالَتُ: يَا بُنَيَّ! انْظُرْ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتِ: ارْتَحِلْ، فَارْتَحَلْنَا، فَرَمَيْنَا الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتِ الْغَدَاةَ فِي مَنْزِلِهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: يَا هَنَتَاهُ! لَقَدْ رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ بِلَيْلٍ. قَالَتْ: كُنَّا نَصْنَعُ هَذَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. هَذَا حَدِيثُ بُنْدَارٍ. وقَالَ ابْنُ مَعْمَرٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِي اللَّهُ عَنْهَا - أَنَّهَا قَالَتْ: إِي بُنَيَّ! هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا، قَالَ: ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: يَا هَنَتَاهُ! لَقَدْ غَلَّسْنَا. قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ! إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ لِلظُّعُنِ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ دَال عَلَى أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَذِنَ فِي الرَّمْيِ (1) قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لِلنِّسَاءِ دُونَ الذُّكُورِ. وَعَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ هَذَا قَدْ رَوَى عَنْهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَيْضًا، قَدِ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ.

حضرت اسماء کا آزاد کردہ غلام عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسماء ؓ مزدلفہ کی رات مزدلفہ والے گھر میں تشریف فرما تھیں ، پھر انھوں نے کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی اور فرمایا: بیٹااٹھو ، دیکھو کہ چاند غرب ہو گیا ہے کہ نہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں تو انھوں نے پھر نماز پڑھنی شروع کر دی، پھر مجھے آواز دی : بیٹا دیکھو چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔توانھوں نے فرمایا: چلو پھر کوچ کرو، لہٰذا ہم مزدلفہ سے روانہ ہو گئے اور (منیٰ آکر) جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ پھر انھوں نے صبح کی نماز اپنے خیمے میں ادا کی ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں نے ان سے عرض کیا: اماں جی!ہم نے رات کے وقت ہی کنکریاں مار لی ہیں ۔ انھوں نے فرمایا: ہم (ضعف عورتیں )رسول اللہ ﷺ کی معیت میں بھی اسی طرح کنکریاں مار لیتی تھیں ۔ یہ جناب بندار کی حدیث ہے۔ جناب ابن معمر کہتے ہیں: مجھے حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام حضرت عبداللہ نے بتایاکہ حضرت اسماء بنت اب ی بکرؓ نے فرمایا: بیٹا! کیا چاند ڈوب گیا ہے۔میں نے کہا: جی ہاں۔ تو انہوں نے فرمایا: تو پھر چلو۔ لہٰذا ہم چل پڑے۔ ہم آپ کے ساتھ چلتے رہے حتی کہ انھوں نے جمرہ عقبہ پر رمی کر لی۔ پھر وہ واپس آئیں اور صبح کی نماز اپنی قیام گاہ میں پڑھی ۔ تو میں نے کہا: اماں جی ! ہم نے اندھیرے میں کنکریاں مار لی ہیں انھوں نے فرمایا: ہر گز نہیں۔ بیٹا! اللہ تعالیٰ کے نبیﷺ نے پردہ نشین عورتوں کو (اس وقت) رمی کرنے کی اجازت دی ہے۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نب ی اکرمﷺ نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صرف عورتوں کو رمی کرنے کی اجازت دی ہے، مردوں کو نہیں دی۔ جناب عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہیں ، ان سے امام عطاء بن ابی رباح نے بھی روایت کیا ہے ۔ اس لیے ان سے جہالت عین دور ہو گئی ہے۔

عَبْدِ اللهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2884

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2885

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ثَنَا مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- عَنْ كُرَيْبٍ -مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ- قَالَ كُرَيْبٌ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، أَنَّ الْفَضْلَ، أَخْبَرَهُ:

حضرت فضل ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہتے تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم ﷺ کی ان روایات کے طرق کتاب الکبیر میں بیان کر دیے ہیں کہ آپ نے جمرہ عقبہ پر رمی کرنے تک مسلسل تلبیہ پکارا ہے۔ اور یہ الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ نے سات کنکریاں مارنے تک تلبیہ جاری رکھا تھا کیونکہ یہ الفاظ حتی کہ آپ نے ر می کر لی اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ تمام کنکریاں مار لیں ۔ کیونکہ عربی زبان کے لحاظ سے درست نہیں کہ جب رمی کرنے والا صرف ایک کنکری مار لے تو اس کے بارے میں کہا جائے کہ اس نے جمرے پر رمی کر لی ہے بلکہ یہ الفاظ اس وقت کہے جائیں گے جب وہ مکمل سات کنکریاں مار لے۔

كُرَيْبٌ، فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَبَّاسِ، أَنَّ الْفَضْلَ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← مُحَمَّدٌ -وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ- ← إِسْمَاعِيلُ -يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ- ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2885

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2886

و روي عن ابن مسعود : فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة بأول حصاة ثناه علي بن حجر أخبرنا شريك عن عامر عن أبي وائل عن عبد الله قال : رمقت النبي صلى الله عليه وسلم فلم يزل يلبي حتى رمى جمرة العقبة بأول حصاة قال أبو بكر : و لعله يخطر ببال بعض العلماء أن في هذا الخبر دلالة على أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع التلبية عند أول حصاة يرميها من جمرة العقبة و هذا عندي من الجنس الذي أعلمت في غير موضع من كتابنا أن الأمر قد يكون إلى وقت موقت في الخبر و الزجر يكون إلى وقت موقت في الخبر و لا يكون في ذكر الوقت ما يدل على أن الأمر بعد ذلك الوقت ساقط و لا أن الزجر بعد ذلك الوقت ساقط كزجره صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد الصلاة حتى تطلع الشمس فلم يكن في قوله دلالة على أن الشمس إذا طلعت فالصلاة جائزة عند طلوعها إذ النبي صلى الله عليه وسلم قد زجر أن يتحرى بالصلاة طلوع الشمس و غروبها و النبي صلى الله عليه وسلم قد أعلم أن الشمس تطلع بين قرني شيطان فزجر عن الصلاة عند طلوع الشمس و قال : و إذا ارتفعت فارقها فدلهم بهذه المخاطبة أن الصلاة عند طلوعها غير جائزة حتى ترتفع الشمس و قد أمليت من هذا الجنس مسائل كثيرة في الكتب المصنفة و الدليل على صحة هذا التأويل الحديث المصرح الذي حدثناه

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ آپ جمرے پر پہلی کنکری مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے ۔ حضرت عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو پہلی کنکری مارنے تک مسلسل تلبیہ پڑھا۔ امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : شاید کہ بعض علماء کے دل میں یہ خیال آئے کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ آپ ﷺ جمرہ عقبہ پر پہلی کنکری پر تلبیہ پکارنا ختم کر دیتے تھے ۔ یہ مسئلہ میرے نزدیک اسی قسم سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کر چکا ہوں کہ کبھی کسی روایت میں کوئی حکم خاص مقرر وقت تک ہوتا ہے اور کسی کام کی ممانعت بھی مقرر وقت تک ہوتی ہے۔ لیکن اس وقت کی تحدید میں یہ دلیل نہیں ہوتی کہ اس وقت کے بعد یہ حکم یاممانعت ختم ہوجائے گی ۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔ لیکن آپ نے اس فرمان میں یہ دلیل موجود نہیں کہ سورج نکل آنے پر نماز پڑھنا جائز ہو جاتا ہے۔ اور آپ نے بتایا ہے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، اس لیے آپ نے سورج کے طلوع ہوتے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ نے فرمایا ہے کہ سورج بلند ہونے پر شیطان سورج سے الگ ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ نے یہ بیان فرمایا کہ سورج کے طلوع کے وقت نماز پڑھنا جائز نہیں حتی کہ سورج بلند ہو جائے تو پھر درست ہے۔ میں نے اس قسم کے بہت سارے مسائل اپنی کتب میں تحریر کیے ہیں ۔ میری اس تاویل کے صحیح ہو نے کی دلیل (درج ذیل ) حدیث ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2886

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2887

عُمَرُ (1) بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ [284 - ب] قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي عَرَفَاتٍ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ ثُمَّ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ مَعَ آخِرها حَصَاة. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ يُصَرِّحُ أَنَّهُ قَطَعَ التَّلْبِيَةَ مَعَ آخِرِ حَصَاةٍ لَا مَعَ أَوَّلِهَا، فَإِنْ لَمْ يَفْهَمْ بَعْضُ طَلِبَةِ الْعِلْمِ هَذَا الْجِنْسَ الَّذِي ذَكَرْنَا فِي الْوَقْتِ فَأَكْثَرُ مَا فِي هَذَيْنِ الْخَبَرَيْنِ مِنْ أَسَاسٍ (2) لَوْ قَالَ: لَمْ يُلَبِّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أَوَّلِ حَصَاةٍ رَمَاهَا. وَقَالَ الْفَضْلُ: لَبَّى بَعْدَ ذَلِكَ حَتَّى رَمَى الْحَصَاةَ السَّابِعَةَ. فَكُلُّ مَنْ يَفْهَمُ الْعِلْمَ وَيُحْسِنُ الْفِقْهَ وَلَا يُكَابِرُ عَقَلَهُ وَلَا يُعَانِدُ، عَلِمَ أَنَّ الْخَبَرَ هُوَ مَنْ يُخْبِرُ بِكَوْنِ الشَّيْءِ أَوْ بِسَمَاعِهِ لَا مِمَّنْ يَدْفَعُ الشَّيْءَ وَيُنْكِرُهُ، وَقَدْ بَيَّنْتُ هَذِهِ الْمَسْأَلَةَ فِي مَوَاضِعَ مِنْ كُتُبِنَا.

حضرت فٖضل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ کے ساتھ عرفات سے واپس لوٹا تو آپ جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ کہیتے رہے ۔ آپ ہر کنکری کے ساتھ "اَللہُ اَکْرَو"پڑھتے ، پھر آپ نے آخری کنکری مارنے پر تلبیہ پڑھنا بند کر دیا۔ اما م ابوبکرؒ فرماتے ہیں : یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ آپ نے آخری کنکری مارنے کے بعد نہیں اگر بعض طلبہ کو یہ مسئلہ سمجھ نہ آئے کہ کسی چیز کی حد بیان کرنے سے بعد والی چیز کی نفی نہیں ہوتی ۔ تو زیادہ سے زیادہ اس حدیث میں یہ ہو سکتی تھی اگر الفاظ حدیث اس طرح ہوتے نبی کریم ﷺ نے پہلی کنکری کے بعد تلبیہ نہیں کہا۔ حالانکہ حضرت فضل کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ آپ نے آخری کنکری کے بعد تلبیہ بند کیا ہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو علمی سمجھ بوجھ رکھتا ہے اور اپنی عقل ورائے کو مقدم نہیں کرتا اور نہ علمی ہٹدھرمی وعناد میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بخوبی جانتا ہے کہ روایت اس راوی کی قبول ہوتی ہے جو کسی کا م کے ہونے کی خبر دیتا ہے نہ کہ جو کسی کام کے نہ ہونے کی خبر دے اور اس کے وقوع کا انکار کرے ۔ میں نے یہ مسئلہ اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کیاہے۔"

أخيه الفضلِ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2887

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2888

قَرَأْتُ عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُجَمِّعٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ فِي حَجَّةٍ أَوْ عُمْرَةٍ أَهَلَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَقَالَ: فَيَأْتِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ فَيَرْمِيهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، وَلَا يَقِفُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سفر حج یا عمرہ میں جب آپ کی سواری آپ کو لے کر مسجد ذوالحللیفہ کے پاس سیدھی ہو جاتی تو آپ تلبیہ کہتے ۔ پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر آپ جمرہ عقبہ کے پاس آئے تواسے سات کنکریاں ماریں ، آپ ہر کنکری کے ساتھ" اَللہُ اَکْرَب" پڑھتے اور جمرے کے پاس ٹھہرے نہیں بلکہ (فارغ ہو کر ) واپس لوٹ گئے۔

عَلَى أَحْمَدَ بْنِ أَبِي سُرَيْجٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2888

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2889

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عبيدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجَمْرَةَ، فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، فَقَالَ: "هَذَا الْمَنْحَرُ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرُ".

حضرت علی بن ابی طالب ؓ بیان کرتے ہیں کہ : پھر نبی اکرمﷺ جمرہ عقب ہ پر تشریف لائے تواس پر کنکریاں ماریں پھر آپ اونٹ کی قربان گاہ تشریف لائے تو فرمایا: یہ اونٹ کی قربان گاہ ہے افور منیٰ سارا ہی قربان گاہ ہے۔"

"هَذَا الْمَنْحَرُ، وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرُ". ← ثُمَّ أَتَى النَّبِيُّ الْجَمْرَةَ، فَرَمَاهَا، ثُمَّ أَتَى الْمَنْحَرَ، ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ← أَبِيهِ ← زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو أَحْمَدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2889

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2890

ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمِنًى. قَالَ: "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ "وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِي أَنَّ الْحُكْمَ بِالنَّظيرِ وَالشَّبِيهِ وَاجِبٌ، لِأَنَّ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَة عَلَى أَنَّهُ أَبَاحَ الذَّبْحَ أَيْضًا إِنْ شَاءَ الذَّابِحُ مِنْ مِنًى، وَلَوْ كَانَ عَلَى خِلَافِ مَذْهَبِنَا فِي الْحُكْمِ بِالنَّظِيرِ وَالشَّبِيهِ وَكَانَ عَلَى مَا زَعَمَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مِمَّنْ خَالَفَ الْمُطَّلِبِيَّ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ، وَزَعَمَ أَنَّ الدَّلِيلَ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُهُ أَنَّهُ إِذَا خَصَّ فِي إِبَاحَةِ شَيْءٍ بِعَيْنِهِ كَانَ الدَّلِيلُ الَّذِي لَا يُحْتَمَلُ غَيْرُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَا كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ الشَّيْء بِعَيْنِهِ مَحْظُورٌ، كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ كُلَّهَا لَيْسَ بِمَذْبَحٍ، وَاتِّفَاقِ الْجَمِيعِ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مِنًى مَذْبَحٌ، كَمَا خَبَّرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهَا مَنْحَرٌ دَالٌ عَلَى صِحَّةِ مَذْهَبِنَا، وَبُطْلَانِ مَذْهَبِ مُخَالِفِينَا، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَتَّفِقَ الْجَمِيعُ مِنَ الْعُلَمَاءِ عَلَى خِلَافِ دَلِيلِ قَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَجُوزُ غَيْرُهُ.

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کیا اور فرمایا:"منیٰ کا سارا علاقہ اونٹ کی قربان گاہ ہے۔"امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: حدیث کےیہ الفاظ "منیٰ کا سارا علاقہ قربان گاہ ہے۔" یہ مسئلہ اسی قسم کا ہے جسے میں اپنی کتب میں بیان کر چکا ہوں کہ ایک جیسے ،ملتے جلتے مسائل میں ایک ہی حکم لگانا واجب ہے ۔ کیونکہ نبی کریم ﷺ کے یہ الفاظ :"پورا منیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے"اس بات کی دلیل ہے کہ آپ نے سارے منیٰ میں گائے ، بکری وغیرہ ذبح کرنے کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ اگر معاملہ ہمارے مخالفین کے موقف کے مطابق ہوتا کہ ایک جیسے مسائل میں ایک جیسا حکم لگانا درست نہیں اور جیسا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے جناب مطلبی کی مخالفت میں کہا ہے اس کا خیال ہے کہ جب کسی مخصوص چیز کو جائز قرار دیا جائے تو دیگر چیزیں ممنوع ہوں گی تو پھر نبی کریم ﷺ کے اس فرمان :"پورامنیٰ اونٹ کی قربان گاہ ہے " میں یہ دلیل ہوتی کہ پورا منیٰ دیگر جانوروں کا ذبح خانہ نہیں ہے۔ حالانکہ تمام علمائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منی کا سارا علاقہ گائے بکری کے لیے ذبح خانہ ہے ۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے بتایا ہے کہ سارا منی اونٹ کی قربان گاہ ہے۔ آپ کا یہ فرمان ہمارے موقف کےدرست ہونے اور ہمارے مخالفین کے موقف کے غلط ہونے کی دلیل ہے۔ کیونکہ یہ باممکن ہے کہ تمام علمائے کرام نبی کریمﷺ کے قول کے خلاف متفق ہو جائیں۔

"وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ". ← ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ بِمِنًى. ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرٌ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2890

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2891

ثَنَا سَلمُ بْنُ جُنَادَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ -تَعْنِي رَجُلٌ-: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي بِمِنًى بِنَاءً فَيُظِلَّكَ؟ قَالَ: "لَا، مِنًى مَنَاخُ مَنْ سَبَقَ".

حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے نبیﷺ !کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں عمارت نہ بنا دیں جس کے سائے میں آپ تشریف فرما ہو سکیں ؟ آپ نے فرمایا:" نہیں ، منیٰ اسی کی جگہ ہے جو پہلے آجائے۔"

"لَا، مِنًى مَنَاخُ مَنْ سَبَقَ". ← -تَعْنِي رَجُلٌ-: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَلَا نَبْنِي بِمِنًى بِنَاءً فَيُظِلَّكَ؟ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ مُسَيْكَةَ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← وَكِيعٌ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2891

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2892

ثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ [285 - أ]؛ ح وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ (1)، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ ثَلَاث وَسِتِّينَ -يَعْنِي بَدَنَةَ- فَأَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ. وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَنَحَرَ عَلِيٌّ مَا بَقِيَ.

جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں: حضرت جابر بن عبداللہ ؓؓ کے پاس آئے ، انھوں نے فرمایا: نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے، پھر آپ نے بقیہ اونٹ حضرت علی ؓ کو دیے تو انھوں نے انھیں نحر کیا۔ جناب علی بن حجر کی روایت میں بَیَکر( جوباقی بچے ) کا لفظ آیا ہے ۔ (جبکہ محمد بن بشار کی روایت میں غَرَان (باقی ماندہ اونٹ) کالفظ ہے۔"

أَبِي ← جَعْفَرٌ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2892

chevron_left Previous
1…313233…48
Next chevron_right
All Chapters
1. The Ablution Book
    1. The Ablution Book2. Collections of the gates of etiquette that are needed in the coming of faeces and urine into the empty ones3. He has intercourse with the doors, mentioning the waters that are unclean and that which are unclean when in contact with you is unclean4. The collections of the gates, the vessels of the luscious ones to perform ablution or wash in them5. The Collections of the Gate of the Sunan of the Sawak and the Virtues of6. The intercourse of the gates of ablution and the Sunnahs7. The sack gate intercourse on the socks8. The group of the gates of curiosity and desirability of purification without a response9. The intercourse of the door to the washing of the sheath10. The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation11. Intercourse at Tayamum Gate with the underprivileged when traveling12. The intercourse of the doors of disinfection of clothes by washing of impurity
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    2. The Book of Prayer13. The Book of Prayer14. The groups of the doors of the call to prayer and the station15. The door-of-clothing intercourse in prayer
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    16. Collections of the gates of the places upon which prayer is permissible, and the places over which one is forbidden to pray17. The groups of the gates of the prayer jacket18. Collections of the doors of permissible speech in prayer, supplication and remembrance19. Intercourse gates of permissible verbs in sexual intercourse20. All the doors of disliked acts in prayer that the worshiper has forbidden22. The groups of the gates of obligatory travel23. The intercourse of the gates of obligatory prayers occur at the time of illness24. The congregation of the gates of prayer on the rows25. The groups of the gates of forgetfulness in prayer26. The intercourse of the gates of the mention of the odds and the Sunnahs27. The congregations of the gates of the two rak'ahs before dawn and the Sunnah within them28. The intercourse of the gates of voluntary prayer at night29. The groups of the doors of voluntary prayers before and after the written prayers30. The groups of volunteering doors other than the aforementioned31. The congregations of the gates of the prayer of the sacrifice and the Sunnahs within it32. The intercourse of the gates of voluntary prayers sitting down33. The gates of the gates of voluntary prayers in travel34. The grouping of the gates of the times that terminate the voluntary prayers in them35. Collections of the gates of the virtues of mosques, their building, and their organization36. Collections of sections of acts of permissible acts in the mosque other than prayer and dhikr37. The gates of the prayer of fear38. Collections of the gates of an eclipse prayer39. The collections of the gates of the righteous prayers and the Sunnahs in it40. The intercourse of the gates of the Eid prayers, Al-Fitr and Eid al-Adha, and the Sunnahs that are not needed in them41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    41. The Imam’s book on prayer and what is in the Sunnahs is summarized from the Musnad42. The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein43. The congregation of the gates of women’s prayer in the congregation
3. The Friday Book
    44. The abbreviated collection book from the abbreviated45. Collections are the gates of the preference of the congregation46. Congregation The washing doors for the congregation47. The gates of medicine, the circumcision, and the clothing for the congregation48. Collections The gates of displacement to the crowd and walking to it49. The groups of the doors of the call to prayer and the sermons in the congregation, and what is required of the congregation at that time from listening to the sermons and the benefits of them, and the benefits of them50. The gates of prayer before Friday
4. The fasting book
    51. The fasting book
5. The Book of Zakat
    52. The Book of Zakat53. The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan54. The gates of the doors gave charity for volunteering55. The collections of alms gates and dentists
6. The book of rituals
    56. The book of rituals