صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2809
ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثَنَا يَزِيدُ؛ وَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: "إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ [278 - أ] كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا. أَلَا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءَ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ، دِمَاؤُنَا دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِث، كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ. وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًّا أَضَعُهُ رِبَانَا، رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ. اتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِينَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ، كِتَابَ اللَّهِ، وَأَنْتُمْ مَسْؤولُونَ عَنِّي مَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ " فَقَالُوا: نَشْهَدُ إِنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالَاتِ رَبِّكَ، وَنَصَحْتَ لِأُمَّتِكَ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَقَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيُنَكِّسُهَا إِلَى النَّاسِ: "اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ النِّكَاحِ، أَنَّ قَوْلَهُ: لَا يُوطِينَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، إِنَّمَا أَرَادَ وَطْءَ الْفِرَاشِ بِالْأَقْدَامِ، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "ولَا تَجْلِسْ عَلَى تَكْرُمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَفِرَاشُ الرَّجُلِ تَكْرِمَتُهُ"، وَلَمْ يَرِدْ مَا يَتَوَهَّمُهُ الْجُهَّالُ إِنَّمَا أَرَادَ وَطْءَ الْفُرُوجِ.
جناب جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم حضرت جابر بن عبداللہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پھر مکمل حدیث بیان کی اور فرمایا: پھر رسول اللہ ﷺ (مزدلفہ اور وادی عرفہ وغیرہ میں رکے بغیر) عرفات پہنچ گئے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے اپنی اونٹی قصواء پر کجاوہ رکھنے کا حکم دیا تو اس پر کجاوہ رکھ دیا گیا۔ پھر آپ اس پر سوار ہو کر وادی عرفات کے وسط میں تشریف لائے تو لوگوں سے خطاب فرمایا: آپ نے فرمایا: " بے شک تمہارے خون،اور تمکہارے مال تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر میں اس مہینے میں تمہارا آج کا دن حرمت والا ہے۔ خبردار! جاہلیت میں میں کئے گئے قتل بھی رایئگاں ہیں ۔ میںاپنے مقتولوں میں سے سب سے پہلے ابن ربیعہ بن حارث کا قتل معاف کرتا ہوں ، وہ بنی سعد میں دودھ پیتے تھے تو قبیلہ ہذہل کے لوگوں نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ جاہلیت کا تمام سود بھی کالعدم ہے میں اپنے خاندان کے سود میں سے سب سے پہلے حضرت عباس بن عبدالمطلب کا سود (جو لوگوں کے ذمے ہے) سب معاف کرتا ہوں ۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا کیونکہ تم نے اللہ کی امانت کے ساتھ انہیں حاصل کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کلمے کے ساتھ ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے ۔ ان پر تمہارا حق یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں، اگر وہ یہ کام کریں تو تم انہیں ہلکی پھلکی سزا دے سکتے ہو، ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں دستور کے مطابق کھانا پینا اور لباس مہیا کرو ۔ اوار بے شک میں تمہارے اندرایک ایسی چیز چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ تم جب تک اس پر عمل پیرا رہو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔ وہ اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے ۔ اور (قیانت جت روز) تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے؟"صحابہ کرام نے عرض کیا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے رب کے تمام پیغامات پہنچا دیے ہیں ۔ اور اپنی امت کی خیر خواہی کا حق بھی خوب ادا کیا ہے ، اور آپ نے اپنی ذمہ واری احسن طریقے سے پوری کر دی ہے۔ تو آپ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کر کے سامعین پر جھکاتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! گواہ ہو جا۔ اے اللہ ! بھی گواہ بن جا۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : میں نے کتاب النکاح میں وضاحت کر دی ہے کہ آپ کا فرمان "وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ شخص کو نہ بیٹھنے دیں "کا مطلبب یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو کسی ناپسندیدہ اشخاص کے قدموں تلے نہ روندیں ۔ کدی کو اس پر نہ بیٹھنے دیں جسے تم ناپسند کرتے ہو۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :" تم کسی شخص کی خصوصی نشست پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھو۔" آدمی کا بستر بھی اس کی خصوصی نشست گاہ ہوتا ہے ۔ آپ کے اس فرمان کا یہ مطلب نہیں کہ وہ تمہارے کسی ناپسندیدہ شخص سے ہم بستری نہ کریں ۔ جیسا کہ بعض جہلاء جو وہم ہوا ہے۔
الْحَدِيثَ. ← دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ← يَزِيدُ: ← مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ،
Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2809
